Saturday, December 16, 2017

عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب دسمبر 2017


ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری 
کی جانب سے پیش کرتے ہیں 
عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب دسمبر 2017

http://www.duaalipoetry.com/2017/12/blog-post16.html?spref=fb&m=1

http://touseefturnal.blogspot.hk/2017/12/2017_16.html?m=1

https://drive.google.com/file/d/1x6U6BxToTLjvRPDvZn1JVHeePZdIZpoV/view?usp=drivesdk

https://youtu.be/P93ZZQFD7Ag

https://egohater.wordpress.com/

https://touseefturnal.tumblr.com/post/168645588983/ادارہ-عالمی-بیسٹ-اردو-پوئیٹری-کی-جانب-سے-پیش

https://egohater.wordpress.com/

https://www.instagram.com/p/Bc1CMpxntt52b4DKR0aUuOP_3WAA0EhsYlI9s00/

https://www.linkedin.com/feed/update/urn:li:activity:6348366983133745152

https://twitter.com/AbdulQa37799508/status/942599701035208704


























Wednesday, December 13, 2017

شعر گرد We present 129th Unique Program (سخن شناس ایوارڈ)


ادارہ۔ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کے منعقد کردہ مشاعرہ "شعر گرد" کی روداد۔

تحریر۔ علی مزمل کراچی۔ پاکستان

مورخہ ١٦ دسمبر ٢٠١٧ بروز ہفتہ رات ٧ بجے شام حسبِ معمول ایک مختلف نوعیت کا ١٢٩ واں مشاعرہ بنام "شعر گرد منعقد کیا گیا۔ جس میں معروف شعراء کے اشعار پر شعر کہے گئے۔
اس مشاعرہ کو "گرد باد" کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اور جیتنے والے کے لیے "سخن شناس" ایوارڈ کا اعلان کیا گیا۔ جس کے مہتمم جناب توصیف ترنل صاحب تھے اور مشاعرہ کی صدارت وادئ سندھ پاکستان سے جناب اشرف علی اشرف صاحب فرما رہے تھے۔
جبکہ مہمانانِ خصوصی میں 
محترم جناب۔ مسکین رائچوری صاحب۔ کرناٹک۔ انڈیا اور
محترم جناب ضیاء السلام ضیاء شادانی صاحب۔ مراد آباد۔ انڈیا کے نام شامل تھے۔ جبکہ۔
مہمانِ اعزازی کی مسند پر
محترم سرفراز مقدم صاحب۔ ساؤتھ افریقہ اور
محترم جناب شاہین فصیح ربانی صاحب۔ پاکستان براجمان تھے۔
نظامت کے فرائض جناب علی مزمل صاحب۔ کراچی۔ پاکستان سے انجام دے رہے تھے۔
حلقہء منصفین تین شعراء پر مشتمل تھا۔

١۔ محترمہ ڈاکٹر مینہ نقوی صاحبہ۔ مرادآباد۔ انڈیا
٢۔ محترم ڈاکٹر نبیل احمد نبیل صاحب۔ پاکستان
٣۔ محترم مسعود حساس صاحب۔ کویت۔

ٹھیک سات بجے اللہ کے بابرکت نام سے تقریب کا آغاز ہوا اور ناظمِ مشاعرہ نے حمدِ باری تعالی کے لیے محترم علیم طاہر صاحب انڈیا کو دعوتِ حمد دی۔
علیم طاہر صاحب نے حمد و ثناء سے محفل کو مشکبار کیا اور تحسین پائی۔

نمونہء کلام۔

گردن جو آٹھے محسوس کروں
تو ہی تو ہے باہر اللہ ھو
پل پل گونجے ہے نام ترا
مری ذات کے اندر اللہ ھو
ہر دھڑکن ورد کرے تیرا
دل بولے قلندر اللہ ھو

اس کے بعد محترمہ نفیسہ حیا صاحبہ۔ احمدنگر مہاراشٹر۔ انڈیا کو دعوتِ حمد کی سعادت نصیب ہوئی۔
سامعین اور ناظرین نے روحانی لطف کشید کیا محفل سبحان اللہ۔ ماشاءاللہ کی تحسین سے گونج اٹھی۔

نمونہء کلام۔

غرور و تکبر بھی پلنے نہ پاۓ
انا میری بالکل فنا کردے یارب
حسد بغض و کینہ ہے جتنے دلوں میں
محبت کی ان میں ضیا کردے یارب

اس کے بعد محترم جناب ڈاکٹر سراج گلاٹھیوی صاحب کو نذرانہء نعت کی سعادت نصیب ہوئی۔آپ نے بھی خوب داد پائی۔

نمونہء کلام۔

بلاۓ جاتے ہیں جو ہیں نبی کو پیارے لوگ
وہی تو طیبہ کے لوٹیں حسیں نظارے لوگ
درِ نبی پہ جو آتے ہیں غم کے مارے لوگ
عطا کی بھیک سے دامن بھریں ہیں سارے لوگ

بعد ازاں مشاعرہ "شعر گرد" کا باقاعدہ آغاز ہوا اور پہلا شعر جناب علیم طاہر صاحب کے رو برو پیش کیا گیا۔

١۔

تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو مرے نامہءسیاہ میں تھی

٢۔

زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد
نہیں

ساغر صدیقی

٣۔

پڑے ہیں صورتِ نقشِ قدم نہ چھیڑ ہمیں
ہم اور خاک میں مل جائیں گے اٹھانے سے

عاصی غازی پوری

٤۔

صاحب یہ میرا نامہء تقدیر دیکھئے
اک شامِ ہجر اس میں کئی بار درج ہے

فہیم شناس کاظمی

٥۔

شکستہ پائی سے ہوتی ہیں بستیاں آباد
جو اب قبیلہ ہوا پہلے قافلہ ہو گا

صغیر ملال

٦۔

رہِ طلب میں گرے ہوتے سر کے بل ہم بھی
شکستہ پائی نے اپنی ہمیں سنبھال لیا

میر تقی میرؔ

٧۔

ہم ہیں متاعِ کوچہ و بازار کی طرح
اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح

مجروح سلطان پوری

٨۔

طلسمِ خوابِ زلیخا و دامِ بردہ فروش
ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں

عزیز حامد مدنی

٩۔

ہم اہلِ  ہجر کو صحرا ہی ایک رستہ تھا 
اب اس طرف سے بھی خلقِ خدا گزرتی ہے

نصیر ترابی

١٠۔

عجیب شخص تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا
مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے

عرفان صدیقی

١١۔

آنا تھا ایک روز برا وقت آ گیا
لیکن یہ بات کیا ترے جانے سے جوڑئیے

کاشف حسین

مشاعرہ کے شرکاء کی تعداد گیارہ تھی اور انتظامیہ کی طرف سے گیارہ اشعار پیش کئے گئے۔ ہر شاعر نے دئیے گئے شعر ہی کی ہحر و ردیف میں اشعار کہے اور خوب کہے۔

مشاعرے کے شرکاء کے نام۔

١۔ جناب علیم طاہر صاحب۔ انڈیا
٢۔ جناب منور علی خان۔ پاکستان
٣۔ جناب محمد رفیع اللہ صاحب۔ پاکستان
٤۔ جناب محمد علی بٹ صاحب۔ پاکستان
٥۔ جناب سید ندیم شاہ بخاری صاحب۔ پاکستان
٦۔ جناب مختار تلہری صاحب۔ انڈیا
٧۔ جناب محمد شاہین فصیح ربانی صاحب۔ پاکستان
٨۔ جناب سرفراز مقدم صاحب۔ ساؤتھ افریقہ
٩۔ جناب مسکین رائچوری صاحب۔ انڈیا
١٠۔ جناب ضیاء الاسلام ضیاء شادانی صاحب
١١۔ جناب اشرف علی اشرف صاحب۔ پاکستان

یہ مشاعرہ اب تک کئے گئے ان مشاعروں میں شمار کیا جانا چاہیے جن میں شرکار اور سامعین نے بھرپور دل چسپی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ بامِ عروج پر پہنچا دیا۔
اس منفرد پروگرام کا سہرا چیئرمین توصیف ترنل کے ساتھ ساتھ ہر اس شخص کے سر بندھتا ہے جو کسی بھی ذریعہ سے پروگرام کا حصہ رہا۔

آخر میں توجہ منصفین کی جانب مبذول رہی اور تجسس انتہا کو پہنچا کہ آخر وہ کون خوش بخت ہوگا جسے "سخن شناس" ایوارڈ سے نوازا جاۓ گا۔
اعصاب شکن انتظار کے بعد منصفین نے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا اور کامیابی کا ہما جناب محمد شاہین فصیح ربانی صاحب کے سر جا بیٹھا۔
ہم سب کی جانب سے جناب محمد شاہین فصیح ربانی صاحب کو "سخن شناس" ایوارڈ ملنے پر دلی مبارک باد۔

*🌍ادارہ,عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری🌍*
کی جانب سے ایک اور منفرد پروگرام پیش کرتے ہیں...
(شعر گرد)
جس میں جیتنے والے کو

💥🌹سخن شناس ایوارڈ🌹💥
سے نوازا جاۓ گا
*نوٹ-* 👇
تمام شعراء دورانِ پروگرام باری آنے پر اپنا شعر بذاتِ خود برائے تنقید پیش کریں گے...  تنقید کی پوری اجازت ہوگی...
ادارۂ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے، جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء,ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے...
===========================
*We present 129th Unique Program*

اشعار پر مبنی شاندار پروگرام پیش ہے
  
     *سخن شناس ایوارڈ *
*🌍ادارہ,عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری🌍*
یہ پروگرام پیش کرنے جارہی ہے جس میں تمام شعراءکرام کو ایک ایک نمبر الاٹ کیا جاۓ گا۔
ادارہ سب سے پہلے رواں بحر میں ایک شعر پیش کرے گا اور تمام شریک شعراء کو پندرہ منٹ کا وقت دیا جاۓ گا یعنی شعر ہی میں اس دئیے گئے شعر کا جواب دینا ہے۔ پندرہ منٹ بعد اس شاعر کو شعر پیش کرنے کا کہا جاۓ گا جسے ادارے کی طرف سے ایک نمبر الاٹ کیا گیا تھا۔ اس کے چند منٹ بعد اس شاعر کو اپنا شعر پیش کرنے کی دعوت دی جاۓ گی جسے 2 نمبر الاٹ ہوا اور پھر چند منٹ بعد تیسرا اور پھر آخری۔
آخری شاعر کے شعر پیش کرنے پر پہلا راؤنڈ مکمل ہو جاۓ گا۔
اس کے بعد دوسرے نمبر کے شاعر کو ادارہ ایک شعر دے گا جس کا شعر ہی میں جواب سب شرکاء لکھیں گے اور پندرہ منٹ بعد دو نمبر کا شاعر سب سے پہلے اپنا شعر پیش کرے گا اور سب سے پہلے نمبر کا شاعر اپنا شعر سب سے آخر میں پیش کرے گا۔
جب سب کی باری مکمل ہو جاۓ گی  تو منصفین فیصلہ کریں گے کہ کس شاعر کے شعر معیاری ہیں۔ لہذا اول آنے والے شاعر کو "سخن شناس" ایوارڈ سے نوازا جاۓ گا اور بتدریج دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والوں کے ناموں کا اعلان بھی کیا جاۓ گا۔
نوٹ 👇
ان شاء اللہ بروز ہفتہ
تاریخ 16 دسمبر 2017ع
رات 7 بجے
نوٹ۔
اس "شعر گرد" مشاعرہ میں اول آنے والے خوش نصیب کو "سخن شناس" ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔
منجانب
انتظامیہ ادارہ
===========================
*🌏آرگنائزر🌏*
*توصیف ترنل ہانگ کانگ*
پروگرام آئیڈیا
توصیف ترنل

