Tuesday, December 18, 2018

رپورٹ : ڈاکٹر ارشاد خان پروگرام بعنوان :صحافت کا گرتا ہوا معیار



عالمی تنقیدی فکشن پروگرام نمبر 184
بعنوان :صحافت کا گرتا ہوا معیار وشاعری کا گرتا ہوا معیار

رپورٹ : ڈاکٹر ارشاد خان بھارت 

ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری عام روش سے ہٹ کر ۔۔پروگرام پیش کرنے میں ید طولیٰ رکھتا ہے ۔ذرائع محدود ہوں یا لامحدود ،حریفوں کی شقاوت ہو یا بغاوت ،کم مایہ کی ریشہ دوانیاں رہی ہوں کہ بزعمِ خود لنترانیاں،۔۔ادارے نے ہر چیلنج قبول کیا ۔ہر محاذ پر کامیابی وکامرانی کے جھنڈے گاڑے ۔علم بغاوت بلند کرنے والوں کے پرچم سرنگوں کیے ۔۔۔اور ادارے میں اسی نے جگہ بنائی جس نے اہل بزم کے دلوں میں جگہ بنائی ۔اہلِ قلم کی سرپھٹول سے یہ ادارہ ہمیشہ محفوظ رہا ۔۔۔وجہ تسمیہ ؟؟  ۔۔میر کارواں کی دور رس نگاہیں ۔۔،مردم شناسی ،۔۔کس فنکار سے کون سا کام لیا جائے ؟ کس نگینے کو کہاں فٹ کیا جائے کہ وہ نولکھا ہار بنے۔۔اور وہ قدر گوہر شناس ہیں عزت مآب توصیف ترنل ۔۔۔ان کی مساعی جمیلہ سے ادارہ 183 کامیاب ترین پروگرام پیش کرچکا ہے ۔۔تمامی اپنے آپ میں منفرد ،انوکھی نوعیت کے حامل ۔۔چیلنجنگ۔۔۔جس طرح ہر ہر چیلنجنگ رول کو قبول کرکے ہند وپاک میں دلیپ کمار شہنشاہِ جذبات بنے تو محمد علی ایک کامیاب فنکار ۔۔۔یہی چیلنج سکھاتا ہے ۔۔۔انہی پتھروں پہ چل کے ۔۔۔یا ۔۔۔چلا جاتا ہوں میں ہنستا کھیلتا موج حوادث سے ۔۔۔ یہی چیلنجنگ کیس ابن صفی کو دیے تھے تو ۔۔۔ادارے نے توصیف ترنل کو !!
ایک اور مشکل ترین ۔۔انفرادیت سے بھرپور پروگرام ،،صحافت کا گرتا ہوا معیار ،،۔۔صالح معاشرے میں پنپنے والا کینسر جو بڑی تیزی سے نظام حیات کو پراگندہ کررہا ہے ،جو زر کا اثر رکھتا تھا ۔۔زرد ہوگیا ہے ،جو زہر کا تریاق تھا ۔۔ زہریلا ہوگیا ہے ۔۔۔ایک برننگ ٹاپک جس کے لیے ہر دردمند ،فکر مند ہے ۔۔جس کے حصار میں کرہ ارض کے ۔۔دبے ہوئے ،پچھڑے ہوئے ،کچلے ہوئے مدقوق چہرے جن کی اور آس لگائے بیٹھے ہیں ۔۔اپنی دادرسی کی ،جو ماتم کناں ہیں اپنے آقاؤں سے ۔۔وہ چہرے ،جنھیں وہ اپنا نجات دہندہ سمجھ رہے ہیں وہی اپنے آقاؤں کے تلوے چاٹ رہے ہیں ۔۔یہی زندگی سے جڑا عنوان ،،صحافت کا گرتا ہوا معیار زیر بحث رہا ۔ادارے نے حق گوئی و بے باکی کا وہ مظاہرہ کیا کہ زرد صحافت کے چہرے زرد ہوگئے ۔۔۔عنوان کی تبدیلی کا عندیہ دیا تو بائیکاٹ کی دھمکیاں بھی ۔۔۔مگر توصیف ترنل۔۔نہیں کرنل بلکہ جرنیل کی طرح محاذ پھر ڈٹے رہے اور ٹیم دی بیسٹ کے ہراول دستے کو کیل کانٹے نہیں بلکہ قلم وقرطاس سے لیس کرتے رہے ۔۔۔ایک کامیاب پروگرام 184 کی صورت جو 15 دسمبر کی سرد رات میں پیش ہوا ۔۔وہ بھلے ہی نقار خانے میں طوطی کی آواز ہو ۔۔بھلے ہی صدا بہ صحرا ہو مگر ۔۔یقیناً یہ پہلی بوند کا حوصلہ ہوگا ۔۔۔پھر رم جھم۔۔پھر موسلادھار بارش ۔۔۔گھٹا ٹوپ اندھیرے میں پہلی تیلی ۔۔جس کی مدھم روشنی ۔۔جو بڑھ کر اندھیرے کو فنا کردے گی ۔۔۔ان شاءاللہ
صدر محفل صابر جاذب صاحب ،مہمان خصوصی ماورا سید صاحبہ و مہمان اعزازی جعفر بڈھانوی صاحب تھے ۔نظامت جو ہر تقریب کی جان ہوتی ہے اس کے علمبردار تھے ڈاکٹر علمدار عدم صاحب ۔۔پروگرام کو آغاز حمد باری تعالی سے ہوا ۔ڈاکٹر ارشاد خان اور مسعود حساس صاحب نے بارگاہِ خداوندی میں حمد وثنا کے نذرانے پیش کیے ۔۔بعدازاں قلمکاروں نے جو قلم کے جوہر دکھائے اسے دیکھ کر ناقدین بھی ششدر و انگت بدنداں رہ گئے ۔۔احمد منیب صاحب اور صابر جاذب صاحب نے تو قلم توڑدیا ۔۔۔صحافت کا گرتا معیار ۔۔۔اسباب وعلل پر نہ صرف بھرپور روشنی ڈالی گئی بلکہ اسباب کے حل بھی پیش کیے ۔۔دیگر قلمکاروں کے قلم کی جولانیاں بھی قابل رشک تھیں ۔۔عامر حسنی صاحب ،خالد سروجی صاحب ،جعفر بڈھانوی صاحب و راقم الحروف کی تحاریر نے متعلقہ موضوع پر ہر ہر گوشے سے روشنی ڈالی ۔۔۔بزم کا اختتام صابر جاذب صاحب کے خطبۂ صدارت پر ہوا ۔۔شریک محفل نے سبھی اہل قلم کی کاوشوں کو سراہا نیز دادوتحسین سے نوازا ۔
اس جارحانہ پروگرام کے لیے توصیف ترنل صاحب اور ٹیم دی بیسٹ کو خصوصی مبارکباد ۔۔۔اس امید کے ساتھ کہ مستقبل قریب میں ایسے ہی سلگتے موضوعات پر مشتمل پروگرام ترتیب دیے جائیں جو سماج میں پنپنے والے ناسور کے لیے نشتر کا کام دیں ،تہذیب و تمدّن کی تشکیلِ نو میں خشت اول ثابت ہو  ۔۔۔

تمام شد
======================
صابر جاذب لیہ پاکستان 
 تنقیدی پروگرام نمبر 184
بسم اللہ الرحمن الرحیم

گرامی قدر چیئرمین ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئٹری برادرم توصیف ترنل، مہمانان خصوصی نہایت ہی معزز اراکین ادارہ، نثر نگار و شعراء کرام...
 السلام علیکم
میرے لئے باعثِ توقیر  ہے کہ آج کی اس منفرد  پروگرام کی مسند صدارت سونپ دی گئی.
ادارہ،عالمی بیسٹ اردو پوئٹری جب عرصہ تین سال قبل معرض وجود میں آیا اس نے ہمیشہ ہی منفرد پروگرامز  کا اہتمام کیا ہے ۔جس کا تمام کریڈٹ اس ادارے کے بانی و سرپرست جناب توصیف ترنل کے سر جاتا ہے.جن کی انتھک کاوشوں نے اس بزم کو رونق بخشی ہوئی ہے.. اور یقیناً ان کا جذبہ لائق تحسین ہے ورنہ اس برق رفتار دور میں کسے فرصت ہے کہ وہ ایسے پروگرامز میں اپنے آپ کو مصروف رکھے کہ جہاں بظاہر کوئی ذاتی مفاد  نظر نہیں آتا اور جسے آج کا سائنسی ماحول قبول کرنے سے بھی گریزاں ہے....
ان تمام تر مشکلات اور مسائل کے برعکس توصیف صاحب نہایت سنجیدگی اور متانت سے شاید اپنی قلبی تسکین کے حصول کی خاطر ہمہ وقت اسی کوشش میں سرگرداں رہتے ہیں کہ ہر ہفتے کوئی  نہ کوئی منفرد اور اچھوتا پروگرام پیش کیا جائے اور وہ اس میں کامیاب بھی ہیں. یقیناً ایسے کام اکیلے کوئی شخص نہیں کر سکتا.یہ ایک ٹیم ورک ہوتا ہے اور اس میں فعال معاونین کی اشد ضرورت ہوتی ہے... اور توصیف بھائی کو اس سلسلے میں ہمیشہ چند ایسے مخلص دوستوں کا ساتھ  میسر آجاتا ہے جو انہیں بے یار و مددگار نہیں چھوڑتے اگرچہ وقتاً فوقتاً ان کے احباب بدلتے رہے ہیں.
آج کایہ پروگرام بلا شبہ ایک منفرد پروگرام تھا جس میں شریک نثر نگاروں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور فکری پرواز  کی عطر بیزی سے سامعین اور حاضرین کو مسحور کر دیا.گو آج کل پروگرام انتہائی حساس بھی  تھا صحافت اور شاعری کا گرتا ہوا میعار۔جس میں صحافت کی گرتی ہوئی قدروں کے بارے میں قلم اٹھائی گئی۔انتہائی معزز پیشہ جب زوال کی طرف جارہا ہو تو قلم کار کا حق ہے کہ وہ ان باتوں کے بارے اپنے قلم کے ذریعے ان باتوں کو سامنے لائے۔تمام قلم کاروں نے اپنی اپنی ذمہ داری کو خوب نبھایا ہے جس کے لئے میں تمام نثرنگاروں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں.
نیز چیئرمین ادارہ  اور انتظامیہ سے گزارش کرتا ہوں۔ آج کی اس مشق سخن پر نقد و نظر کا اہتمام کچھ اس طرح کیا جائے کہ نوآموز قلمکار  فنی معائب و محاسن سے روشناس ہو سکیں...
میں آخر میں ایک بار پھر سب کا متشکر و ممنون ہوں اور سب کو ایک بہترین اور کامیاب پروگرام کے انعقاد کے لئے مبارکباد پیش کرتا ہوں..
خدا وند کریم تمام احباب کا حامی و ناصر ہو 
والسلام 
صابر جاذب لیہ پاکستان

Saturday, December 15, 2018

صحافت کا گرتا ہوا معیار

ادارہ ،عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری
کی جانب سے پیش کرتے ہیں 

