Monday, March 11, 2019

امن یا جنگ؟؟



رپورٹ : ڈاکٹر ارشاد خان بھارت 

ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئٹری
کی پیشکش 
عالمی تنقیدی پروگرام نمبر197
بعنوان امن یا جنگ

تعارف ادارہ
ادارہ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے،جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء,ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرنے میں سب سے آگے ہے 

امن کے معنی
جنگ کی ضد
شانتی (اَمِنَ ۔ محفوظ ہونا)صلح و آتشی
امن کے مترادفات
آرام،آسائش، آسودگی، اطمینان ،امان، بچاؤ ،پناہ، چھتر، چین ،حفاظت، خیریت، دلجمعی، راحت سلامتی ،سکون ،سُکھ، شانتی، عافیت،
امن کے انگریزی معنی
peace ،safety ،security

جنگ
ایک جلد جس میں کئی کتابیں ہوں، بڑی بیاض
پیتل کی گھنٹی جو بہلی رتھ اکے وغیرہ میں لٹکادیتے ہیں *کتابوں کا پُشتارہ*
جنگ کے مترادفات
امنگ ،بغض، پیکار،جدال، جدل ،جوش، حرب یُدھ
جنگ کے انگریزی معنی
audacity [ڈھیٹ]Battle conflict fight impudences hamelessness war

دیگر استعمالات کے لیے دیکھیے امن (ضد ابہام)

امن، سماج کی اس کیفیت کا نام ہے جہاں تمام معاملات معمول کے ساتھ بغیر کسی پر تشدد اختلافات کے چل رہے ہوں۔ امن کا تصور کسی بھی معاشرے میں تشدد کی غیر موجودگی یا پھر صحت مند، مثبت بین الاقوامی یا بین انسانی تعلقات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کیفیت میں معاشرے کے تمام افراد کو سماجی، معاشی، مساوت اور سیاسی حقوق و تحفظ حاصل ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات میں، امن کا دور اختلافات یا جنگ کی صورت حال کی غیر موجودگی سے تعبیر ہے۔ امن بارے تحقیق اس کی غیر موجودگی یا تشدد کی وجوہات کا احاطہ بھی کرتی ہے۔ عمومی طور پر امن تباہ کرنے میں عدم تحفظ، سماجی بگاڑ، معاشی عدم مساوات، غیر متوازن سیاسی حالت، قوم پرستی، نسل پرستی اور مذہبی بنیاد پرستی جیسے عوامل شامل ہوتے ہیں۔
امن کی عمومی تعریف میں کئی معنی شامل ہوتے ہیں۔ ان میں مجموعی طور پر امن کو تحفظ، بہتری، آزادی، دفاع، قسمت اور فلاح کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ انفرادی طور پر امن سے مراد تشدد سے خالی ایک ایسی طرز زندگی کا تصور لیا جاتا ہے جس کی خصوصیات میں افراد کا ادب، انصاف اور عمدہ نیت مراد لی جاتی ہے۔ معاشرے میں انفرادی طور پر امن کی حالت ہر فرد پر یکساں لاگو ہوتی ہے، جبکہ مجموعی طور پر کسی بھی خطے کا پورا معاشرہ مراد لیا جاتا ہے۔
دنیا کی مختلف زبانوں میں لفظ امن یا سلامتی کو خوش آمدید یا الوداعی کلمات کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ہوائی زبان کا لفظ Aloha یا پھر عربی زبان کا لفظ سلام، امن یا سلامتی کے معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ یہ الفاظ الوداعی یا خوش آمدیدی کلمات کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ انگریزی زبان میں PEACE کا لفظ الوداعی کلمات میں استعمال ہوتا ہے، خاص طور پر مردہ افراد کے لیے ایک فقرہ استعمال ہوتا ہے

چند اشعار
نامعلوم
امن پرچار تلک ٹھیک سہی لیکن امن
تم کو لگتا ہے کہ ہوگا نہیں ہونے والا

نامعلوم
رہے تذکرے امن کے آشتی کے
مگر بستیوں پر برستے رہے بم

انور شعور
امن کے سارے سپنے جھوٹے
سپنوں کی تعبیریں جھوٹی

بقا بلوچ
امن عالم کی خاطر
جنگ یگوں سے جاری ہے

اقبال کیفی
دھوپ کے سائے میں چپ سادھے ہوئے
کر رہے ہو امن کا اعلان کیا

عادل حیات
بادلوں نے آج برسایا لہو
امن کا ہر فاختہ رونے لگا

عزیز انصاری
ایک تختی امن کے پیغام کی
ٹانگ دیجے اونچے میناروں کے بیچ

عزیز نبیل
امن کا قتل ہو گیا جب سے
شہر اب بد حواس رہتا ہے

صابر شاہ صابر
معصوم ہے معصوم بہت امن کی دیوی
قبضہ میں لیے خنجر خوں خار ابھی تک

محمد عثمان عارف
کتنا پر امن ہے ماحول فسادات کے بعد
شام کے وقت نکلتا نہیں باہر کوئی

ہیرا لال فلک دہلوی
پرواز میں تھا امن کا معصوم پرندہ
سنتے ہیں کہ بے چارہ شجر تک نہیں پہنچا

======================
پروگرام مورخہ 9 مارچ 2019وقت شام سات بجے ادارے کے وائیس برانچ میں ہوا

پروگرام آرگنائزر 
توصیف ترنل جارڈن ہانگ کانگ 

گرافک ڈیزائنر 
صابر جازب لیہ پاکستان

کمپائیل
ارسلان فیض کھوکھر پاکستان

====================
صدارت
شفاعت فہیم بھارت

مہمانانِ خصوصی
روبینہ میر جموں کشمیربھارت
گل نسرین ملتان پاکستان

مہمانانِ اعزازی
احمد منیب لاہور پاکستان 
صابر جازب لیہ پاکستان 

نظامت*
صبیحہ صدف بھوپال انڈیا

رپورٹ 
ڈاکٹر ارشاد خان بھارت 

====================
*نقد نظر*
مسعود حساس کویت
شفاعت فہیم بھارت
شہزاد نیّر پاکستان
====================
حمد باری تعالی
عامر حسنی ملائیشیا

نعت رسول مقبولﷺ
محمد زبیر گجرات پاکستان
===================
شعرا ونثر نگار
صبیحہ صدف بھوپال انڈیا
عاطف جاوید عاطف لاہور پاکستان 
ساجدہ انورکراچی پاکستان 
ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی انڈیا
جابِر ایاز سہارنپور بھارت
تھذیب ابراربجنوراترپردیش انڈیا
ڈاکٹر مینا نقوی مرادابادبھارت
اصغر شمیم کولکاتاانڈیا
سیما گوہر رام پور انڈیا
ڈاکٹر ارشاد خان ممبرامہاراشٹر بھارت
عامر حسنی ملائیشیا
اشرف علی اشرف سندھ پاکستان 
مختار تلہری بھارت 
اخلادالحسن اخلاد جھنگ پاکستان
محمد زبیر، گجرات، پاکستان
جعفر بڑھانوی بھارت
اسرار احمد دانش ، انڈیا
ماوارا سعید پاکستان
غلام مصطفی اعوان دائم پاکستان
ڈاکٹر صابرہ شاہین پاکستان

============================

حمدِ باری تعالیٰ 
کوئی خالی نہ اس دنیا سے جائے
سدا رحمانیت سے فیض پائے
عامرؔحسنی ملائیشیا

محمد زبیر، گجرات، پاکستان 
لاکھوں درود اور کروڑوں سلام ہوں 
دَم دَم کھلے صُدُور محمد کے اسم سے

زمینِ دل کو بھی
 بنجر بنا ڈالا
کہ اب اس میں
 محبت پیار الفت کی
امن اور بھائ چارے کی 
کوئ کھیتی نہیں کرتا
جدھر بھی دیکھیئے 
جنگ و جدل کی بات ہوتی ہے
صبیحہ صدف بھوپال بھارت

مجھے ڈر ہے کہ گلشن میں
 سلگتی کوئی چنگاری 
 کسی پُرآس کونپل کو 
 جلا کر راکھ نہ کردے ۔ 
 کہیں سہمے پرندوں کو بھڑکتی آگ کے شعلے 
 جلا کر راکھ نہ کر دیں ۔
عاطف جاوید عاطف

ساجدہ انورکراچی پاکستان
جنگ کرنی ہے تو اغیار سے کر
دوستوں کو نہ ستانا اچھا

جنگ بچوں کے کھلونوں کو جلا دیتی ہے
جنگ مزدور کو محتاج بنا دیتی ہے
جنگ بستی کو بھی ویران بنا دیتی ہے
جنگ ہر کھیت کو شمشان بنا دیتی ہے
جنگ گلشن کو بیابان بنا دیتی ہے
جنگ انسان کو شیطان بنا دیتی ہے
امن دشمن کے خیالات بدل دیتا ہے
امن انسان کے جزبات بدل دیتا ہے
 امن اقوام کے دن رات بدل دیتا ہے
 امن پھر امن ہے حالات بدل دیتا ہے
ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی انڈیا

جنگ میں تو آزمایا ہے بہت دشمن مگر
امن کے میدان میں بھی آزمانا چاہئے
جابر ایاز سہارنپور بھارت

انسانیت کے نام
ہر سمت لاش،خون،فسادوں کی رہگذر
دنیا بنی ہوئی ہے عذابوں کی رہگذر
آنکھوں میں انتقام کی چنگاریاں لئے
سب پھر رہے ہیں جنگ کی تیاریاں لئے
اسلامیت کے نام نہ عیسائیت کے نام
پیغام یہ ہمارا ہے انسانیت کے  نام
تھذیب ابرار .بجنور.اترپردیش انڈیا

امن کے کبوتر
دل کے گوشے گوشے میں ،دہشتوں کی ہےدلدل
سرحدوں پہ ہوتی ہے روز و شب نئ ہلچل
خوفناک آوازیں کرتی رہتی ہیں  پاگل
ہر طرف گرجتے ہیں روز  جنگ کے بادل
شام کو پرندے سب گھر کو لوٹ آتے ہیں 
امن کے کبوتر  کیوں راہ بھول جاتے ہیں
ڈاکٹر مینا نقوی مرادابادبھارت

خدارا ہر نفس امن و امان رہنے دے
تو میرے خوابوں کا ہندوستان رہنے دے
سیما گوہر رام پور بھارت

جنگ بس آگ ہی لگاتی ہے
دل بھی، گھر بار بھی جلاتی ہے
عامرؔحسنی

یہاں جتنی بھی ہلچل ہے،محبّت آخری حل ہے 
جو یہ جنگِ مسلسل ہے،محبّت آخری حل ہے 
اشرف علی اشرف سندھ پاکستان

امحمد زبیر گجرات پاکستان 
یہی تاریخ کا دستور ہمیشہ سے ہے 
جرم جیسا بھی ہوا شاہ سے منسوب ہوا 

امن ظلمت کے اندھیروں کو مٹا دیتا ہے
 امن  ایثار  کے  جذبہ  کو  جِلا  دیتا  ہے 
امن ہوتا ہے حسیں قوسِ قزح کے مانند
امن  ہر  رنگ  میں  پیغامِ  وفا  دیتا  ہے
امن ہی آگ کے شعلوں کو بجھا دیتا ہے
امن ہی چاند ستاروں کو ضیاء دیتا ہے 
امن ہی جنگ کا بس ایک ہی حل ہے دانش
امن  ہی  جنگ  کے  امکان مٹا دیتا ہے
اسرار احمد دانش انڈیا

آدمی کو آدمی سے اب خطر ھونے لگا
کون کس کو مار ڈالے ایسا ڈر ھونے لگا
خون کی پیاسی سیاست کیا نیا دکھلا ئے گی
جنگ لگتا ھے زمی پر تیسری کروائے گی
جعفر بڑھانوی مملکةالھند

ڈاکٹر صابرہ شاہین ڈیروی
مجھے دہشت نے گھیرا ہے
لڑھکتے پتھروں کے درمیان،وہ کامنی پیکر 
وہ جمتے خون کی قاشیں 
تڑپتے تن،بریدہ سر
وہ گردوباد کا منظر 
مرے چاروں طرف 
چیخیں ہی چیخیں 
اندھیرا ہے 
وہ کیا شب تھی، مقدر کی
یہ کیا؟اندھا سویرا ہے 
مجھے دہشت نے گھیرا ہے 