===========================
*📡 پبلشرز 📡*
محترم عثمان عاطس صاحب پاکستان
*📱ویب سائیٹ📱* onlineurdu.com
=================
محترم منظور قادر بھٹی صاحب
(چیف ایڈیٹر عکسِ جمہور رسالہ)
=================
محترم سردار امتیاز خان صاحب
(چیف ایڈیٹر روزنامہ پرنٹاس اخبار)
=================
Dr M ragib deshmukh sb
www.scholarsimpact.com
=================

بانی و چیئرمین 
ادارہ,عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری
بانی و سرپرست اعلیٰ
عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب
توصیف ترنل

touseefturnal.blogspot.com

touseefturnal.tumblr.com

https://www.youtube.com/channel/UCvWq7-0Sdc107G-yPpoaOhA

=================
محترم محمد عبدالقدیر شاہد محمدی سیفی
egohater.wordpress.com
=================
محترم محمد بشیر مہتاب صاحب
روزنامہ لازوال جموں ایڈیشن  بھارت
=================
سیدہ کوثر منور شرقپوری
ڈیلی دھنک انٹرنیشنل یوکے
www.dailydhanak.com
=================
Ishraq a hashmi sb web developer plus founder CEO of TV East West News
=================
Graphic designer
محترم داؤد حسین عطاری
بہاولپور پنجاب پاکستان

============================
صدارت  
محترم اشرف علی اشرف صاحب سندھ پاکستان

مہمانانِ خصوصی
محترم مسکین رائچوری صاحب کرناٹک انڈیا
محترم ضیاء الاسلام ضیاء شادانی صاحب۔ انڈیا

مہمانانِ اعزازی
محترم سرفراز مقدم صاحب ساؤتھ افریقہ
محترم شاہین فصیح ربانی صاحب

نظامت و رپورٹ
محترم علی مزمل صاحب کراچی پاکستان

ججیز پینل
محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی صاحبہ مرادابادبھارت
محترم امیرالدین امیر بیدر صاحب کرناٹک بھارت
محترم مسعو د حساس صاحب کویت

حمد باری تعلیٰ
محترم حمد علیم طاہرصاحب (انڈیا)
محترمہ نفیسہ حیاصاحبہ احمدنگرمہاراشٹر, ( انڈیا )

نعت
محترم ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی صاحب بھارت
محترم حسنین عباس جوادی صاحب جامشورو پاکستان
============================

محترم علیم طاہرصاحب (انڈیا

محترم منور علی خان بارکزئی صاحب

محترم رفیع اللہ صاحب کراچی پاکستان

محترم محمد علی بٹ عالیؔ صاحب اٹک پاکستان

محترم سید ندیم شاہ بخاری صاحب بہاولپور پنجاب

محترم مختار تلہری صاحب انڈیا

Saturday, December 9, 2017

زیرِ انتظام ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری۔رودادِ ١٢٨ واں منفرد طرحی مشاعرہ




رودادِ  ١٢٨ واں منفرد طرحی مشاعرہ
زیرِ انتظام ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری۔ ہانگ کانگ۔

مرتب۔
علی مزمل کراچی۔ پاکستان۔

مشاعرہ ٧ دسمبر بروز ہفتہ حسبِ سابق ٧ بجے شام شروع ہوا۔
مشاعرہ کی نظامت کے فرائض محترمہ ثمینہ ابڑو صاحبہ لاڑکانہ سندھ پاکستان سے ادا کر رہی تھیں۔
یاد رہے کہ طرحی مشاعرہ کے لیے دو کلاسیکل شعراء کے مصرعے دیۓ گیۓ تھے۔
پہلا طرحی مصرعہ استاد الاساتذہ حضرت امیر خسرو (رح) کے دوھے سے لیا گیا۔
"لکڑی جل کوئلہ بھئی کوئلہ جل بھئو راکھ"
جبکہ دوسرا مصرعہ ڈاکٹر احمد حسین مائل کا دیا گیا۔
"میں ہی مطلوب خود ہوں تو ہے عبث"
اس طرحی مشاعرہ میں اول آنے والے خوش نصیب کو "امیر خسرو" ایوارڈ سے نوازے جانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
حسبِ روایت اس مشاعرہ کے مہتمم ادارے کے چیئرمین توصیف ترنل صاحب خود تھے۔ جب کہ اس تاریخ ساز مشاعرہ کی صدارت محترم مختار تلہری صاحب (انڈیا) اور محترم ڈاکٹر شاہد رحمان صاحب۔ فیصل آباد (پاکستان) کو سونپی گئی۔
مہمانانِ خصوصی میں محترم جناب اشرف علی اشرف صاحب سندھ (پاکستان) اور محترم اللہ راضی صاحب (پاکستان) کے نام شامل تھے۔
جب کہ اس پروگرام کا تصور محترم محمد اسماعیل سیال نورانی صاحب کے زرخیز ذہن کی اختراع تھا۔