عالمی تنقیدی فکشن پروگرام نمبر ۔184
بعنوان

۔صحافت کا گرتا ہوا معیار 
۔شاعری کا گرتا ہوا معیار 

صحافت:

صحافت یہ عربی زبان سے نکلاہوا لفظ ہے جس کی اصل صحیفہ اورصحف ہے جس کے لفظی معنی کتاب اور جریدہ(اخبار/رسالہ) کے آتے ہیں۔ صحافت کا مفہوم یوں  ہے:۔’’اخبارات و رسائل اور خبر رساں اداروں کے لئے خبروں اور خبروں پر تبصروں وغیرہ کی تیاری کو صحافت کا نام دیا جاتا ہے ‘‘

شاعری:

شاعری (Poetry) کا مادہ "شعر" ہے اس کے معانی کسی چیز کے جاننے پہچاننے اور واقفیت کے ہیں۔ لیکن اصطلاحاً شعر اس کلامِ موزوں کو کہتے ہیں جو قصداً کہا جائے

پروگرام۔15 دسمبر 2018
بروز ہفتہ پاکستانی وقت۔شام 7بجے
ہندوستانی وقت کے مطابق شام7:30 بجے 

نوٹ
کالم زیادہ سے زیادہ دو صفحات پر مشتمل ہو 
منجانب انتظامیہ ادارہ

==========================

پروگرام آئیڈیا
ماورا سید پاکستان  

پروگرام آرگنائزر
احمد منیب پاکستان 

معاون سیکریٹری ادارہ
صابر جاذب لیہ پاکستان 

بانی وسرپرست ادارہ
توصیف ترنل ہانگ کانگ

ناقدین 
عدیل ارشد خان بھارت 
مسعود حساس کویت 

==========================

صدارت
10-محترم صابر جاذب لیہ پاکستان
8:30
مہمان خصوصی
9-محترمہ ماورا سید کراچی پاکستان
8:20
مہمان اعزازی
8-محترم جعفر بڈھانوی۔ بھارت
8:10
نظامت 
مختار تلہری بھارت 
1 to 5
ڈاکٹر علمدار عدم جموں و کشمیر انڈیا
6 to 10
رپورٹ
ڈاکٹر ارشاد خان ممبرا مہاراشٹر بھارت

==========================

حمد
1-ڈاکٹر ارشاد خان ممبرا مہاراشٹر بھارت
7:00
نعت
2-میاں جمیل احمد پاکستان
7:10
==========================

نثر نگار 
3-احمدمنیب پاکستان
7:20
4-ڈاکٹر ارشاد خان ممبرا مہاراشٹر بھارت
7:30
5-علی شیداّ کشمیر
7:40
6-عامر حسنی ملائیشیا
7:50
7-خالد سروحی گکھڑ سٹی گوجرانوالہ پاکستان
8:00

Monday, December 10, 2018

ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری عالمی تنقیدی پروگرام نمبر ۱۸۳




ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری 
عالمی تنقیدی پروگرام نمبر ۱۸۳

رپورٹ: عامرؔحسنی ملائیشیا
پروگرام آئیڈیا: صابرجاذب لیہ پاکستان
بعنوان: درصنعت اعداد

 اس صنعت میں غزل کے اشعار میں اعداد (ایک،دو،دس،بیس وغیرہ ) کا استعمال کیا جاتا ہے ۔مثلا  عمر دراز مانگ کر لائے تھے چار دن
دو آرزومیں کٹ گئے دوانتظار میں 
ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری دورِ حاضر میں دنیا کا واحد ادارہ ہے جو اِس برقی ترقی یافتہ دَور میں شعراء، ادباء و مُصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسّانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے. ادارۂ ہٰذا میں تمام تر پروگرام برائے تنقید منعقد کئے جاتے ہیں.عالمی سطح پر کامیابی کے ساتھ ادبی تنقیدی پروگرام کا انعقاد یقیناً ادارۂ ہٰذا کی انفرادیت و مقبولیت نیز کامیابی کی ضمانت ہے۔ 
لہٰذا اس پروگرام کے لئے کہے گئے جملہ کلام کو برائے تنقید پیش کیا گیا اور اساتذہ نے اس پر بھرپور تنقید کی جس سے شعرا نے بھرپورفائدہ بھی اٹھایا۔ علاوہ ازیں احباب نے شعرا کو بہت داد و تحسین سے بھی نوازا۔ اس طرح سے یہ پروگرام بہت بڑھیا اورکامیاب رہا۔ الحمدللہ 
یہ تمام کلام  سوشل میڈیا پردنیا بھرمیں مشتہر بھی کیاگیا۔ جس کے لیے ادارہ ہٰذا آرگنائزر بانی وسرپرست ادارہ مکرم توصیف ترنل صاحب ہانگ کانگ کا شکرگزار ہے ۔
پروگرام کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ یہ پروگرام۔8 دسمبر 2018 بروز ہفتہ پاکستانی وقت۔شام 7بجے بھارت کے وقت کے مطابق شام7:30 بجے منعقد کیا گیا۔
صدارت محترم علی شیدا صاحب کشمیر نے کی۔ 
مہمانان خصوصی مکرم احمد منیب صاحب اور محترمہ غزالہ انجم صاحبہ پاکستان تھے۔
 مہمانان اعزازی مکرم اصغر شمیم صاحب کولکاتابھارت اور محترم علمدارعدم صاحب جموں و کشمیرانڈیا تھے۔
 ناقدین مکرم مختارتلہری صاحب بھارت اورمکرم مسعود حساس صاحب کویت تھے۔
نظامت محترمہ صبیحہ صدف صاحبہ بھارت نے بہت خوبصورت انداز میں کی جسے تمام شاملین نے بہت سراہا اور اب رپورٹ کے لیے خاکسار عامر حسنی ملائیشیا کو سعادت مل رہی ہے۔ الحمدللہ 
==========================
حمدِ باری تعالیٰ اور نعت پاک سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ حمد خاکسارعامرؔحسنی نے پیش کرنے کی سعادت پائی:

سدا حمد و ثنا لب پر جاری
خدا کے فضل و احساں ہم پہ بھاری
 اور نعت پیش کرنے کی سعادت مکرم احمد منیب پاکستان کو نصیب ہوئی۔
یہ کیسی آنکھ سے دیکھا کسی نے
نظر آنے لگے دل کے دفینے

اس کے بعد تمام شعراکرام نے کلام پیش کیا جس کی ترتیب کچھ یوں رہی:

 ۱۔ صبیحہ صدف بھارت
اگر ہم چارقدم ساتھ ہی چلے ہوتے
تو زندگی میں ہماری نہ مسئلے ہوتے

۲۔ اخلاد الحسن اخلاد جھنگ پاکستان
لب پہ تالے ہیں پانچ سالوں سے
منہ کے چھالے کسے دکھائیں ہم

۳۔ صابرجاذب لیہ پاکستان
اک بے قرار آنکھ کی بے چین جھیل میں 
میں غرق ہوگیا ہوں کسی نین جھیل میں

۴۔ عامرؔحسنی ملائیشیا
دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں 
لاکھوں ہیں مرے اہل وطن ظلم کے نیچے

۵۔ اطہر حفیظ فراز فیصل آباد پاکستان
کبھی جوچارآنے بھی ملے، ہم نے بچاڈالے
وہ غلے میں چھپا اپنا خزانہ یاد آتا ہے

۶۔ صفیؔ ربانی مانسہرہ پاکستان
اک خواب کی سوچی گئی تعبیر مسلسل
لکھی تھی مگر بخت میں تعزیر مسلسل

۷۔ ڈاکٹرشاہد رحمان فیصل آباد پاکستان
یوں تو چلتا ہوں میں پہروں ہی اکیلا شاہد
دو قدم ساتھ وہ چلتا ہے غزل ہوتی ہے

۸۔ ڈاکٹر مینا نقوی مردآباد بھارت
ترے خیال کا منظرجواں ہے چاروں طرف
زمیں پہ چھایا ہوا آسماں ہے چاروں طرف

۹۔ جعفربڑھانوی بھارت
ایک انسان آ کے دنیا میں 
دو فرشتوں کے درمیاں کیوں ہے

۱۰۔ جابرایازسہارنپوری بھارت
بنائے جارہا ہوں ایک لفظوں کا جہاں میں بھی
چلے آؤ کسی مضمون کے رستے غزل بن کر

۱۱۔ ماورا سید کراچی پاکستان
تمام عمر کا اتنا ہی گوشوارہ ہوا
بس اک زمین مری آسماں تمہارا ہوا

۱۲۔ ششی مہرہ پنجاب بھارت
لاکھوں چاہے نام ہوں چاہے روپ انیک
خالق سب کا ایک ہے سب کا مالک ایک

۱۳۔  علمدار عدم جموں کشمیربھارت
اگر چہرے کوئی دوچار ہوتے
کہانی میں نئے کردار ہوتے

۱۴۔ اصغر شمیم کولکاتا بھارت
اس نے دیکھا تھا ایک دن ہنس کر
میرے پیچھے پڑا زمانہ ہے

۱۵۔ غزالہ انجم پاکستان
سرعت سے بیت جاتے ہیں ہرروزصبح وشام
دو چاردن کی بات ہے عمر رواں۔۔۔۔ تمام

۱۶۔ احمد منیب پاکستان
ہم پہ کھل جائے گا اک روز جگر کا رونا
گھاؤ کو روح سے دیکھیں گے اکیلا کرکے

۱۷۔ مختار تلہری بریلی اترپردیش بھارت
مدت ہوئی ہے سوئے تھے اک پیڑ کے تلے
مختار اس کے سائے کا اب تک خمار ہے

