Thursday, January 11, 2018

ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کا منفرد پروگرام(خواجہ حیدر علی آتش ایوارڈ)


*🌍ادارہ,عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری🌍*
کی جانب سے ایک اور منفرد پروگرام پیش کرتے ہیں...
(دربارِ سخن)
جس میں جیتنے والے کو

💥🌹خواجہ حیدر علی آتش ایوارڈ🌹💥
سے نوازا جاۓ گا

*نوٹ-* 👇
تنقید کی اجازت ہو گی

تمام شامل شعراء کو قرعہ اندازی کے ذریعے ایک دوسرے کے نام دیئے جائیں گے جس پر صنعتِ توشیح میں غزل کہی جاۓ گی۔ فرض کیجئیے مختار تلہری صاحب کو کاشف مرزا صاحب کے نام پر غزل کہنے کو ملتی ہے تو مختار تلہری صاحب پہلا شعر۔
ک۔
دوسرا
ا۔
تیسرا
ش۔
چوتھا
ف۔
پانچواں
م۔
چھٹا
ر۔
ساتواں
ز۔
اور آٹھواں
ا۔
سے کہیں گے۔
اسی طرح ہر شاعر کو کسی نہ کسی شریک رکن کا نام دیا جاۓ گا۔
اور سب سے اچھی کہی جانے والی غزل پر
🥇خواجہ حیدر علی آتش ایوارڈ🥇
سے نوازا جاۓ گا۔
صنعتِ توشیح میں کہی گئی غزل کے لیے قافیہ۔ ردیف اور بحر کی کوئی پابندی نہیں۔
تنقید کی پوری اجازت ہوگی...

ادارۂ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے، جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء,ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے...
===========================
*We present 135th Unique Program*

صنعتِ توشیح پر مبنی غزلوں کا شاندار پروگرام پیش ہے

  *خواجہ حیدر علی آتش ایوارڈ *

*🌍ادارہ,عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری🌍*
پروگرام پیش کرنے جارہا ہے جس میں تمام شعراءکرام کو ایک ایک نام الاٹ کیا جاۓ گا۔ جب تمام شعراء تجویز کردہ نام پر غزلیں مشاعرہ میں پیش کر چکیں گے تو منصفین فیصلہ کریں گے کہ کس شاعر کی غزل معیاری ہے۔ لہذا اول آنے والے شاعر کو "خواجہ حیدر علی آتش ایوارڈ" دیا جاۓ گا۔

نوٹ 👇

ان شاء اللہ بروز ہفتہ
تاریخ 13 جنوری 2018
رات 7 بجے

نوٹ۔
اس "دربارِ سخن" مشاعرہ میں اول آنے والے خوش نصیب کو "خواجہ حیدر علی آتش" ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔
منجانب
انتظامیہ ادارہ
===========================
*🌏آرگنائزر🌏*
 *توصیف ترنل ہانگ کانگ*

پروگرام آئیڈیا
محترم علی مزمل کراچی پاکستان
===========================
*📡 پبلشرز 📡*
محترم عثمان عاطس صاحب پاکستان
*📱ویب سائیٹ📱* onlineurdu.com
=================
محترم منظور قادر بھٹی صاحب
(چیف ایڈیٹر عکسِ جمہور رسالہ)
=================
محترم سردار امتیاز خان صاحب
(چیف ایڈیٹر روزنامہ پرنٹاس اخبار)
=================
Dr M ragib deshmukh sb
www.scholarsimpact.com
=================
بانی و چیئرمین
ادارہ,عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری
بانی و سرپرست اعلیٰ
عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب
توصیف ترنل
touseefturnal.blogspot.com

touseefturnal.tumblr.com

https://www.youtube.com/channel/UCvWq7-0Sdc107G-yPpoaOhA
=================
محترم محمد عبدالقدیر شاہد محمدی سیفی
egohater.wordpress.com
=================
محترم چوہدری جان محمد
روزنامہ لازوال جموں ایڈیشن  بھارت
http://epaper.lazawal.com/index.aspx?page=5

=================

Ishraq a hashmi sb web developer plus founder CEO of TV East West News

=================
Graphic designer
 محترم داؤد حسین عطاری
بہاولپور پنجاب پاکستان

============================
صدارت
محترم شہباز نئیر صاحب۔ بہاولپور۔ پنجاب۔ پاکستان

مہمانانِ خصوصی
محترم شکیل انجم۔ مینانگری۔ جلگاؤں۔ انڈیا
محترم سید محمود احمد کانپور بھارت

ناقد
محترم شفاعت فہیم صاحب بھارت

نظامت ورپورٹ
محترم علی مزمل۔ کراچی۔ پاکستان

مقالہ۔ نفیس احمد نفیس۔ انڈیا

حمدِ باری تعالی ﷻ:
محترمہ ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ پاکستان

حمدِ باری تعالی ﷻ
محترم نفیس احمد نفیس۔ انڈیا

نعتِ شافعِ محشر ﷺ:
محترم شوزیب کاشر صاحب راولاکوٹ آزاد کشمیر

===========================

محترم علی مزمل صاحب کراچی پاکستان

محترم اشرف علی اشرف صاحب سندھ پاکستان

محترم محمد عبدالقدیر شاہد محمدی سیفی

محترم ہمراز اوچوی صاحب اوچ شریف پاکستان

محترم رضوان عالم۔ ڈیرہ اسماعیل خان۔ پاکستان

محترم قاضی جلال صاحب۔ کیلیفورنیا۔ امریکہ

محترم شاہین فصیح ربانی، مسقط عمان

محترم نیّرصِدِّیقی حیدرآباد پاکستان

محترم ضیاء شادانی صاحب بھارت

کل بروز ہفتہ ہونے والے مشاعرہ بنام "دربارِ سخن" جو صنعتِ توشیح پر کیا جاۓ گا اور اس مقابلہ میں اول آنے والے خوش بخت کو

✍خواجہ حیدر علی آتش ایوارڈ✍
سے نوازا جاۓ گا۔
اس توشیحی مشاعرہ کے شرکاء کو دو دو کی جوڑی کی شکل منسلک کیا گیا ہے۔ ہر جوڑی ایک دوسرے کے نام پر غزل کہے گی۔

پہلی جوڑی۔

ضیاء شادانی صاحب۔ انڈیا
اور
ظہیر احمد ضیاء صاحب۔ بھمبر۔ آزاد کشمیر

دوسری جوڑی۔

شکیل انجم صاحب۔ مینانگری انڈیا
اور
اشرف علی اشرف صاحب۔ سندھ۔ پاکستان

تیسری جوڑی

سید محمود احمد۔ کانپور۔ انڈیا
اور
قاضی جلال صاحب۔ ہری پور ہزارہ۔ پاکستان۔ موجود (امریکہ)

چوتھی جوڑی

شہباز نئیر صاحب۔ بہاولپور۔ پاکستان
اور
محمد رضوان عالم صاحب۔ ڈیرہ اسماعیل خان۔ پاکستان۔

پانچویں جوڑی

ہمراز اوچوی صاحب۔ اوچ شریف۔ پاکستان
اور
محمد عبدالقدیر شاہد صاحب۔ پاکستان

چھٹی جوڑی

شاہین فصیح ربانی۔ مسقط۔ عمان
اور
نیر صدیقی۔ حیدر آباد۔ پاکستان

ساتویں جوڑی

محترمہ مینا نقوی صاحبہ۔ مرادباد۔ انڈیا
اور
علی مزمل صاحب۔ کراچی۔ پاکستان

ہر جوڑی اپنے مخالف فرد کے نام پر اشعار کہے گی۔
ہر شعر کا پہلا مصرعہ مخالف کے نام کی مناسبت اور ترتیب سے ہونا چاہئیے۔
قافیہ ردیف اور بحر کی کوئی پابندی نہیں۔
تمام شعراء نے کل شام سات بجے شام سے پہلے مکمل کرنی ہیں۔

Tuesday, January 9, 2018

میزبان :توصیف ترنل ہانگ کانگ انٹرویومہمان شاعر:محترم مختار تلہری بھارت




https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2069087476670081&id=100007065459862

http://touseefturnal.blogspot.hk/2018/01/blog-post_53.html?m=1

https://touseefturnal.tumblr.com/post/169528417763/میزبان-توصیف-ترنل-ہانگ-کانگ-انٹرویومہمان

ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری
ہانگ کانگ سے پیش کرتے ہیں پوری دنیا کے معروف ادیبوں و شاعروں کےلاجواب لائیو ویڈیو انٹرویوز سوال و جواب اور ملاقاتیں
میزبان :توصیف ترنل ہانگ کانگ
 انٹرویومہمان شاعر:محترم مختار تلہری بھارت

دوسروں کے لئے کچھ لکھنا بہت آسان ہوتا ہے اور خود پر کچھ لکھنا یا کہنا نہایت مشکل ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی اپنے بارے میں بتانا بھی پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہندوستان کے صوبہ اتر پردیس میں ضلع شاہجہانپور کے قصبہ تلہر کے ایک چھوٹے سے گرام ڈبھورہ میں ایک غریب لیکن شریف خاندان میں یکم فروری 1960  عیسوی کومیری پیدائش ہوئی میرے والد گرامی جناب الحاج صوفی عظیم اللہ انصاری صاحب  ( جو ابھی تین سال قبل اس دار فانی سے کوچ کر گئے ہیں ) نے بڑی جد و جہد کرکے حلال کمائی سے پریوار کی پرورش کی یہ ان کا فیضان اور اللہ پاک کا احسان ہے کہ آج بہر طور خوشحال زندگی گزارنے کا شرف حاصل ہو رہا ہے ۔۔۔
 یہ مختصر خاکہ اس لئے تحریر کیا ہے کہ ممکن ہے کبھی ضرورت پیش آجائے ۔۔۔۔
تلہر ایک ایسا قصبہ ہے جہاں گلشن علم و ادب کی ہمیشہ آبیاری ہوتی رہی ہے اور آج بھی محترم استاد طاہر تلہری صاحب ( مرحوم ) کی قائم کردہ بزم ارباب-سخن کے زیر اہتمام  ماہانہ طرحی نشستیں ایک درسگاہ کا کام کر رہی ہیں ۔۔۔ محترم جناب ساجد شاہجہانپوری صاحب میرے بڑےاستاد بھائی ہیں جنکی شفقتیں مجھے ہمیشہ حاصل رہی ہیں
المختصر
میری شاعری کا آغاز 1981 میں نعت گوئی سے ہوا  اور 1998  میں پہلا مجموعہ ۔۔ ۔۔ شہباز - قلم کے نام سے شائع ہوا جو غزلیات پر مشتمل ہے اور دوسرا مجموعہ سن 2000 میں ۔۔۔۔۔ پرتو-نور کے نام سے شائع ہوا جو نعتیہ کلام پر مشتمل ہے  شروع شروع میں رسائل و اخبارات میں چھپنے کا بہت شوق تھا اکثر کتابوں میں غزلیں اور نعتیں چھپتی رہتی تھیں  علاوہ ازیں 1985 سے کبھی کبھار مشاعروں اور جلسوں کی نظامت کرنے کا شرف حاصل ہوتا رہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
وقتاً فوقتا" اعزاز بھی حاصل ہوتے رہتے ہیں ۔۔۔
موجودہ صورتحال یہ ہے کہ کم از کم 1500 سو غزلیات اور قطعات و رباعیات اور کچھ نعتیہ کلام ہیں جنکو کسی وجہ سے کتابی شکل نہیں دے پا رہا ہوں ۔۔۔۔
باقی باتیں انشاءاللہ آئندہ ۔۔۔۔۔۔
1 :۔ سب سے پہلے ایک روائتی سوال لفظوں سے رشتہ کب جڑا ؟ پہلا شعر کونسا  کہا اگر یاد ہو ؟