اپنی ناکامی کا الزام لگا کر تف ہے 
بات ہر بار چناوْ پہ گھڑی جاتی ہے 
ان بموں کا ارے ڈرپوک کرے گا کیا تو 
جنگ تو جذبوں سے ہر بار لڑی جاتی ہے 
اخلادالحسن اخلاد جھنگ

روبینہ میر جموں کشمیر بھارت
عہدِ حاضر میں اے روبینہ دیکھ
خون سے ہاتھ دھو گیا انساں 
روبینہ میر

آ ہم نشیں روکیں جہاں میں وحشتوں کے سلسلے 
آ روک لیں یہ جنگ اور یہ  ظلمتوں کے سلسلے
 گل نسرین ملتان پاکستان

جنگ میں ویرانیاں  بربادیاں
جبکہ رونق دائمی ہے امن سے
جنگ اک طوفان درد و کرب کا
ابر راحت کی گھڑی ہے امن سے
جنگ ہے بس تشنگی ہی تشنگی
کشت دنیا کی نمی ہے امن سے
غزالہ انجم

ایک قطعہ
زندگی تو ہنسی خو شی میں ھے 
لڑ  نے  مر نے  سے فا ئدہ   کیا ھے
فوج داروں سے پوچھتا ہوں میں 
جنگ  کر نے  سے  فائدہ   کیا  ھے
شفاعت فہیم بھارت

=============================

روبینہ میر جموں کشمیربھارت
 پیغامِ امن 
تاریخِ اسلام میں سنہ چھ ہجری میں ہونے والا صُلح نامہ ”صلحِ ہدیبیہ “ کا واقع ایک مشہور واقع ہے۔کہ امن کی خاطر رسوکل اللہ ﷺ نے ہدیبیہ کے مقام پر مُشرکینِ مکہ سے جو معاہدہ کیا تھا۔وہ ظاہر میں مُسلمانوں کی شکست کا معاہدہ تھا۔اور اُس معاہدہ نامہ کے تحریر ہونے کے بعد صحابہِ رسول کو سخت ناگواری گُزری تھی۔لیکن امن کی خاطر اللہ کے رسول نے ظاہری شکست کو قبول کر لیا۔اور یہی ظاہری شکست بعد میں اہلِ اسلام کے لۓ فتح کا پیغام لاٸی۔اور سارے عرب میں امن کی بحالی کا سبب بنی۔
امن کی ضِد ۔انتشار جنگ و جدل اور خون ریزی ہے۔نوعِ آدم کی تاریخ میں۔ فرعون ۔ نمرود ۔ یزید ۔ چنگیز ۔ ہلاکو ۔اور ہٹلر جیسے لاکھوں اور کروڑوں دُشمنانِ امن آۓ۔  جو اس فطری نظام کو نیست ونابود کرنا چاہتے تھےلیکن وہ امن و رحمت کے فطری نظام کو دُنیا سے نیست و نابود کرنے کے بجاۓ۔خود نیست و نابود ہو گۓ۔ آج پوری دُنیا میں نوعِ انسان فطرت کے جس جوہرِ نایاب کا متلاشی ہے۔وہ جوہر ۔انسانی امن ۔سلامتی اور انسانی بھاٸی چارہ ہے۔خصوصاً برِ صغیر  ہندو پاک کی سر ٕزمین اس وقت امن و سلامتی کےآب ِ رحمت کے لٸے بیقرار ہے۔چنانچہ ہندو پاک کے عوام اور حُکمرانوں کو اس وقت اللہ کی زمین کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنا کر انسانیت کو امن دُشمنی کی خون ریزی سے بچانا ہو گا۔اور اللہ کے عزاب سے بچنا ہو گا۔

=============================

امن یا جنگ 
آئیے جنگ کے دوسرے رخ کی طرف ،جو جہاں بانی کے لیے تھی ۔۔۔اشوک نے کلنگ کے میدان میں ایک لاکھ سے زائد لاشوں کو دیکھ جنگ سے توبہ کی ۔۔سکندر مقدونیہ سے پوری دنیا فتح کرنے نکلا ۔۔ہاتھ کیا آیا ؟ ۔۔خالی ہاتھ گیا ۔۔چنگیزی جبروت نے کھوپڑیوں کے منار بنائے تو ہلاکو نے بعد میں ہٹلر جیسے جانشین پیدا کیے ۔۔پہلی عالمی جنگ نے ابھی زخموں کو مندمل نہیں کیا تھا کہ دوسری عالمی جنگ نے تباہی وبربادی وہ کرب ناک منظر دکھایا کر انسانیت آج تک سسکتی ہے ۔۔ہیروشیما وناگاساکی میں نسلیں آج بھی معذوریت کا شکار اور کشت زار بنجر و صحرا سے بدتر ۔۔
یہ جنگیں طمع پرستوں کی ،توسیع سلطنت کی ،محلوں و تختوں و تاجوں کی ، ہوس کے پجاریوں کی جو عوام کو جنگ کی بھٹی میں جھونک داد عیش دیتے رہے ۔۔کیا یہ جنگ ضروری ہے ؟کہ ایک تاج کے لیے سینکڑوں گھر تاراج ہوں ! ایک تخت شاہی کے لیے سینکڑوں تختہ دار پر چڑھیں !! 
جنگ اگر لازم ہے تو نفس امارہ سے ، جنگ ضروری ہے تو بھوک اور غربت سے ،جنگ ناگزیر ہے تو نابرابری، ۔۔اور جنگ لازمی ہے امن عالم کے لیے ۔
احساس ستم تم بھی کرو،ہم بھی کریں گے 
مظلوم کا غم تم بھی کرو،ہم بھی کریں گے 
جو ہاتھ بڑھیں امن کی بستی کو جلانے 
وہ ہاتھ قلم تم بھی کرو، ہم بھی کریں گے 
ڈاکٹر ارشاد خان

=============================

پروگرام نمبر 197نقطہء نظر امن یا جنگ
 تحریر احمدمنیب لاہور ہاکستان
تمہید
انسانی معاشرہ کسی بھی قسم کے ظلم و تعدی کا متحمل ہو کر خاک و خون میں لُتھڑا ہو نہیں رہ سکتا لیکن بدقسمتی سے ابتدائے آفرینش سے ہی دنیا کی تاریخ خاک و خون میں لُتھڑی دکھائی دیتی ہے۔
جنگل کا دور
انسان بے لباس اور غیرمتمدن تھا اور جنگلوں میں قیام پذیر تھا تو درلتوں اور پھلوں نیز شکار کے جانوروں ہر لڑائی چھڑ جاتی تھی۔
قبائلی دور
انسان متمدن ہوا خاندانوں اور قبائل کی صورت میں رین سہن اور بودوباش اختیار کی تو حدود و زمین کے جھگڑے جنم لینے لگے۔
حرفِ آخر
حرفِ آخر کے طور پر چند اعدادوشمار حقائق کے آئینہ میں قارئین محترم کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جن سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے گا کہ دہشت گردی کے حوالہ سے اسلام کو بدنام کرنا دراصل طاغوتی طاقتوں کی ہی ایک سازش ہے نہ کہ اسلام کا رویہ ایسا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
پہلی جنگ عظیم کا محرک کون تھا؟ مسلمان تو نہیں تھے۔
تاریخ کا مطالعہ کرنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ پر لیگ آف نیشنز بنائی گئی لیکن 1932 کے معاشی بحران اور لیگ آف نیشنز کی ناکامی دوسری جنگ عظیم کا سبب بنی۔ 
دیدہ و دل میں کھول رہے ہیں درد کے اوقیانوس
مجبوروں کے ایشیا اور مزدوروں کے روس
تنہائی میں جل اٹھے ہیں یادوں کے فانوس
کوئی بھی سچا مسلمان دہشت گردی کے حق میں قطعاٙٙ نہیں۔
 نہ اسلام نے جنگ و جدل کی تعلیم دی ہے۔
 اسلام نے تو حتی المقدور عفو و درگزر کی تعلیم دی ہے لیکن کیا یہ منافقت اور انصاف کا دُہرا معیار نہیں کہ اگر کوئی غیرمسلم ایسے کسی فعل شنیع کا مرتکب ہو تو وہ محض ایک جرم کہلائے اور اگر کوئی مسلمان انفرادی طور ہر ملوث ہو تو وہ دہشت گردی کہلائے؟
ہم تو امن کے داعی ہیں اور دنیا میں جنت نظیر معاشرہ کا قیام چاہتے ہیں۔ اس لیے ہم جنگ اور امن میں سے *امن* کو چُنتے ہیں کیونکہ
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی؟
آگ اور خون آج بخشے گی
بھوک اور احتیاج کل دے گی
اس لیے اے شریف انسانو
جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے
آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں
شمع جلتی رہے تو بہتر ہے

=============================

صابر جاذب لیہ پاکستان
امن یا جنگ 

ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے کہ وہ جس معاشرے میں رہ رہا ہے، اس میں اسے سماجی برابری کا درجہ حاصل ہو۔ وہ اونچ نیچ، ظلم و استحصال اور ہر طرح کے خطرہ سے آزاد رہ کرامن وسکون کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ اسے ناحق قتل کیاجائے نہ بے بنیاد الزام کے تحت سلاخوں کے پیچھے ڈال دیاجائے۔                                                                                                                                                                                                        
انسانوں پر ظلم ہوتا دیکھ کرتڑپ اٹھنا انسان کا وہ جذبہ ہے جو انسانیت کی روح ہے۔ یہ جذبہ جو اسے دوسری مخلوقات سے افضل بناتا ہے۔ انسان اپنے اندر ایک حساس دل رکھتا ہے جو عدل کی حمایت میں کسی ظالم قوت کی پروا نہیں کرتا۔ اگر یہ جذبہ عام انسانوں کے اندر کارفرما نہ ہو تو پھر پوری دنیا تباہ و بربادہ ہوجائے گی۔ ہر طرف ظلم وستم کا ہی بول بالا ہوگا۔ روشنی قید کرلی جائے گی اور چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہوگا، جس میں کوئی بھی جی نہیں سکتا، حتی کہ ظالم بھی نہیں، کیوں کہ ظلم آخر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتاہے۔ اس صورت میں ظالم کوظلم سے توبہ کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ جب تک کہ ایک انسان اس ظالم کوحیوانیت سے نکال کر انسانیت کی طرف لانے کے لیے سعی و جہد کرتا ہے، جو انس و محبت کا تقاضا ہے۔       فورتھ جنریشن وار
 ایک نہایت خطرناک جنگی حکمت عملی ہے جسکے تحت ملک کی افواج اور عوام میں مختلف طریقوں سے دوری پیدا کی جاتی ہے مرکزی حکومتوں کو کمزور کیا جاتا ہے صوبائیت کو ہوا دے جاتی ہے ، لسانی اور مسلکی فسادات کروائے جاتے ہیں اور عوام میں مختلف طریقوں سے مایوسی اور ذہنی خلفشار پھیلایا جاتا ہے۔اسکے ذریعے کسی ملک کا میڈیا خریدا جاتا ہے اور اسکے ذریعے ملک میں خلفشار ، انارکی اور بے یقینی کی کیفیت پیدا کی جاتی ہے۔دنیا بھر میں ترقی یافتہ ممالک نے آئندہ کی *پانچویں جنریشن* کی جنگوں کے حوالے سے تیاریاں شروع کردی ہیں بلکہ ان کا عملی آغاز بھی کردیا ہے جس کے *تحت کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ذریعے روبوٹ اور دیگر آلات کو کنٹرول کرکے جنگ لڑی جائے گی اور دور بیٹھا فوجی صرف ان آلات کو کنٹرول کرے گا۔
جس دور میں ہم جی رہے ہیں اس میں ماحول حددرجہ خراب ہوتا جارہاہے۔ ہم دنیا پر ایک نظر ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ آج پوری دنیا میں انسانیت سسک سسک کر دم توڑرہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انسان کو دنیا میں اس بنیادی ضرورت سے محروم کیا جارہاہے۔ اس سے دنیا میں جینے کا حق چھینا جارہاہے۔ بے گناہوں، معصوم بچوں کا خون پانی کی طرح بہایاجارہاہے۔ غیرت مندماؤں اور بہنوں کی عزت تارتار کی جارہی ہے۔عالمی امن کے لیے ’’جہاں امن کے کانفرنس‘‘ اور روحانی اور پاکیزہ پروگرام کے انعقاد وقت کی ضرورت ہے وہاں قلم کو بطور ہتھیار استعمال کرنے اور ادب اور شاعری کے ذریعے دلوں کو جوڑنا ضروری ہوجاتا ہے۔      
لیکن یہ سب کچھ اس وقت ممکن ہوتا ہے جب ملک میں صالح نظام موجود ہو جہاں انارکی ہو وہاں یہ نسخہ کارگر نہیں ہے وہاں انقلابی جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے اور اس جدوجہد کے دوران بھی قلم ہی کا کردار ہوتا ہے ۔ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ *انقلابی جدوجہد کےدوران شعراء اور ادیبوں نے قلم کا استعمال کیا ہے اور ’’ *ہاتھوں کو مسلح کرنے سے پہلے دماغ کو مسلح کرنے کا پیغام پہنچایا ہے*۔تاریخ اس کی گواہ ہے کہ مسلمانوں نے ناموافق حالات میں بھی انسانیت کے بنیادی اصولوں سے انحراف نہیں کیا ہے اورہر دور میں وہ محبت و انسانیت کی شمع جلاتے رہے ہیں اور انسانیت کے مابین تفریق کو ختم کرکے ان کو صرف ایک محبوب کے رنگ میں رنگ جانے اور اس کے آگے سر جھکا دینے کا درس دیا ہے اور سچائی پر مبنی یہ پیغام دیا کہ’’ پیار و محبت امن کا راستہ ہے‘‘۔
نظامِ فطرت نے پوری کاٸنات کی عمارت کو امن کی بنیاد پر تعمیر کیا ہے۔یا یوں سمجھٸے کہ خُدا کی خُداٸی محض امن پر قاٸم ہے۔تخلیقِ آدم سے لے کر قیامت تک دُنیا کی تمام مخلوقات کو پُرسکون زندگی دینے والی نعمت صِرف امن کی نعمت ہے۔دُنیا کے تمام مزاہب کی تعلیمات کے ساتھ ساتھ انبیا ٕعلیہ السلام ۔اولیا ٕکرام ۔پیروں فقیروں اور صوفی سنتوں کی تعلیم صِرف اور صِرف امن کی رہی ہے۔