۱۸۔ علی شیدا صاحب کاشمیر بھارت
ہم ساتھ اٹھا لائے سبھی سات سمندر
تم پیاس کہانی کے اداکار میں رکھ دو
 =============
ناقدین میں مکرم مختارتلہری صاحب بھارت اور مکرم مسعود حساس صاحب کویت نے بھی گاہے گاہے شعراء کے کلام پر تبصرہ فرمایا جو پیش ہے:
محترمہ صبیحہ صدف صاحبہ کے کلام پر مکرم مختار تلہری صاحب نے فرمایا:
سیرت میں منفرد تھا مکمل صفات تھا
 وہ اپنی ایک ذات میں کل کائنات تھا
 بہت خوب واہ سبحان اللہ  
 یہ دو آنکھیں تمہاری جامِ جم کا کام کرتی ہیں
 کہ ان میں جھانک کر ہم ساری دنیا دیکھ لیتے ہیں 
بہت خوب زندہ باد
 مرے ساتھ صرف تم تھے کوئ تیسرا نہیں تھا
 تمہیں کہ سکوں میں دل کی مگر حوصلہ نہیں تھا
 شعر اچھا ہے لیکن حوصلہ کی ح گر گئی ہے اس وجہ سے خارج از بحر کہا جائے گا  اگر... مگر... کی جگہ ..مرا.. کہہ دیا جاتا تب بحر میں ہوتا 
 اگر ہم چار قدم ساتھ ہی چلے ہوتے
 تو زندگی میں ہماری نہ مسئلے ہوتے
 اس کا مصرع اولٰی خارج از بحر ہے.. ہم... اس جگہ نہیں آ سکتا جہاں پر استعمال کیا گیا نیز تعقید لفظی بھی ہے زبان یہ ہونا چاہئے اگر چار قدم ہی ساتھ چلے ہوتے  
وہ پانچ وقت نمازوں کے سلسلے میں رہے
 اور ہم نے دل کو ہی کعبہ بنا لیا اپنا 
اس کے بھی ثانی مصرع میں.. ہم.. کی ھ گر رہی ہے 
  دھنک کے سات رنگوں سی چھٹا ہے آج اس دل پر 
کسی نے آج پھر مجھکو کیا ہے یاد برسوں میں
 بہت خوب  
 ہزار کانٹوں میں رہ کر جو گل کھلا ہوگا 
 وہی تو فصلِ بہاراں کا دیوتا ہوگا
 فصل بہاراں کا دیوتا سمجھ سے باہر ہے معذرت....
  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مکرم صفیؔ ربانی مانسہرہ پاکستان کے کلام پر تبصرہ کچھ اس طرح تھا:
اک خواب  کی  سوچی گئی  تعبیر  مُسلسل
 لکھّی  تھی  مگر  بخت میں  تعزیر مُسلسل
 خوب 
 دو چار ہی  ہوتے  تو  کوئی  بات  نہیں  تھی
 غم، زیست  کے  صفحات  پہ  تحریر مُسلسل
 میرے خیال سے مصرع اولٰی ..ھے.. کا طالب ہے  یوں ہوتا تو شاید بہتر ہوتا 
 غم. زیست کے صفحے پہ ہیں تحریر مسلسل  
صد شکر کہ اِس مرض سے محفوظ رہا ہوں
.....لفظ مرض فاع کے وزن میں استعمال ہوا ہے جبکہ فعو کا وزن ہے م رض 
یاروں  میں رہی خواہشِ  تشہیر  مُسلسل
 سو بات کی اک بات کہ چاہت ہے سبھی کچھ
 ہوتی   رہی   گو   عشق   کی  تفسیر  مُسلسل
 عمدہ شعر 
 ہر  رات  مری  آنکھ  کے   فانوس جلے  ہیں 
دو دن  کی  محبت  سے  ہوں  دلگیر  مُسلسل
 واہ 
 ہیں  لاکھ  زمانے  میں  محبت  کے  خریدار 
کیوں  جانے  لٹی  عشق  کی  جاگیر  مُسلسل
 کوئی خاص شعر نہیں  
 اک  پل  کو   بھی  آرام  میسر  ہو  تو  کیسے؟ 
جلتا  ہے  ابھی آگ میں  کشمیر   مُسلسل 
 دو   چار  تھپیڑوں  نے  ہی  دیواریں  گرا  دی جس   قصر   کی   ہوتی  رہی  تعمیر  مُسلسل
 بہت خوب واہ   
اک میں ہوں کہ کرتا ہوں سدا  تیرا تعاقب 
اک تو ہے کہ ہے مائلِ تاخیر  مُسلسل 
خوب 
 یوں تو ہیں سخندان یہاں  لاکھوں ، ہزاروں
 لاکھوں کے بعد ہزاروں کہنے کی ضرورت نہیں تھی
  اعصاب  پہ حاوی  ہے  صفیؔ ! میر  مُسلسل 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
مکرم اصغر شمیم، کولکاتا،انڈیا کے کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا: 
ان ہواؤں کو آزمانہ ہے
 اک چراغِ وفا جلانا ہے
 بہت خوب   
چار دن کی یہ زندگی اپنی 
ایک دن ہم کو لوٹ جانا ہے
 یہ کی جگہ ہے ہوتا تو بہتر ہوتا   
جو بھی غم ہے اسے بھلا کر کے دو گھڑی ہم کو مسکرانا ہے
 بات ..بھلا کر ..تک پوری ہو رہی ہے .. کے حشو ہے.. کے.. کی جگہ.. اب.. مناسب ہے
   اس نے دیکھا تھا ایک دن ہنس کر 
میرے پیچھے پڑا زمانہ ہے 
ردیف کمزور ہے 
 زندگی کی لڑائی میں اصغر
 ایک دن مجھکو ہار جانا ہے 
سچا اور اچھا شعرہے 
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 علاوہ ازیں مکرم مسعود حساس صاحب نے جو تبصرہ کیا وہ وائس کلپ کی شکل میں درج ذیل لنک پر سنا جاسکتا ہے:
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2288548141390679&id=100007065459862
=============================
آخر پر صدر مجلس نے فرمایا: مجھے انتہائی مسرت ہورہی ہے کہ  اردو کی خدمت میں رواں دواں ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری نے آج ایک اور منفرد پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا.جسمیں حسب سابقہ مختلف ممالک کے مقتدر شعرا نے اپنے مخصوص انداز میں صنعت اعداد میں طبع آزمائی کی میں ان تمام معزز شعرا کو سلام پیش کرتا ہوں پروگرام کے مہمانان خصوصی و اعزازی کا بے حد شکر گزار ہوں جنکی حاضری باعث افتخار ہے  سبھی اساتذہ  کو جو بحثیت ناقدین پروگرام کی زینت بنے رہے ' کا بے حد شکر گزار ہوں۔ انکی آراء نقدو نظر  کی خوشبو بکھیرتی رہی۔ محترمہ صبیحہ صدف نے جس خوبصورتی سے مشاعرے کی نظامت کی وہ قابل تحسین ہے پروگرام کے بانی و سرپرست محترم ترنل صاحب کی اردو زبان و ادب کے تئیں  ان تھک کوششیں ہم سب کے لئے مشعل راہ ہیں۔ انہیں میں خصوصی مبارک باد پیش کرتا ہوں میں تمام معزز اراکین ادارہ کا انتہائی ممنون ہوں جنہوں نے مجھ ناچیز کو مسند صدارت پہ بٹھا کر مری عزت افزائی فرمائی اللہ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ اللہ حافظ والسلام علی شیدا کشمیر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آمین یا رب العالمین

Wednesday, December 5, 2018

عالمی تنقیدی پروگرام نمبر ۔183 بعنوان : درصنعت اعداد




ادارہ ،عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری
کی جانب سے پیش کرتے ہیں 

عالمی تنقیدی پروگرام نمبر ۔183 بعنوان :  درصنعت اعداد 

       (درصنعت اعداد )

اس صنعت میں غزل کے اشعار میں اعداد(ایک،دو،دس،بیس وغیرہ ) کا استعمال کیا جاتا ہے ۔مثلا 
عمر دراز مانگ کر لائے تھے چار دن 
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں میں

اس میں پہلے مصرعے میں لفظ( چار ) اور دوسرے مصرے میں لفظ (دو) صنعت اعداد ہیں۔
اسی طرح 

"چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات 
اس میں بھی(چار) صنعت اعداد ہے۔

"دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں" 
(دو)کا لفظ صنعت اعداد ہے۔

پروگرام۔8 دسمبر 2018
بروز ہفتہ پاکستانی وقت۔شام 7بجے
ہندوستانی وقت کے مطابق شام7:30 بجے 

اپنی نوعیت کے منفرد پروگرام میں حصہ لینے والے اہل قلم اپنا نام درج کرائیں۔

(نوٹ)اس پروگرام میں کم از کم پانچ اشعار اور زیادہ سے زیادہ دس اشعار ہوں 
==========================

پروگرام آئیڈیا:
جنرل سیکرٹری ادارہ:
صابر جاذب لیہ پاکستان 

آرگنائزر بانی وسرپرست ادارہ:
توصیف ترنل ہانگ کانگ

==========================
صدارت 
علی شیداّ کشمیر
9:30
مہمانِ خصوصی 
احمد منیب پاکستان 
9:10
غزالہ انجم پاکستان
9:20

مہمانِ اعزازی 
اصغر شمیم کولکاتابھارت
8:50
علمدارعدم جموں و کشمیر انڈیا
9:00
ناقدین 
مسعود حساس کویت
شہزاد نیّر پاکستان 
مختار تلہری بھارت 
شمس الحق لکھنؤ ہندوستان
ضیاء شادانی بھارت 

نظامت 
صبیحہ صدف انڈیا 

رپورٹ:
عامر حسنی ملائشیا 

==========================
حمد 
عامر حسنی ملائیشیا
7:00
نعت
احمد منیب پاکستان 
7:05
==========================
فہرست شعراء 
صبیحہ صدف انڈیا 
7:10
اخلاد الحسن اخلاد جھنگ
7:20
صابر جاذب لیہ پاکستان 
7:30
عامر حسنی ملائیشیا
7:40
اطہر حفیظ فرازفیصل آباد
7:50
صفیؔ ربانی مانسہرہ پاکستان
8:00
ڈاکٹر شاھد رحمان فیصل آباد
8:10
ڈاکٹر مینا نقوی مرادابادبھارت
8:20
جعفر بڈھانوی بھارت
8:30
جابر ایاز سہارنپوری بھارت
8:40

Sunday, October 21, 2018

عالمی تنقید ی پروگرام نمبر 176 بعنوان ادبی تنقید کے اہداف





رپورٹ 
شمس الحق لکھنوی ہندوستان

The international organization 
ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئٹری 
عالمی منفرد پروگرام نمبر 176 بعنوان *ادبی تنقید کے اہداف* بروز ہفتہ شام سات بجے منعقد ہوا یہ پروگرام کئی وجہ سے یادگار پروگرام رہا ایک تو ابھی تک ادارے کے سارے پروگرام برائے تنقید ہوا کرتے تھے اور یہ پروگرام خود تنقید کے عنوان پر منعقد جسکو خاکسار *شمس الحق لکھنوی* نے آرگنائز کیا اور نظامت کے فرائض *ضیا شادانی* بھارت نے انجام دیے پروگرام کا آغاز صابر جاذب لیہ پاکستان کی خوبصورت نعت پاک سے ہوا

*بلکتے اشک نہیں ہیں فضول آنکھوں میں* 
*مہک رہے ہیں عقیدت کے پھول آنکھوں میں* 

اسکے بعد پروگرام اپنے مقصد اصلی کی جانب گامزن ہوا جہاں پر تنقید سے متعلق علمی سوال اور جواب دیے گئے سوال نامہ جناب *ارشاد خان ممبرا* نے تیار کیا جسکے جواب ادارے کے معتبر شاعر ادیب جنکی شاعری میں اقبالی استدلال اور الفاظ میں غالبیت کوٹ کوٹ کر بھری ہے جو فن پر زبردست قدرت کے ساتھ لغت کے بھی ماہر ہیں یعنی *غلام مصطفیٰ اعوان دائم* صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ نے دیے جن پر کچھ تبصرے بھی ہوئے اور بیچ میں بھی کئی جزئی سوالات کیے گئے ہر ایک کا تحقیقی تفصیلی جواب دیا قارئین کی علمی بصریت کو قوی تر کرنے کے لیے تمام سوالات کے جوابات بالترتیب قلمبند کیے گئے ہیں جو ذیل میں آ رہے ہیں 