سن 1981 میں محترم عبدالحمید عشرت تلہری صاحب  ( مرحوم ) نے رغبت دلائی تو مجھے پتا چلا کہ میرے اندر بھی ایک شاعر چھپا بیٹھا ہے جسکو سامنے لانے کی ضرورت ہے لہٰذا سب سے پہلے ایک نعت پاک کہنے کا شرف حاصل ہوا جس کا پہلا مطلع یہ ہے۔۔۔۔۔

ہم بھی ہیں اک آپکےادنٰی غلام
کیجئے  ہم  پر  کرم   خیرالانام

2:۔ والدین کو جب پتہ چلا کہ ان کا صاحبزاد شعر کہتا ہے تو ان کا ردِ عمل کیا تھا ؟

اتفاق سے اسی دن ایک مشاعرہ تھا جسمیں مذکورہ نعت پڑھنا تھی میں نے جب والد صاحب سے جانے کی اجازت مانگی اور شعر سنائے تو بہت خوش ہوئے اور دعاوءں کے ساتھ اجازت دی اس کے بعد سے والدین اور بڑے بھائی کی حمایت ہمیشہ میرے ساتھ رہی

3:۔  آپکا قلمی ,,,,,,,,,, ہے اس نام کو رکھنے کی کوئی خاص وجہ ؟

چونکہ میرا نام مختار احمد پہلے سے ہی تھا تو اور کوئی تخلص بدلنے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور تخلص کے طور پر بھی مختار ہی استعمال کر لیا اور کوئی وجہ نہیں

4:۔ کیا کبھی کسی سے اصلاح لی ؟ کس شاعر کو خود کے لیے زیادہ موثر سمجھتے ہیں ؟

جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ محترم عبدالحمید صاحب جو رشتے میں خالو تھے نعت کے بہترین شاعر تھے نعتیں انکو دکھاتا رہا اور جب غزلیات سے تعلق ہوا تو باقاعدہ  محترم طاہر تلہری صاحب کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنے کا شرف حاصل کیا

4:۔ شاعری کے بارے میں آپ کا خیال کیا ہے شاعری کیا ہوتی ہے ؟ شاعری کا ذاتی زندگی پر کوئی مثبت یا منفی اثر اگر پڑا ہو تو ؟

میرے نذیک شاعری ایک احساسات و جذبات و کیفیات کو عروض کے اصولوں کی پابندی کے ساتھ نظم کرنے کا نام ہے جو شاعر کی روحانی غذا کا کام کرتی ہے اور یہ مثبت پہلو تصور کرتا ہوں اور ہاں جہاں تک منفی اثرات کا سوال ہے تو وہ صرف بیوی کو ناراض رکھنا ہے اسکے علاوہ کچھ نہیں

5:۔ طنز و مزاح سے لگاو ؟ کیا کبھی شاعری کے علاوہ نثر میں کچھ لکھا ؟

طنز و مزاح کا تعلق صرف سنے تک رہا ہے اور محظوظ بھی ہوتا ہوں لیکن کہنے یا لکھنے کا ارادہ نہ تھا اور نہ ہے

6:۔ موجودہ دور کی شاعری سے کس حد تک مطمئن ہیں ؟ حالات حاضرہ کے شعرا میں آپ کی پسند کا شاعر ؟

شاعری موجودہ دور کی ہو یا سابقہ دور کی اچھی شاعری کو ہی پسند کیا جاتا ہے جسمیں شاعرانہ محاسن ہوں اسی کو ہر دور میں پسند کیا جاتا رہا ہے نیز پسند کیا جاتا رہیگا ۔۔۔
عہد حاضر کے میرےپسندیدہ شاعر محترم المقام جناب منتخب احمد خان نور صاحب ککرالوی ہیں اور وہ اسلئے نہیں کہ میرے مرشد گرامی الشاہ محمد ثقلین میاں حضور کے بھائی ہیں بالکہ یقینا" وہ بےمثال شاعر ہیں میری نگاہ میں

7:۔  کسی ادبی گروہ سے وابستگی ؟ اردو ادب کی ترویح و ترقی کے لیے جو کام ہو رہا ہے کیا آپ اس سے مطمئن ہیں ؟

تلہر کی بزم ارباب-سخن  اور بریلی کی بزم نورالادب سے ہمیشہ جڑاوء رہا ہے دوسرے سوال کے جواب میں یہ عرض کرونگا کہ جہاں اچھا کام ہو رہا ہے ظاہر ہے اس سے مطمئن نہ ہو نے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

8:۔ محبت کے بارے میں کچھ بتائیے کیا آپ نے کبھی محبت کی ؟ کیا شاعر ہونے کے لیے محبت ضروری ؟

اس بارے میں کیا جواب دوں یہ صیغۂ راز میں رہنے دیجئے دوسرے سوال کے جواب میں نفی کا اظہار کر تا ہوں

9:۔ جہاں سوشل میڈیا نے نئے لکھنے والوں کے لیے سہولیات دی ہیں وہاں پر کتب سے دوری بھی دی ہے ۔ آپ کے خیال میں وہ کتابوں کا دور ٹھیک تھا یا حال ٹھیک ہے ؟ کتابوں سے محبت کا کوئی ذریعہ ؟

جو حضرات علم و ادب سے جڑے ہوئے تھے اور ہیں وہ ہیں اور رہینگے
حال بھی ٹھیک ہے اور ماضی بھی ٹھیک تھا میں دونوں سے متفق ہوں

10:۔ کس بحر میں غزل پسند ہے ؟ آپ کا اپنا کوئی پسندیدہ شعر ؟

عموما" مترنم بحروں کو پسند کرتا ہوں وہ کوئی بھی ہو
یوں تو اپنے سبھی شعر اچھے لگتے ہیں یہاں پر اپنا پسندیدہ یہ شعر پیش کر تا ہوں

مجھے مرنے کا ہر گز غم نہیں ہے خوف تو یہ ہے
نظر میں میرے قاتل کو مری اولاد رکھے گی

11 :ـ پہلی ملاقات میں سامنے والی شخصیت میں کیا دیکھتے ہیں آپ ؟

خوبیوں پر نظر رہتی ہے اور بس

12:ـ غالب کے بارے میں آپ کی رائے ؟

المختصر
غالب علی کل غالب
احقرالکونین  ۔۔۔۔۔ مختار تلہریsb

نہ جانے کون سی باتوں نے دل دکھایا ہے
کہ آج عارض-خوددار پر بھی آنسو ہیں
***********
خلوت میں بھی سوچا تجھے جلوت میں بھی دیکھا
ہر رخ سے دلآویز تری جلوہ گری ہے
***********
زعم-خودآرائی میں جب کوئی سنتا ہی نہیں
ایسے عالم میں کسے سمجھاوءں تیرے شہر میں
************
یادآتی ہےماضی کی تولگتاہےکہ اب بھی
آواز وہی کان میں رس گھول رہی ہے
***********
روایت ہے اپنی کہ ظالم کے آگے
کٹا تو دیا سر جھکایا نہیں ہے
***********
دریا کی طرح میں بھی اب آزاد ہو گیا
بس چل دیا ادھر کو جدھر راستہ ملا
**********
بہت سستا ہے سودا مل کے تو دیکھو فقیروں سے
دعائیں کتنی دے جاتے ہیں وہ دو چار آنوں میں
************
اپنی عادت کے مطابق کوئی تہمت رکھ دو
اور لوگوں کی طرح میری بھی تشہیر سہی
************
تمہاری بات سر آنکھوں پہ لیکن
ہمارے ساتھ کچھ مجبوریاں ہیں
************
اس کے دل کی تہہ میں ہم اترے تو یہ عقدہ کھلا
روح کی گہرائیوں میں اک خلا پہلے سے تھا
************
سوچ کے جنگل سے نکلوں کس طرح
سوچنا   اک   مشغلہ   سا    ہو    گیا
***********
بے کیف کہانی  کا میں اک باب ہوں یارو
اچھاہےکہ تم نےمجھےپڑھ کرنہیں دیکھا
***********
شاید مری  زبان  کی  تاثیر اڑ گئی
بچہ بھی میری بات ہوا میں اڑاگیا
***********
صبح سے میں شام تک تنہا یونہی پھرتا رہا
اور جب گھر میں گیا فکروں کا لشکر لےگیا
**********
تشنگی پھرلےچلی ہمکوسرابوں کیطرف
پھر فریب-دل ہمیں منزل نظر آنے لگا
**********
یوں تو فقرہ فقرہ زہر آلود تھا اس کا مگر
غور سے دیکھا تو ہر جملہ حکیمانہ ملا
**********
اس کی آنکھوں کوسمندرلکھ کر
میری  آنکھوں  کو  جزیرہ لکھنا
**********
اپنی جانب سے نہ تاریخ کے اوراق لکھو
چہرہء عصر کی تحریر کو پڑھ کر لکھنا
***********
الٹ کردیکھتاہوں جب بھی ماضی کی کتابوں کو
میں اپنی  زندگی  کا  لمحہ  لمحہ دیکھ لیتا ہوں
***********
جلا بیٹھا ہوں بازو گرمئ پرواز سے لیکن
غرور اتنا نہیں رہنے دیا ہے آسمانوں کا
***********
زمانہ  بیت  گیا ہے قلم کو گھستے ہوئے
غزل کاتھوڑابہت اب مزاج سمجھا ہوں