Wednesday, February 27, 2019

عالمی تنقیدی پروگرام نمبر196بعنوان پردیس


ادارہ ،عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری
کی جانب سے پیش کرتے ہیں 

International organization
http://www.aalamibesturdupoetry.com

عالمی تنقیدی پروگرام  نمبر 196
بعنوان *پردیس*

بیگانہ ملک ،پرایا شہر،دوسرا ملک ،دیارِ غریب ،دیارِ غیر،غیر ملک ،غیر وطن،ملک غیر،
اصطلاح میں پردیس اس کو کہتے ہیں ۔جہاں کوئی شخص کسی مجبوری،ضرورت کی وجہ سے اپنے شہر،ملک وغیرہ کو چھوڑ کر کسی دوسرے شہر،ملک چلا جائے تو اس کو پردیس کہتے ہیں۔

خوب گئے پردیس کہ اپنے دیوار و در بھول گئے 
شیش محل نے ایسا گھیرا مٹی کے گھر بھول گئے

مورخ 2مارچ 2019  بروز ہفتہ 
پاکستانی وقت ۔7بجے شام 
ہندوستانی وقت۔7.30بجے شام

نوٹ : اس پروگرام میں آپ اپنی نثری کاوش و شعری کاوش یا دونوں پیش کر سکتے ہیں 

==========================

پروگرام آئیڈیا
توصیف ترنل جارڈن ہانگ کانگ 
بانی و چیئرمین ادارہ

پروگرام آرگنائزر 
احمر جان رحیم یار خان پاکستان

پروگرام رپورٹ ریسرچ سکالر ادارہ
احمد منیب لاہور پاکستان

منجانب جنرل سیکریٹری ادارہ
صابر جازب لیہ پاکستان

===================
*صدرات*
ڈاکٹر شاھد رحمان فیصل آباد

*مہمان خصوصی*
ثمینہ گل سرگودھا پاکستان
غلام مصطفی دائیم اعوان اسلام آباد پاکستان

*مہمان اعزازی*
عاطف جاوید عاطف  لاہور
ساجدہ انور صاحبہ کراچی پاکستان

*نظامت*
مختار تلہری بھارت 

====================
*نقد نظر*
مسعود حساس کویت
شفاعت فہیم بھارت 
شہزاد نیّر پاکستان 

====================
حمد باری تعالی

عامر حسنی ملائیشیا

نعت رسول مقبولﷺ

ڈاکٹر مینا نقوی مرآد ابادبھارت

===================

شعرا ونثر نگار

عامر حسنی ملائیشیا

ڈاکٹر مینا نقوی مرادابادبھارت

مصطفی دلکش مہارشٹر الہند بھارت 

اخلادالحسن اخلاد جھنگ پاکستان 

روبینہ میر جموں کشمیربھارت

عاطف جاوید عاطف ۔ لاہور

محمد زبیر، گجرات، پاکستان

جعفر بڈھانوی بھارت

ڈاکٹر ارشاد خان بھارت

اصغر شمیم،کولکاتا،انڈیا

اشرف علی اشرف سندھ پاکستان

صابر جازب لیہ پاکستان 

جابر ایاز سہارنپور بھارت

گلِ نسرین ملتان پاکستان

غزالہ انجم بورے والا پاکستان

احمد کاشف۔مہاراشٹر ۔انڈیا

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل لاہور پاکستان

Monday, February 18, 2019

عالمی تنقیدی پروگرام نمبر 194 بعنون : درصنعت مبالغہ

ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری
عالمی تنقیدی پروگرام نمبر 194
بعنون : درصنعت مبالغہ 

تحقیق و تحریر  و رپورٹ
احمدمنیب لاہور پاکستان

چندمعروضات دربارہ موضوع سخن

 صنعتِ مبالغہ
حد سے بڑھنا۔ بڑھا چڑھا کر بیان کرنا۔ مبالغہ کہلاتا ہے۔
صنعتِ مبالغہ
انگریزی میں اسے 
 Magnification
کہتے ہیں۔

لُغوی مَعنیٰ :
 مبالغہ سے مراد عقل کی حدود سے الفاظ کا تجاوز کر جانا۔
(معجم الغنی)

اِصطلاح میں کسی چیز کے لیے اس کے حق سے زائد توصیف و تعریف کرنا"
(التلخیص البلاغۃ)

چند مثالیں

 دنداں کی تاب دیکھ کے انجُم ہوئے خَجِل
وہ مہ جبِیں جو شب کو لبِ بام ہنس پڑا
(بہادر شاہ ظفر)

 یہ صفائی یہ لطافت جسم میں ہوتی نہیں
تُم نے جو دل میں چُھپایا، آشکارا ہو گیا
(شیخ ناسخ)

*ادیب کو نہیں بھولنا چاہیے کہ مبالغہ کلام کا حُسن ہے لیکن مبالغے میں افراط کہ مضمونِ غیر عادی و محال پیدا ہو جائے، بہ إتفاقِ آئمۂ فن عیبِ قبیح ہے، جس کا نام انھوں نے إغراق و غُلُوّ رکھا ہے. مبالغہ جبھی تک حُسن دیتا ہے جب تک واقعی و امکان اس میں پایا جائے* 
(سید علی حیدر نظم طباطبائی)

*تفضیل اور مبالغہ* 

اسمِ تفضیل میں شَے کا وصف علی سبیل الفوقیت ہوتا ہے یعنی ایک چیز کو دوسری پر فضیلت کیوں دی جا رہی ہے جبکہ مبالغہ فی نفسہٖ تعریف و توصیف اور معنوی زیادتی کو کہتے ہیں۔

*کیفیت کے اعتبار سے مبالغہ کی دو صورتیں ہوتی ہیں*

1- *فی الاصل*
کسی حقیقت کا استعارةٙٙ بیان  مبالغہ فی الاصل کہلاتا ہے۔

*فی الزوائد*
بنا استعارہ معنوی شدّت عطا کرنا۔ اس کی آگے تین اقسام ہیں:

 *تبلیغ*
وہ بات جو ازرُوئے عقل و عادت ممکن ہو، مثلاً :
دل کے نالوں سے جِگَر دُکھنے لگا
یاں تلک روئے کہ سَر دُکھنےگا
إنشاء
دونوں باتیں ازرُوئے عقل و عادت ممکن معلوم ہوتی ہیں

*اغراق*
کسی وصف کو باعتبار عقل ممکن لیکن باعتبار عادت محال بلندی تک پہنچا دینا۔

*غُلُوّ*
وصف کی آخری حد یعنی محالِ محض یعنی عقلاً و عادۃً ناممکن و محال امر، مثلاً :
*پیدا نہ ہو زمیں سے نیا آسماں کوئی*
*دل کانپتا ہے آپ کی رفتار دیکھ کر*
(یاس یگانہ چنگیزی)

عقل و عادت سے یہ ممکن نہیں کہ محبوب کی تیز رفتاری سے جو دُھول اُٹھے وہ ایک اور آسمان بنا لے۔

 مبالغہ کے لیے عربی *اِطراءُ* کا لفظ بھی مستعمل ہے جس کا مطلب ہے حد سے زیادہ تعریف اور پیوند کاری کرنا ہوتا ہے۔
 کسی شے یا شخص کی حد سے زیادہ توصیف و تعریف یا مذمت کرنا شاعری کی اصطلاح میں مبالغہ کہلاتا ہے۔ 
اس صنعت کا درست استعمال  شعر کا حسن نکھار دیتا ہے۔
 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق کہا جاتا تھا اور بعض لوگ مبالغہ کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے صدوق کہہ دیتے کہ خطرناک حد تک سچا انسان ہے جو صدق کی خاطر اپنی جان کی بھی پروا نہیں کرتا۔
اسی طرح قرآن کریم میں ظلوماٙٙ جہولاٙٙ بھی انہی معانی میں آیا کہ انسانِ کامل ؐ نے امانت کا بار اٹھایا جس کو اٹھانے سے پہاڑوں نے صاف انکار کر دیا تھا۔ یعنی انسان اور پھر انسانِ کامل جو شدید القُوٰی ہے اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا اور بارِ امانت اٹھا لیا۔
انسانی فطرت تعریف پسند واقع ہوئی ہے جس سے آسودگی اور فرحت محسوس کرتی ہے۔ 
انسانی فطرت میں ہے کہ اس کی تعریف اور حوصلہ افزائی کر کے اسے سراہا جائے۔
اسلام غلوکو درست قرار نہیں کیونکہ علو اور تکبر محض ذات باری کو زیب ہے اس کی مخلوق میں سے بشمول انسان  کسی کو بھی نہیں۔ 
حمد و ثنا محض حضرت احدیت کے لیے روا ہے۔ جیسا کہ فرمایا

’’جسے اپنے بھائی کی تعریف کرنی ہو تو وہ کہے: 
میرا خیال یوں ہے جبکہ حقیقت حال سے تو اللہ ہی واقف ہے۔ بس وہی بات کہے جس کا علم ہو۔
پھر کوئی صفت کسی میں پائی بھی جائے تب بھی مبالغہ سے منع فرمایا گیا ہے گویا آپ حد سے زیادہ تعریف کر کے اسے قتل ہی کر دیں۔

 الغرض ہر معاملہ میں میانہ روی  میں ہی خیر و برکت ہے کیوں کہ مسلمانوں کو  امة وسطا کہا گیا ہے۔ 