ٹھیک سات بجے ناظمہ مشاعرہ جنابہ ثمینہ ابڑو صاحبہ نے حمدِ باری تعالی کے لیے محترم احمد کاشف صاحب ناندورہ بلڈانہ مہاراشٹر انڈیا کو دعوتِ کلام دی۔
احمد کاشف صاحب کی حمد نے فضا کو سبحان اللہ اور ماشاءاللہ کی صداؤں سے معطر کردیا۔

نمونہء کلام۔

تپتے صحراؤں کو گلزار بنا دیتا ہے
پھول پتھریلی زمینوں پہ کھلا دیتا ہے
شاخ کو سبزہء نوخیز عطا کرتا ہے
اور کلیوں کو چٹخنے کی ادا دیتا ہے

نہایت پر تاثیر حمد کے بعد نعتِ رسولِ عربی (ص) کے لیے نفیس احمد نفیس ناندوروی انڈیا کو دعوتِ کلام دی گئی۔
نفیس احمد نفیس کی نعتِ پاک نے سامعین کی ارواح کی مقدس پھوار سے آبیاری کی اور خوب دعائیں اور تحسین سمیٹی۔

نمونہء کلام۔

آقاۓ دو جہاں تری عظمت نفیس ہے
اس ربِ ذوالجلال کی قدرت نفیس ہے
عشقِ نبی نہ پوچھ ریاکار میں نہیں
رحمان کی عطا سے محبت نفیس ہے

بعد ازاں دل کش کلاسیکل طرحی مشاعرہ کا باقائدہ آغاز کرتے ہوئے محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی جن کا تعلق مراد آباد انڈیا سے ہے کو دعوتِ کلام دی گئی۔
ڈاکٹر مینا نقوی صاحبہ نے دونوں طرحی مصرعوں پر طبع آزمائی کی اور خوب خوب اشعار کہے۔
محترمہ کے ہر ہر شعر پر سامعین نے داد و تحسین کے ڈونگرے برساۓ۔

نمونہء کلام۔

بسرایا سنگھار سب اور کاجل بھئو راکھ
تیرے عشق کی آگ سے میں پاگل بھئو راکھ
روح بھٹکتی پریم کی ندیا پوکھر تال
اک برہن کے واسطے جل اور تھل بھئو راکھ

دوسری غزل

جب محبت کی آرزو ہے عبث
زندگی تیری جستجو ہے عبث
حالِ دل ہو گیا ہمیں معلوم
بات اب اس کے روبہ رو ہے عبث

ڈاکٹر مینا نقوی صاحبہ کے بعد شمعِ محفل مینانگری جلگاؤں انڈیا کے خوش کلام شاعر شکیل انجم صاحب کے رو بہ رو لائی گئی۔
جنہوں نے صرف ڈاکٹر احمد حسین مائل کے مصرعہ پر غزل سرائی کی۔
سامعین نے ان کے کلام کو سراہا۔

نمونہء کلام۔

تم سے ملنے کی آرزو ہے عبث
مستقل کیا کبھو کبھو ہے عبث
ہر کوئی ہے شکارِ حرص و ہوس
نیک نامی کی جستجو ہے عبث

اس کے بعد جناب علی مزمل۔ کراچی کے نام کی پکار ہوئی۔ آپ نے دونوں طرحی مصرعوں پر طبع آزمائی کی اور حاضرینِ محفل کو اپنے اشعار سے تسکین بہم پہنچائی اور بہت تحسن پائی۔

نمونہء کلام۔

یم بہ یم خواہشِ وصالِ جمال
اب یہ میلانِ جستجو ہے عبث
یہ جو بین البدن رواں ہے شکیب
سرپریشانِ جو بہ جو ہے عبث

اور دوسری غزل

راجہ پرجا کر چھوڑے ناگ اجل بھئو راکھ
کریا کرم سب ہو جاوے جنتا دَل بھئو راکھ
نفرت نے سنسار اجاڑا چاروں اور مگر
پریم اگن بھی کرتی ہے گنگا جل بھئو راکھ

اس کے بعد محترم جناب علیم طاہر صاحب انڈیا کو دعوتِ کلام دی گئی
آپ نے اپنے کلام کے زور پر ڈھیروں داد سمیٹی۔ آپ نے دئیے گئے دونوں پر طبع آزمائی فرمائی۔ 

نمونہء کلام۔

زندگی تیری جستجو ہے عبث
یہ بھٹکنا بھی کو بہ کو ہے عبث
آرزوؤں کو اتنے گھاؤ ملے
ان کا کرنا بھی اب رفو ہے عبث

دوسری غزل۔

موری اکھیاں نیر بہاویں میں پاگل بھئو راکھ
توری یاد میں رستہ تاکوں میں جل تھل بھئو راکھ
مہکی ہیں فضائیں ساری ماحول ہوا ہے دھندلاہٹ
لگی آس کی جگ میں تیلی میں صندل بھئو راکھ

اس کے بعد محترم جناب ڈاکٹر سراج گلاٹھوی صاحب۔ انڈیا کو کلام پیش کرنے کے لیے مدعو کیا گیا۔ آپ نے بھی دونوں طرحی مصرعوں پر کلام پیش کیا۔ اور سامعین سے خوب داد پائی۔

نمونہء کلام۔

پیڑ محبت کا ہی کیا یہ جنگل بھئو راکھ
اک نفرت کی آگ میں۔ سب جل تھل بھئو راکھ
پیار میں دامن پر لگا رسوائی کا داغ
تار گریباں ہوگیا دل گھائل بھئو راکھ

دوسری غزل۔

جام و مینا کوئی سبو ہے عبث
مست آنکھوں کے رو بہ رو ہے عبث
اتنے ٹکڑے ہوۓ مرے دل کے
اس پہ مرہم کوئی رفو ہے عبث

اس کے بعد محترم جناب ضیاء شادانی صاحب۔ مراد آباد۔ انڈیا کو دعوتِ کلام دی گئی۔
آپ نے ایک مصرعہ پر کہی غزل پیش کی جسے سامعین نے بہت پسند کیا۔

نمونہء کلام۔

سوچ لو ساری جستجو ہے عبث
کچھ نہیں بس یہ گفتگو ہے عبث
جس کی فطرت میں صاف گوئی نہیں
آئینہ اس کے رو بہ رو ہے عبث

مشاعرہ اپنے عروج پر تھا کہ باری آئی محترم جناب مسکین رائچوری صاحب۔ رائچور۔ انڈیا کی۔
آپ نے ایک طرحی مصرعہ پر غزل کہنا پسند فرمائی۔ آپ کی شاعری کو سامعین نے پسند کیا۔

نمونہء کلام۔

دیکھ لی میں نے تیری نیت بھی
مجھ کو پانے کی آرزو ہے عبث
میرا دل صاف ہے بہت مسکین
آئینے تجھ سے گفتگو ہے عبث

جناب مسکین رائچوری کےبعد دعوت کلام نہایت عمدہ شاعر محترم جناب اللہ راضی صاحب۔ جن کا تعلق پاکستان سے ہے کو دی گئی۔ آج کے اس عظیم الشان مشاعرہ میں آپ مہمانِ خصوصی بھی تھے۔ آپ نے اپنا کلام سامعین کی نذر کیا اور خوب داد سمیٹی۔

نمونہء کلام۔

جس تصور کی آرزو ہے عبث
اس کے بارے میں گفتگو ہے عبث
وہ ترے دل میں ہی تو ہے موجود
یار آوازہ کو بہ کو ہے عبث

جناب اللہ راضی صاحب کے بعد سخن طراز ہوئے وادئ سندھ پاکستان سے تعلق رکھنے والے جواں سال و رواں فکر شاعر جناب اشرف علی اشرف صاحب۔ جنہیں آج کے مشاعرہ کے دوسرے مہمان خصوصی ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ِ  آپ نے بھی ایک ہی مصرعہ پر مشقِ سخن فرمائی۔
نہایت اعلی اشعار پیش کیے جو سب نے پسند کیے واثق امید ہے کہ آپ مستقبل قریب میں بہت اچھا کہنے والوں کی صف میں شمار ہونے لگیں گے۔ ان شاءاللہ۔

نمونہء کلام۔

تیرے ہوتے ہوۓ سبو ہے عبث
مے کشی تیرے رو بہ رو ہے عبث
مجھ سے میرا ہی بیر کافی ہے
یہ زمانہ مرا عدو ہے عبث

جناب اشرف علی اشرف صاحب کے بعد مشاعرہ کے پہلے صدر محترم جناب شاہین فصیح ربانی صاحب کو مدعو کیا گیا کہ وہ آئیں اور سامعین کو اپنے شستہ کلام سے سرفراز فرمائیں۔ آپ نے بھی دو طرحی مصرعوں میں سے ایک کا انتخاب کیا۔ آپ کے کلام کو بے حد سراہا گیا اور خوب داد سے نوازا گیا۔

نمونہء کلام۔

تو مجھے دیکھ کر سنورتا ہے
آئینہ تیرے رو بہ رو ہے عبث
آ گیا ہے فصیح غصے میں
یعنی اب اس سے گفتگو ہے عبث

جناب شاہین فصیح ربانی کے بعد محترم المقام جناب مختار تلہری صاحب۔ بریلی۔ اترپردیش۔ انڈیا بصد احترام مدعو کیے گیے کہ آپ آئیں اور کلام کے ساتھ ساتھ خطبہء صدارت سے نوازیں۔ آپ نے کلام پیش کیا تو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا بہت داد سے نوازے گئے اور بجا طور پر نوازے گئے کہ آپ استاد شعراء میں شمار ہوتے ہیں اور ہندوستان بھر میں سیکڑوں شاگرد بکھرے پڑے ہیں اور تین مجموعہ ہائے کلام کے خالق ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
آپ نے بھی دو طرحی مصرعوں میں سے ایک پر طبع آزمائی فرمائی۔

نمونہء کلام۔

مستقل طور پر ہی تو ہے عبث
زندگی تیری آرزو ہے عبث
جب کسی کام کا نہیں مختار
کوئی مختار کا عدو ہے عبث

محترم جناب مختار تلہری صاحب نے خطبہء صدارت سے نوازا۔

جہاں اس مشاعرہ کی کامیابی کا سہرا ادارہ کے چیئرمین جناب توصیف کے سر جاتا ہے وہیں اس بات کا برملا اظہار بھی ضروری ہے کہ جب تک اجتمائی کوشش نہ ہو کامیابی کا منہ دیکھنا نصیب نہیں ہوتا۔ اس لیے مشاعرے کی کامیابی پر ادارے کا ہر شخص مباک باد کا مستحق ہے۔
خصوصاَ ثمینہ ابڑو صاحبہ جن کی کامیاب نظامت مشاعرہ کی کامیابی میں ریڑھ کے مماثل ہے کو بے پناہ داد و تحسین اور ڈھیروں دعائیں۔ 

آخر میں اول آنے والے کلام کے تعین کا صبر آزما سلسہ شروع ہوا طویل بحث مباحثہ کے بعد کامیابی کی نوید علی مزمل۔ کراچی  کو دی گئی اور یوں "امیر خسرو ایوارڈ" کی تفویض اپنے انجام کو پہنچی۔

Thursday, December 7, 2017

عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب (کی رکنیت سازی مکمل ہوئی)




ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئیٹری
کی انتظامیہ کا اہم اعلان

عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب
 کی رکنیت سازی مکمل ہوئی

ادارہ، نے اپنے پرانے عہدہ داران وانتظامیہ، کو اپنی مجلسِ شوریٰ و صلاح مشورہ کمیٹی، میں منتخب کیا۔

مجلس مدیران

بانی و سرپرست اعلیٰ
 توصیف ترنل ہانگ کانگ

مدیرِ اعلیٰ
محترم علی مزمل صاحب پاکستان

مدیر-1
محترم مختار تلہری صاحب بھارت

مدیر-2
محترمہ دعاعلی صاحبہ پاکستان

معاون مدیر
محترمہ ثمینہ ابڑو صاحبہ پاکستان

-----------------------------------------------------------------

 مجلس مشاورت

محترم مسعود حساس صاحب کویت

محترمہ شہناز مزمل صاحبہ پاکستان

محترم ڈاکٹر شفاعت فہیم صاحب بھات

محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی صاحبہ مرادآباد۔۔۔ ۔بھارت

محترم انور کیفی صاحب مرادآباد۔۔بھارت

محترم نفیس احمد نفیس صاحب ناندوروی بھارت

محترم عثمان عاطس صاحب پاکستان

محترم علیم طاہر صاحب بھارت

محترم امیرالدین امیر بیدار صاحب بھارت

-----------------------------------------------------------------
معاونین

محترم شہزاد نیّر صاحب

محترمہ شہباز گردیزی صاحب کشمیر

محترم جاوید سحر صاحب کشمیر

محترم ڈاکٹرسراج گلاؤٹھوی صاحب انڈیا

محترم ڈاکٹرارشادخان صاحب بھارت

محترم نصیر حشمت گرواہ صاحب پاکستان

محترم احمد کاشف صاحب بھارت

محترم محمد  بشیر مہتاب صاحب


محترم محمد عبدالقدیر شاہد محمدی سیفی

محترم امین اڈیرائی صاحب 
-----------------------------------------------------------------
سرورق ،ڈائزائنگ
محترمہ دعاعلی صاحبہ پاکستان

میگزین آرگنائزر
محترم خالد سروحی صاحب جدہ سعودی عربیہ

کمپوزنگ آرکیٹئکٹ
محترم میھر خان صاحب

لیگل ایڈوائزر
محترم جاوید حلیم ایڈووکیٹ صاحب ہائی کورٹ بار- کراچی

زیرِ انتظام:-
دارہ،عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری
 ہانگ کانگ

Tuesday, December 5, 2017

امیرخسرو ایوارڈ




*🌍ادارہ,عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری🌍* 
کی جانب سے ایک اور منفرد پروگرام پیش کرتے ہیں...

*نوٹ* تمام شعراء دورانِ پروگرام باری آنے پر اپنا کلام بذاتِ خود برائے تنقید پیش کریں گے...  تنقید کی پوری اجازت ہوگی... 

ادارۂ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے، جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء,ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے...
===========================
*We present 128th Unique Program*

ایک اور شاندار غزلیات کا پروگرام 

       *کلاسیکل شعراء کے طرحی مصرعے *

ہم شروع کر رہے ہیں ایک مشکل اور اچھوتا پروگرام جو آج سے پہلے نا کہیں ہوا ہے نا کہیں ہوگا کیونکہ سن 1900 سے پہلے
 کلاسیکل شعراء کرام نے اس ردیف میں غزلیں لکھیں اور 1900 کے بعد جتنے بھی شعراء کرام آئے چاہئے انہوں نے جس مقام پر بھی طبع آزمائی کی جتنے بھی دیوان چھپوائے لیکن اس بحر و ردیف میں کبھی غزل نا لکھ سکے اب 
*🌍ادارہ,عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری🌍* 
یہ پروگرام پیش کرنے جارہی ہے جس میں تمام شعراءکرام کو دو طرحی مصرع دئیے جائیں گے اور اسکے ساتھ ان کو 2 دن کا وقت دیا جائے گا۔ جس پہ تمام شعراء کرام اپنی غزلیں لکھ کر پیش کریں گے 

نوٹ 👇

طرحی مصرعے 7 دسمبر بروز جمعرات شام 7 بجے پاکستانی وقت کے مطابق دیئے جائیں گے ان شاءاللہ 


ان شاء اللہ بروز ہفتہ
تاریخ 9 دسمبر 2017ع
رات 7 بجے 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلا طرحی مصرعہ

" لکڑی جل کوئلہ بھئی کوئلہ جل بھئو راکھ"

ارکان۔
مفعولن مفعولن مفعولن مفعول

امیر خسرو

قوافی۔
جل۔ تھل۔ پل۔ مل وغیرہ

ردیف۔
بھئو راکھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرا طرحی مصرع

"میں ہی مطلوب خود ہوں تٗو ہے عبث"

قوافی۔
روبرو۔ چارسو۔ جستجو وغیرہ

ردیف۔
ہے عبث

ڈاکٹر احمد حسین مائل
1274-1332 آغا پورہ

بحر۔
خفیف مسدس مخبون محذوف

ارکان۔
فاعلاتن مفاعلن فعلن

نوٹ۔
اس طرحی مشاعرہ میں اول آنے والے خوش نصیب کو "امیر خسرو" ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔
منجانب 
انتظامیہ ادارہ
===========================
*🌏آرگنائزر🌏*
 *توصیف ترنل ہانگ کانگ*

پروگرام آئیڈیا
محترم  محمد اسماعیل سیال نورانی صاحب پاکستان 
===========================
*📡 پبلشرز 📡*
محترم عثمان عاطس صاحب پاکستان
*📱ویب سائیٹ📱* onlineurdu.com
=================
محترم منظور قادر بھٹی صاحب
(چیف ایڈیٹر عکسِ جمہور رسالہ)
=================
محترم سردار امتیاز خان صاحب 
(چیف ایڈیٹر روزنامہ پرنٹاس اخبار)
=================
بانی
ادارہ,عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری
عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب
توصیف ترنل
touseefturnal.blogspot.com

touseefturnal.tumblr.com

https://www.youtube.com/channel/UCvWq7-0Sdc107G-yPpoaOhA
=================
محترم محمد عبدالقدیر شاہد محمدی سیفی
egohater.wordpress.com
=================
محترم محمد بشیر مہتاب صاحب 
روزنامہ لازوال جموں ایڈیشن  بھارت
=================
Graphic designer
 محترم داؤد حسین عطاری
بہاولپور پنجاب پاکستان
=================
عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب(نومبر2017)

http://touseefturnal.blogspot.hk/2017...

http://www.duaalipoetry.com/2017/11/blog-post.html?spref=fb&m=1

https://m.youtube.com/watch?feature=share&v=iFBBgIuwYjQ

https://drive.google.com/file/d/1lImJvtU8hG-UU9K-cXLEx4dK9FBOUwpm/view?usp=drivesdk

============================
*👑صدور👑(محفلِ مشاعرہ)*
محترم مختار تلہری صاحب بھارت
محترم ڈاکٹر شاھد رحمان صاحب فیصل آباد

*💐مہمانانِ خصوصی💐*
محترم اشرف علی اشرف صاحب پاکستان
محترم اللہ راضی صاحب  پاکستان

*🎙نظامت و مقالہ🎙*
محترمہ ثمینہ ابڑو صاحبہ پاکستان

*👍رپورٹ👍*
محترم علی مزمل خان صاحب کراچی پاکستان
============================
1) *🍁حمدباری تعالیٰ🍁*
محترم احمد کاشف صاحب انڈیا

2) *🍁نعتِ رسول عربیﷺ🍁*
محترم ڈاکٹر نبیل احمد نبیل صاحب پاکستان
نفیس احمد نفیس ناندوروی انڈیا
============================
1)محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی صاحبہ مراداباد,انڈیا...

2)محترم شکیل انجم صاحب مینانگری جلگاؤں انڈیا...

3)محترم مختار تلہری صاحب بریلی اترپردیس انڈیا...

4)محترم  مائل پالدھوی صاحب سورت انڈیا...

5)محترم علی مزمل صاحب کراچی پاکستان...

6)محترم چونچ گیاوی صاحب انڈیا...

7)محترم ایم علی صاحب بٹ اٹک پاکستان...

8)محترم علیم طاہر صاحب (انڈیا)

Your poetry translation in different languages


*🌏ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری* کی جانب سے ایک اور منفرد پروگرام پیش کرتے ہیں....
==================
Date 11-09-2017 Unique program no. 117.... *Your poetry translation in different languages* 
📝ادارہ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے،جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء,ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے...
==================
*🖌غزل🖌* (اردو)

*رقصاں رہا چراغ پہ منظر تمام رات* 
*آتا رہا خیال ستمگر تمام رات*

*کہنے کو میں نے کاٹ دی سو کر تمام رات*
*ڈستا رہا فراق میں بستر تمام رات* 

*میرے خیال و خواب میں بانہیں تھیں بس تری* 
*تکیے پہ میرا گر چہ رہا سر تمام رات* 

*بیمار دل تھا تھک گیا لے لے تیرا نام* 
*آنسو بھی خشک ہو گیے بہہ کر تمام رات*

*وہ واقعہ بھی یاد ھے جب سو گیا تھا میں* 
*سر اپنا تیرے زانوں پہ رکھ کر تمام رات* 

*پیچھے مرے پڑا رہا دن بھر غمِ جہان* 
*آگے نظر کے تھا ترا پیکر تمام رات*

*حساس جب خیال میں آیا مرا حبیب*
*پڑھتا رہا میں حسن کا منتر تمام رات*

*🖌شاعر🖌* 
*مسعود حساس کویت*

*🖌ग़ज़ल🖌*  (Hindi)

रक़्साँ रहा चराग़ पे मंज़र  तमाम रात
आता रहा ख़्याले सितमगर तमाम रात

कहने को मैनॆ काट दी सो कर तमाम रात
डसता रहा फ़िराक़ में बिस्तर तमाम रात

मेरे ख़्यालो ख़्वाब मे बाहें थीं बस तेरी
तकिये पे मेरा गरचे रहा सर तमाम रात

बीमार दिल था थक गया ले ले के तेरा नाम
आँसू भी ख़ुश्क हो गये बह कर रात

वो वाक़ेया भी याद है जब सो गया था मैं
सर अपना तेेरे ज़ानू पे रख कर तमाम रात

पीछे मेरे पड़ा रहा दिन भर ग़मे जहान
आगे नज़र के था तेरा पैकर तमाम रात

हस्सास जब ख़याल में आया मेरा हबीब
पढ़ता रहा मैं हुस्न का मनतर तमाम रात 

*🖌Hindi translation by*
*Dr. Meena Naqvi india*
==================
لکه شمع  بلیدمه ټوله شپه
ستا په یاد کښ سوزیدمه ټوله شپه

په ظاهره خو اوده وومه بي غمه
ستا فراق کښ کړیدیمه ټوله شپه

په خیالونو کښ مي سر ستا په سنګل وو
خپل بالښت ته کړیدمه ټوله شپه

د ستا نوم مي وظیفه وو په سلګو کښ
ووچي سترګي ژړیدمه ټوله شپه

راته یاد دی چي بیغمه زه اوده  ووم
ستا سنګل باندي اوده وومه ټوله شپه

د دنیا غم کښ اخښته ووم ټوله ورځي
ستا تصویر ته کړیدیمه ټوله شپه

*🖌پشتو منظوم ترجمہ* 
      *محترم از احمد وصال*
==================
Dance have lamped on the perspective all night
Comes have imagination oppressor all night

To say to in the cut everything to sleep and sleep all night 
Drive away have been Separation bedding in bedroom all night

My thought and dreams in left were only yours
My fallen head in the pillow have been all night

Patient heart was tired went to take your name 
Tears also become dry fallen all the night

Remember the incident also when I was sleeping
All night, keeping my head on your head

My Grief happiness is happening in the day  back of sarrow
All night, Tack pack was done

Sensitive when I have dreem about my lover he come 
I read the nightmare of the beauty of the night is all night

*🖌English translation by* 
*Touseef turnal Hong Kong*
==================
رقصان رھيا چراغ ۾ منظر سموري رات
ايندا رھيا خيال ستمگر سموري رات

ڏسجي ته ننڊ ۾ ئي آ گذري سموري رات
پر آ ڏنگيو فراق ۾بستر سموري رات

منهنجي خيال و خواب ۾ ٻانھون ھيون تنهنجون
توڻي جو تڪيي تي ھيو ھي سر سموري رات

بيمار دل ٿڪي پئي ڳنھندي اوھان جو نانء
ڳوڙها به خشڪ ٿي ويا وھندي سموري رات

ھي واقعو به ياد آ ماڻي مون ننڊ ھئي
جھوليء ۾ تنهنجي پنهنجو رکي سر سموري رات

ھر ڏينھن غم جھان جو آ مون پٺيان رھيو
نظرن جي سامھان مگر تنھنجو پيڪر سموري رات

حساس جڏھن خيال ۾ آيو سندم حبيب
پڙھندو رھيس مان حسن جو منتر سموري رات 

*🖌سنڌي ترجمو*
*ثمينه ابڑو,لاڑڪاڻو,پاکستان*
==================
RaqsaN Raha Charagh Pe Manzar Tamam Rat 
Aata Raha Khayal Sitamgar Tamam Rat ।
Kahny ko mein kat di so kar tamam rat 
Dasta raha feraq mein bistar tamam rat ।
Mere khayal o khab mein baheiN theeN bas tere 
Takye pe mera garche raha sar tamam rat ।
Bimar dil tha thak gaia le le ke tera naam 
AaNsoo bhi khushk ho gaye bah kar tamam rat ।
Wah waqeia bhi yad hai jab so gaya tha mein 
Sar apna tere zanoN pe rakh kar tamam rat ।
Piche mere pada raha din bhar gham e jahan 
Aage nazar ke tha tera pekar tamam rat ।
Hassas jab khayal mein aaya mera habib 
Padhta raha mein husn ka mantar tamam rat ।
Masood Hassas

🖌Romen Translated by 
*ڈاکٹر خان محمد آصف بھارت*
==================
رقص کریندا رہ ڈیوے دا منظر ساری راتیں
ول ول آندا رہ خیال اوں ظالم دا ساری راتیں

آکھنڑ کوں ستے کٹی ہئی میں ساری راتی
ڈنگدا رہ وچھونڑیں اندر وچھوڑا ساری راتیں

میڈے خیال تے خواب دے اندر باھیں ہن بس تیڈیاں
ڈسنڑ کوں میڈا سر سرانڑیں پے رہ ساری راتیںں

دل بیمار ہئی تیڈا ناں گھن گھن کے چور تھیا
ھنجو لڑھ لڑھ  سکدے رہ گئے واھندے ساری راتیں

او قصہ وی یاد ھیوی ناں جڈنڑ سم پیا ھم
آپنڑاں سر تیڈے ستھلاں اتے رکھ کے ساری راتیں

سارا ڈینھ ایں دنیا دا دکھ پچھو میڈے رہ گے
میڈے اگوں پے رہ تیڈا جثہ ساری راتیں

حساس جڈنڑ میڈی سوچاں دے وچ آیئے میڈا سوھنڑاں
پڑھدا رہ گیاں میں وی حسن دا منتر ساری راتیں

*🖌سرائیکی ترجمہ*
      *علی مزمل۔ کراچی*
==================

پنجابی
نچدا رہیا دِیوے اُتے نجارہ ساری رات
آئوندا رہیا یاد مینوں پیارا ساری رات
کہن اچ تے کٹ تی سوں کے رات میں
وڈھدا رہیا یاداں والا آرا ساری رات
میریاں خیالاں وچ بانہواں سی تیریاں
وچھونے وچ پیا رہیا ونجارا ساری رات
دردی دل ٹُٹ گیا جھپ جھپ ناں تیرا
اکھڑ موتی ڈل کے بن دے رہے تارا ساری رات
اوہ وقت وی یاد ہے مینوں جدوں
جھول تیری وچ ستا سی میں وچارا ساری رات
ڈنگدا رہیا سپ سنہویں دا مینوں
اکھاں دے اگے سی توں دلارا ساری رات
حساس نوں جدوں چیتے آیا توں
آکھدا رہیا میں  اوہ یارا اوہ یارا ساری رات
عبدالقدیر شاہد