سوال نمبر 1

تنقید کیا ہے؟

*جواب =* تنقید کا لغوی معنیٰ پرکھنا یا کھرے کھوٹے میں تمیز کرنا ہے، اور ادب میں تنقید کا لفظ انگلش کے Criticism سے ماخوذ ہے، Criticism کی تعریف یہ ہے کہ :
_*Disapproval expressed by pointing out faults or shortcomings*_
یعنی : _اغلاط و تسامحات کی نشاندہی کرتے ہوئے اپنا تردیدی اظہاریہ کریٹیسزم کہلاتا ہے_

اس تعریف میں چونکہ مکمل تردیدی جذبات کا اعلانیہ ہے اس لیے کہ درست نہیں، عربی میں بھی یہی معنی مراد لیے جاتے ہیں،  اس کے لیے مناسب لفظ انتقاد یا نقد ہے، جو ادب میں تنقید کے مفہوم پر درست طور پر منطبق آ سکتا ہے، معجم الرائد میں ہے کہ :
_*إنتقد  الكلام أو العمل : أظهر حسنه أو قبيحه*_
یعنی : _انتقاد کا معنیٰ ہے کہ کلام یا عَمَل کے محاسن و قبائح کو ظاہر کیا جائے_
سید عابد علی عابد کی بھی ایک کتاب *انتقاد* کے نام سے موجود ہے. حامد اللہ خان افسر لکھتے ہیں کہ :
_*لفظِ تنقید عربی صرف و نحو کے اعتبار سے درست نہیں، اس کی جگہ نقد یا انتقاد ہونا چاہیے، لیکن اردو میں یہ لفظ اب اتنا مشہور ہو گیا ہے کہ اس کی جگہ دوسرے لفظ کا استعمال مناسب نہیں سمجھا جاتا، ہاں اردو زبان میں اسے درست سمجھنا چاہیے*_
بحوالہ : _کشاف تنقیدی اصطلاحات، صفحہ نمبر 50_

*تنقید سے مراد وہ طرزِ تفہیم، جس میں کسی فن پارے کے حسن و قبح پر فنی اصول و ضوابط کی روشنی میں اظہار کیا گیا ہو۔*

آسان الفاظ میں تنقید کا کام ادبی تقویم و توضیح و تفہیم ہے، وہ نہ صرف ادبی تحریر کو غیر ادبی تحریر سے ممیز کرتی ہے بلکہ ادبی تحریر کی ساخت، مزاج اور معیار کا تجزیہ بھی کرتی ہے، اس حوالے سے دو نظریے ادب پر تشریحی و توضیح بحث کرتے ہیں، ایک معروضی اندازِ نقد و نظر اور دوسرا موضوعی طرزِ انتقاد، ان کی تفصیل کا یہاں ابھی محل نہیں

اس جواب پر جناب ارشاد خان صاحب کا تبصرہ تھا کہ  *عمدہ وااہ ہر ہر زاویہ سے تنقید کی فہمائش کی گئی مبارکباد*
سوال نمبر 2

تنقید کے مثبت اور منفی پہلو؟

*جواب =* کسی شاعر کے کلام کا تجزیہ اس کے فکر و فن کی کسوٹی پر کیا جاتا ہے، فکر سے مراد شاعر کا حسنِ خیال ہے جبکہ فن اس کا اسلوب... یوں کہہ لہجیے کہ فکر شعر کی روح ہے اور فن اس کا جسم، دونوں کا شعر میں ہونا ضروری ہے، جس طرح روح کے بغیر جسم مردہ ہوتا ہے، اور جسم کے بغیر روح آسیب بن جاتی ہے، اسی طرح فکر و فن کے توازن اور اس کے علم کے بغیر اچھے شعر کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا

تنقید کا مثبت پہلو تو یہی ہے کہ وہ روایت کی پاسداری کیساتھ تخلیق کی تفہیم میں اپنا کردار ادا کرے، تنقید کا منفی پہلو یہ ہے کہ وہ تفہیم سے زیادہ تنقیص کا لبادہ اوڑھ لے، معائبِ خفیفہ کو طشت از بام یوں کرے کہ محسنات پر مکمل چادر تان لی جائے، ناقد تخلیق پر اسی وقت انتقاد کا حق ادا کر سکتا ہے، جب وہ مطلوبہ ہدف تک رسائی کے لیے مناسب وسائل استعمال کر سکنے پر قادر ہو، قاری ناقد نہیں ہوتا لیکن وہ اپنے تئیں جو رائے اور تبصرہ محفوظ رکھتا ہے، وہ اس کی ذہنی اپج کا احساس ہوتا ہے، وہ دراصل انتقاد کی خشتِ اولیں ہوتی ہے، قاری کا مطلب قرأت سے یے اور ناقد کارِ نہاں نُمائی سرانجام دیتا ہے، مثبت طریقۂ تنقید وہی ہے جو اصولِ انتقاد سے ماخوذ و مستنبط ہو، ورنہ وجدان کا تفحص اور ادراک کی تلاش محض کارِ عَبَث ہو کر رہ جاتی

جواب نمبر دو پر جناب ارشاد خان ممبرا کا تبصرہ
بالکل صحیح ،
نقاد فن کی گہرائی میں غوطہ زن ہوکر آبدار موتی لاتا ہے جبکہ قاری سطح آب پھر تیر خس وخاشاک و جھاگ لیے مانند جھاگ اوجھل ہوجاتا ہے ۔۔روایت وحالات حاضرہ پر نقاد کی نظر ہوتی ہے ۔ وہ فن پارے میں نئے مفاہیم تلاشنے میں دراک ہوتا اور اس کی نظر قبیح سے زیادہ حسن پر ہوتی ہے ۔۔نقاط کی کسوٹی سے گزر وہ فن پارہ درخشندہ ہوتا ہے ۔ منفی تنقید فنکار کے حوصلے پست کردیتی ہے اس سے اس کا تخلیقی صلاحیت پھر ضرب کاری پڑتی ہے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
3 اردو ادب میں تنقید کی ابتدا کب ہوئی اور کسنے کی
 سوال نمبر تین کا اجمالی جواب :

دراصل کسی بھی ادب پارے کے تخلیقی عَمَل کے ساتھ ہی تنقیدی عمل کی بھی ابتداء ہو جاتی ہے، جب تخلیق کار کے ذہن میں کسی خاص موضوع کی داغ بیل پڑتی ہے تو وہاں سے اُس کے ذہن میں تنقیدی عمل بھی شروع ہوجاتا ہے، کوئی شاعر نظم یا غزل لکھنے کا ارادہ کرے تو اس کا تنقیدی شعور اُس کی رہنمائی کرتا ہے۔ اور وہ اشعار یا نثری تحریر کو کانٹ چھانٹ کے اور اُس کے نوک پلک درست کرکے تسلی بخش انداز میں تخلیق کرتا ہے۔ غرض یہ کہ جب کوئی فن پارہ فنکار کے ذہن میں جنم لینے لگتا ہے تو یہیں سے تنقید اپنا کام شروع کردیتی ہے ۔ اور ایک لحاظ سے تخلیق سے پہلے تنقیدی عمل شروع ہوجاتا ہے.

اردو ادب کا اولین نقاد مولانا باقر آگاہ ویلوری جبکہ مولانا الطاف حسین حالی کو اردو کا پہلا باقاعدہ نقاد تصور کیا جاتا ہے۔

باقی بہت تفصیل ہے.

سوال نمبر 4

اردو ادب کے اکابر نقاد

*جواب =* اردو ادب میں کی تاریخ میں تنقید کا موضوع بہت پہنائی کا حامل ہے، اس میدان میں سرگردانی کرنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں، ہر دور نیا طرز جنم دیتا ہے، نئے تخلیق کار پیدا کرتا ہے، نئا اسلوب وضع کرتا ہے اور جدت اور مابعد جدیدیت کی کیفیات کا اعلانیہ ہوتا ہے
اردو ادب کا اولین نقاد مولانا باقر آگاہ ویلوری جبکہ مولانا الطاف حسین حالی کو اردو کا پہلا باقاعدہ نقاد تصور کیا جاتا ہے۔
اردو ادب کی تاریخ میں مولوی عبد الحق، مولانا حسرت موہانی، سید علی حیدر نظم طباطبائی، جگن ناتھ آزاد، ڈپٹی نذیر احمد سے لے کر موجودہ دور کے شمس الرحمٰن فاروقی اور رفیع الدین ہاشمی تک بے شمار نقاد ملتے ہیں، ان سب کے نظریات کبھی متوازی نظر آتے ہیں اور کبھی مساوی، یہاں سب کے سب حیطۂ تحریر میں نہیں لائے جا سکتے
لطاف حسین حالیؔ مقدمہ شعر و شاعری میں پیش کردہ اپنے تنقیدی خیالات کے سبب جدید اُردو تنقید نگاری کے بانی قرار پائے۔ حالیؔ نے تنقید کی جو راہ نکالی اس پر آگے چل کر اُردو تنقید نے طویل فاصلہ طے کیا۔ حالیؔ کے بعد اُردو کے نقادوں کا ایک سلسلہ چل پڑا۔ جن میں اہم نام شبلیؔ، عبدالحق، نیاز فتح پوری، مجنوں گور کھپوری، آل احمد سرور، احتشام حسین، کلیم الدین احمد، محمد حسن عسکری، خورشید الاسلام، محمد حسن، احسن فاروقی، وزیر آغا، قمر رئیس، سلیم احمد، مغنی تبسم، سلیمان، اطہر جاوید وغیرہ شامل ہیں.
پھر تنقید کی اقسام ہیں اور ہر قسم میں مختلف نقاد ہیں اور ان کی خدمات...

*ناقدین کی اقسام :*

تنقید دراصل کلاس نوٹس کی طرح سے ہے، جس کا بنیادی مادہ تو تقریباً ایک رہتا ہے مگر مثالیں بدلتی رہتی ہیں۔اس لحاظ سے ناقدین کو بھی مخلف اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے

 آر کی ٹائپ ادب کا نقاد

نفسیاتی ادب کا ناقد

استقرائی ادب کا ناقد

تجزیاتی ادب کا ناقد

رومانی ادب کا ناقد

سائنٹفک ادب کا ناقد

عمرانی ادب کا ناقد

مارکسی ادب کا ناقد

نظریاتی ادب کا ناقد

عملی ادب کا ناقد

ہیئت ادب کا ناقد

*یاد رہے کہ* یہ اصل میں تنقید کی تقسیم تھی، لیکن ناقدین کو اس تقسیم میں پیوست کرنے کا مقصد یہی ہے کہ تاکہ اس حوالے بھی دیکھا جائے تو کئی در وا ہو سکتے ہیکیا

سوال نمبر 5

کہا جاتا ہے کہ ایک کامیاب نقاد ناکامیاب شاعر یا ادیب ہوتا یے

میں اس سے بالکل متفق نہیں، کیوں کہ اگر ایک اچھا شاعر جو فنی باریکیوں سے آشنا ہو، وہی نقد و نظر کا اہل ہو سکتا ہے بشرطیکہ تنقید کسی شعری تخلیق پر کرنی مقصود ہو، اگر تخلیق نثری ہو تو اس کے لیے کامیاب شاعر ہونا تو شرط بالکل نہیں، ہاں کامیاب ادیب ہونا ضروری ہے... ایک ناقد اپنے منقود کو زندہ کرنے والا ہوتا ہے اور یہ تبھی ممکن ہے کہ وہ اس کے فَن کی رگِ حیات کا محل و مکان جانتا ہو، اس لحاظ سے میں ایک مغربی مفکر T. S Elliot سے بہت متاثر ہوں

اس کا کہنا ہے کہ تنقید کا منصب شعراء و ادباء کو زندہ رکھنا ہے، تنقید کا ایک منصب ان شاعروں اور ادیبوں کو زندہ کرنا بھی بتایا ہے جو عرصہ دراز سے گوشہ گمنامی میں ہوں، بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ کسی شاعر اور ادیب کی شہرت اس کی چند ایک نظموں یا تحریروں کی وجہ سے ہوتی ہے یا ان کی تخلیقات میں فن کی بلندی کہیں کہیں نظر آتی ہے، جو ان کی شہرتِ دوام کا موجب نہیں بن سکتی. ایلیٹ لکھتا ہے کہ تنقید کا یہ کام بھی ہے کہ وہ ان شاعروں اور ادیبوں کو از سرِ نو زندہ کرے۔ ان کے کلام میں جتنے بھی محاسن موجود ہیں انہیں عوام کے سامنے پیش کرے، ہو سکتا ہے کہ ان کی تخلیقات میں سے بعض ایسی چیزیں مل جائیں جن کا موجودہ زمانے کو علم نہ ہو۔

ایلیٹ کے ان خیالات سے میں مکمل طور پر متفق تو نہیں ہوں کیونکہ گمنامی کا جو تصور اس نے پیش کیا وہ موضوعی ہے اور اس پر سوائے ایلیٹ کے شاید ہی کسی نے بات کی ہو..
لیکن اس قدر ان سے اتفاق کرتا ہوں کہ ایک ناکام ادیب کبھی بھی کامیاب ناقد نہیں بن سکتا، یہ اصول اگرچہ ایلیٹ کے ہاں صاف نظر نہیں آتا، لیکن ان کے نظریات سے ضمنی طور پر ماخوذ کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ میں نے اخذ کیا اور استنباط کیا

اس پر خاکسار شمس الحق کا تبصرہ تھا کہ

بالکل متفق ۔۔۔ جب آدمی ادب سے خارج ہوتا ہے کم علمی کی بنیاد پر تو وہ بے جا نقد شروع کرتا اسکا مقصد محض علمی دھاک جمانا ہوتا جس میں  وہ لا علم لوگوں میں تو عارضی واہ واہی حاصل کرتا لیکن بہت جلد اسکی علمی قلعی واشگاف ہو جاتی ہے ۔۔۔ اور یہ کیفیت مسلسل نہ سیکھنے کی وجہ ہوتی ہے یا ہمچوں دیگرِ نیست والی بات

سوال نمبر 6
مختلف ناقدین کے نظریہ ہائے تنقید سے کس قدر متفق ہیں؟؟ 

سب کا اپنا اپنا رنگ ہے، اردو ادب میں کی تاریخ میں تنقید کا موضوع بہت پہنائی کا حامل ہے، اس میدان میں سرگردانی کرنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں، ہر دور نیا طرز جنم دیتا ہے، نئے تخلیق کار پیدا کرتا ہے، نئا اسلوب وضع کرتا ہے اور جدت اور مابعد جدیدیت کی کیفیات کا اعلانیہ ہوتا ہے

تذکرہ نگاری
شعرائے اردو کے تذکرے ادبی تاریخ کو مرتب کرنے میں بے حد معاون ثابت ہوتے ہیں۔ زبان کی ادبی تاریخ جاننے کے لیے تذکروں کا مطالعہ کرنا ناگزیر ہے۔ تذکرہ نگاری کا فنعرب سے شروع ہوا اور ایران پہنچا۔ بھارت میں بھی اس روایت کی پاس داری میں تذکرے لکھے گئے۔ ابتدائی زمانے میں فارسی درباروں کی زبان تھی اور علمی کاموں کے لیے بھی اسی زبان کا استعمال ہوتا تھا۔ اسی لیے اردو شعراءکے تذکرے فارسی میں تحریر کیے گئے۔ اردو شعرا کے تذکروں میں اب تک کی تحقیق کے مطابق میرؔ کو اولیت حاصل ہے، جنہوں نے ’’نکات الشعرا‘‘ تحریر کیا۔

تبصرہ نگاری
جدید مطبوعات پر تبصرہ وتعارف کی باقاعدہ روایت قائم ہوئی ہے اور یوں تبصرہ نگاری نے ایک مستقل فن اور صنف کی شکل اختیار کرلی ہے۔
کسی بھی کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے کتاب  کے موضوع سے مکمل آگاہی حاصل کرنا ضروری ہے۔تبصرے سے پہلے کتاب، مصنف اور کتاب کے موضوع سے واقفیت حاصل کرنا ، بلکہ مکمل کتاب کا مطالعہ کرنا نہایت ضروری ہے۔ اگر مکمل کتاب کا حرف حرف مطالعہ کرنا مشکل ہو تو کم ازکم  کتاب کی فہرست، تمہید، پیش لفظ، تقریظ اور تعارف ومقدمہ کا مطالعہ کرنا از بس ضروری ہے۔ اس کے ساتھ فہرست میں اہم اور چیدہ چیدہ مقامات کو منتخب کرکے ان مقامات کا بغور مطالعہ کرنا اور ان سے متعلق اپنی رائے کو تبصرے میں شامل کرنا بھی ضروری ہے۔
کتاب پر تبصرہ کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
تعارف. مرکزی حصہ، اختتام

سوال نمبر 7

انگریزی نقاد اور دیگر نقاد ہم پلہ ہی‌؟ 

جواب.. میں اس سے مکمل تو نہیں کہ دونوں ہم پلہ ہیں، مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ طرز اور اسلوب کی ہم آہنگی اور پرکھ کا طریقہ اپنا اپنا ہے سب کا، مولانا حالی کی کتاب *مقدمۂ شعر و شاعری* اور مولانا شبلی نعمانی کی *شعر العجم* میں مغربی ناقدین کی محولہ عبارات بھری پڑی ہے، کہیں بطورِ اشتشہاد اور کہیں بطورِ نظیر، اس سے انگریز ناقدین کی برتری واضح ہوتی ہے،

سوال نمبر 8

ڈاکٹر زور کی خدمات

ڈاکٹر زور ایک شاعر، افسانہ نگار، نقاد، محقق ہی نہیں بلکہ عالم ، لسانی تنقیدی نظریہ دان ادبی مورخ ، تاریخ دان اور معاشرتی اصلاح کار بھی تھے
ابتدئی تعلیم مدرسہ دارلعلوم سٹی اسکول میں ھوئی۔ پھر1927 میں عثمانیہ کالج سے " لسانی سائنس" میں ایم ۔اے کی سند حاصل کی۔ ان کی ادبی اور علمی زہانت کو دیکھتے ھوئے حیدرآباد کے فرمانروا نے انھیں وظیفہ دے کر 1929 میں لندن یونیورسٹی پی ایچ ڈی کرنے کے لیے بھجوایا۔ جہان انھوں نے " آریائی زبانوں" پر ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھا۔ یہاں انھیں بین الاقوامی شہرت رکھنے والے ماہر لسانیات کی سرپرستی نصیب ہوئی۔ اسکول آف اورینٹل اسٹڈیز لندن کے پروفیسر آر۔ایل۔ٹرنر اور ہندوستانی زبان کے ماہر گراہم بیلی نے زور صاحب کی علمی اور تحقیقی فطانت کو دیکھتے ھوئے۔ان کی تربیت کی اور مفید مشورے دئیے۔

ڈاکٹر گیان چند جین نے اسی بنا پر زور صاحب کو صرف اردو ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی جملہ زبانوں میں علم زبان کے قافلے کے سالاروں میں شمار کیا۔

اردو تنقید کے ابتدائی دور میں ایک معتبر نام ہمیں ڈاکٹر زور کا ملتا ہے۔ جن کی تنقید نگاری پر اعتبار کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر زور بنیادی طور پر سائنٹفک دبستان تنقید سے وابستہ تھے۔ڈاکٹر زورؔ ایک مایہ ناز محقق، تجربہ کار مدون تھے۔ ان کی تحقیقی اور تدوینی کام کی وجہ سے کئی شاعر گوشۂ گم نامی سے نکل کر شہرت کے بام عروج پر پہنچے۔ تحقیق ایک صبرآزما اور مشکل کام ہے اس میں جذبے کی لطافت، ذہنی یکسوئی خیال کی ہم آہنگی کا ہونا نہایت لازمی ہے، تحقیق اپنے موضوع کے ساتھ انصاف چاہتی ہے۔ وہ مواد کو سلیقے سے اکٹھا کرنا، اس کی صحیح جانچ پڑتال، چھان بین، تقابل، رد و قدح جیسے مراحل میں باریک بینی و حساسیت چاہتی ہے۔ یہ تمام اوصاف ڈاکٹر زور میں بہ درجہ اتم پائی جاتی تھیں۔

ڈاکٹر عبادت بریلوی ان کے تنقیدی دبستان کے مسلک کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
’’ڈاکٹر زور نے تنقید کے لیے جن اصولوں کو ضروری قرار دیا ہے وہ بڑی حد تک سائنٹفک ہیں۔ اگر ان کو سامنے رکھ کر تنقید کی جائے تو زیر نظر تصنیف کے تمام پہلو پڑھنے والے کے سامنے آسکتے ہیں۔ ان کی عملی تنقید میں یہ خصوصیت سب سے زیادہ نمایاں ہے۔‘‘

زورصاحب نے نواب رفعت یار جنگ کی صاحب زادی تحینت النساء سے شادی کی۔ جو اردو کی باقاعدہ پہلی صاحب دیوان شاعرہ تھیں۔

سوال نمبر 9

غالب اور اقبال پر تنقید

ہر باکمال پر تنقید ہوتی ہے اور تنقید اصل میں اونچے قد کی غمازی ہوتی ہے، اس پر لکھنے بیٹھ جاؤں تو دفتر کے دفتر درکار ہیں، المختصر کہ کہ ان پر جتنی تنقید کی گئی اس قدر کسی اور پر نہیں کی گئی، لیکن آج تک یہ سب سے زیادہ پڑھے جاتے ہیں، اور ان کی عظمتوں کے عَلَم آج بھی سرنگوں نہیں ہوئے بلکہ ہر مذہب کے لوگ انھیں پڑھ کر ان کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں

سوال نمبر 10

حالی نہ ہوتے تو غالب نہ ہوتے.. اتفاق یا عدم اتفاق

مرزا غالب کے حالاتِ زندگی اور اُن کی شخصیت کے تعلق سے جو بنیادی معلومات مولانا حالی نے جمع کر دی ہیں ، اُن کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ بالخصوص ’یادگارِ غالب‘ کے دو تہائی سے زیادہ حصّے میں جہاں حالیِ نکتہ داں نے غالب کے اردو اور فارسی کلام کی تشریح کے ذریعے غالب فہمی کی مشعل روشن کر رکھی ہے، ایک زمانے سے شارحینِ غالب اپنی فکر و نظر کے چراغ جلاتے آئے ہیں۔ بلاشبہ آج غالبیات کی تحقیق و تشریح نے حالی کی ’یادگارِ غالب‘ سے لے کر نارنگ کی ’غالب، معنی آفرینی۔ ۔ ۔ ۔ ‘ (2) تک ایک بہت بڑا فاصلہ طے کر لیا ہے اور اب یہ راہ پُر خار نہیں رہی۔ یہ تو پہلا قدم ہے جس کا اُٹھانا دشوار ہوا کرتا ہے اور وہ بلا حالی نے سرکر لی تھی۔

نہ جانے کیوں محققینِ غالب نے حالی اور غالب کے تعلقات پر زیادہ توجہ نہیں کی۔ ہم بس اتنا جانتے ہیں کہ 1854ء میں بعمر سترہ سال اپنی شادی کے بعد اس اطمینان پر کہ بیوی کا میکہ آسودہ حا ل ہے، حالی حصولِ علم کی غرض سے دلّی چلے آئے تھے۔ یہاں 1854-55ء میں اُن کا کوئی ڈیڑھ سال قیام رہا تھا۔ اُسی دور میں اُنھوں نے قلعۂ معلّا کے مشاعرے میں غالب کو اپنا اردو اور فارسی کلام پڑھتے ہوئے سُنا تھا، لیکن اُن سے حالی کی ملاقات کے شواہد نہیں ملتے۔ یہ بات بھی قیاس میں نہیں آتی کہ ان کی اس عمر کی شعر گوئی نے غالب سے داد پائی ہو۔ جن محققوں نے حالی کے اُسی دورے میں اُن کی غالب سے ملاقات کرا دی ہے، انھوں نے عجلت پسندی سے کام لیا ہے۔ دراصل حالی کے خود نوشتہ ’ترجمۂ حالی ‘میں ان کے طرزِ بیاں کے ابہام سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ غدر کے بعد پانی پت میں بیکاری کے چارسال گزارکربعمرچوبیس سال دوبارہ دلّی آئے تھے۔ (3) اس بار وہ 1861ء تا 1863ء کے درمیان دو برس تک غالب سے اُن کی اردو اور فارسی غزلوں اور قصیدوں کا درس لیتے رہے تھے اور اپنے کلام پر اصلاح بھی۔ قرائن کہتے ہیں کہ اسی زمانے میں غالب نے حالی کی شاعری کے تعلق سے اپنی یہ مشہور رائے ظاہر کی تھی کہ ’اگرچہ میں کسی کو فکرِ شعر کی صلاح نہیں دیا کرتا، لیکن تمھاری نسبت میرا یہ خیال ہے کہ اگر تم شعر نہ کہو گے تو اپنی طبیعت پر سخت ظلم کرو گے۔

ان تمام معلومات کی روشنی میں یہ بآسانی کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ حالی کی خدمات سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن غالب کی عظمت کسی اور کی محتاج نہ تھی اور نہ ہے، انھوں نے اپنا آپ خود ہی منوایا ہے

سوال نمبر 11

ادبی تنقید کے اصول، نیز تنقید و تنقیص میں فرق

تنقیص کے اصول :
جب تخلیق کار اظہار کے لئے کسی خاص صنف کو استعمال کرتا ہے تو پہلے اس کے اصول و ضوابط کا درس نہیں لیتا اور نہ ہی سبق کی مانند انہیں یاد کرتا ہے۔ وہ آمد، کیفیت، وجدان، الہام، جذب و جذبہ (جو لفظ بھی چاہیں استعمال کرسکتا ہے) کے زیرِ اثر مائل تخلیق ہوتا ہے اور بس۔ تخلیق کی تکمیل کے بعد نقاد کا کام شروع ہوتا ہے۔

شعر ہو یا نثر، دونوں میں فصیح و أفصح، درست و نا درست، بہتر و بہترین اور حسن قبح میں تمیز کرنا ناقد کا اولین فرض ہے، جس طرح ایک اچھا فنکار شاعر اپنی شاعری میں منتخب الفاظ کو استعمال کرکے انھیں ایک تازہ لسانی اورجمالیاتی تناظر فراہم کردیتا ہے، لفظوں کو نئے نئے اور تازہ بہ تازہ تناظر فراہم کر کے اس کی معنویت میں اضافہ کرکے معنی آفرینی کی فضا ہموار کرتا ہے، لفظوں کے افقی اور عمودی دونوں طرح کے انتخاب سے کام لیتا ہے، عمودی انتخاب کا مطلب ذہن میں موجود مختلف الفاظ میں کسی ایک موزوں لفظ کا استعمال اور افقی انتخاب کا مطلب لفظوں کے درمیان باہمی مناسبت اور رشتہ داری، ان کی باہمی نشست ترتیب اور کیمیائی ترکیب ہے جن کے ذریعہ احساسات ، جذبات ، تجربات ، تخیلات اور تعقلات کو ایک نیا جمالیاتی تناظر فراہم کیا جاتا ہے، ایک اچھا ناقد انھی سے شاعر کے فن اور کرافٹ کو سمجھتا ہے

اور یاد رہے کہ شعر پر تنقید صرف لفظوں کی ترتیب و تزئین ، آہنگ کی موسیقیت، ترنُّم کی آمیزش اور عروض کی پابندی سے ترتیب پانے والے عملِ شعریّت پر بحث نہیں کرتی بلکہ ایسے بہت سے عوامل پر تجزیہ کرتی ہے کہ انہیں الگ الگ دیکھنا محال ہے، چند ایسے عوامل اور محرکات درجِ ذیل ہیں جو ناقد کی حسِّ ادراک سے صریرِ خامہ تک زقند بھرتے ہیں اور تفہیم میں ممد ثابت ہوتے ہیں :

👈اظہارِ ذات کے جذبے تک رسائی اور اس کا داخلی و خارجی تجزیہ کرتی یے
👈الہامی کیفیت اور تحریک کا ادراک کرکے اس سے پردہ کشائی کرتی ہے
👈معاشرتی نفسیات کے رچاؤ  کی تفہیم اس کا کام ہے
👈ثقافتی مظاہر اور اقدار کا بیان اس کا حُسن ہے
👈مشاہدہ کی علامتی اور فکری سطح کی توضیح کرتی ہے
👈تخیل اور تجزیہ کی آنکھ مچولی کا پہرہ دیتی ہے
👈ادیب کی استعداد اور معاشرے میں اس کے مقام پر گفتگو کرتی ہے
👈طبعی رجحان اور شخصی نظریات کا خارجی تجزیہ لگاتی ہے 
👈زبان اور بیان کے  تقاضوں پر عَمَلی تبصرہ کرتی ہے
👈شعری وجدان اور خدا داد صلاحیت پر تحسین بھی کرتی ہے

اسی طرح جب نثر انتقاد عَمَل ہو تو اس میں ناقد کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اولاً تفہیم کرے اور پھر اس کے مندرجات کی پرکھ درست و نادرست ہونے کے اعتبار سے کرے، چونکہ فصیح و أفصح کا مرحلہ بہر طور درست و نا درست کے بعد ہی آتا ہے، اس لیے اس عَمَل کی درجہ بندی بھی ضروری ہے

تنقید اگر حق بجانب یا غیر معیاری یا تعصبانہ ہو تو یہ تنقید برائے تنقید رہ جاتی ہے، اس ترکیب میں پہلا لفظِ تنقید اسی معنیٰ کا حامل ہے جو اوپر فَقَط معائب و قبائح کو مشتمل، عربی صرف و نحو کے حوالے سے گزر چکا یے، اس کے نقصانات ادیب یا شاعر کو بالکل بھی نہیں بلکہ اس کے اثرات براہِ راست ادب پر مرتب ہوتے ہی تنقید کا منصب جہاں فن پاروں کی تشریح و توضیح ہے وہاں فن کی تحسین، تخلیق کے قریب چیز بھی ہے۔ تحسین کا کام چیزوں کو اجاگر اور روشن کرنا، تحریک دینا اور استحسان کے لئے ہماری ذہانت کو جلا بخشنا ہے

ایک مغربی نقاد *ایڈسن* کے خیال میں :
_”ایک سچا نقاد کسی ادیب یاکسی ادب پارے کی خامیوں پر اتنا زور نہیں دیتا جتنا کہ اس کی خوبیوں پر۔“_

*ہڈسن* مزید لکھتا ہے کہ :
_”اگر ادب مختلف صورتوں میں تشریحِ حیات ہے تو تنقید ادب کی اس تشریح کی تشریح ہے۔“

ان نقادوں کی آراء سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ نقاد کا کام صرف فن پارے کے محاسن بیان کرنا ہے اور اسے اس کی خامیوں کی نشاندہی نہیں کرنی چاہیے، حالانکہ تحریر کے عیوب اور اظہار و بیان کے انداز کے معائب بے نقاب کئے بغیر محاسن کا مکمل احاطہ نہیں ہو سکتا، اس لئے تنقید کا منصب صرف فن پارے کے محاسن بیان کرنا ہی نہیں بلکہ اس کے معائب کو بھی قارئین کے سامنے لانا ہے۔ کیونکہ محاسن و معائب کے ایک ساتھ بیان سے نقاد فن کار کی رہنمائی کرتا ہے اور فن کی ترقی کے لئے راہیں کھولتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ نقاد کا ایسا بے لاگ اور متوازن بیان عام قارئین کے ذوق ادب میں اضافہ اور اصلاح کا باعث بنتا ہے۔

یہ تو تیار کردہ مستقل سوالات کے جوابات تھے اب آتے ہیں دوارنِ پروگرام کیے گئے کچھ جزئی مگر علمی سوالات کے جواب کی جانب ان میں اکثر سوالات صابر جاذب پاکستان کے تھے

 کیا تنقید محض سطحی ہے ۔ اس کا تعلق زبان ‘ محاورہ اور عروض سے ہے؟ 

جواب۔۔ تنقید بالکل سطحی نہی‌ ہے بلکہ یہ مکمل لائحۂ عَمَل کا نام ہے

زبان و محاورہ کے اعتبار سے دیکھا جائے تو تنقید اصول کی پابندی بھی کرتی ہے اور بعض دفعہ اصول وضع بھی کرتی ہے، اصول کی گھڑت شعری کائنات میں تفہیم و توضیح کے نئے در وا کرتی ہے، ماضی میں تخلیقات پر تنقید کا اثر مستقبل یا حال پر مرتب ہوتا ہے اور اس کے مماثلاتی اثرات نئی تخلیق پر لاگو بھی کیے جاتے ہیں اور فن کار کا فَن اپنی جدت برقرار رکھنے کیساتھ ساتھ روایت کی چاشنی سے بھی ہم آہنگ ہو جاتا ہے
نکھار لانا تنقید کا کام نہیں، لیکن یہ اسے متضمن ضرور ہے، تنقید برائے اصلاح کی اصطلاح اسی معنیٰ کی طرف اشارہ کرتی ہے، ادب میں اس طرح کی تنقید کی بہت سی امثلہ تاریخِ ادبِ عالَم میں محفوظ ہیں
*غلام مصطفیٰ اعوان دائم*