 دینی معاملات میں بھی غلو سے بچنے کا حکم ہے جیسا کہ بعض لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ کی شان نعوذباللہ اللہ رب العزت کی تنزیہی صفات میں جا ملاتےہیں جو بہرحال ایسا غلومرتبت  ہے جو شرک پر منتج ہوتی ہے اس لیے قطعاٙٙجائز نہیں۔ 
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرت سے دعائیں کیں کہ اللہ امت مسلمہ کو اس شرک سے بچائے جیسا کہ یہود و نصاری نے اپنے انبیاء کےمقابر کو مسجود بنا لیا تھا۔ یہی ارشاد فرمایا کہ دیکھو تم یہود و نصاری کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے انبیاء کے مقبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا تھا۔ یہ دین میں غلو ہے۔ 
پھر دین کے نام پر بدعات پیدا کر لینا بھی غلو ہے۔ ایسا کرنے والوں کے لیے ہلاکت کی وعید ہے۔
 پس چاہیے کہ مبالغہ خوشامد  انانیت اور خود پرستی کا پیش خیمہ نہ ہو جائے جس سے نخوت وتکبر کو ہوا ملے۔ اللہ تعالی ہمیں ایسے علو اور مبالغہ سے بچائے جو گناہ پر منتج ہو۔ آمین

*رپورٹ*

*ادارہ ،عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری* عالمی تنقیدی پروگرام  نمبر 194 بعنوان *مبالغہ*

مبالغہ کے لغوی معنی ہیں حد سے بڑھنا۔ 
شعری اصطلاح میں مبالغہ اس صفت کا نام ہے جس کے ذریعے کسی شے یا شخص کی بعید از قیاس تعریف یا مذمت کی جاتی ہے لیکن اگر مبالغہ کا درست استعمال کیا جائے تو شعر کا حسن نکھر جاتا ہے۔ 

مثلاٙٙ 

کل رات ہجرِ یار میں رویا میں اس قدر 
چوتھے فلک پہ پہنچا تھا پانی کمر کمر 

اس شعر میں شاعر نے کثرت بُکا کے نتیجہ میں بہت زیادہ آنسو بہانے کے حوالے سے ایک ناممکنات الوقوع مبالغہ سے کام لیا ہے۔
گویا کسی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا مبالغہ کہلاتا ہے۔ جس میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیئے جائیں یا تصور کر لیا جائے کہ یوں ہو لیکن ویسا عملاٙٙ ممکن نہ ہو جیسےاحمد فراز کا یہ شعر:

سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں 
سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں

مورخہ 16 فروری 2019  بروز ہفتہ 
پاکستانی وقت 7بجے شام 
ہندوستانی وقت۔7.30بجے شام یہ پروگرام منعقد کیا گیا۔
شرکاءِ  پروگرام کو اجازت تھی کہ وہ کسی بھی صنف ادب یعنی نثر نظم، غزل، متفرق اشعار، مسدس، مخمس وغیرہ کی صورت میں پیش کر سکتے ہیں۔

قارئین محترم! ادارہ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے،جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعرا و ادبا اور مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کر رہا اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز کا اہتمام کرتا ہے۔

 اس پروگرام کاآئیڈیا صابر جاذب لیہ پاکستان نے پیش کیا۔  خاکساراحمد منیب لاہور  پاکستان اس پروگرام کا مہتمم تھا۔ ادارہ کے بانی وسرپرست محترم توصیف ترنل ہانگ کانگ کی ہدایات قم بہ قدم ہمارے ساتھ رہیں۔
قارئین محترم! جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ ہمارے یہ پروگرام برائے تنقید ہوا کرتے ہیں۔ لہٰذا پروگرام میں محترم ڈاکٹر شفاعت فہیم صاحب بھارت، صدرمحفل محترم المقام مسعود حساس صاحب کویت، محترم شہزاد نیر صاحب پاکستان اور راقم الحروف
احمد منیب لاہور پاکستان نے نقدونظر پیش کیں۔

اس خوبصورت پروگرام کی مسند صدارت پر محترم المقام مسعود حساس کویت متمکن ہوئے اور دوران پروگرام ہی سب احباب کی کاوشوں پر نقدونظر سے نوازتے رہے جو ہمارے لیے خوش قسمتی کی بات رہی۔ انہوں نے اپنا کلام بھی پیش فرمایا ایک شعر قارئین کی نذر ہے:
ہر کوئی زہر پیئے غم کو سہے کچھ نہ کہے
ہر کوئی درد کا زندان نہیں ہو سکتا

اس پروگرام کےمہمان خصوصی محترم عاطف جاوید عاطف پاکستان سے تشریف لائے ان کے کلام میں سے ایک شعر ملاحظہ ہو:
تجھے چھڑانے کو شاہ زادی کہاں کہاں نہ چراغ رگڑے
وہ دیو اب تک ہیں قید ان میں طلسمی غاروں سے جان لینا

مہمان اعزازی والی نشستوں پر محترمہ سیما گوہر رام پور بھارت سے براجمان تھیں ان کے کلام۔کا نمونہ ملاحظہ ہو:
ہر ایک سمت یہ کس نے بکھیر دی شبنم
کہ جیسے رات نے خود کو بہت رلایا ہو

نظامت کے فرائض محترمہ گلِ نسرین ملتان پاکستان اور محترم ایڈوکیٹ متین طالب بھارت نے ادا کیے۔

پروگرام کا آغاز محترمہ غزالہ انجم صاحبہ بورے والا پاکستان کی ایک نئے طرز بیان کی اعلی حمد پاک سے ہوا جس میں اپنے تخلص کو معنوی انداز میں بیان کرتےبہوئے انہوں نے لکھا کہ
یہ انجم یہ ماہم اسی کا ظہور ہے خورشید تاباں میں اس کا ہی نور
تجلی سے اس کی جلا کوہ طور سمیع و بصیر و خبیر و حکیم

ہدیہء نعت پیش کرنے کی سعادت محترم مصطفی دلکش بھارت کو ملی آپ نے کہا کہ
اخلاص اور یقین سے پڑھتے رہے اگر
جنت میں لے کے جائے کا کلمہ رسول کا

اس کے بعد شعرا و نثر نگاروں کے کلام اور نثری کاوشوں کا دور چلا تو محترمہ گل نسرین صاحبہ نے نظامت کا آغاز ایک نہایت جچےتلے اور ماہرانہ انداز میں فرمایا۔ اور نہایت خوب صورت کلام عطا فرمایا
سوچ کے پروں پہ تھیں وصل کی اطاعتیں
آنکھ پھر جھکی رہی آپ کے حضور میں
اس کے بعد ناظم مشاعرہ نے برقی مشعل کے سامنے آنے کی دعوت دی محترم اسرار احمد دانش  کو جو بھارت سے تعلق رکھتے ہیں وہ گویا ہوئے:
جام ہاتھوں سے گرا دیتے ہیں دلکش دانش
جب وہ چہرے سے نقاب اپنے اٹھا دیتی ہے

محترم عامر حسنی ملائشیا سے گویا ہوئے
آپ کے قدموں کی مٹی سے بنی ہے کہکشاں
مرجعِ اقوام عالم بام ختم المرسلیں

جناب اصغر شمیم کولکاتا انڈیا تشریف لائے اور فرمایا کہ
کل میں رویا تھا یاد میں اس کی
گھر کے آنگن میں بھر گیا پانی

محترم غلام مصطفی اعوان دائم پاکستان نے بہت ہی مفصل مدلل اور مکفی مقالہ مبالغہ کے موضوع پر پیش کیا اور لوب داد سمیٹی

ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری کے سیکریٹری اور آسمان ادب پاکستان کے مدیراعلی محترم صابر جاذب لیہ پاکستان نے بھی انوکھے اور خوب صورت انداز میں اپنا مضمون پیش کر کے خوب تحسین سمیٹی۔

محترم محمد زبیر گجرات پاکستان نے مبالغہ پر اپنا کلام پیش کیا
جو ٹھنڈکوں کا بیاں آفتاب میں لکھوں
تو سختیوں کی حقیقت گلاب میں لکھوں

ڈاکٹر ارشاد خان بھارت
ڈاکٹر ارشاد خان صاحب نے خوب صورت انداز میں *کیا یہ مبالغہ ہو گا؟* کے عنوان سے بہت پیاری تحریر پیش کی۔ 

  محترمہ ساجدہ انور کراچی پاکستان سے یوں گویا ہوئیں
کچھ زباں کو ضد تھی اپنی ہر دعا سے اس طرح
بس دعا کو ہاتھ اٹھے اور بیاں جلنے لگے

محترمہ ماورا سید کراچی پاکستان نے بھی خوب کلام پیش کیا 
وہ جانتے ہیں محبت میں سرخرو ہونا
حدودِ عشق سے آگے ہے عاشقی ان کی

محترم اطہر حفیظ فراز فیصل آباد سے تشریف لائے اور کہا کہ
چشم حیراں کی میں وسعت کو بیاں ایسے کروں
کبھی ندیا، کبھی درپن، کبھی دریا لکھوں

محترم جعفر بڈھانوی بھارت سے تشریف لائے اور آواز دی کہ
چاند سورج میں توڑ لاوں گا
آسمانوں کے ستارے کیا ہیں

محترم اشرف علی اشرف سندھ پاکستان سے یوں کلام کر رہے تھے کہ
اپنی باتوں میں رس گھولتا ہے بلا کا
ہر کوئی اس کی باتوں میں آیا ہوا ہے
حاضرین نے ایک ایک شعر پر خوب دادوتحسین سے نوازا۔ 
محترم المقام ڈاکٹر شفاعت فہیم صاحب اور محترم المقام مسعود حساس صاحب نے شعرا کی حوصلہ افزائی بھی فرمائی اور ان کے اشعار پر نقدو نظر سے بھی نوازا۔
محترم امیرالدین امیر بیدر کرناٹک بھارت نے اتنا اچھا پروگرام پیش کرنے پر درج ذیل الفاظ میں۔تحسین پیش کی:
بانی وسرپرست ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوٸیٹری محترم توصیف ترنل ۔پروگرام آٸیڈیا وسیم ہاشمی یو اے ای۔نمبر 194 محترم صابرجاذب۔پروگرام آرگناٸزرو رپورٹ محترم احمد منیب۔پروگرام کے نقدونظر محترم ڈاکٹر شفاعت فہیم۔محترم شہزاد نٸیر۔محترم احمد منیب۔صدارت پر جلوہ افروز محترم مسعود حساس معتبر مہمانانٍ خصوصی محترم عاطف جاوید۔محترم درویش فرحت عبّاس۔مہمانانٍ اعزازی محترمہ سیما گوہر۔محترمہ روبینہ میر اور معزز شریکٍ محفل شعرإ وشاعرات اسلام علیکم رحمتہ اللہ وبرکاتہُ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چنداہم باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوٸٹری کاساری دنیا روشناس ہے اور یہ ایک نامور کہلایا جانے والا ایک منفرد ادارہ ہے یہ ایک واحد ادارہ ہے جو مسلسل تقریباتین سال سے ہفتہ وار پروگرام منعقد کرتا آرہاہے اس کی نمایاں خصوصیت یہ ہےکہ اس ادارہ میں شعرإ کے کلام پر نقاد حضرات تنقیدی گفتگو کرتے ہیں جس کی سبب کلام پر بھر پور روشنی ڈالنے کی وجہ سے شعرإ کے کلام کی جٍلا عطا ہوتی ہے اور کلام کی خامیاں اور خوبیوں کو شعرإوشاعرات بخوبی سمجھ سکتے ہیں ۔چند ہفتہ قبل سے اس ادارہ نے مختلف صنعتوں پر پروگرام پیش کرنے کا آغاز کیا ہے جو بفضلہ تعالٰی بہترین اقدام ہے اور شعرإ کو مختلف صنعتوں سے آگاہی ہورہی ہے کوٸی ادارہ اس طرح کے پروگرام پیش کرنے سے قاصر ہے اسی خصوصیت کی وجہ پر ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوٸٹری ساری دنیا میں عظیم الشان کامیابی حاصل کرتا آرہا ہے اور یہ ایک عالمی ریکارڈ قاٸم کیا ہے ۔اس ادارہ سے دنیا بھر کے شعرإ متعارف ہوچکے ہیں اور آٸندہ بھی ان شاء اللہ ہوتے رہیں گے ادارے کی ویب سائیٹ تیار ہو رہی ہے یوں یہ بھی کارنامہ ادارہ کے بانی وسرپرست محترم توصیف ترنل کے سر جاتا ہے سب کو جوڑے رکھنا ایک مشکل کام ہے ادھر عالمی ادبی منفرد پروگراموں کی ڈبل سنچری قریب ہونے جا رہی ہے جو ناقابلٍ فراموش ہے ۔بہت اچھا ٹیم ورک ہو رہا ہے ادارہ کا ترجمان عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب شمارہ نمبر 14 بہت معیاری تھا اس لئے پسند کیا گیا جس کے لیے الگ سے مبارک باد قبول کریں انتظامیہ۔
 والسّلام
 اللہ حافظ 
خادمٍ اردو خاکسار 