Saturday, January 6, 2018

ادارہ،عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کے تنقیدی طرحی مشاعرہ براۓ "داغ دہلوی ایوارڈ" کی روداد




ادارہ۔ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کے منعقد کردہ طرحی مشاعرہ براۓ "داغ دہلوی ایوارڈ" کی روداد۔

تحریر۔ علی مزمل کراچی۔ پاکستان

مورخہ ٦ جنوری ٢٠١٨ بروز ہفتہ رات ٧ بجے شام حسبِ معمول ایک مختلف نوعیت کا ١٣٤ واں تنقیدی مشاعرہ براۓ "داغ دہلوی ایوارڈ" منعقد کیا گیا۔ جس میں معروف شعراء نے شرکت کی۔
اس تنقیدی طرحی مشاعرہ کو "داغ دہلوی ایوارڈ" کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اور جیتنے والے کے لیے "داغ دہلوی" ایوارڈ کا اعلان کیا گیا۔ جس کے مہتمم جناب توصیف ترنل صاحب تھے اور مشاعرہ کی صدارت محترم جناب ضیاء شادانی صاحب مرادآباد انڈیا سے فرما رہے تھے۔
جبکہ مہمانانِ خصوصی میں
جباب شاہین فصیح ربانی صاحب اور جناب ہمراز اوچوی قادری صاحب پنجاب۔ پاکستان کے نام شامل تھے۔ جبکہ۔
نظامت کے فرائض مختار تلہری صاحب۔ انڈیا سے انجام دے رہے تھے۔
حلقہء ناقدین میں۔
محترم جناب شفاعت فہیم صاحب انڈیا محترم جناب شاہین فصیح ربانی صاحب۔ مسقط عمان کے نام شامل تھے۔ جو دونوں محترم صاحبان نے احسن طریقے سے انجام دئیے۔
آج کے اس طرحی تنقیدی مشاعرہ براۓ "داغ دہلوی ایوارڈ" میں دو مصرعۂ طرح دئیے گئے۔ جس میں دیا جانے والا پہلا طرحی مصرعہ ذوالقافیتین یعنی دو قوافی پر مشتمل تھا۔
١- "اس پھول سے چہرے کو گلفام کہا جاۓ"
قافیہ۔١- گلفام۔ نام۔ آرام۔ دام وغیرہ
قافیہ۔٢- کہا۔ سنا۔ لکھا۔ دیا وغیرہ

جب کہ آج کے طرحی مشاعرہ براۓ "داغ دہلوی ایوارڈ" کا دوسرا مصرعہ یہ تھا۔
"آئینہ ہم کو آپ دکھانے سے پیشتر"

رودادِ مشاعرہ مرتب کرنے کی زمہ داری پاکستان سے علی مزمل کو تفویض ہوئی۔

ٹھیک سات بجے اللہ کے بابرکت نام سے تقریب کا آغاز ہوا اور ناظمِ مشاعرہ نے صدرِ مشاعرہ اور مہمانانِ  خصوصی کو مسند پر آنے کی دعوت دی حمدِ باری تعالی کے لیے ناظمِ مشاعرہ نے اپنا نام پیش کیا۔
اس کے فوراً بعد مختار تلہری صاحب نے نعت رسولِ مقبول ص پیش کی۔
مختار تلہری صاحب نے حمد و ثناء اور نعت سے محفل کو مشکبار کیا اور تحسین پائی۔

نمونہء کلام۔ (حمد)

علی کے گھر سے وظیفہ ملا ہے اللہ
طریقِ مصطفوی کا پتا ہے اللہ

نمونہء کلام۔ (نعت)

ہے نتیجہ تم سے رسم و راہ کا
مل گیا جو راستہ اللہ کا

نعت پاک کے بعد ناظمِ مشاعرہ جناب مختار تلہری صاحب نے طرحی مشاعرہ کا باقائدہ آغاز کرتے ہوۓ سب سے پہلے اپنا کلام سامعین کی نذر کیا۔ اور بہت سے توصیفی کلمات کے حقدار ٹھہرے۔ آپ نے ذوقافیتین  مصرعہ پر غزل کہی۔

نمونۂ کلام ملاحظہ ہو۔

دنیا نے بڑی گہری نظروں سے مجھے پرکھا
تاکہ مری الفت کو بدنام کیا جاۓ

جناب مختار تلہری صاحب کے بعد عبدالحمید ابنِ ربانی صاحب نے ذوقافیتین مصرعہ پر غزل پیش کی جسے سامعین نے پسند کیا۔

نمونہء کلام۔

ربانی دلِ ناداں حسرت بھی عجب رکھے
اس دستِ مسیحا کو اب تھام لیا جاۓ

عبدالحمید ابنِ ربانی کے بعد دعوتِ کلام وادئ سندھ کے ابھرتے ہوۓ شاعر جناب اشرف علی اشرف صاحب کو دی گئی۔ انہوں نے بھی ذوقافیتین میں سخن پیمائی کی۔ آپ نے خوب خوب داد پائی۔

نمونۂ کلام۔

وہ آتے نہیں ملنے ہم جاتے نہیں ملنے
اشرف تو عبث یارو بدنام ہوا جاۓ

جناب اشرف علی اشرف کے بعد شمعِ محفل تہذیبِ سندھ کی علم بردار ہونہار شاعرہ محترمہ ثمینہ ابڑو کے رو برو لائی گئی۔
آپ نے دونوں مصرعوں پر طبع آزمائی کی اور خوب کی۔ ان کے کلام کو شرکاء محفل نے بہت پسند کیا اور داد و تحسین سے نوازا۔

نمونۂ کلام۔

پہلی طرحی غزل سے۔
ہر رنگ سے معمور ہے وہ حسنِ مجسم
اس پھول سے چہرے کو گل اندام لکھا جاۓ

دوسری طرحی غزل سے۔
رونا پڑے گا جگ کو ہنسانے سے پیش تر
مرنا پڑے گا تجھ کو بھلانے سے پیش تر

ثمینہ ابڑو صاحبہ کے بعد کیلیفورنیا۔ امریکہ سے جناب قاضی جلال صاحب کو دعوت دی گئی کہ وہ اپنا کلام سامعین کی نذر کریں۔
آپ نے بھی دونوں طرحی مصرعوں پر غزلیں کہیں اور داد حاصل کی۔

نمونہء کلام۔

پہلے طرحی مصرعہ سے۔
بے نام محبت کو اب نام دیا جاۓ
آ بیٹھ کے سوچیں ہم اک جام پیا جاۓ

دوسری طرحی غزل سے۔
نظریں جھکا لیں آنکھ لڑانے سے پیش تر
اور ہاتھ کھینچے ہاتھ ملانے سے پیش تر

پے در پے شاعر آتے رہے مشاعرے نے رنگ جما لیا تھا کہ قاضی جلال صاحب کے بعد مرادآباد انڈیا کی مایہ ناز شاعرہ محترمہ مینانقوی صاحبہ کو دعوتِ کلام دی گئی۔ آپ نے حسبِ سابق بہت معیاری کلام سے سامعین کے نفیس ذوق کی تشفی کی اور خوب داد سمیٹی۔ آپ نے بھی دونوں مصرعوں پر قلم کے نشتر آزماۓ۔

نمونۂ کلام۔

پہلی طرحی غزل سے۔
یوں امن و اخوت کو اب عام کیا جاۓ
دنیا کو محبت کا پیغام دیا جاۓ

دوسری طرحی غزل سے۔
کوئی بھی لفظ ہونٹوں پہ لانے سے پیش تر
سو بار سوچ لیجے سنانے سے پیش تر

محترمہ مینانقوی کے بعد جناب علی مزمل صاحب کو کلام پیش کرنے کی دعوت دی گئی۔ حاضرین نے ان کے کلام پر تحسین کی۔

نمونۂ کلام۔

تخلیق اگر ہوا تھا میں آنے سے پیش تر
کس شکل میں تھا شکل میں لانے سے پیش تر

علی مزمل کے بعد پنجاب پاکستان سے جناب ہمراز اوچوی قادری صاحب کی باری آئی۔ آپ آج کے مشاعرہ کے دو مہمانانِ خصوصی میں سے ایک تھے۔ آپ کا کلام بھی پسند کیا گیا جس پر ناقدین نے بھی اپنی آراء سے مستفیض کیا۔

نمونۂ کلام۔

مے خانہ میں آیا ہوں مرا نام لیا جاۓ
اب میرے لیے ساقیا اک جام دیا جاۓ

جناب ہمراز اوچوی قادری صاحب کے بعد آج کے مشاعرے کے دوسرے مہمانِ خصوصی جناب شاہین فصیح ربانی صاحب کو مدعو کیا گیا۔ آپ نے دونوں مصرعوں پر کلام پیش کیا اور بے تحاشہ داد سمیٹی۔

نمونہء کلام۔

پہلی طرحی غزل سے۔
ہر صبح سنا جاۓ ہر شام سنا جاۓ
نظروں کو تکلم کا انعام دیا جاۓ

دوسری طرحی غزل سے۔
ہوتے ہیں سو طلسم خزانے سے پیش تر
ہو اسم اک عطا مجھے جانے سے پیش تر

شاہین فصیح ربانی صاحب کے بے مثال کلام کے بعد جناب ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی جن کا تعلق انڈیا سے ہے کو دعوتِ کلام دی گئی۔ آپ نے بھی ذوقافیتین غزل کا انتخاب کیا۔ آپ کا کلام بھی خوب رہا۔