بالکل ،
صحت زبان اولین شرط ہے ۔۔۔با محاورہ ۔۔سلیس اور شستہ زبان کو اہميت دی جاتی ہے ۔۔۔اقبال کے استعارے برتنے کے انداز نے انہیں جاوداں کردیا ۔۔

جیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہو 
اور اسی قسم کے 

صنعت کو استعمال ۔۔نے انیس کو صف اول میں لا کھڑا کیا 

گرمی سے مضطرب تھا زمانہ زمین پر 
بھن جاتا جو گرتا تھا دانا زمین پر 

حالی نے ،آزاد نے ، سرسید وغیرہم نے نثر میں بامحاورہ زبان استعمال کی ہے
*ڈاکٹر ارشاد خان ممبرا*

سوال۔۔کیا تنقید کا کام محض شعر و ادب کی اقداری معنویت متعین کرنا ہے؟

تنقید کو صرف اقداری معنویت متعین مطلوب نہیں ہوتا، بلکہ تنقید کا اولین مقصد اور غرضِ سامی تفہیم ہوتی ہے
*غلام مصطفیٰ اعوان دائم*
اور اس سوال کے جواب میں مزید ارشاد فرمایا کہ
اس کی اگر درجہ بندی کروں تو... تنقید کے مقاصد کو آپ یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ :
پہلی کڑی. قرات
دوسری کڑی. تفہیم
تیسری کڑی. داخلی عوامل کا جائزہ
چوتھی کڑی. داخلی عوامل کے انحصاری پہلو
پانچویں کڑی. خارجی عوامل
چھٹی کڑی. خارجی عوامل کے اوصاف، چاہے عادی ہوں یا غیر عادی
ساتویں کڑی. محاسن کا تعین
آٹھویں کڑی. معائب کا تعین
نویں کڑی. ممکنہ انطباق

سوال ایک نقاد کس نظریے کی بنیاد پر اپنی تنقید کی عمارت کھڑی کرتا ہے؟ 

نقاد کا نظریہ جن اجزاء سے مل کر اپنی عمارت بناتا ہے... ضروری ہے کہ ان اجزاء کا مطالعہ کیا جائے....

ایک نقاد کا مطمع نظر صرف سیکھنا اور سکھانا ہوتا ہے، اگر وہ تنقید برائے تنقید ہو تو اس کے مضمرات بہت ہیں......

جس نظریے پر ایک ناقد اپنی تنقید کی عمارت تعمیر کرتا ہے، وہ نظریۂ تفہیم ہے.......
*غلام مصطفیٰ اعوان دائم*
ڈاکٹر ارشاد خان ممبرا نے اس جواب سے اتفاق کیا 
اس پر دائم صاحب نے مزید ارشاد فرمایا کہ 
اس بارے میں ٹی ایس ایلیٹ کی کتاب سے مستفاد چند چیزیں ملاحظہ ہوں کہ :

ایک نقاد کا کام یہ ہے کہ وہ نہ صرف نئے اقدار کا تعین کرے بلکہ قدیم فن پاروں کی حسنِ ترتیب کو تازہ علم کے ذریعے بدل ڈالے اس کے خیال میں تقریباً ایک صدی کے بعد ایسے نقاد کی ضرورت ہے۔ جو ماضی کے ادب کا ازسرنو جائزہ لے۔ ماضی کے شعراءاور عظیم فن پاروں کو نئے ترتیب کے ساتھ پیش کرے اس طرح جدید فن پاروں کا قدیم سے موازنہ بھی ہو جاتا ہے اور کئی گمنام شاعروں کو زندہ کیا جا سکتا ہے۔ نقاد کا کام یہ بھی ہے کہ ادب کے وہ گوشے جو مکمل طور پر سامنے نہ آئے ہوں انھیں پیش کر دے خواہ وہ قلیل ہی کیوں نہ ہو اور اس میں پرانے شاعروں کے کلام کی ازسرنو تشریح بھی شامل ہے۔ کسی نئے اور اہم فن پارے کی تخلیق پرانی ترتیب کو درہم برہم کر دیتی ہے۔ اور نقاد اسے تنظیم نو سے نوازتا ہے۔ ایلیٹ اس اصول کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ جب کوئی فن پارہ تخلیق پاتاہے تو اس کا اثر ان فن پاروں پر بھی پڑتا ہے جو اس سے پہلے تخلیق ہو چکے ہیں۔ نئے فن پارے کی تخلیق سے پہلی ترتیب اور پہلا نظام بگڑ جاتا ہے اور نقاد کو نئے فن پارے کے لیے اس مثالی نظام کو ازسرنو تشکیل دیناپڑتا ہے۔

سوال ۔ ایک نقاد میں اپنی پسند،نا پسند کا کس حد تک عمل دخل ہوتا ہے؟ 

ایک ناقد کا اولین فرض تو یہ ہے کہ وہ تعصب کی آلائش سے اپنے نظریات کو پاک کر کے دلیل کی بنیاد پر بات کرے، لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ ناقد تو ہوگا، لیکن بزعمِ خویش...

ادب میں اس کا مرتبہ گر جائے گا
*غلام مصطفیٰ اعوان دائم*

ٹی ایس ایلیٹ مشرقی فلسفے سے زیادہ دل چسپی رکھتا تھا یا دیگر فلسفوں سے؟ 

اگر چہ مغربی فلسفہ بھی مضبوط تھا. مگر اس میں سطحیت زیادہ تھی، 
ایلیٹ کی تنقید میں اتنی گہرائی اور معنویت ہء کہ اسے مغربی نقد نگاروں نے نھی تسلیم کیا
*غلام مصطفیٰ اعوان دائم*

حالانکہ افریقی ہونے کے ناطے اپنی روایات سے جڑا ہوا ہونا چاہیے تھااپنی کتاب :افٹر سڑینج گارڈ: میں زیادہ تر افریقی فلسفے سے مرغوب دکھائی دیتا ہے؟ 

ضروری نہیں کہ جو کہاں کی. نسبتِ مکانی رکھتا ہو وہ اسی سے متاثر ہو، اس کی تاریخ میں بہت سی مثالیں ملتی ہیں، تجدیدِ فلسفہ ایک الگ ٹاپک ہءے، اس پر کبھی بات کریں تو میں تفصیلی موقف بیان کر سکوں
*غلام مصطفیٰ اعوان دائم*

متھیو آرنلڈ انیسویں صدی کا مشہور نقاد ھے۔اسکے تنقیدی اصولوں کو درست مانا جاتا ھے یا ٹی۔ایس۔ایلٹ کے ؟

ماننے والے دونوں طرف ہیں، میتھیو آرنلڈ کے پیروکار زیادہ ہیں.. لیکن نظریات میں رسوخ ایلیٹ کے زیادہ ملتا ہے......
*غلام مصطفیٰ اعوان دائم*

انگریزی تنیقد نے مشرقی تنقید پر کتنا اثر ڈالا 
کیا مشرقی انداز تنیقد مغربی انداز تنقید کا ہی رنگ ہے
فارسی و عربی میں تنقید کا اثر کس حد تک ہوا؟ 

انگریزی تنقید نے اسلوب اور داخلی اعتبار سے اثر ضرور چھوڑا ہے، اس کی مثالیں ہماری جدید نقد نگاری میں بہ کثرت مل جائیں گی،

جہاں  تک عربی کے اثر کی بات ہے تو عربی میں نقد نگاری نہ ہونے کے برابر ہے
*غلام مصطفیٰ اعوان دائم*

نیز فرمایا کہ اور عربی کی اثر پذیری 10%" سے بھی کَم ہے، مشرقی شعریات اور اصولِ انتقاد کے اپنا نظام بہت منضبط ہے، جو کسر رہ گئی تھی، وہ مغربی طرزِ انتقاد کے استفادے سے پورا ہو گیا..... عربی نقد نگاری کا زیادہ حصہ اصول حدیث کیساتھ خاص ہے، باقی بہت ہی کم

فارسی میں تنقید کے تعلق سے عرض کیا کہ فارسی نقد نگاری ظنیات پر مبنی کہوں تو بے جا نہ ہوگا....

تہران یونیورسٹی ایران میں البتہ اصولیات پڑھائی جاتی ہیں، اور نقد نگاری کے اصول مرتب ہو رہے ہیں، پڑھائے بھی جاتے ہیں،...
پاکستان اور دیگر ممالک میں فارسی کا اثر بہت کم ہے، لیکن عربی سے زیادہ فارسی اصولیات اور استشہادات سے ہماری مشرقی نقد نگاری ماخوذ ہے....
لیکن یہ بھی 12% سے زیادہ نہیں

سوال ۔حالی کے مقدمہ شعر و شاعری سے پہلے تنقید کا رنگ  و روپ مشرقی تھا یا کوئی اور رنگ؟ 
 حالی سے پہلے برصغیر میں تنقیدی رنگ خالص مشرقی تھا، حالی نے اسے توسیع بخشی ہے
*غلام مصطفیٰ اعوان دائم*
میرے اپنے مطالعے کی بنیاد پر تبصرہ نگاری تک محدود تھا ۔۔محمد حسین آزاد نے آب حیات میں تبصرہ مع تذکرہ کیا ہے ۔۔حالی نے مقدمہ شعر وشاعری لکھ تنقید کی بنیاد ڈالی خصوصاً باب غزل کے محاسن لکھ ۔۔۔مگر یادگار غالب میں انہوں نے تنقید کے ساتھ غالب فہمی کی بنا ڈالی ۔۔
ضروری نہیں میری آراء سے اتفاق کریں ۔۔۔
*ڈاکٹر ارشاد خان ممبرا*
 یہ ان سوالات کے جوابات  تھے جو دوارانِ پروگرام میں  کیے گئے تھے آخر میں دو لوگوں کے تآثرت پیش کرتا ہوں 
تآثر 1 *شماد سرائی پاکستان*
آج کا یہ منفرد اور بامقصد پروگرام تنقید جیسے complicated  موضوع پر اپنی نوعیت کا خاص پروگرام تھا۔جسمیں کافی نئی ناتیں سامنے آئی ھیں۔ میں مجموعی طور پر ایک اچھا پروگرام پیش کرنے پر محترم توصیف ترنل صاحب اور انکے معاونین کو مبارکباد پیش کرتا ھوں۔اور امید کرتا ھوں کہ مستقبل قریب میں ایسے ھی معلوماتی اور با مقصد مزید پروگرام پیش کیے جائیں گے۔
شمشاد سرائی چیئرمین ادبی قبیلہ انٹرنیشنل لیہ (پاکپاکستان