امیرالدین امیر بیدرکرناٹک بھارت

آخر پر محترم صدر محفل نے خطبہء صدارت سے نوازا۔ جو ذیل میں درج کیا جا رہا۔خطبہء صدارت
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
آپ حضرات نے مجھے صدر بنا دیاتھا یہ آپ حضرات کی مہربانی ہے اور محبت ہے ورنہ میں اس لائق نہیں کہ مجھے اس مقام پر بٹھایا جائے کیونکہ بہت زیادہ کہنہ مشق لوگ، صاحب اخلاق عالیہ اور صاحب علم رفیع یہاں پر موجود ہیں مجھ سے بہت زیادہ اصحابِ علم یہاں پر موجود ہیں۔ شفاعت فہیم صاحب، نیر شہزاد صاحب، شادانی صاحب اور احمدمنیب صاحب! یہ تمام کے تمام اصحاب مجھ سے بہت زیادہ صاحب علم و فضل ہیں۔ ان حضرات کی موجودگی میں میرا صدر بننا میرے لیے واقعتاٙٙ ایک اچنبھے کی بات تھی۔ آپ حضرات نے ہہاں تک پہنچایا آپ حضرات کا بے حد شکریہ۔
ابتدائی مرحلہ پر شکریہ ادا کرنے کے بعد میں آپ کو بتاوں کہ ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری جو کام کر رہا ہے وہ کام خال خال نظر آتا ہے۔ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ یہ باضابطہ پلاننگ کے ساتھ یعنی لائحہء عمل کے طور پر قدم بہ قدم آگے بڑھ رہا ہے۔ ورنہ عموماٙٙ یہ دیکھا گیا ہے کہ دیگر گروپس   میں جو کچھ بھی تخلیق ہو رہا بس پیش کر دیا جاتا ہے لیکن یہاں اہدافِ اساسیہ کی بنیاد پر کام کیا جا رہا ہے اور یہ سب سے اچھی بات ہے۔ گویا اہداف دوسروں کو دے کر کہا جاتا ہے کہ آپ اپنا نیا کلام اس ہدف کی بنیاد پہ تخلیق کریں گے اور لپھر وگ تخلیق کر کے لاتے ہیں جو بہرحال ایک مشکل امر ہے۔ اسی پروگرام در صنعت مبالغہ کی ہی مثال لے لیجیے۔ مبالغہ ایک صنف کا نام ہے اور مبالغہ آرائی کے حوالہ سے خصوصاٙٙ عربی ادب کے مطالعہ سے بہت وسیع دنیا نظر آتی ہے۔ اتنی وسیع کہ اللہ اللہ! 
خاص طور پر مبالغہ آرائی اس زمانہ میں تو بڑی ہی زبردست ہوا کرتی تھی کہ جب دو متحارب گروہ مدمقابل ہوتے، ایک ایک عسکری دونوں طرف سے لڑائی کے لیے نکلتا تو دونوں اپنی بہادری اور خاندانی بڑائی رجزیہ انداز میں بیان کرتے تھے۔رجزیہ انداز میں اپنے کلام کو اس طرح پیش کرتے تھے کہ مبالغہ آرائی کا عنصر جوبن اور معراج پر پہنچا دیتے۔ یہ بہت بڑی ایک صنف تھی جو ہمارے ہاں تقریبا ختم ہوتی جا رہی تھی۔ اس صورت میں ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری نے اس جانب توجہ کر کے اسے زندہ کیا یہ بڑی اچھی بات ہے۔ نتیجةٙٙ دیکھنے میں آیا کہ جتنے حضرات نے کلام پیش کیا اس کے اندر غنائیت بھی رہی ہے، سلاست اور برجستگی بھی، رعنائی اور رخشندگی بھی رہی اور بڑی بات یہ ہے ان تمام چیزوں کے ساتھ ساتھ مفہوم کی ترسیل اور فلسفہ کا ابلاغ بہت اچھے انداز کا رہا ہے۔ اس لیے یہ تمام اصحاب مبارک باد کے مستحق ہیں اور فرداٙٙ فرداٙٙ کسی کا نام تو نہیں لے سکتا لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ دو خواتین جن کا تذکرہ ناگزیر ہے ان میں سے ایک خاتون ہیں کہ جنہوں نے حمد پاک کی سعادت حاصل کی انہوں نے بہت خوبصورت حمد پیش کی بالکل نئے ڈھب کی حمد ہے اور دوسری خاتون جنہوں نے نظامت کی۔ نظامت کے اندر انہوں نے خوب جوہر دکھائے ہیں۔ بعد میں دوسرے مرحلہ میں جو صاحب تھے ان کے بھی کیا کہنے انہوں نے بھی اپنے جوہر دکھائے ہیں اس میں بھی کوئی شبہ نہیں لیکن چوتھے مرد کی بھی تعریف ناگزیر ہے۔ وہ ہے توصیف ترنل۔ 
یہ تمام احباب میری جانب سے بہت بہت مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اللہ ان کو آباد رکھے شاداب رکھے۔ آمین
مسعود حساس کویت
یوں ایک اور خوب صورت اور منفرد پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا۔ جس کی بھرپور کامیابی پر عالمی ادارہ اردو بیسٹ پوئٹری کے تمام اراکین اور شامل مشاعرہ احباب کی خدمت میں بہت بہت مبارکباد پیش ہے۔
محترم چیئرمین ادارہ جنام توصیف ترنل نے تمام شعرا و حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور ایک اور کامیاب پروگرام پر سب کو مبارک باد دی۔
اللہ سب کو سلامت رکھے اور ہمارا ادارہ اسی طرح مزید کامیابیوں کے جھنڈے گاڑتا رہے۔ آمین

Monday, December 31, 2018

رپورٹ:احمد منیب لاہور پاکستان ،ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری ،عالمی تنقیدی پروگرام نمبر 186 درصنعتِ تلمیح


ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری 
تنقیدی پروگرام نمبر 186 
درصنعتِ تلمیح

https://youtu.be/B5x4CDPj2ro

https://egohater.wordpress.com/2018/12/31/%d8%b1%d9%be%d9%88%d8%b1%d9%b9%d8%a7%d8%ad%d9%85%d8%af-%d9%85%d9%86%db%8c%d8%a8-%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%d8%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%81-%d8%b9/

https://www.websforest.com/%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%81-%D8%8C%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%8C-%D8%A8%DB%8C%D8%B3%D9%B9-%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88-%D9%BE%D9%88%D8%A6%DB%8C%D9%B9%D8%B1%DB%8C/

https://www.punjnud.com/Aarticles_detail.aspx?ArticleID=6213&ArticleTitle=Idara-Alami-Best-Urdu-Poetry-Tanqeedi-Program-186-Darsanat-e-Talmih

==============================


رپورٹ:احمد منیب لاہور پاکستان

ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری 
تنقیدی پروگرام نمبر 186
درصنعتِ تلمیح

تلمیح کی لغوی تعریف اور معانی:

تَلمِیح عربی زبان سے اسم مشتق ہے ثلاثی مزیدفیہ کے باب تفضیل سے مصدر ہے اور اردو میں بطور حاصل مصدر ہے اردو میں سب سے پہلے اس کا استعمال1851 کو ’عجائب القصص‘ میں ملتا ہے۔

تلمیح کے لغوی معنی رمز اور اشارہ کے ہیں لیکن شعری اصطلاح میں کسی تاریخی واقعہ،  مذہبی حکم، لوک داستانی کردار وغیرہ کو اس انداز سے نظم کیے جانے کو کہتے ہیں تا کہ شعر کے مضمون کو پُرلطف اور زوردار بنایا جا سکے۔ اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ مصرع میں دو ایک الفاظ ایسے استعمال کیے جاتے ہیں جنہیں پڑھ کر پورا واقعہ، قصہ، معاملہ یاحکم وغیرہ قاری کے ذہنی گوشوں میں مستحضر ہو کر اس کی سوچ کو شعر میں موجود مضمون کی گہرائی تک لے جائے۔ تلمیح کو حسن ِ شعر کا درجہ حاصل ہے۔ شعر میں تلمیح سے متعلقہ لفظ یا الفاظ کو ملنے والے نئے اور مخصوص مفاہیم کی وجہ سے ہی انھیں اصطلاح کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔

تلمیح کی اصطلاحی تعریف:

اصطلاح میں ’تلمیح‘کی تعریف یہ ہے کہ شاعر و ادیب اپنے کلام و گفتگو میں کسی مسئلٔہ مشہور، کسی قصے، مثل شے اصطلاح نجوم، قرآنی واقعہ یا حدیث کے تناظر میں  کسی بات کی طرف اشارہ کرے، جس سے مکمل واقفیت کے بغیر معانی سمجھ میں ہی نہ آسکیں۔

تلمیح کا آغاز و ارتقا:

ادبیات عالم میں تلمیح کا آغاز بہت قدیم زمانے سے ہے۔چنانچہ قدیم ادب اور زبان کی کتاب قرآن کریم نے اس کا سب سے پہلے استعمال کیا اور رہتی دنیا تک کے لیے بے نظیر تلمیحات کے نمونے رقم کر دیئے۔ چنانچہ ایک تجزیے کے مطابق قرآن کریم میں جتنی تماثیل، گزشتہ اقوام کے واقعات اور قصص بیان شدہ ہیں وہ سب تلمیحات ہیں۔ یہ فصاحت و بلاغت کی ایک اعلیٰ اور تکمیلی صورت ہے۔اس اعجازِ  قرآنی کی اتباع میں ہر زبان و ادب میں اس صنعت کا استعمال ہونے لگا اور قلم کاروں نے مختصرانداز میں مافی الضمیر کی ادائیگی کے لیے اسے اختیار کیا۔

ڈاکٹر مصاحب علی صدیقی اس سلسلے میں  رقم طراز ہیں:

’تلمیح علم بیان کی نہایت اہم صنعت ہے۔ اس کی قدامت اس طرح مسلم الثبوت ہے جیساکہ تمدن و معاشرت کی تاریخ۔ابتدائے آفرینش سے اس صنعت کا گہرا لگاو انسانی تمدن سے رہا ہے۔ ارتقاکی ہر منزل میں اس کے نقوش پائے جاتے ہیں۔ دنیا کی جن قوموں میں الفاظ نہیں تھے وہ اپنے خیالات و جذبات کو سمجھانے کے لیے ہاتھ پاوں سے اشارہ کرتی تھیں اور جب انہیں زبان ملی تو انہوں نے اپنی حرکات و سکنات کو تلمیح کا نام دیا۔اس لیے کہ تلمیحات نے وہی کام کیا جو ان کے اشارے کرتے تھے۔‘

تلمیحات کی ضرورت:

تلمیح کی ضرورت کلام میں فصاحت و بلاغت اور حسن پیدا کر نے کے لیے ہوتی ہے۔اس سے مختصر انداز اور الفاظ میں بڑی بڑی باتیں بتادی جاتی ہیں اور ان حقائق کو سمو دیا جاتا ہے جنہیں بتانے اور سمجھانے کے لیے کئی کئی صفحات درکار ہوتے ہیں یوں کسی شاعر اور فن کار کا مقصد پورا ہوجاتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے جا بہ جا تلمیحات کا استعمال کیا ہے اور اہل زبان کو ان واقعات کی جانب اشارہ کیا ہے جو ان سے پہلے ماسبق میں گزر چکے تھے۔نیز تلمیحات ہمیں  بیجا لمبی لمبی تشریحوں سے بچاکر کفایت وقت، ایجاز اور تاثیر کا فیض پہنچاتی ہیں۔ عربی، فارسی اور برصغیر کی مقامی  زبانوں میں تلمیح کا استعمال بڑا عام ہے اور اسے شعری زبان کا جز سمجھا جاتا ہے۔چنانچہ یہی بات ہے کہ اردوغزل نے تلمیح کی شعری افادیت سے کبھی منہ نہیں موڑا۔ اردوکے چھوٹے بڑے تمام شعرا کے ہاں اس کے استعمال کا رواج ملتاہے۔

تلمیحات ادب کی جان ہیں خواہ نثر میں ہوں یا نظم میں ، ان معنیٰ خیز اشاروں سے ادیب و شاعر اپنے کلام میں بلاغت کی روح پھونکتے ہیں۔ افادات سلیم میں لکھا ہے:

’تلمیحات بلاغت کا نشان ہیں۔ بلاغت کا مطلب یہ ہے کہ کم سے کم الفاظ  میں زیادہ سے زیادہ بات کہہ دی جائے نیز کم سے کم الفاظ کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ معانی سمجھے جائیں اور یہ بات تلمیحات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔چنانچہ جس زبان  میں تلمیحات کم ہیں یا بالکل نہیں ہیں، وہ بلاغت کے درجے سے گری ہوئی ہے۔‘

تلمیحات کے ذریعے شاعر کلام میں تاثیر پیدا کر تا ہے نیز اشعار کو شاندار، جان دار اور با وقار بناتا ہے۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ایک تلمیحی شعر غیر تلمیحی شعر کے مقابلے میں زیادہ فصیح و بلیغ اور خوش نما ہوتا ہے۔ اسی طرح نثری کلام میں بھی اس کی کارفرمائی ہے۔تلمیحات کا کمال یہ بھی  ہےکہ وہ باذوق افراد و اشخاص کو چند ساعتوں میں پورے پس منظر سے آگاہ کر دیتی ہیں۔ چنانچہ اگر کسی قرآنی واقعہ کا ذکر کسی شعر میں ہوا تو نہ صرف قرآن کی جانب سامع کا ذہن جائے گا بلکہ قرآن میں موجود اس قصے کا مذاکرہ بھی اس کے ذہن میں آجائے گا۔

اردو شاعری میں تلمیحات اور ان کا حکائی پس منظر:

ا ب ذیل میں اردو ادب میں موجود تلمیحات اور ان کے پس مناظر میں موجود واقعات/حکایات کی تفصیل ملاحظہ فرمائیے:

حیدر علی آتش کا شعر ہے:

عاشق اس غیرت بلقیس، کا ہوں میں آتش

بام تک جس کے کبھی، مرغ سلیماں نہ گیا

اس شعر میں ہے اشارہ ہے قصۂ بلقیس و سلیماں کی جانب۔جس کی ترجمانی قرآن کریم کی سورۃ نمل میں بالتفصیل کی گئی ہے۔

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

اس شعر میں آتش نمرو دکی تلمیح ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالے جانے والے واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

چنانچہ اس واقعے کاخلاصہ قرآن کریم میں اس طرح بیان کیا گیاہے:

حرقوہٗ وانصرو اٰلھتکم ان کنتم فاعلینOسورۃ انبیا۔24

’اس کو جلا ڈالو اور اپنے اپنے خدائوں کو بچائو ؟اگر تم سے کچھ ہو سکتا ہے تو۔‘

اس کے بعد متعدد تفاسیر و روایات میں موجود ہے کہ شاہی فرمان کے مطابق شہر ے کےسب سے بڑے چوک پر آسمانوں کو چھونے والی آگ جلائی گئی جس میں ’عشق ‘یعنی ’خلیل خدا‘بے خطر کود پڑا۔

اگر چہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں

مجھے ہے حکم ہے اذاں لا الہ الا اللہ

اس شعر میں ایک نہایت باریک اور معرکۃ الآرا واقعے کی جانب سے اشارہ ہے۔واقعہ یہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں مسلمان بتوں کی محبت سے رفتہ رفتہ جدا ہوئے تھے۔چنانچہ وہ نماز کے عالم میں بھی بغلوں میں بت لے کر آتے تھے۔مگر اس سے شارع اسلام نہ گھبرائے اور نہ اپنے مشن سے پیچھے بلکہ صدائے ربانی اذان لا الہ اللہ دیتے رہے اور خدائے لا شریک کی حقیقت و عرفان دلوں میں بٹھاتے رہے۔

آرہی ہے چاہ یوسف سے صدا

دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت

اس شعر میں چاہ یوسف کی تلمیح ہے یعنی جب برادرانِ یوسف نے حضرت یوسف علیہ السلام کو کنوئیں میں ڈال دیا تھا۔

تلمیح کی لغوی تعریف اور معانی:

تَلمِیح۔(عربی)عربی زبان سے اسم مشتق ہے ثلاثی مزیدفیہ کے باب تفصیل سے مصدر ہے اور اردو میں بطور حاصل مصدر ہے اردو میں سب سے پہلے اس کا استعمال1851 کو ’عجائب القصص‘ میں کیا گیا۔

اسم نکرہ (مؤنث – واحد)جمع: تَلمِیحات

جمع غیر ندائی: واومجہول کے ساتھ’ تلمیحوں ‘آتی ہے۔

اس کے متعدد معانی ہیں جن کی تفصیل ؎حسب ذیل ہے۔

1۔علم بیان کے باب میں کلام میں کسی مشہور مسئلے حدیث، آیت قرآنی یا قصے یا مثل کسی اصطلاح علمی و فنی وغیرہ کی اشارہ کرنا جس کو سمجھے بغیر مطلب واضح نہ ہو۔

’صنعت شعری میں  ’ تلمیح ‘کسی قصہ طلب واقعے سے مضمون پیدا کرنا کہلاتاہے۔

2۔ اشارہ، کنایہ۔

مثال:’تشبیہ ذات مقدس نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نور کی عجب تلمیح ہے۔‘

3.۔نفسیات ( شہوت انگیز، یا گندے خیالات پیدا کرنا، انگریزی: Suggestion۔۔۔۔۔

’انسانی تقلیدکی اکثر مثالیں حیوانات کی سادہ تقلید کے مقابلے   میں بلحاظ اصلیت زیادہ پیچیدہ ہوتی ہیں یہ مختلف قسم کی پیچیدہ ذہنی فعلیتوں کا نتیجہ ہوتی ہیں ان فعلیتوں میں سب سے بڑی وہ ہے جس کواصطلاحاً’تلمیح ‘کہتے ہیں۔ ‘

اِشارَہ، رَمز

علم بیان

کسی شعر میں تاریخی، مذہبی یا تہذیبی واقعہ کی طرف مختصر اشارہ کرنا تلمیح کہلاتا ہے۔

اردو میں اس کے لغوی معنی: اچٹتی نگاہ ڈالنا۔کلام میں کسی قصے کی طرف اشارہ کرنا۔

معیار اللغات میں اس کے معانی یہ بیان کیے گئے ہیں کہ وہ ایسی صنعت کا نام ہے جس میں کلام کسی قصہ مشہور یا مضمون مشہور پر مشتمل ہو۔

ہارمانک ہندی کوش ڈکشنری میں اس کے معانی اس طرح درج ہیں: کسی کہی ہوئی بات کی طرف مخفی انداز میں  اشارہ کر نا۔وہ بات کوئی واقعہ یا حوالہ ہو۔

خلاصہ:

تلمیح کے لغوی معنی رمز اور اشارہ کے ہیں لیکن شعری اصطلاح میں کسی تاریخی واقعہ، مذہبی حکم، لوک داستانی کردار وغیرہ کو اس انداز سے نظم کیا جائے کہ شعر کا مضمون پُرلطف اور زوردار ہو جائے۔ اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اس میں دو ایک الفاظ کو استعمال میں لایا جاتا ہے۔ ان کو پڑھتے ہی پورا واقعہ، قصہ، معاملہ یاحکم وغیرہ قاری کے ذہنی گوشوں میں متحرک ہو کر اس کی سوچ کو شعر میں موجود مضمون میں گم کر دیتا ہے۔ تلمیح کو حسن ِ شعر کا درجہ حاصل ہے۔ شعر میں تلمیح سے متعلقہ لفظ یا الفاظ کو جو نئے اور مخصوص مفاہیم ملتے ہیں اس سے ہی انھیں اصطلاح کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔

تلمیح کی اصطلاحی تعریف:

اصطلاح میں ’تلمیح‘کی تعریف یہ ہے کہ شاعر و ادیب اپنے کلام و گفتگو میں کسی مسئلٔہ مشہور، کسی قصے، مثل شے اصطلاح نجوم، قرآنی واقعہ یا حدیث کے تناظر میں  کسی بات کی طرف اشارہ کرے، جس سے مکمل واقفیت کے بغیر معانی سمجھ میں ہی نہ آسکیں۔

نوٹ:

یہاں یہ بات بطور جملہ معترضہ یا وضاحتی نوٹ کے طور پر کہنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ نثری ادب میں اس کی نظیریں خال خال ہی ملیں گی تاہم شعری ادب میں اس کی بہتات ہے۔واقعہ یہ ہے کہ ہر استاذ شاعر نے ’تلمیحات ‘کے استعمال پر خصوصی توجہ دی اور ان واقعات کو زندۂ وجاوید بنادیا۔وہ میرؔ ہوں کہ غالبؔ، داغ ؔ ہوں کہ حسرت ؔو فراقؔ بلکہ اقبال کی شاعر ی کا تو ایک عظیم حصہ ہی اس کی نظیر بے نظیر ہے۔

تلمیح کی جامع تعریف:

ا ن سب تعریفوں کے بعد جامع تعریف یہ ہے کہ تلمیح وہ انداز کلام ہے جس میں کسی خیال کی ادا  ئیگی کے لیے لطیف انداز میں کسی واقعے، قصے، داستان، مثل، اصطلا ح یا آیات و احادیث سے کوئی مرکب تعبیر اخذ کی گئی ہو یا کوئی لفظ تراشاگیا ہو یا شعر(کلام)کا مجموعی مفہوم ہی اس نو عیت کا ہو کہ ذہن کسی واقعے، قصے، داستان، مثل، اصطلاح یا آیت و حدیث کی طرف منتقل ہوجائے۔تلمیح کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ کلام میں اشارہ لفظاً موجود ہو بلکہ معانی و مفہوم کے اعتبار سے بھی اگر اشارہ پایا جارہا ہے تو ایسے کلام کو بھی تلمیح میں شمار کیا جائے گا بلکہ یہ تواور زیادہ لطیف و بلیغ تلمیح ہوگی، کیوں کہ اس میں استعارے کی شان پیدا ہوجائے گی۔

تلمیح کا آغاز و ارتقا:

ادبیات عالم میں تلمیح کا آغاز بہت قدیم زمانے سے ہے۔چنانچہ قدیم ادب اور زبان کی کتاب قرآن کریم نے اس کا سب سے پہلے استعمال کیا اور رہتی دنیا تک کے لیے اس کی نظیر ثبت کردی۔ چنانچہ ایک تجزیے کے مطابق قرآن کریم میں جتنی تمثیلیں، گزشتہ قوموں کے واقعات اور قصے ہیں ایک کثیر تعداد میں وہ سب تلمیحات ہیں او راحکام وشعائر کی آیات سے زیادہ کہیں ان کا استعمال ہوا ہے۔ یہ فصاحت و بلاغت کی ایکاعلی و اہم ضرورت کی تکمیل ہے۔اسی کی اہمیت و اعجاز ہے کہ قرآن کریم کے بعد ساری دنیا کے ادب میں اس کا استعمال کیا جانے لگا اور قلم کاروں نے مختصرانداز میں مافی الضمیر کی ادائے گی کے لیے اس کو اختیار کیا۔