نمونۂ کلام۔

ایسا بھی زمانے میں اک کام کیا جاۓ
بے کس کی صداؤں کو ہر گام کیا جاۓ

اور آخر میں صدرِ مشاعرہ جناب ضیاء شادانی صاحب کو دعوت دی گئی کہ وہ آئیں اور اپنا کلام سامعین کی نذر کریں اور حاضرینِ محفل کو خطبۂ صدارت سے سرفراز فرمائیں۔
صدرِ محفل نے نہایت مشاقی سے کہے گئے کلام سے مستفید کیا اور بجھتے ولولوں کو ایک بار پھر بھڑکا دیا۔ محفل از سرِ نو جوبن پر آگئی اور خوب داد دی گئی۔ آپ نے دئیے گئے دونوں طرحی مصرعوں پر غزلیں کہیں۔

نمونۂ کلام پہلی غزل سے۔

اک کیف ہے مستی ہے یہ دین ہے قدرت کی
کیوں آپ کی آنکھوں کو بدنام کیا جاۓ

دوسری طرحی غزل سے۔
اے کاش پہلے اپنے گریباں میں جھانک لیں
آئینہ آپ ہم کو دکھانے سے پیش تر

بعدازاں ضیاء شادانی صاحب نے خطبۂ صدارت سے نوازا اور مشاعرہ بخیر و خوبی انجام کو پہنچا۔

یہ مشاعرہ اب تک کئے گئے بہترین مشاعروں میں شمار کیا جانا چاہیے جن میں شرکار اور سامعین نے بھرپور دل چسپی کا مظاہرہ کرتے  ہوۓ محفل کو بامِ عروج پر پہنچا دیا۔
اس منفرد پروگرام کا سہرا چیئرمین توصیف ترنل کے ساتھ ساتھ ہر اس شخص کے سر بندھتا ہے جو کسی بھی ذریعہ سے پروگرام کا حصہ رہا۔
اس موقع پر مختار تلہری صاحب کی نظامت اور ناقدین خصوصاً شفاعت فہیم صاحب کی مستعدی کی داد نہ دینا بھی زیادتی ہوگی۔

آخر میں توجہ منصفین کی جانب مبذول رہی اور تجسس انتہا کو پہنچا کہ آخر وہ کون خوش بخت ہوگا جسے "داغ دہلوی" ایوارڈ سے نوازا جاۓ گا۔
خلافِ توقع مختصر انتظار کے بعد منصفین نے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا اور کامیابی کا ہما جناب مختار تلہری صاحب کے سر بیٹھا اور یوں مختار تلہری صاحب "داغ دہلوی ایوارڈ" کے حقدار قرار پاۓ۔

*🌍ادارہ,عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری🌍* 
پروگرام پیش کرنے جارہا ہے 

داغ دہلوی ایوارڈ

آپ کے پاس آج شام سات بجے تک وقت ہے

نوٹ
سارے شعرا اپنی غزل برائے تنقید پیش کریں گے 

فی البدیہہ طرحی مشاعرہ شاندار پروگرام پیش خدمت ہے 

مصرع طرح: اس پھول سے چہرے کو گلفام کہا جائے
قافیہ1: گلفام، نام، آرام، دام وغیرہ
قافیہ2: کہا، دیا، لکھا، دیا وغیرہ
ردیف: جائے
افاعیل: مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن

آج کے مشاعرہ کا دوسرا طرحی مصرعہ یہ ہے۔

"آئینہ ہم کو آپ دکھانے سے پیش تر"

جو احباب اس پر غزل کہنا چاہیں وہ اس پر کہیں یا اگر دونوں مصرعوں پر طبع آزمائی کا دم خم ہو تو دونوں مصرعوں پر غزل کہیں۔
ادارہ

ادارۂ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے، جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء,ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے...
===========================
*We present 134th Unique Program*

منجانب 
انتظامیہ ادارہ
===========================
*🌏آرگنائزر🌏*
*توصیف ترنل ہانگ کانگ*

پروگرام آئیڈیا
جناب شاہین فصیح ربانی۔ مسقط۔ عمان

===========================
*📡 پبلشرز 📡*
محترم عثمان عاطس صاحب پاکستان
*📱ویب سائیٹ📱* onlineurdu.com
=================
محترم منظور قادر بھٹی صاحب
(چیف ایڈیٹر عکسِ جمہور رسالہ)
=================
محترم سردار امتیاز خان صاحب 
(چیف ایڈیٹر روزنامہ پرنٹاس اخبار)
=================
Dr M ragib deshmukh sb
www.scholarsimpact.com
=================
بانی و چیئرمین 
ادارہ,عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری
بانی و سرپرست اعلیٰ
عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب
توصیف ترنل
touseefturnal.blogspot.com

touseefturnal.tumblr.com

https://www.youtube.com/channel/UCvWq7-0Sdc107G-yPpoaOhA
=================
محترم محمد عبدالقدیر شاہد محمدی سیفی
egohater.wordpress.com
=================
محترم محمد بشیر مہتاب صاحب 
روزنامہ لازوال جموں ایڈیشن  بھارت

=================
سیدہ کوثر منور شرقپوری
ڈیلی دھنک انٹرنیشنل یوکے
www.dailydhanak.com

=================

Ishraq a hashmi sb web developer plus founder CEO of TV East West News

=================
Graphic designer
محترم داؤد حسین عطاری
بہاولپور پنجاب پاکستان

============================
صدارت 
جناب ضیاء شادانی صاحب۔ انڈیا

مہمانانِ خصوصی
جناب شاہین فصیح ربانی۔ مسقط۔ عمان
جناب ہمراز اوچوی قادری صاحب۔ پنجاب۔ پاکستان

نظامت 
محترم مختار تلہری صاحب 

رپورٹ 
جناب علی مزمل۔ کراچی۔ پاکستان

ناقد
محترم شفاعت فہیم صاحب بھارت

حمدِ باری تعالی ﷻ:
محترم مختار تلہری صاحب 

نعتِ شافعِ محشر ﷺ:
محترم مختار تلہری صاحب 
نصیر حشمت گرواہ

===========================
جناب عبدالحمید ابنِ ربانی صاحب مانسہرہ۔ پاکستان

جناب مختار تلہری صاحب۔ بریلی اترپردیش۔ انڈیا

جناب اشرف علی اشرف صاحب۔ سندھ۔ پاکستان

محترم قاضی جلال صاحب  کیلیفورنیا، امریکہ

محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی۔۔۔مراداباد۔۔بھارت

محترم سراج گلاؤٹھوی صاحب بھارت 

جناب علی مزمل۔ کراچی۔ پاکستان
محترمہ ثمینہ ابڑو صاحبہ پاکستان

Thursday, December 28, 2017

ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئیٹری کی رکنیت سازی چوتھی مرتبہ مکمل ہوئی


ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئیٹری کی رکنیت سازی مکمل ہوئی
Date: 28-12-2017
ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئیٹری کی رکنیت سازی چوتھی مرتبہ مکمل ہوئی ادارہ، نے اپنے پرانے عہدہ داران وانتظامیہ، کو اپنی مجلسِ شوریٰ و صلاح مشورہ کمیٹی، میں منتخب کیا، اور ان کی جگہ دوسرے احباب کو رکنیت دی، ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئیٹری اپنے پرانے عہدہ داران وانتظامیہ، کی انتہائی شکرگزار ہے کہ انھوں نے اپنی انتہائی محنت ومشقت سے ادارہ کی خدمات کے لئے رات ودن ایک کیا۔ اوربہت اچھے طریقے سے اردوادبی خدمات کو انجام دیا اور ان کی ان خدمات کے لئے ادارہ، ہمیشہ ان کا شکرگزار رہےگا۔
اس بار ادارہ میں خاصی تبدیلیاں کی گئی ہیں
بانی وچیئرمین: توصیف ترنل، ہانگ کانگ
صدر
محترم انور کیفی صاحب بھارت
:نائب صدور کے اسم گرامی
محترم شہزراد نئیر، پاکستان
محترم مختار تلہری صاحب بھارت
محترم شفاعت فہیم، بھارت
محترم مسعود حساس، کویت
محترمہ شہنازمزمل، پاکستان
محترم امین اڈیرائی، پاکستان
محترم ڈاکٹر نبیل احمد نبیل صاحب پاکستان
جنرل سیکریٹری
محترم علی مزمل صاحب پاکستان
جوائنٹ سیکرٹری
محترم شاہین فصیح ربانی صاحب
محترمہ ثمینہ ابڑو، پاکستان
محترم علیم طاہر صا حب بھارت
محترم افتخار راغب صاحب بھارت
محترم عثمان عاطسؔ، پاکستان
سیکریٹری
محترمہ ڈاکٹر مینہ نقوی، بھارت
جوائنٹ سیکرٹری کو ارڈینیٹر
محترم ضیاء شادانی صاحب بھا رات
محترم امیرالدین امیر بیدر ، ہندوستان
محترم احمد کاشف صاحب
محترم ڈاکٹرارشادخان صاحب
=====================================
صدرآزادکشمیر
محترم شوزیب کاشر صاحب
نائب صدرآزادکشمیر
محترم شہباز گردیز، فرام باغ
محترم ظہیر احمد ضیاء صاحب
محترم ظہیر احمد مغل صاحب
محترم حبیب گوہر صاحب
جنرل سیکریٹری آزادکشمیر
محترم جاوید سحر صاحب
محترم بشیر مہتاب صاحب
سیکریٹری آزادکشمیر
محترم علی عارفین
صدر کوٹلی آزادکشمیر
محترم دانش بشیر بیگ
=====================================
سنگرزکے اسم گرامی:۔
محترم وزیر احمد بجواتی صاحب پاکستان
محترم سلیم راجا صاحب، دہلی
محترم یار باجوا صاحب
محترم وسیم شیخ صاحب، لاہور
محترم نصیر حشمت صاحب
محترم ثمریاب ثمر صاحب انڈیا
محترم پون آریا صاحب میوزک ڈئریکٹر انڈیا
محترم ظہیر احمد ضیاء صاحب
محترم وسیم ہاشمی صاحب
محترم عثمان عاطس صاحب سرگودھا پاکستان
khaliq chishti sb CEO music world
Sartaj Alam sb Singer India
Ahmer jan sb
=====================================
ٹرانسلیشن ٹیم
ہندی ٹراسلیشن: ڈاکٹر مینا نقوی
ڈاکٹر سراج گلاٹھوی بھارت
پشتو منظوم ترجمہ: محترم از احمد وصال
انگلش ٹراسلیشن: توصیف ترنل اورسید اقبال حیدر
سندھی ترجمہ: ثمينه ابڑو اور مس نوشین
سرائیکی ترجمہ: علی مزمل
پنجابی ترجمہ: عبدالقدیر شاہد
=====================================
ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئیٹری
کی انتظامیہ کا اہم اعلان
عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب
کی رکنیت سازی مکمل ہوئی
ادارہ، نے اپنے پرانے عہدہ داران وانتظامیہ، کو اپنی مجلسِ شوریٰ و صلاح مشورہ کمیٹی، میں منتخب کیا۔
مجلس مدیران
بانی و سرپرست اعلیٰ
توصیف ترنل ہانگ کانگ
مدیرِ اعلیٰ
محترم علی مزمل صاحب پاکستان
مدیر-1
محترم مختار تلہری صاحب بھارت
مدیر-2
محترمہ دعاعلی صاحبہ پاکستان
معاون مدیر
محترمہ ثمینہ ابڑو صاحبہ پاکستان
-----------------------------------------------------------------
مجلس مشاورت
محترم مسعود حساس صاحب کویت
محترمہ شہناز مزمل صاحبہ پاکستان
محترم ڈاکٹر شفاعت فہیم صاحب بھات
محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی صاحبہ مرادآباد۔۔۔ ۔بھارت
محترم انور کیفی صاحب مرادآباد۔۔بھارت
محترم نفیس احمد نفیس صاحب ناندوروی بھارت
محترم عثمان عاطس صاحب پاکستان
محترم علیم طاہر صاحب بھارت
محترم امیرالدین امیر بیدار صاحب بھارت
-----------------------------------------------------------------
معاونین
محترم شہزاد نیّر صاحب
محترم شہباز گردیزی صاحب کشمیر
محترم جاوید سحر صاحب کشمیر
محترم ڈاکٹرسراج گلاؤٹھوی صاحب انڈیا
محترم ڈاکٹرارشادخان صاحب بھارت
محترم نصیر حشمت گرواہ صاحب پاکستان
محترم احمد کاشف صاحب بھارت
محترم محمد  بشیر مہتاب صاحب
محترم محمد عبدالقدیر شاہد محمدی سیفی
محترم امین اڈیرائی صاحب
-----------------------------------------------------------------
سرورق ،ڈائزائنگ
محترمہ دعاعلی صاحبہ پاکستان
میگزین آرگنائزر
محترم خالد سروحی صاحب جدہ سعودی عربیہ
کمپوزنگ آرکیٹئکٹ
محترم میھر خان صاحب
لیگل ایڈوائزر
محترم جاوید حلیم ایڈووکیٹ صاحب ہائی کورٹ بار- کراچی
زیرِ انتظام:-
دارہ،عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری
ہانگ کانگ
=====================================
*📡 پبلشرز 📡*
محترم عثمان عاطس صاحب پاکستان
*📱ویب سائیٹ📱* onlineurdu.com
=================
محترم منظور قادر بھٹی صاحب
(چیف ایڈیٹر عکسِ جمہور رسالہ)
=================
محترم سردار امتیاز خان صاحب
(چیف ایڈیٹر روزنامہ پرنٹاس اخبار)
=================
Dr M ragib deshmukh sb
www.scholarsimpact.com
=================
بانی و چیئرمین
ادارہ,عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری
بانی و سرپرست اعلیٰ
عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب
توصیف ترنل
touseefturnal.blogspot.com
touseefturnal.tumblr.com
https://www.youtube.com/channel/UCvWq7-0Sdc107G-yPpoaOhA
=================
محترم محمد عبدالقدیر شاہد محمدی سیفی
egohater.wordpress.com
=================
محترم محمد بشیر مہتاب صاحب
روزنامہ لازوال جموں ایڈیشن  بھارت
=================
سیدہ کوثر منور شرقپوری
ڈیلی دھنک انٹرنیشنل یوکے
www.dailydhanak.com
=================
Ishraq a hashmi sb web developer plus founder CEO of TV East West News
=================
گرافک ڈیزائنر:
محترم داؤد حسین عطاری
بہاولپور پنجاب پاکستان
========================
نوٹ: 6 ماہ بعد دوبارہ اتفاق رائے سے انتظام انتظامیہ کو کارکردگی پہ منظم کیا جائے گا۔

ادارہ، اپنے نومنتخب عہدہ داران و ذمہ داران کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتا ہے، اور ان سےامید کرتا ہے کہ زبانِ اردو ادب کی ترقی وترویج کو اپنا فریضہ سمجھتے ہوئے انجام دینگے، ان شاءاللہ






Monday, December 25, 2017

پروگرام اصلاح (نوواردانِ ادب ایوارڈ)




ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری۔

"رپورٹ"

"ثمینہ ابڑو لاڑکانہ" سندھ۔ پاکستان

حسبِ روایت ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کی جانب سے ٣٠ دسمبر بروز ہفتہ شام ٧ بجے ایک محفل بعنوان "نوواردانِ ادب ایوارڈ" کا انعقاد محترم توصیف ترنل صاحب کی سربراہی میں کیا گیا۔ محفل کی صدارت محترم ظہیر احمد مغل صاحب "کشمیر" نے کی ۔مہمانانِ خصوصی اور منصفین کے فرائض
محترم مختار تلہری صاحب،
محترم علی مزمل صاحب اور
محترم ضیا شادانی صاحب نے انجام دیے جبکہ نظامت
محترمہ ثمینہ ابڑو نے کی۔
محفل کا آغاز  مختار تلہری صاحب کی دل افروز حمد باری تعالیٰ سے ہوا
بعد ازاں
محترم ڈاکٹر نبیل احمد نبیل،
محترم شوزیب کاشر
محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی اور
محترم یار باجواہ نے  بارگاہِ رسالت میں نذرانہء عقیدت پیش کیا۔
ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری ہمیشہ ہی شعراء و ادباء کی حوصلہ افزائی کرتا رہا ہے اور یہ پروگرام اس لیے خصوصی اہمیت کا حامل رہا کہ اس میں نہ صرف نئے شاعروں کی بذریعہ داد و تحسین حوصلہ افزائی کی گئی بلکہ ان کے کلام کی اصلاح استاد شعراء نے کی اور بہترین کاوش کو ایوارڈ بھی دیا گیا۔
پہلی پوزیشن پانے والے خوش نصیب
محترم ا شرف علی اشرف "سندھ پاکستان" رہے۔

ایوارڈ یافتہ غزل:

تیری خاطر بھلا کیا کیا نہیں کرنا چاہا
دور کر دوں تجھے ایسا نہیں کرنا چاہا

میں نے اک بار کہا تھا کہ بھلا دوں گا تجھے
میں نے اس عہد کو ایفا نہیں کرنا چاہا

اتفاق ایسا ہوا ہو گا کہ اس نے مجھ سے
سامنے آ کے جو پردہ نہیں کرنا چاہا

اس فقیری میں شہنشاہی کے لیتا ہوں مزے
میں نے اقدار کا سودا نہیں کرنا چاہا

اب وہ کس لہجے میں اقرارِ وفا تجھ سے کرے
تونے جس شخص کو اپنا نہیں کرنا چاہا

یہ بڑے حوصلے کی بات ہے صاحب میں نے
دھوکے کھا کھا کے بھی دھوکا نہیں کرنا چاہا

پارسا بن کے جو بیٹھے ہو یہاں پر حضرت
میرا ہی ظرف ہے رسوا نہیں کرنا چاہا

بے وفائی کے ترے شہر میں چرچے ہیں مگر
میں نے اس شہر کو کوفہ نہیں کرنا چاہا

مجھ کو تو خاک نشینی بڑی راس آتی ہے
میں نے اصنام کو آقا نہیں کرنا چاہا

اپنی ہی فکر کو معیار سمجھ بیٹھےہیں
ہم نے اسلاف کا چرچا نہیں کرنا چاہا

تم نے اغیار سے رکھی ہیں بڑی امیدیں
اپنے اشرف پہ بھروسا نہیں کرنا چاہا

اشرف علی اشرف

اسی طرح محفل میں شریک تمام شعراء نے داد و تحسین پائی۔
شرکاء محفل کے نام اور نمونہء کلام:
ظہیر احمد مغل:

میں سب کو بھول چکا ہوں مگر ظہیراحمد
یہ کیا ستم کہ تجھے بھولتا نہیں ہوں میں

مختار ساگر قریشی:

ساگر ذرا لہجے کو شیریں تو بنا پہلے ۔
دشمن کو حسیں لہجہ ہی دوست بناتا ہے

     
  محمد عبدالقدیر

کسی محبوب کی دنیا میں غم آۓ تو پھر شاہد
ہم اس کی چاہ میں الفت کے مارے ڈوب جاتے ہیں۔

نصیر حشمت گرواہ:

یہ میرا  وعدہ  ہے ثابت  قدم  رہوں گا  نصیر
تو میرے  دوست  مجھے  جب بھی آزمائے گا

 عبدالحمید
 ابنِ ربانی:

جانے ربانی وہ سانحہ.......کب ہوا
جس کا احساسِ درد آج بھی دل میں ہے

 محمد رضوان عالم:

وہ جانتی ہے کہ میں کچھ نہیں کہوں گا اسے
سو مطمئن ہے بہت مجھ کو چھوڑ جانے سے

یقیناً اس طرح کے اصلاحی پروگرامس میدانِ ادب میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ نوجوان کسی بھی قوم و ادب کا بیش بہا سرمایہ ہوتے ہیں اور ان تمام نوواردانِ ادب کی خوبصورت کاوشیں اردو ادب کی کامیابی و کامرانی کی نوید ہیں۔

مقالہ
نوواردانِ ادب ایوارڈ
تحریر: ظہیراحمد مغل (حویلی کہوٹہ آزاد کشمیر)

 دنیا میں جہاں جہاں اردو زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے وہاں وہاں اردو ادب کی ترویج اور خدمت کے لیے اردو کے چاہنے والوں نے ادبی تنظیمیں بنا رکھی ہیں اور رسائل و جرائد کی اشاعت بھی کر رہے ہیں۔ اردو زبان بہت میٹھی اورمہذب زبان ہے۔
راوش صدیقی کا شعر ہے

اردو جسے کہتے ہیں تہذیب کا چشمہ ہے
وہ شخص مہذب ہے جس کو یہ زباں آۓ

جہاں ہر شہر میں مقامی سطح پر ادبی تنظمیں کام کر رہی ہیں وہیں برقی دور میں جہاں دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے اور روزمرہ کے کام کاج میں مصروفیات اس قدر در آئی ہیں کہ کسی کو گھر والوں کے لیے بھی وقت میسر نہیں ہے۔ وہاں توصیف ترنل نامی شخص اٹھ کے واٹس ایپ پہ ادب کی خدمت کے  جذبے سے بیسٹ اردو پوئیٹری گروپ بناتا ہے جو توصیف ترنل کی لگن، محنت اور جانفشانی سے کام کرنے کی بدولت ایک مشہور ادارہ بن چکا ہے۔ دنیا میں رائج معاشی اور معاش کے حصول نے انسانوں کو ایک دوسرے سے بہت دور کر دیا ہے ایسے میں اس ادارے کی بدولت ہر ملک سے علمی ادبی دوستوں کو ایک پلیٹ فارم پر اگٹھا کرنے کا سہرا توصیف ترنل کے سر جاتا ہے۔ اس ادارے کی بدولت ہم ایک دوسرے تک اپنے اپنے خیالات و جذبات کی ترسیل با آسانی کر سکتے  ہیں، ایک دوسرے سے سیکھ سکتے ہیں۔ یقینا بہت سارے ذاتی مسائل و مشکلات کے باوجود توصیف ترنل اپنے کام کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور مسائل کا سامنا کر کے ان کو حل بھی کرتے ہیں۔ جب کہ فی زمانہ مصروفیات سے وقت نکال کر ادب نواز دوستوں کے لیے کام کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ الطاف حسین حالی کا ایک شعر یاد آ رہا ہے۔

زمانہ اگر ہم سے زور آزماہے
تو وقت اے عزیزو! یہی زور کا ہے

 بیسٹ اردو پوئیٹری کے زیر اہتمام ہر ہفتہ شام ٧ بجے ایک شعری محفل منعقد کی جاتی ہے جو ہر گزشتہ محفل سے منفرد اور اچھوتی ہوتی ہے۔ ان محافل میں ادب دوستوں کی حوصلہ افزائی کے لیے جیتنے والے کو ایوارڈ بھی دیا جاتا ہے اور شاعری پر تنقید بھی کی جاتی ہے جس سے نوواردانِ ادب کے علم میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان منفرد ادبی محافل کی بدولت ہم بظاہر ایک دوسرے سے  ہزاروں میل کی تفاوت کے باوجود مل بیٹھتے ہیں یہ توصیف ترنل کا ادبی دنیا میں وہ کارنامہ ہے جو کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ منفرد ادبی محافل کا سلسلہ چلتے چلتے سال کے آخری ہفتہ بتاریخ ٣٠ دسمبر ٢٠١٧ تک آ پہنچتا ہے جس میں توصیف ترنل نے ادب میں نئے آنے والے نو آموز شعراء کے لیے ایک منفرد پروگرام کا اعلان کیا۔ اس پروگرام میں شامل ہونے والے شعراء نے اپنی ایک غزل اصلاح کروا کر پیش کرنا تھی اور جیتنے والے کو ''نوواردانِ ادب ایوارڈ'' سے نوازا جانا تھا۔
 نوواردانِ ادب کی اس محفل کے مہمانانِ خصوصی جو پروگرام کے منصفین بھی تھے ان میں
محترم مختار تلہری بھارت سے، محترم علی مزمل کراچی پاکستان سے اور محترم ضیاء شادانی بھارت سے، شامل تھے۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض پاکستان سے جدید لہجے کی شاعرہ محترمہ ثمینہ ابرو صاحبہ نے کی اور نوواردان ادب کے اس پروگرام میں صدارت کے منصب پر توصیف ترنل نے نوواردانِ ادب میں سے ہی ظہیر احمد مغل کو صدارت تفویض کی۔ جو کہ ایک نیا اقدام تھا جس سے نو آموز شعراء کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ اس پروگرام میں ٧ نوآموز شعراء نے حصہ لیا جن میں
محمد رضوان عالم، ڈیرہ اسماعیل خان
ابن ربانی (مانسہرہ پاکستان)،
نصیر حشمت گرواہ (چنیوٹ پاکستان)،
اشرف علی اشرف (سندھ پاکستان)،
مختار ساگر (مہاراشٹر انڈیا)،
محمد عبداللہ شاہد سیفی اور راقم ظہیر احمد مغل شامل تھے۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز مقررہ وقت پر ٹھیک ٧ بجے شام پاکستانی وقت کے مطابق مختار تلہری صاحب کی کہی گئی حمد پاک سے ہوا۔ نعت رسول مقبول ۖ کی سعادت ڈاکٹر نبیل احمد، شوزیب کاشر اور یار باجوہ صاحب نے حاصل کی۔ محترمہ ثمینہ ابڑو صاحبہ نے جاندار نظامت کی اور ہر آنے والے شاعر کو ایک خوبصورت منتخب شعر پڑھ کر دعوت کلام دی ۔ شعراء اپنی اپنی باری پر کلام پیش کرتے رہے اوربزم  میں موجود تمام احباب انہیں دادو تحسین سے  نوازتے رہے۔ پروگرام کی فہرست میں جن احباب کے نام تھے ان کے علاوہ بھی ادارے کے احباب نے داد و تحسین سے محفل میں اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلایا۔
 پروگرام تقریباً ٩ بجے کے لگ بھگ اختتام پذیر ہوا جس کے بعد منصفین کی جانب سے جیتنے والے شاعر کا نام سننے کے لیے تمام شرکاء بڑی بے تابی سے انتظار کرتے رہے۔ آخر کار چند منٹ کے انتظار کے بعد اعلان ہوا کہ آج کی بزم کو محترم اشرف علی اشرف نے لوٹ لیا اور سال ٢٠١٧ کے آخری پروگرام ''نوواردانِ ادب '' کا ایوارڈ اشرف علی اشرف کی عمدہ تخلیق پر ان کے نام ہوا۔ ایوارڈ یافتہ غزل سے چند اشعار بطور نمونہ پیش خدمت ہیں
تیری خاطر بھلا کیا کیا نہیں کرنا چاہا
دور کر دوں تجھے ایسا نہیں کرنا چاہا
میں نے اک بارکہا تھا کہ بھلا دوں گا تجھے
میں نے اس عہد کو ایفا نہیں کرنا چاہا
پارسا بن کے جو بیٹھے ہو یہاں پر حضرت
میرا ہی ظرف ہے رسوا نہیں کرنا چاہا
بے وفائی کے ترے شہرمیں چرچے ہیں مگر
میں نے اس شہر کو کوفہ نہیں کرنا چاہا
تم نے اغیار سے رکھی ہیں بڑی امیدیں
اپنے اشرف پہ بھروسا نہیں کرنا چاہا

 ایک منفرد اور جاندار پروگرام پیش کرنے پر تمام شرکاء نے توصیف ترنل اور بیسٹ اردو پوئیٹری  کے تمام ممبران و عہدیدارن کا شکریہ ادا کیا ۔ ایسی منفرد اور اچھوتی ادبی محافل اردو ادب کی تاریخ میں منفرد حیثیت رکھتی ہیں اور اس جدید دور میں ایسے ادارے اور ایسے ادبی اجتماعات کی اشد ضرورت ہے ۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ توصیف ترنل کو جزائے خیر عطافرمائے اور ادارے کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔ آخر میں توصیف ترنل کی نذر داغ دہلوی کے دو اشعار

خط ان کا بہت خوب عبارت بہت اچھی
اللہ کرے حسنِ رقم اور زیادہ
صد شکر کے نواب کے الطاف سے اے داغ
چند اہلِ سخن جمع ہیں کم اور زیادہ


*نوواردانِ ادب ایوارڈ*

*We present 132th Unique Program*

*ادارہ،عالمی بیسٹ اُردو پوئیٹری*

دُنیائے اردو ادب میں *ادارہ،عالمی بیسٹ اُردو پوئیٹری* واحد عالمی سطح کا ادارہ ہے جو نئے نئے آئیڈیاز پر کام کرتا ہے اور نت نئے پروگرامز کا انعقاد عمل میں لاتا رہتا ہے۔ادارہ کے روحِ رواں جناب توصیف ترنل صاحب اُردو زبان و ادب سے والہانہ حد تک عشق کرتے ہیں اور ٹیکنولوجی کی دنیا میں یونیک پروگرامز پر نئے نئے آئیڈیاز کے تحت تہلکہ خیز تخیقی کام سرانجام دیتے رہتے ہیں۔وہ ہر پروگرام میں ایوارڈز کا بھی اہتمام کرتے رہتے ہیں۔توصیف ترنل صاحب اب اگلا پروگرام اپنی پوری ٹیم کے ساتھ کریں گے۔
*نوواردانِ ادب ایوارڈ* پروگرام اصلاح
اس پروگرام میں تازہ واردانِ بساطِ ادب حصہ لیں گے۔
پہلی 
دوسری 
اور
تیسری پوزیشن
کا اعلان کیا جاے گا مگر ایوارڈ صرف اوّل پوزیشن پر ہی دیا جاے گا۔
اس پروگرام کے منصفین کے اسماے گرامی کا اعلان بہت جلد کر دیا جاے گا۔
نو آموز قلم کار/تخلیق کار بروز منگل شام 6بجے تک اپنی ایک عدد غزل اور مختصر تعارف مع مقام جناب توصیف ترنل صاحب کو ارسال فرمائیں۔اگر اصلاح کی گنجایش ہو تو پروگرام میں کلام شایع کرنے سے پیش تر کلام کو ماہرین جانچ سکیں۔

منصفین:
محترم مختار تلہری صاحب بھارت

محترم علی مزمل صاحب پاکستان

محترم ضیاء شادانی صاحب بھا رات

نوٹ 👇

ان شاء اللہ بروز ہفتہ
تاریخ 30 دسمبر 2017ع
رات 7 بجے 

منجاب:
*ادارہ*

===========================
*🌏آرگنائزر🌏*
 *توصیف ترنل ہانگ کانگ*

پروگرام آئیڈیا
توصیف ترنل

===========================
*📡 پبلشرز 📡*
محترم عثمان عاطس صاحب پاکستان
*📱ویب سائیٹ📱* onlineurdu.com
=================
محترم منظور قادر بھٹی صاحب
(چیف ایڈیٹر عکسِ جمہور رسالہ)
=================
محترم سردار امتیاز خان صاحب 
(چیف ایڈیٹر روزنامہ پرنٹاس اخبار)
=================
Dr M ragib deshmukh sb
www.scholarsimpact.com
=================
بانی و چیئرمین 
ادارہ,عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری
بانی و سرپرست اعلیٰ
عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب
توصیف ترنل
touseefturnal.blogspot.com

touseefturnal.tumblr.com

https://www.youtube.com/channel/UCvWq7-0Sdc107G-yPpoaOhA
=================
محترم محمد عبدالقدیر شاہد محمدی سیفی
egohater.wordpress.com
=================
محترم محمد بشیر مہتاب صاحب 
روزنامہ لازوال جموں ایڈیشن  بھارت

=================
سیدہ کوثر منور شرقپوری
ڈیلی دھنک انٹرنیشنل یوکے
www.dailydhanak.com

=================

Ishraq a hashmi sb web developer plus founder CEO of TV East West News

=================
Graphic designer
 محترم داؤد حسین عطاری
بہاولپور پنجاب پاکستان

========================

نظامت و رپورٹ 
محترمہ ثمینہ ابڑو صاحبہ پاکستان 

============================

1) *🍁حمدباری تعالیٰ🍁*
 محترم مختار تلہری صاحب بھارت 

2) *🍁نعتِ رسول عربیﷺ🍁*
محترم نبیل احمد نبیل صاحب پاکستان 

==========================
محترم محمد رضوان عالم صاحب

محترم ظہیر احمد مغل صاحب  کہوٹہ آزاد کشمیر

محترم ابنِ ربانی صاحب مانسہرہ پاکستان

محترم نصیر حشمت گرواہ صاحب چنیوٹ پاکستان

محترم اشرف علی اشرف  صاحب سندھ پاکستان

محترم مختار ساگر قریشی صاحب مہاراشٹر انڈیا

محترم محمد عبدالقدیر شاہد محمدی سیفی

Monday, December 18, 2017

تنقیدِ سخن (جون ایلیا ایوارڈ)





ادارہ۔ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کے منعقد کردہ مشاعرہ "تنقیدِ سخن" کی روداد۔

تحریر۔ علی مزمل کراچی۔ پاکستان

مورخہ ٢٣ دسمبر ٢٠١٧ بروز ہفتہ رات ٧ بجے شام حسبِ معمول ایک مختلف نوعیت کا ١٣٠ واں مشاعرہ بنام "تنقیدِ سخن" منعقد کیا گیا۔ جس میں معروف شعراء نے اپنی تخلیقات تبصرہ کے ساتھ پیش کیں۔
اس مشاعرہ کو "تنقیدِ سخن" کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اور جیتنے والے کے لیے "جون ایلیا" ایوارڈ کا اعلان کیا گیا۔ جس کے مہتمم جناب توصیف ترنل صاحب تھے اور مشاعرہ کی صدارت محترم جناب شہزاد نیر صاحب کوئٹہ سے فرما رہے تھے۔
جبکہ مہمانانِ خصوصی میں محمد رضوان عالم صاحب ڈیرہ اسماعیل خان اور محترم جناب ضیاء السلام ضیاء شادانی صاحب۔ مراد آباد۔ انڈیا کے نام شامل تھے۔ جبکہ۔
نظامت کے فرائض علیم طاہر صاحب۔ انڈیا سے انجام دے رہے تھے۔
حلقہء ناقدین میں۔
محترم مسعود حساس صاحب۔ کویت
محترم شفاعت فہیم صاحب۔ انڈیا
محترم انور کیفی صاحب۔ انڈیا
شامل تھے مگر مسعود حساس صاحب اور انور کیفی صاحب بوجوہ مشاعرے میں شرکت سے قاصر رہے جن کی جگہ شہزاد نیر صاحب اور ڈاکٹر نبیل احمد نبیل نے احسن طریقے سے ناقدین کے فرائض انجام دئیے۔
مقالہ لکھنے کی ذمہ داری جناب خالد سرویا صاحب دبئی اور رودادِ مشاعرہ مرتب کرنے کی زمہ داری پاکستان سے علی مزمل کو تفویض ہوئی۔

ٹھیک سات بجے اللہ کے بابرکت نام سے تقریب کا آغاز ہوا اور ناظمِ مشاعرہ نے حمدِ باری تعالی کے لیے محترم مختار تلہری صاحب انڈیا کو دعوتِ حمد دی۔
اس کے فوراً بعد مختار تلہری صاحب کو دعوتِ نعت دی گئی۔
مختار تلہری صاحب نے حمد و ثناء اور نعت سے محفل کو مشکبار کیا اور تحسین پائی۔

نمونہء کلام۔ (حمد)

آواز تو نہیں ہے قلم کی زبان میں
اشعار لکھ رہا ہے مگر میری شان میں

نمونہء کلام۔ (نعت)

بن کے مخلوقات پر بارانِ رحمت آۓ ہیں
محسنِ انسانیت شہکارِ قدرت آۓ ہیں

اس کے بعد جناب علیم طاہر صاحب نے ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر کا لکھا تنقیدی جائزہ پیش کیا جو بہت پسند کیا گیا۔

نمونہء کلام۔

رنگ تازہ گلاب کی مانند
روپ جنت کے خواب کی مانند

علیم طاہر صاحب کے بعد توصیف ترنل صاحب کو دعوت دی گئی۔ آپ نے اپنی شاعری پر حبیب گوہر صاحب کا توصیف نامہ پیش کیا۔ شاعری تو واجبی سی تھی مگر توصیف نامہ خاصہ جاندار تھا۔ حاضرین نے خوب داد سے نوازا۔

نمونہء کلام۔

روز اخبار پڑھ رہا ہوں پر
کوئی اچھی خبر نہیں آتی

بعدازاں جناب شوزیب کاشر۔ آزاد کشمیر کو دعوتِ کلام دی گئی۔ان کے شاندار کلام نے حاضرین کے دل موہ لیے۔ مگر کلام پر تبصرہ کلام کے شایانِ شان نہیں تھا۔ بہرحال ان کے کلام کو خوب سراہا گیا۔ ان کے کلام پر تبصرہ محمد ابوبکر خان کا لکھا ہوا تھا۔

نمونہء کلام۔

اسے نکالتے ہوۓ یہ دھیان ہی نہیں رہا
نکل گیا تھا میں بھی اس کے ساتھ اپنے آپ سے

اس کے بعد شمع محفل اشرف علی اشرف صاحب کے رو بہ رو لائی گئی۔ آپ نے اپنا کلام اور تبصرہ پیش کیا جس کے مبصر ڈاکٹر نبیل احمد نبیل تھے۔ ان کے کلام اور تبصرہ کو پزیرائی ملی۔

نمونہءکلام۔

میرا مجنوں کے قبیلے سے تعلق ٹھہرا
تم مجھے عقل سکھاتے ہو تو حد کرتے ہو

اس کے بعد ڈاکٹر مینانقوی صاحبہ۔ انڈیا کو دعوت دی گئی کہ وہ آئیں اور اپنا کلام اور تبصرہ حاضرین کی نذر کریں۔
محترم انور کیفی صاحب نے مختصر مگر مدلل تبصرہ کیا۔ الغرض کلام اور تبصرہ دونوں ہاتھوں ہاتھ لیے گئے اور حاظرین نے خوب داد و تحسین سے نوازا۔

نمونہء کلام۔

مری اڑان اس لیے بھی ہوگئی تھی معتبر
قدم تلے زمین تھی نظر میں آسمان تھا

اس کے بعد خالد سروحی صاحب۔ گکھڑ سٹی کو دعوت دی گئی۔ جسے پسند کیا گیا اور ناقدین نے بھی اپنی آراء پیش کیں۔ آپ کے کلام پر تبصرہ محمد رضوان عالم صاحب نے لکھا۔

نمونہء کلام۔

فدا سب کچھ کیا ہے تیری خاطر
مجھے بدلے میں تو نے کیا دیا ہے

جوں جوں وقت گزرتا رہا مشاعرہ کی تابانی میں اضافہ ہوتا رہا۔
اس کے بعد عبالغفار واحد صاحب کو دعوتِ سخن دی گئی۔جن کا تعلق سورت۔ انڈیا سے ہے۔ آپ نے اپنا کلام اور تبصرہ جو خورشید عنبر صاحب نے تحریر کیا تھا۔ پیش کیا اور داد پائی۔

نمونہء کلام۔

سیر کرتی ہے آسمانوں میں
عرش تک ہے اڑان مٹی کی

اس کے بعد علی مزمل صاحب کو دعوت دی گئی۔ آپ نے اپنی نظم "محبت اک جزیرہ ہے" اور اس نظم پر ڈاکٹر نبیل احمد نبیل صاحب کا مفصل تبصرہ پیش کیا جو احباب نے پسند کیا۔

نمونہء کلام۔

محبت اک جزیرہ ہے
جہاں قوسِ قزح کے مسکرانے پر
بنفشی، ارغوانی، چمپئی
دھانی، سلیٹی، مونگیا
اور قرمزی رنگوں کی بارش سے
یہاں کے ہر شجر کی پتیاں
اشنان کرتی ہیں

مزمل علی صاحب کے بعد ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی صاحب۔ انڈیا کو دعوت دی گئی۔ آپ نے جڑواں قوافی میں اعلی غزل پیش کی جسے خوب سراہا گیا۔ آپ کے کلام پر تبصرہ ڈاکٹر اسلم جمشید پوری صاحب نے کیا۔

نمونہء کلام۔

روپ کا درپن بول رہا ہے
جوگن کا من ڈول رہا ہے

اس کے بعد دعوتِ کلام حفیظ مینانگری صاحب انڈیا کو دی گئی۔ آپ کے کلام پر مختصر مگر جامع تبصرہ شعیب پانی پتی صاحب نے کیا۔ آپ کے کلام و تبصرہ کو پسند کیا گیا اور ناقدین نے بھی اپنی آراء سے نوازا۔

نمونہء کلام۔

سارے موسم بدل گئے لیکن
غم کا موسم نہیں بدلتا ہے

حفیظ مینانگری صاحب کے بعد شاہیں فصیح ربانی صاحب کو کلام اور تبصرہ پیش کرنے کا اذن ملا۔ آپ نے بہت اعلی اشعار پر مبنی غزل کے ساتھ سید معراج جامی صاحب کا لکھا تبصرہ سامعین کی نذر کیا اور بہت تحسین سے نوازے گئے۔

نمونہء کلام۔

ایک پل بھی نہ کوئی ساتھ رہا ہو جیسے
دوست یوں راہ بدلتے ہوۓ کھو جاتے ہیں

اس کے بعد مختار تلہری صاحب کے نام کی پکار ہوئی۔ آپ نے عزیزالدین خضری صاحب کے تبصرے کے ساتھ اپنا کلام احباب کے گوش گزار کیا۔ جسے حاضرین نے بھرپور تحسین سے نوازا۔

نمونہء کلام۔

اک بار لب کشائی کی دے کر سزا مجھے
خاموش عمر بھر کو کوئی کر گیا مجھے

بعدازاں محترمہ شہناز مزمل صاحبہ کو مدعو کیا گیا کہ آپ اپنے کلام اور تبصرہ سے مستفیض فرمائیں۔ آپ نے حسن عسکری کاظمی صاحب کے تبصرہ کے ساتھ اپنا کلام شرکاء محفل کی نظر کیا۔ آپ کے کلام و تبصرہ کے بے حد پسند کیا گیا۔

نمونہء کلام۔

تھے عجیب میرے بھی فیصلے میں کڑی کماں سے گزر گئی
رہے فاصلے مرے منتظر میں تو جسم و جاں سے گزر گئی۔

اس کے بعد دعوتِ کلام دی گئی آج کے مشاعرے کے مہمانِ خصوصی محمد رضوان عالم صاحب کو۔ آپ نے اپنے کلام کے ساتھ خوشحال ناظر صاحب کا لکھا گیا تبصرہ بھی پییش کیا اور خوب داد سمیٹی۔

نمونہء کلام۔

کسی نے عشق کے آغاز میں کہا تھا میاں
تجھے ملا ہے یہی سانپ پالنے کے لیے

محمد رضوان عالم کے بعد مشاعرہ کے دوسرے مہمانِ خصوصی ضیاء شادانی صاحب کو دعوتِ کلام دی گئی۔ آپ نے اپنی غزل کے ساتھ منصور عثمانی صاحب کا تبصرہ بھی پیش کیا۔ سامعین نے آپ کے کلام کو سراہا۔

نمونہء کلام۔

دل دے جو قریب تھے ضیاء
آج کتنی دور ہو گئے

اور آخر میں مشاعرہ کے صدر شہزاد نیر صاحب کو مدعو کیا گیا کہ وہ آئیں اور کلام و تبصرہ کے بعد خطبۂ صدارت سے بھی نوازیں۔
شہزاد نیر صاحب نے ایک ہی ردیف بحر میں دو غزلیں پیش کیں جن پر ابو طالب انیم صاحب نے مفصل تبصرہ کیا۔ حاظرینِ محفل نے دونوں غزلیں اور تبصرہ بہت پسند کیا اور خوب داد دی۔

نمونۂ کلام۔

آسان اٹھانا ہو کہ دشوار اٹھانا
تم بارِ محبت کو لگاتار اٹھانا

بعدازاں شہزاد نیر صاحب نے خطبۂ صدارت سے نوازا اور مشاعرہ بخیر و خوبی انجام کو پہنچا۔

یہ مشاعرہ اب تک کئے گئے ان مشاعروں میں شمار کیا جانا چاہیے جن میں شرکار اور سامعین نے بھرپور دل چسپی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ بامِ عروج پر پہنچا دیا۔
اس منفرد پروگرام کا سہرا چیئرمین توصیف ترنل کے ساتھ ساتھ ہر اس شخص کے سر بندھتا ہے جو کسی بھی ذریعہ سے پروگرام کا حصہ رہا۔
اس موقع پر علیم طاہر صاحب کی روائیتی نظامت اور ناقدین کی مستعدی کی داد نہ دینا بھی زیادتی ہوگی۔

آخر میں توجہ منصفین کی جانب مبذول رہی اور تجسس انتہا کو پہنچا کہ آخر وہ کون خوش بخت ہوگا جسے "تنقیدِ سخن" ایوارڈ سے نوازا جاۓ گا۔
اعصاب شکن انتظار کے بعد منصفین نے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا اور کامیابی کا ہما جناب محمد رضوان عالم صاحب کے سر بیٹھا اور جون ایلیا ایوارڈ محمد رضوان عالم کی جھولی میں جا گرا۔

*🌍ادارہ,عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری🌍*
کی جانب سے ایک اور منفرد پروگرام پیش کرتے ہیں...
(تنقیدِ سخن)
جس میں جیتنے والے کو

🔮🎀جون ایلیا ایوارڈ🎀🔮
سے نوازا جاۓ گا

*نوٹ-* 👇

تمام شعراء اپنی ایک غزل۔ نظم۔ افسانہ۔ کہانی۔ یا کسی بھی صنف ادب پر اپنے من پسند شاعر یا ادیب سے تبصرہ کروا کر دورانِ پروگرام باری آنے پر اپنی تخلیق اور تبصرہ  بذاتِ خود برائے تنقید پیش کریں گے.
تمام حاضرینِ محفل کو تنقید کی پوری اجازت ہوگی.

ادارۂ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے، جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء,ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے...
===========================
*We present 130th Unique Program*

کلام و تخلیق پر تنقید بالاۓ تبصرہ سے بھرپور شاندار پروگرام پیش کیا جارہا ہے۔ جس میں اول آنے والے خوش بخت کو۔

       🔮*جون ایلیا ایوارڈ *🔮
سے نوازا جاۓ گا۔

*🌍ادارہ,عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری🌍*

یہ پروگرام پیش کرنے جارہی ہے جس میں تمام شعراءکرام اپنی اپنی تخلیقات پر اپنی پسند کے شاعر یا ادیب سے تبصرہ لکھوائیں گے۔ چاہے مبصر دنیا کے کسی بھی خطہ سے تعلق رکھتا ہو نیز اس کا ادارہ۔ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری سے بلا واسطہ یا بالواسطہ تعلق ہو یا نہ ہو۔
مقابلہ میں شریک رکن اپنی تخلیق کے ساتھ مذکورہ تبصرہ بھی محفل میں اپنی باری آنے پر پیش کرے گا۔ جس پر شرکاء محفل کو تنقید کی پوری آزادی ہوگی۔اور آخر میں ادارے کے مقرر کردہ منصفین اپنے فیصلے کا اعلان کریں گے اور اول آنے والے خوش نصیب کو جون ایلیا ایوارڈ سے نوازہ جاۓ گا۔

نوٹ 👇

ان شاء اللہ بروز ہفتہ
تاریخ 23 دسمبر 2017ع
رات 7 بجے

نوٹ۔
اس "تنقیدِ سخن" مشاعرہ میں اول آنے والے خوش نصیب کو "جون ایلیا" ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔
منجانب
انتظامیہ ادارہ
===========================
*🌏آرگنائزر🌏*
 *توصیف ترنل ہانگ کانگ*

پروگرام آئیڈیا
توصیف ترنل

===========================
*📡 پبلشرز 📡*
محترم عثمان عاطس صاحب پاکستان
*📱ویب سائیٹ📱* onlineurdu.com
=================
محترم منظور قادر بھٹی صاحب
(چیف ایڈیٹر عکسِ جمہور رسالہ)
=================
محترم سردار امتیاز خان صاحب
(چیف ایڈیٹر روزنامہ پرنٹاس اخبار)
=================
Dr M ragib deshmukh sb
www.scholarsimpact.com
=================
بانی و چیئرمین
ادارہ,عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری
بانی و سرپرست اعلیٰ
عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب
توصیف ترنل
touseefturnal.blogspot.com

touseefturnal.tumblr.com

https://www.youtube.com/channel/UCvWq7-0Sdc107G-yPpoaOhA
=================
محترم محمد عبدالقدیر شاہد محمدی سیفی
egohater.wordpress.com
=================
محترم محمد بشیر مہتاب صاحب
روزنامہ لازوال جموں ایڈیشن  بھارت

=================
سیدہ کوثر منور شرقپوری
ڈیلی دھنک انٹرنیشنل یوکے
www.dailydhanak.com

=================

Ishraq a hashmi sb web developer plus founder CEO of TV East West News

=================
Graphic designer
 محترم داؤد حسین عطاری
بہاولپور پنجاب پاکستان

========================

👑صدارت👑
محترم شہزاد نیّر صاحب پاکستان

مہمانانِ خصوصی
محترم محمد رضوان عالم صاحب ڈیرہ اسماعیل خان
محترم ثمریاب ثمر صاحب سہارنپور۔اترپردیش۔ انڈیا

رپوٹ
محترم علی مزمل صاحب پاکستان

مقالہ
  محترم خالد سروحی صاحب گوجرانوالہ۔ پاکستان

نظامت
محترم علیم طاہر صاحب بھارت

 ناقدین
محترم مسعود حساس صاحب کویت
محترم شفاعت فہیم صاحب بھارت
محترم انور کیفی صاحب بھارت

============================
1) *🍁حمدباری تعالیٰ🍁*
 محترم مختار تلہری صاحب بھارت

2) *🍁نعتِ رسول عربیﷺ🍁*
محترم مختار تلہری صاحب بھارت
==========================

محترم علیم طاہر صاحب بھارت

توصیف ترنل ہانگ کانگ

محترم شوزیب کاشر صاحب کشمیر

محترم اشرف علی اشرف صاحب سندھ پاکستان

محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی صاحبہ مرادابادبھارت

محترم خالد سروحی صاحب گوجرانوالہ۔ پاکستان

محترم عبدالغفار واحد صاحب سورت۔ انڈیا

محترم عبدالقدیر شاہد صاحب پاکستان

محترم علی مزمل صاحب کراچی پاکستان

محترم ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی صاحب انڈیا

محترم حفیظ مینانگری صاحب مہاراشٹر جلگاؤں

محترم ضیاء شادانی صاحب بھارت

محترم شاہین فصیح ربانی صاحب پاکستان

محترمہ ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ پاکستان

محترم مختار تلہری صاحب بھارت