تآثر 2 صابر جاذب 
آج کا یہ پروگرام تنقید جیسے  خشک موضوع پر انتہائی  خاص پروگرام تھا۔جس میں کافی ساری معلومات  سامنے آئی ھیں۔ ایسا معلوماتی پروگرام پیش کرنے پر محترم توصیف ترنل صاحب اور انکے معاونین کو مبارکباد پیش کرتا ھوں۔
خصوصی طور جناب غلام مصطفی دائم صاحب کا تازیست ممنون رہوں گا جنہوں نے میری معلومات میں حسین اضافہ فرمایا 
صابر جاذب لیہ پاکستان

اس طرح سے یہ پروگرام اب تک کے کامیاب ترین پروگرام میں ایک کامیاب علمی پروگرام ہوا جسکے لیے ادارے کے چیئرمین توصیف ترنل اور تمام احباب کا عموماً اور غلام مصطفیٰ اعوان دائم بھائی کا خصوصاً شکریہ ادا کیا جاتا ہے والسلام

Friday, October 12, 2018

عالمی مشاعرہ بعنوان بچوں کی نظمیں


عالمی مشاعرہ بعنوان بچوں کی نظمیں
منفردادارے کا منفرد پروگرام

ادارہ،عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری
 کی جانب  سے 175 ویں مشاعرے کا اہتمام کیا گیا ہے,جس میں پوری دنیا سے شامل ہونے والے شعراء سکول کے بچوں پر لکھا کلام بعنوان بچوں کی نظمیں کے موضوع پر لکھ سکتے ہیں پاکستان اور ہندوستان کے شعراء کرام کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے شعراء و شاعرات سے درخواست ہے کہ وہ اپنے ذوق و شوق کا مظاہرہ کریں اور بڑھ چڑھ کر اس پروگرام میں حصہ لیں۔ مگر جن شعرا کے اشعار معیاری ہوں گے صرف وہی پروگرام کا حصہ بن سکتے ہیں ۔ جس کے لئے آپ چند اشعار پیش کر نے ہوں گے ۔

منجانب انتظامیہ ادارہ

========================
پبلشیر اینڈ
لائیو رپورٹنگ 
توصیف ترنل ہانگ کانگ 

ناقد ین 
شہزاد نیّر پاکستان 
شفاعت فہیم بھارت
غلام مصطفی اعوان دائم پاکستان 

========================

صدارت
19-مصطفیٰ دلکش بھارت

مہمانانِ خصوصی 
17-ڈاکٹر معظم علی خان
18-عاطف جاوید عاطف لاہور

مہمانانِ اعزازی 
15-صابر جاذب لیہ پاکستان
16-فانی ایاز گولوی رام بن کشمیر

  پروگرام آئیڈیا 
خالد سروحی گکھڑ سٹی گوجرانوالہ پاکستان 

کم پائیل و رپوٹ 
محمد احمر جان رحیم یار خان

نظامت
ایڈوکیٹ متین طالب ناندورہ بھارت

مقالہ 
ڈاکٹر ارشاد خان بھارت 

نوٹ 
سارے شعرا اپنا کلام برائے تنقید پیش کریں گے

تاریخ 13-10-2018
شام سات بجے 

========================

حمد
1-ایڈوکیٹ متین طالب ناندورہ بھارت

نعت
2-صفی ربانی مانسہرہ پاکستان 

شعراء 
3-محترم عامر حسنی ملائیشیا

4-محترم شاہ رخ ساحل تلسی پوری لکھنؤ بھارت

5-مشرف حسین محضر علی گڑھ انڈیا

6- خالد سروحی گکھڑ سٹی گوجرانوالہ پاکستان

7-اصغر شمیم،کولکاتا،بھارت

8- نیر رانی شفق پاکستان

9- ابن عظیم فاطمی.کراچی..پاکستان

10-صبیحہ صدف بھوپال بھارت

11-ڈاکٹر ارشاد خان بھارت

12-ریاض انور بلڈانہ مہاراشٹر بھارت

13-احمد کاشف ناندورہ بھارت 

14-شہزاد نیّر پاکستان

Monday, October 1, 2018

شوزیب کاشر کے اعزاز میں بنجوسہ مشاعرہ رپوٹ حبیب گوہر




شوزیب کاشر کے اعزاز میں بنجوسہ مشاعرہ
رپوٹ حبیب گوہر 

بن جوسہ مشاعرے کی دعوت کیا ملی کہ جھیل کی طلسماتی فضاؤں نے حصار کھینچ لیا۔ وادیء پرل کا یہ انمول نگینہ دیکھنے سیلانی کھنچے چلے جاتے ہیں۔ دیو قامت درخت، سبزہ زار، چہچہاتے پرندے، ڈبکیاں لگاتے ابابیل، تیرتی بطخیں، پرسکون اور پرسکوت کشتیاں، سجے سجائے گھوڑے۔۔۔ کیا ''فیسی نیشن'' ہے۔ 

جنت نظیر کشمیر کا ماضی بے شمار تہذیبی رنگا رنگی لیے ہوئے ہے۔ کبھی ڈل کنارے شالیمار، نشاط، نگین، چار چنار میں رقص، موسیقی اور شاعری کی محفلیں جمتی تھیں۔ کشمیر اب پھر تہذیبی انگڑائی لینے لگا ہے۔ تھوڑا عرصہ پہلے ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے تحت کشمیر کا پہلا مشاعرہ راولاکوٹ میں ہوا تھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے شعر کشمیر کا اٹوٹ انگ ہو گیا۔

حسن ظہیر راجہ کی ہم سفری نے راستے کو سخن کے رنگوں اور خوشبوؤں سے بھر دیا۔ یہ نشاط دریا کے ساتھ ساتھ کٹی پھٹی ''شہ رگ'' کو دیکھ کر ٹوٹ گیا۔ اگر آزاد پتن کا نام لکشمن پتن ہی رہنے دیا جاتا تو کم از کم لفظ آزاد کی حرمت پر حرف تو نہ آتا۔ کشمیر کا '' دردی '' کاشر یاد آ گیا ؎
اے پیار میں اجڑی ہوئی وادی! کوئی رستہ؟
اے درد کے مقبوضہ علاقے! کوئی منزل؟

 راستے میں ''کاشر دیش ہوٹل'' میں لفظ دیش پر چائے کی پیالی میں جب طوفان برپا ہوا تو میرا دھیان اکہتر کی طرف چلا گیا۔ کاش! اٹھتالیس کی طرف بھی جاتا؎
بس اتنے پہ بس نہیں کشمیر
ہم تھے آزاد کے علاوہ بھی

سخن کے مقامی حلقوں میں بن جوسہ مشاعرہ اتنا اٹھا ہوا تھا کہ بن جوسہ روڈ کے بیٹھنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔ مصطفٰے زیدی کے ساتھ ساتھ کاشر بھی یاد آتا رہا ؎
تو اس کا عادی نہیں ہے سو احتیاط سے چل
ہمارے گاؤں کی پتھریلی ہے زمیں میرے دوست

بن جوسہ کی وجہ شہرت اس کی جھیل ہے لیکن ڈوگرہ جبر کو للکارنے والے کیپٹن حسین خان شہید اور سردار بہادر علی خان شہید کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے۔ اب ادبی محاذ پر یہ علم شوزیب کاشر نے اٹھایا ہوا ہے۔

بن جوسہ جانے کب سے آباد ہے۔ آبادی کا اندازہ اس کے تعلیمی اداروں کی کثرت سے لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن آج مرکز نگاہ تفہیم العلوم ہائی اسکول بن جوسہ تھا۔ تقریب شروع ہو چکی تھی۔ صاحبِ شام کی کہی نعت کی خوشبو سے بن جوسہ کی فضائیں معطر تھیں ؎
پوشاک عمل جامہ کردار پہن لوں 
سر تا بقدم اُسوہ سرکار پہن لوں 
ایماں کے لیے حسن عمل بھی ہے ضروری
یہ کیا کہ فقط جبہ و دستار پہن لوں

مشاعرے میں صاحبِ نظامت، صاحبِ خمیازہ اور صاحبِ صدارت تینوں مترنم تھے۔ لیکن آواز کا جادو عطاس احمد عطاس، امتیاز شائق اورمیزبانِ خاص فاروق صابر نے جگایا۔ ناظمِ مشاعرہ صداقت طاہر کے طاہرِ خیال کی اڑان دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ انہوں نے اپنی ایک پردرد نظم سے وہ افسوں پڑھا کہ مشاعرہ ابتدا میں ہی انتہا کو چھونے لگا۔

کاشر نے کہا ہے کہ ''کیل سے میرپور تک تیری غزل کی دھوم ہے'' گو کہ کاشر کی غزل کی دھوم پورے عالمِ اردو میں ہے لیکن بن جوسہ کے مشاعرے میں کیل سے میرپور تک کے شعرا موجود تھے۔ جنہوں نے لفظوں کو وہ معنی پہنائے کہ بن جوسہ کے تابدار موتی داد کے لیے بے تابانہ اٹھنے لگے۔ 

زعفران کا کشمیر سے خصوصی تعلق ہے۔ اس لیے اہلِ کشمیر کی طبیعتوں میں درد کے ساتھ لطافت کا تناسب بھی بہت ہے۔ حمید کامران اور عبدالبصیر تاجور نے محفل کو زعفران زار بنا دیا۔ تاجور نے خمیازہ پر بطرزِ یوسفی لطیف اظہار بھی کیا اورصاحبِ کتاب کی جون ایلیائی نسبتوں پر چٹخارہ دار گفتگو کی۔
ایک منکوحہ گھر پہ ہوتی ہے
اک پری زاد کے علاوہ بھی
جونؔ سے نسبتِ تلمّذ ہے 
میرؔ اُستاد کے علاوہ بھی

مشاعرے میں دریا موضوعِ سخن رہا۔ کشمیر کے وسائل کے حوالے سے اہلِ کشمیر کا اضطراب واضح طور پر ان کے اشعار میں جھلکتا تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ نیلم و روبی کے لیے تحریکِ مزاحمت کا آغاز ہو گیا ہے ؎
یہ وہ غم ہے کہ نہیں جس کی تلافی ممکن
چھین کر لے گئے اغیار مقدر میرا

کشمیری مشاعروں کا لو بلڈ پریشر نارمل کرنے میں کاشر کی حشرخیز داد کا بڑا دخل ہے۔ داد کی یہ کاشری ادا منتشر مشاعرے کو کامیاب شو میں بدل دیتی ہے۔ لیکن اس مشاعرے میں وہ فاتحانہ سکون میں تھے۔ سخن کی شاہراہ پر شوزیب نے اتنی تازہ لکیریں کھینچی ہیں کہ ان کا مہاتمائی اطمیان قابلِ فہم ہے۔

بنجوسہ جھیل کے قریب ایک ہوٹل میں شاندار ڈنر کا اہتمام تھا۔ پہاڑوں کی اس آغوش میں رات کی تمام تر رنگینیاں اترنے لگی تھیں۔ اصرار بھی بہت تھا، دل بھی مصر تھا، قدم بھی بوجھل تھے۔۔۔۔ لیکن اٹھانے پڑ گئے؎
ہر آن سیاحت میں ہے پاؤں کا پہیہ
گاہے کوئی منزل ہے تو گاہے کوئی منزل