ڈاکٹر مصاحب علی صدیقی اس سلسلے میں  رقم طراز ہیں:

’تلمیح علم بیان کی نہایت اہم صنعت ہے۔ اس کی قدامت اس طرح مسلم الثبوت ہے جیساکہ تمدن و معاشرت کی تاریخ۔ابتدائے آفرینش سے اس صنعت کا گہرا لگائو انسانی تمدن سے رہا ہے۔ ارتقاکی ہر منزل میں اس کے نقوش پائے جاتے ہیں۔ دنیا کی جن قوموں میں الفاظ نہیں تھے وہ اپنے خیالات و جذبات کو سمجھانے کے لیے ہاتھ پائوں سے اشارہ کر تی تھیں اور جب انھیں زبان ملی تو انھوں نے اپنی حرکات و سکنات کو تلمیح کا نام دیا۔اس لیے کہ تلمیحات نے وہی کام کیا جو ان کے اشارے کرتے تھے۔‘

 تلمیحات کی ضرورت:

تلمیح کی ضرورت کلام میں فصاحت و بلاغت اور حسن پیدا کر نے کے لیے ہوتی ہے۔اس سے مختصر انداز اور الفاظ میں بڑی بڑی باتیں بتادی جاتی ہیں اور ان حقائق کو سمو دیا جاتا ہے جنھیں بتانے اور سمجھانے کے لیے کئی کئی صفحات کی ضرورت پڑتی ہے۔نیز اس طرح سے شاعر اور فن کا ر کا مقصد بھی پورا ہوجاتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے جا بجا تلمیحات کا استعمال کیا ہے اور اہل زبان کو ان واقعات کی جانب اشارہ کیا ہے جو ان سے پہلے ماسبق میں گزر چکے تھے۔نیز تلمیحات ہمیں  بیجا لمبی لمبی تشریحوں سے بچاکر کفایت وقت، ایجاز اور تاثیر کا فیض پہنچاتی ہیں۔ عربی، فارسی اور برصغیر کی زبانوں میں تلمیح کا استعمال بڑا عام ہے اور اسے شعری زبان کا جز سمجھا جاتا ہے۔چنانچہ یہی بات ہے کہ اردوغزل نے تلمیح کی شعری افادیت سے کبھی منہ نہیں موڑا۔ اردوکے چھوٹے بڑے تمام شعرا کے ہاں اس کے استعمال کا رواج ملتاہے۔

ہماری شعری تلمیحات اکثر و بیشتر قرآن کریم سے مستعار لی گئیں ہیں بلکہ اس طرح سے تفسیر قرآن عظیم کے نئے در وا ہوئے ہیں۔اس طر ح کہ جب سامعین کوملائکہ، فسانۂ آدم، کشتیٔ نوح، کوہ طور کی تجلی، آگ، ابراہیم، اولاد، یوسف، اسماعیل، قربانی، زنان مصر، فرعون، سحر سامری، عصا ئے موسیٰ، خضر، آب حیات، مرغ سلیماں، بلقیس صبا، ابن مریم، مکہ مکرمہ، اصحاب فیل، ابو جہل، ابو لہب کے علاوہ دیگر عربی اقوام اور باشندوں کی زندگی کے متعلق سنیں گے تو ان کے من میں ان اشاراتی واقعات کی مکمل حقیقت جاننے کی طلب اور تڑپ ضرور پیدا ہوگی۔ چنانچہ وہ ضرور اس جانب متوجہ ہوں گے اور قرآن انھیں یا اس کے مذکورہ واقعات سمجھنے میں انھیں دقتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے گا۔ دوسری بات یہ کہ مطول تفسیر کے بجائے مختصر تفسیر ان اشاروں میں بسی ہوئی ہوتی ہے۔

تلمیحات کی اہمیت:

تلمیحات ادب کی جان ہیں خواہ نثر میں ہوں یا نظم میں ، ان معنیٰ خیز اشاروں سے ادیب و شاعر اپنے کلام میں بلاغت کی روح پھونکتے ہیں۔ افادات سلیم میں لکھا ہے:

’تلمیحات بلاغت کا نشان ہیں۔ بلاغت کا مطلب یہ ہے کہ کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ بات کہہ دی جائے نیز کم سے کم الفاظ کے ذریعے زیادہ سے زیادہ معانی سمجھے جائیں اور یہ بات تلمیحات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔چنانچہ جس زبان میں تلمیحات کم ہیں یا بالکل نہیں ہیں، وہ بلاغت کے درجے سے گری ہوئی ہے۔‘

تلمیحات کے ذریعے شاعر کلام میں تاثیر پیدا کر تا ہے نیز اشعار کو شاندار، جان دار اور با وقار بناتا ہے۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ایک تلمیحی شعر غیر تلمیحی شعر کے مقابلے میں زیادہ فصیح و بلیغ اور خوش نما ہوتا ہے۔ اسی طرح نثری کلام میں بھی اس کی کارفرمائی ہے۔تلمیحات کا کمال یہ بھی کہ وہ باذوق افراد و اشخاص کو چند ساعتوں میں پورے پس منظر سے آگاہ کر دیتی ہیں۔ چنانچہ اگر کسی قرآنی واقعے کا ذکر کسی شعر میں ہوا تو نہ صرف قرآن کی جانب سامع کا ذہن جائے گا بلکہ قرآن میں موجود اس قصے کا مذاکرہ بھی اس کے ذہن میں آجائے گا۔

دوسری بات یہ ہے کہ تلمیح خود ایک شعری صنعت ہے۔یعنی اس کے بغیر اچھے اشعار کا وردو ممکن ہی نہیں۔ ورنہ تُک بندی کو کون شعر کہے گا۔صنعت تلمیح جہاں بذات خود ایک حسین صنعت ہے وہیں شعر میں  یہ دوسری شعری صنعتوں کا حسن و جمال کی افزودگی کی بھی ضامن ہے۔اسی لیے بلا تامل یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ نثرو نظم اور دیگر اصناف سخن پر تلمیح جس قدر حاوی ہے کوئی اور صنعت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ اسی بات سے اردو شعرو ادب میں تلمیح کی اہمیت و حیثیت کا تعین اور اندازہ لگا یا جاسکتا ہے۔

اردو شاعری میں تلمیحات اور ان کا حکائی پس منظر:

ا ب ذیل میں اردو ادب میں موجود تلمیحات اور ان کے پس مناظر میں موجود واقعات/حکایتوں کی تفصیل ملاحظہ فرمایے:

حیدر علی آتش کا شعر ہے:

عاشق اس غیرت بلقیس، کا ہوں میں آتش

بام تک جس کے کبھی، مرغ سلیماں نہ گیا

اس شعر میں اشارہ ہے قصۂ بلقیس و سلیماں کی جانب۔جس کی ترجمانی قرآن کریم کی سورۃ نمل میں بالتفصیل کی گئی ہے۔

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

اس شعر میں آتش نمرو کی د تلمیح ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

واقہ یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ و السلام نے اپنے شہر کے سب سے بڑے بت کدے میں پتھر کی مورتوں کو توڑدیا پھوڑدیاتو اس سے پوری قوم میں غم و غصہ کا عالم بپا ہو گیا۔ سب لوگ حضرت کو برابھلا کہنے لگے۔ جب اس سے بھی کام نہ چلا تو آپ کو جلا ڈالنے کا فرمان جاری ہوا۔چنانچہ اس واقعے کاخلاصہ قرآن کریم میں اس طرح بیان کیا گیاہے:

حرقوہٗ وانصرو اٰلھتکم ان کنتم فاعلینOسورۃ انبیا۔24

’اس کو جلا ڈالو اور اپنے اپنے خدائوں کو بچائو ؟اگر تم سے کچھ ہو سکتا ہے تو۔‘

اس کے بعد متعدد تفاسیر و روایات میں موجود ہے کہ شاہی فرمان کے مطابق شہر سے سب سے بڑے چوک پر آسمانوں کو چھونے والی آگ جلائی گئی جس میں ’عشق ‘یعنی ’خلیل خدا‘بے خطر کود پڑا۔

آرہی ہے چاہ یوسف سے صدا

دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت

نامعلوم

اس شعر میں چاہ یوسف کی تلمیح کا استعمال ہے نیز اس میں حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کے بھائیوں کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ان بھائیوں کی طرف جنھوں نے معصوم یوسف کو کنوئیں میں ڈال دیا تھا اور رات روتے ہوئے گھر پہنچے۔بہانہ بنایا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا۔

سب رقیبوں سے ہے ناخوش پر زنان مصرسے

ہے زلیخا خوش کہ محو ماہ کنعاں ہو گئیں

اس واقعے کو قرآن کریم نے سورۃ یوسف میں یوں بیان کیا ہے:

۔۔۔۔۔۔۔۔فلما رأئینہ اکبر نہ وقطعن ایدھنَّ وقلنَ حٰش للّٰہِ ما ھذا بشراً اِن ھذا الا ملکٌ کریمٌOقالت فذالکن الذی لُمتُننی فیہ۔۔۔۔۔۔۔۔سورۃ یوسف۔31۔32

’جب انہوں (زنان مصر) نے اسے دیکھا۔ایک حسن کا شہکارتھا۔وہ اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور کہنے لگیں۔ ۔۔۔۔حاشا للہ۔۔۔۔۔۔یہ مرد نہیں یہ فرشتوں کی انجمن کا کوئی شہکار ہے۔زلیخا بولی:’یہی ہے وہ شخص، جس کے متعلق تم مجھے طعنے دیا کر تی تھیں۔ ۔۔۔۔۔‘
غالب کا ایک اور شعر ہے:

کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب

آؤ نا ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی

حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے طور سینا پر صدائے حق سنی۔ ایک بار نہیں۔ ۔۔۔دو بار نہیں بلکہ متعدد بار۔ ۔۔۔پھر صدا دینے والے کے دیدار کا اشتیاق ہوا۔ قرآن کریم کے الفاظ ہیں:

ولماجآء موسیٰ لمیقٰتناو کلمہ ربُّہٗ قال ربی أَرنی انظرالیکج قال لن ترٰنی ولکن انظر الی الجبلِ فاِن ِاستقرمکانہ فسوف ترانیج فلماتجلیٰ ربہ للجبل جعلہٗ دکّاو خر موسیٰ صعقا۔۔۔۔۔Oسورۃ اعراف 143

’جب حضرت موسی علیہ الصلوٰۃ والسلام وعدہ پورا کر کے اور اپنے رب کا کلمہ لے کر آئے۔انھوں نے پہا ڑ پر اپنے رب سے کہا: ’اے میرے رب مجھے اپنے تئیں دکھائیے۔‘فرمایا: ’تم مجھے نہیں دیکھ سکتے۔البتہ پہاڑ کو دیکھیے اگر یہ اپنی جگہ پر قائم رہا تو پھرمیری دید کا امکان ہے۔ ‘پھر جب پہاڑ پر موسیٰ کے رب نے تجلی ڈالی تو وہ ریزہ ریزہ ہو گیا اور موسیٰ بے ہوش ہو گئے۔‘

  مدن پال کا شعر ملاحظہ ہو:

پتھر تراش کر نہ بنا تاج اک نیا

فن کار کی جہان میں کٹتی ہیں انگلیاں

1653میں  تاج محل تیار کروانے کے بعد بادشاہ نے مزدوروں کے ہاتھ کٹوادیے تاکہ کوئک اور تاج نہ بنا سکیں او راس کے تاج کی چمک دمک ماند نہ پڑ جائے۔۔۔۔۔۔۔

پتھر ابالتی رہی اک ماں تمام رات

بچے فریب کھا کے چٹائی پے سو گئے

ڈاکٹر نواز کا شعر ہے:

بھوکے بچوں کی تسلی کے لیے

ماں نے پھر پانی پکایا دیر تک

ان اشعار میں حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت کے ایک واقعے کی جانب لطیف سااشارہ کیا گیا ہے۔ مورخین لکھتے ہیں جوار مدینہ میں ایک قافلہ کہیں سے آیا اور وہیں ٹھیر گیا۔اسی قافلے کی ایک عورت رات میں اپنے بھوکے بچوں کو تسلّی دینے کے لیے چولہے پر پانی بھرے برتن کو گرم کرتی رہی اور بچے یہ سمجھتے رہے کہ ان کی ماں ان کے لیے کچھ بنا رہی ہے۔مگر پھر وہ سو گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گشت کے دوران میں یہ صورت حال دیکھی تو تڑپ گئے اور فوراً اپنے غلام کو لے کر بیت المال آئے اور وہاں سے چند بورے اپنی اور غلام کی پیٹھ پر لاد کر اس مقام پر آئے اور سامان اس ماں کے حوالے کیا جو بچو ں کو فریب دے کر سلا رہی تھی۔

Oافتخار عارف کا شعر ہے:

وہی پیاس ہے وہی دشت ہے وہی گھرانہ ہے

مشکیزے سے تیر کا رشتہ پرانا ہے

کربلا کا تمام منظر اس شعر میں آگیا۔نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہر فرات سے پانی لے کر آتے ہیں کہ دشمنوں کا تیرے اسے پھاڑ کر تمام پانی باہر نکال دیتے ہیں۔ اسی پیاس، اسی گھرانے اور اسی دشت کا قصہ ہے اور مشکیز ے سے تیر کے پرانے رشتے کا حال اس میں بیان کیا گیا۔

ناصر کاظمی کا شعر :
یوں ترے حسن کی تصویر غزل میں آئے

جیسے بلقیس سلیماں کے محل میں آئے

قرآن اس تلمیح کا حکائی پس منظر اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کر تا ہے:

قِیلَ لہا اُدخُلی الصَّرْح َ فلما رأتہٗ حَسِبَتْہٗ لُجَّۃً وَ کَشَفَتْ عن سَاقیھاج قال انہ صرحٌ مُّمرِّدٌ مِّن قَواریرَ۔ ۔۔۔۔O النمل:44

اس(بلقیس)سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجائو۔جب اس نے(راستے میں  )دیکھاتو اس نے اسے پانی سمجھااور اپنی دونوں پنڈلیاں کھول دیں۔ اس سے کہا گیا یہ پانی نہیں باریک شیشہ ہے( جو حوض پر بچھایا گیا ہے۔)

 نثر میں تلمیحات اور ان کا حکائی پس منظر:

شعر ی ادب کے علاوہ نثر میں بھی اردو قلم کاروں نے تلمیحات کا استعمال کیا ہے جن میں انتظار حسین کا نام سر فہرست ہے۔انھوں نے خدا کی بستی اور آخری آدمی جیسی کہانیو ں میں  قوم بنی اسرائیل کے واقعات کو جابہ جا ان کا استعمال کیا ہے۔

 عہدِ حاضر میں ابن کنول کے نثری فن ہاروں میں یہ جھلک نظر آتی ہے چنانچہ ان کے افسانے ’صرف ایک شب کا فاصلہ‘ میں انہوں نے اصحاب کہف کے واقعہ تلمیح کیا ہے۔ قرآن کریم کے جامع الفاظ یوں ہیں:

قال قائل منھم کم لبثتم قالوا لبثنا یوماً اور بعض یوم ج۔۔۔۔الکہف:19

’ان میں سے کسی نے کہا کہ ہم ایک دن یا چند ایام سوئے ہیں۔ ‘

سویٹ ہوم‘ابن کنول کا ایک ایسا افسانہ ہے جس میں شہر مکہ کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔وہی شہر مکہ جو ماضی میں  دیار بے آب و گیا ہ کے نام سے معروف تھا۔وہاں حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے لخت جگر کووہاں چھوڑ کر آئے اور پھر ایک مدت بعد وہا ں شہر آباد ہوگیا جسے عالمی مرکز ہونے کا شرف حاصل ہوا۔وہ اتنا خوب صورت اور جاذب عالم شہر بنا کہ اب اسے ساری دنیا کا’سویٹ ہوم‘کہا جاتا ہے۔وہاں اطراف واکناف عالم سے قافلے کے قافلے کھنچے چلے آتے ہیں اور جنت کا سا سکون حاصل کر تے ہیں۔ قرآن کریم نے شہر مکہ کی تعمیر، تشکیل، وہاں خانہ خدا کی بنیاد کا منصوبہ اور عمارت کا قیام نہایت تفصیل سے درج ہے۔اسی افسانے میں ابن کنول نے ’ابابیل‘والی تلمیح کا استعمال کیا ہے۔

ابابیل ایسا استعارہ ہے جسے تاریخ مکہ کا ایک اہم موڑمانا جاتا ہے۔اس کا حکائی پس منظر یہ ہے کہ مکہ مکرمہ میں واقع خانہ خدا کی مقبولیت جب چار دانگ عالم میں پھیل گئی اور بندگان خدااس کی زیارت کو جوق درجوق آنے لگے تو والیٔ یمن ابرہہ کو بہت ناگوار گزرا اور اس نے اپنے ملک میں شبیہ خانہ کعبہ بنا کر عوام کو اس کی جانب رخ کر نے اور اس کے طواف کے احکام صادر کر دیئے۔ مگراس کا یہ حکم نامہ ہوا میں اڑ کر رہ گیا، مزید یہ کہ اسکے  کعبہ کو لوگوں نے برباد کر دیا۔ ان واقعات نے اس کا غصہ آسمانوں سے بھی اونچا کر دیا اوراس نے خانۂ کعبہ کے انہدام کا فیصلہ کر لیا۔وہ مکہ آبھی گیا اور بیرون مکہ پڑائو ڈال کر ناپاک منصوبے بنانے لگا۔والیان و محافظین کعبہ اسے اس کے مالک کے حوالے کر کے جنگلوں او رپہاڑوں میں چلے گئے۔پھر کرشمۂ قدرت سب  نےدیکھا۔ ۔۔۔۔۔ایک طرف سے ابابیلوں کا لشکر آیا جو غنیم پر حملہ آور ہو گیا۔ان کے پنجوں اور چونچوں کی کنکریاں دشمنوں کو فنا کے گھاٹ اتارتی چلی گئیں۔ ۔۔۔ساری فوج تتر بتر ہو کر پسپا ہو گئی۔قرآن کریم نے ’سورۃ فیل‘ میں اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے دشمنوں کی تباہی کو ’کھائے ہوئے بھوسے کی* مانند ہونا‘جیسی تمثیل بخشی ہے۔
**************

معاون کتب و رسائل:

(1)قرآن کریم

(2)شعرالعجم۔مولانا شبلی نعمانی۔دارالمصنفین، شبلی اکیڈمی۔اعظم گڑھ۔جنوری1991

(3)عجائب القصص (اردو ترجمہ)ڈاکٹر دائود ترمذی۔ مجلس ترقی ادب۔لاہور۔1965

 (4)اساس نفسیات، (اردو ترجمہ)معتضد ولی الرحمان۔مکتبہ جامعہ عثمانیہ، حیدرآباد۔1932

(5)فیروز اللغات جامع۔(جدید ایڈیشن)مولوی فیروز الدین۔فیروز سنز۔لاہور۔راولپنڈی۔کراچی۔2000

(6)ارد و شاعری میں اسلامی تلمیحات:عطاء الرحمان صدیقی ندوی۔عالمی رابطۂ ادب اسلامی، لکھنؤ۔2004

 (7)اردو ادب میں تلمیحات۔ڈاکٹر مصاحب علی صدیقی۔ کتب خانہ علم و دانش۔حیدرآباد۔2003

(8)افادات سلیم۔پرو فیسر وحیدالدین سلیم۔مرکنٹائل پریس۔لاہور۔1960

(9)اردو رموز۔مولوی رفاقت علی۔مکتبہ تعلیم۔ کان پور۔1978

(10)قصص القرآن۔مولانا حفظ الرحما ن سیوہاروی۔مکتبہ برہان، اردو بازار۔ دہلی

(11)سہ ماہی صفا۔(ادب اسلامی نمبر)ایڈیٹرمولانا محمد رضوان القاسمی۔دارالعلوم سبیل السلام، حیدرآباد۔1996

٭٭٭٭٭
ادارہ ،عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری
کی جانب سے عالمی تنقیدی پروگرام *صنعت تلمیح*  پر پیش کیا گیا۔

 یہ پروگرام29دسمبر 2018
بروز ہفتہ پاکستانی وقت شام 7بجے
ہندوستانی وقت کے مطابق شام7:30 بجے 

اس صنعت میں کم از کم پانچ اشعار اور زیادہ سے زیادہ دس اشعار سے پیش کرنے کا قاعدہ بنایا گیا۔
یا 
ایک مکمل غزل تاکہ ناقدین حضرات آسانی سے اپنی ناقدانہ رائے کا اظہار کرسکیں ۔

پروگرام میں
شفاعت فہیم بھارت 
مسعود حساس کویت
حکیم ایم ایچ مُرشد پنجاب پاکستان نے ہر شاعر کو اس کی مہارت کی داد بھی دی اور بڑی ذمہ داری کے ساتھ نقدونظر سے نوازا جس پر ادارہ ان کا تہِ دل سے شکرگزار ہے۔ 

اس پروگرام کی مسند صدارت پر ماورا سید کراچی پاکستان متمکن ہوئیں۔
ہم آسماں سے نکالے گئے تھےعجلت میں
روا روی میں مقدر اٹھانا بھول گئے

احمد عقیل حضرو، اٹک پاکستان مہمانِ خصوصی کی نشست پر براجمان ہوئے۔
سانپ کاٹے مگر نہ اُف نکلے
تجھ کو معلوم ہے وفا کیا ہے

 اعزازی مہمان کی نشست پر
جابر چوہدری بھارت تشریف فرما ہوئے 
خطرہ نہیں رہا کوئی درپیش کیوں کہ اب
دارا نہیں رہا وہ جامِ جہاں نما

 حمد سے پروگرام کی ابتدا جناب توصیف ترنل ہانگ کانگ نے کی بعدازاں توصیف ترنل اور جناب احمدمنیب نے نعت پیش کرنے کی سعادت پائی۔
شعراء کرام کا نمونہء کلام ملاحظہ ہو

احمد منیب لاہور پاکستان
گریہ سے میں یعقوب ہوا اے مرے ہمدم
دیدار کنم دیدہء تر باز نہ کردم

صابر جاذب لٙیّٙہ پاکستان
قابیل کو پھر قتل کی مہلت نہیں دیں گے
ہابیل پہ اب نوحہء آدم  نہیں ہو گا
اصغر شمیم کولکتا انڈیا
سر پٹکتی رہی موجِ فرات
پیاس اصغر کی بجھا پائی نہیں

اطہر حفیظ فراز فیصل آباد پاکستان
پھر ہاتھ زلیخا کے اشاروں پہ کٹے ہیں
اس بار تو یوسف مرے اشعار ہوئے تھے

جعفر بڈھانوی بھارت
زندگی جس کی غزالی ہو گی
اس کی ہر بات نرالی ہو گی

عامر حسنی ملائیشیا
ایمان کی تعمیر تھے ہاں قائد اعظم
تنظیم کی تفسیر تھے ہاں قائدِ اعظم

غزالہ تبسم غزال کوئٹہ پاکستان
شریعت چاہنا ہے کہ عمل کچھ ہے اطاعت کچھ
ہتھیلی پر جو سر لائے اطاعت ہو تو ایسی ہو

غزالہ انجم بورے والا پاکستان
کبھی یہ تخت چھڑوائے کبھی تیشے بھی چلوائے
کبھی آشفتگی میں عشق شب بھر رقص کرتا ہے

مختار تلہری بھارت
غیر ممکن ہے کہ دیدار کا معیار گرے
خواہ انگلی مری کٹ کٹ کے کئی بار گرے
پروگرام کے آخر پر بانی و چیئرمین ادارہ، صدر مشاعرہ اور آرگنائزر مجلس مشاعرہ نے سب شعرا حاضرین اور ناقدین حضرات کا شکریہ ادا کیا۔ یاد رہے کہ جناب محمد زبیر اور احمر جان محترم پروگرام میں باقاعدہ حاضر رہے اور شعرا کو برابر داد سے نوازتے رہے۔ اللہ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین