Friday, September 7, 2018

شوزیب کاشر کے شعری مجموعہ خمیازہ کی تقریب رونمائی









پونچھ ادبی سوسائیٹی و ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کے زیر اہتمام شوزیب کاشر کی کتاب خمیازہ کی تقاریبِ رونمائی

بنیادی صفحہ » ادب » حضرت جون ایلیا نے شوزیب کاشر کی صورت میں نیا جنم لیا ہے

دو ہزار پندرہ کے تقریبا وسط میں میں راولاکوٹ میں جب تنہائی کاٹ رہا تھاتو نوائے وقت کے ایڈیٹر اور جامعہ کراچی کے شعبہ اردو کے صدر یہاں تشریف لائے میں نے ان کے اعزاز میں ایک مشاعرہ رکھا وہاں باقی شعرا کے ساتھ ایک گول چہرے والا لڑکا قدرے گورے رنگ کا، ناک پر نظر کی عینک ٹکائے آیا۔قدیہی کوئی ساڑھے 5 فٹ موٹا، لیکن بھلا موٹا یہ نہیں کہ توند نکلی ہوئی تھی۔میں نے نام پکارا کہ شوزیب کاشر اب اپنے کلام سے نوازیں گے تو وہی گول چہرے والا بازو پر کڑے چڑھائے ہوئے اٹھا اور ڈاکو نے دیکھتے دیکھتے مشاعرہ لوٹا، لوگوں نے بصورت_داد شور مچایا۔بطور_ شاعرحسد اور خوشی کی ملی جلی کیفییات سے میں نے بھی اسے داد دی۔پھر مشاعرہ ختم ہوا وہ اپنے گھر میں اپنے۔کوئی دو ماہ بعد کسی اور مشاعرے میں جانا ہوا تو اس گھبرو کو دیکھ کر مجھے پھر لاچاری ہوئی کہ یہ یہاں بھی؟؟؟خیر اس روز اس کی تازہ شاعری سننے کو ملی۔مجھے محسوس ہوا یہ بندا خدا کرب سے لبا لب بھرا پڑا ہے یہ شعر نہیں دکھ درد اگلتا ہے،بیچارے کی جان پر بنی ہوئی ہے سو اس پر رحم آنے لگا پھر محبت ہو گئی۔شوزیب کاشر جتنا اچھا شاعر ہے اتنا اچھا انسان بھی ہے۔درد مند ہے بہت کافر قسم کا مذہبی ہے مثلا دھریوں سے دوستی نہیں رکھتا خاموشی سے قطع تعلق کر لیتا ہے۔کائنات کی فلاسفی آف ایگزسٹنس کو انڈرسٹینڈ کرتا ہے مثلااپنی یا اپنوں کی موت سے ڈرتا نہیں ۔نا واویلا کرتا ہے۔لگتا ہے کہ کسی زمانے میں کار_عشق کیا ہو گا لیکن جارج برناڈ شاہ کی طرح رومینٹک امیجینشن کی بجائےرئیلاسٹک اپروچ دیکھ کر یہ خیال اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔لیکن ایسا بھی نہیں کہ یہ نان رومینٹک شاعر ہے۔بعض دفعہ شعر اور شعریت کو رومینٹیسیزم کے اوج پر لے جاتا ہے۔مغربی رومانوی شاعر ولیم وورڈز ورتھ کی خو بھی رکھتا ہے اور شعر کی رگڑائی کرتے دیکھ کر جواں سال مغربی رومانوی شاعر جان کیٹس جس کو کلاسیکل رومانٹسٹ بھی کہا جاتا ہے کا گماں بھی گزرتا ہے۔جس نے ایک بار اپنے سینیر دوست پی بی شیلے کو خط میں لکھا کہcurb your magnanimity and be more of an artist and chissle your phrases.
شوزیب کاشر محض ایک خوبصورت جوان لڑکا نہیں بلکہ یہ کشمیری شعری دبستان کے نوجوان شعرا کا چہرا ہے۔اور اس چمکتے دھمکتے چہرے پر شیر تا بٹیر سب کو فخر ہے۔میں نے اس شخص کو ساری ساری رات جاگتے،محنت کرتے دیکھا ہے۔جھبی آج بطور_نوجوان شاعر میں پوری ذمہ داری اور کھلے دل سے اعتراف کرتا ہوں کہ شوزیب کاشر نے حرف کی عزت پر آج تک کوئی حرف نہیں دیا۔یہ شاعری کے سارے پروٹوکول اور ڈیکورم سے واقف ہے۔یہ یہ بات جانتا ہے کہ کیا نہیں لکھنا۔as poetry is an art of unsaid .what to keep outside the poem.he plays camouflage technique with his readers.
عموما شعراء کو تخلیق کے عمل میں قافیہ تنگ کرتا ہے لیکن شوزیب بھائی کو میں نے دیکھا ہے کہ یہ قافیہ کو پٹخ پٹخ کر مارتا ہے۔یہ یاروں کا یار ہے۔ہم راولاکوٹ آئیں یا یہ پنڈی ہمارے پاس جائے اس سےطے ہے کہ میزبان بہر حال یہی ہو گا۔المختصرشوزیب کاشر کی دوستی میں فوائد ہی فوائد ہی ہیں۔ایسی دوستی ہے جس کو ضبط تحریر میں نہیں لایا جا سکتا۔میاں محمد بخش نے کہا تھا۔
یار مرے نے تحفہ گلیا کابل دی کستوری
جاں کھولاں تے ہلے آون جد تولاں تے پوری
شوزیب کاشر کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا میرے لیے بہرحال مشکل ہے کہ یہ جدید رومانوی شاعر ہے یا روایتی۔لیکن یہ کبھی کبھار روایت اور جدت کا جو امتزاج پیش کرتا وہ دوسرے لکھنے والوں سے 180 کے زاویے پر ڈیوی ایٹ کرتا ہے۔یہ رومانویت کے عمومی رویے کو بعض دفعہ الٹا لٹکاتے ہوئے نظر آتا ہے
مثلا شاعر ساری عمر محبوب سے قرب کا تقاضا کرتے رہتے ہیں جب کہ یہ دھکے دے کر گھر سے باہر نکالتے ہوئے کہتا دکھائی دیتا ہے
ہے کون رکاوٹ جو تجھے روک رہی ہے؟
میں نے تو میری ذات بھی ڈھا دی ہے چلا جا
یوں نہیں کہ یہ کھڑتل مزاج ہے بعض دفعہ نا تجربہ کاروں پر کمال شفقت فرماتے ہوئے یہ بہت نرمی بھی اختیار کرتا ہے۔ قطع تعلق کرنے والوں کو ہاتھ جوڑ کر منت کرتا بھی دکھائی دیتا ہے کہ
ہمیں پتہ ہے جدائی کے بعد کا عالم
بچھڑنے والا اگر دے صدا تو سن لینا
دل محلے میں آنے والوں یا آنے کی خواہش رکھنے والوں کے لیے خطرے کا بورڈآویزاں کیے ہوئے ہے کہ
تو اس کا عادی نہیں ہے سو احتیاط سے چل
ہمارے گاوں کی پتھریلی ہے زمیں میرے دوست
میں اتنا ہی لکھ ،کہہ سکتا تھاباقی قضیے باقی مکالہ نگار نبھیڑتے رہیں گے۔
ہاں ایک بات۔سامعین آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ میں نے اس مضمون کو کوئی نام نہیں دیا۔۔۔میں یہ مضمون لکھ رہا تھا اور عنوان دیا کہ"شوزیب کا شر کی خمیازہ"میری ایک انگلش سپیکر سٹوڈنٹ نے یہ دیکھ کر پوچھا سر یہ خمیازہ آپ کے دوست کی منگیتر ہے یا بیوی؟؟میں نے کی خمیازہ پر اسی وقت پنسل پھیری اور "شوزیب کاشر" رہنے دیا۔اس نے پھر جوڑ بنا بنا کر پڑھا۔۔شوزیب ۔۔۔کا۔۔۔۔شر۔میں نے اس کو بھی کاٹ دیا اور مضمون کو بے نام ہی رہنے دیا۔

محمد صداقت طاہر

===========================

اگر میں حلول کا عقیدہ رکھتا تو کہتا کہ حضرت جون ایلیا کو اردو شاعری سے جوعشق تھا،عدم آباد پہنچ کر بھی اس کی تسکین نہ ہو پائی تو انھوں نے شوزیب کاشر کی صورت میں نیا جنم لیا ہے۔صاحب طرز شاعر جون ایلیا کا نیا ایڈیشن شوزیب کاشر کی صورت میں ہمارے سامنے ہے،میں ان سطور میں ان اشعار کا خمیازہ بھگت رہا ہوں جو میں نے”خمیازہ”میں بڑی وارفتگی سے پڑھے ہیں۔کشمیر کی سرسبز وادیاں ہوں کہ بلند وبالا پہاڑ،بہتے جھرنے ہوں کہ بل کھاتے دریا،ہر صاحب دل کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔”خمیازہ”راولاکوٹ آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے نئی نسل کے نمائندہ شاعر شوزیب کاشر کا تازہ شعری مجموعہ ہے جو چند روز قبل منظر عام پر آیا ہے،اس مجموعہ کلام میں سڑسٹھ غزلیات اور کچھ اشعار ہیں۔شوزیب کاشر نے کتاب کا انتساب اپنی والدہ اور بڑے بھائی توصیف ترنل کے نام کیاہے جوکہ بہت اچھی روایت ہے۔کتاب میں قدیم شعراء کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے سب سے پہلے حضور نبی کریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں ھدیہ نعت کو رکھا گیا ہے۔کتاب میں شامل سبھی غزلیں معیاری ہیں،گہرے مطالعہ کی بنا پر شوزیب نے لفظوں کے انتخاب میں دقت نظر کا ثبوت دیا ہے،نفسیات کے باب میں شوزیب نے بعض ان حالتوں کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ جہاں بڑے بڑے”صاحبان نظر بھی دھوکا کھا جاتے ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ شوزیب نے “جون”کا مطالعہ بڑی احتیاط سے کیا ہے،بعض مقامات پر تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اگر حضرت جون ایلیا آج زندہ ہوتے تو شوزیب کاشر کا ماتھا چوم لیتے ۔میرے پیش نظر یہاں شوزیب کی شاعری کی خصوصیات بیان کرنا نہیں بلکہ ان سطور کے ذریعے اسے مبارک باد پیش کرنا ہے ،سو شوزیب کاشر کو یہ نیا شعری مجموعہ مبارک ہو۔

بشارت تنشیط

===========================

ضدی بچے کا ــ ’’ خمیازہ‘‘
مشتاق بخاری

شوزیب کاشر کے شعری مجموعہ ’’ خمیازہ‘‘ کی تقریب رونمائی میں پڑھا گیا

اگر مشاعرے کے دوران شاعر کو پہلے ہی مصرعے پہ زور دار بلکہ خوف ناک انداز میں ’’واہ واہ‘‘ کی صورت میں داد دیتا ایک نوجوان جسے دنیا شوزیب کاشر کے نام سے جانتی ہے منفرد د انداز میں اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلاتا ہے۔ اس کی واہ واہ سے پہلے تو شاعر کا دل یک دم دہل جاتا ہے۔ پھر وہ خو ف کی مختلف منازل طے کرتے کرتے داد د ینے والے کی طرف رحم طلب نگاہوں سے دیکھتا ہے ۔مگر جب شاعر کی نظراس کی دلنشین مسکراہٹ پہ پڑتی ہے تو وہ دوسرا مصرعہ پڑھنے کا حوصلہ پیدا کرہی لیتا ہے اور دھیرے دھیرے خوف ناک داد میں چھپی اپناہیت اسے اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے ۔ کہیں شاعر تو محض اس لیے مشاعرہ پڑھنے نہیں آتے کہ نہیں بھئی شوزیب کی داد سہنے کی ہم میں تاب نہیں۔ مگر کتنے ہی شاعر اس کی داد کے ایسے گرویدہ ہو جاتے ہیں کہ کہیں اور مشاعر ہ پڑھنے جائیں تو پوچھ بیٹھتے ہیں کہ بھئی پہلے یہ بتائیے کہ وہاں شوزیب کی طرح داد دینے والا کوئی ہو گا کہ نہیںاورا یک اندازے کے مطابق اس طرح کے سوالات کرنے میں شاعرات کی تعداداچھی زیادہ ہوتی ہے۔

آخر یہ شخص کون ہے جس کی داد کے انداز کا شہر ہ ہے جو دیکھنے میں ماڈل لگتا ہے، ڈرامے یا فلموں میں ہیرو بھی آسکتا ہے۔ ایک خوبرو نوجوان، رنگ سفید (ایک اضافی نمبردے کر)، ناک پہ چشمہ اٹکائے، عموما سیاہ رنگ کی قمیض پہنے، بھاری آواز، قد درمیانہ، وزن مناسب، انگلیوں میں سیلمانی عقیق کی انگوٹھی سجائے، آستینیں اوپر کیے ہوئے اور ہاں کلائیوں میں بہت سے ’’کڑوں‘‘ کا بھار اٹھائے ( جن کی تعداد کا حتمی تعین ابھی تک نہیںہو سکا ) آپ کو مشاعرے میں موجود سامعین کی دوسری یاتیسری قطار میںبیٹھا ہوا بآسانی نظر آجائے گا کیونکہ وہ خود نمائی کی لت میں مبتلا نہیں ہے اور کبھی اگلی قطاروں میں زبردستی ٹھنس کے بلانے پر بھی نہیں بیٹھتا۔جو سامعین اس سے واقف نہیں ہوتے وہ اس غلط فہمی کا شکار رہتے ہیں کہ یہ نوجوان بھی ان ہی کی طرح مشاعرے میں بطور سامع ، محظوظ ہونے اور داد دینے آیا ہے۔ مگر جب اسٹیج سے اس کا نام مشاعرہ پڑھنے کے لیے پکارا جاتا ہے تو وہ سامعین کی صفوں سے چپکے سے اٹھ کر فن کی کلیاں بکھیرنا شروع کر دیتا ہے۔اپنے کمال فن سے اکھڑے ہوئے مشاعرے کو بھی اپنے توانا لہجے،، جداگانہ اسلوب، کلام کی پختگی ، نُدرت اور ترنم سے جما نے کا ہنربخوبی آزماتے ہوئے داد و تحسین کے پھول سمیٹنا شروع کر دیتا ہے۔

میں بنجوسہ کی جھیل کنارے سجی وہ خوبصورت شام بھلا کیسے بھول سکتا ہوں۔ جب کچھ سال پہلے پونچھ ادبی سوسائٹی کے زیر اہتمام ایک مشاعرے میںشرکت کا شرف حاصل ہوا تو شوزیب کاشر سے پہلی بار ملاقات ہوئی۔پھر اس کے بعدملاقاتوں کاسلسہ کسی نہ کسی صورت نکلتا چلا گیا اور اس کی فن اور شخصیت کے پرت کھلتے چلے گئے ہیں۔ حق دوستی تو نہیں بہرحال ایک تعلق ضرور ہے جس کا ’’خمیازہ‘‘ بھگتنے کے لیے بلکہ ’’ برتنے ‘‘ کے لیے ہم سب یہاں موجود ہیں۔

شوزیب کاشرکی خوش قسمتی ہے اس نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی وہاں شعر و سخن سے شغف کا چلن پہلے سے ہی موجود تھا ۔جس کا اس نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔اگرچہ اس کو والد صاحب کی طرف سے ستائش کی تمنا رہے ۔دیکھئے کب پوری ہوتی ہے؟ جب بچوں کے کنچے یعنی ’بنٹے ‘ کھیلنے کی عمر ہوتی ہے یا ایک مخصوص گھر کی طرف گیند بار بارپھینکنے اور دوڑ کے واپس لانے کے بہانے بنانا ان کا محبوب مشغلہ ہوتا ہے اس عمر میں ہی وہ مصرعوں کی بنت میںمصروف عمل ہو گیا اورمیٹرک میں ہی اپنا پہلا شعری مجموعہ منظر عام پہ لا کر اور ایوارڈ جیت کر سب کو حیران کر گیا۔

خا ندان میں سب سے چھوٹا اور ’’گگلو ، گول مٹول‘‘ بچہ ہونے کے ناتے وہ ددھیال اور ننھیال کی آنکھ کا تارا بن گیا۔سیانا ایسا تھا کہ جب اس نے دیکھا کہ بھئی یہ لوگ تو میرے ناز اٹھاتے نہیں تھکتے تووہ ضد اور من مانی کرنے لگا۔اس کی پہلی ضد اپنی مرضی سے پڑھائی کرنا تھی۔ رزمک کالج میں داخلہ ٹھکرا کر ایک دینی مدرسے میں چلے جانا حیرت سے خالی نہیں ہے کیونکہ ہمارے ہاں تو یہ چلن عام ہے کہ دینی مدرسے میں اسی بچے کو بھیجا جاتا ہے جو قدرے ’’نکما ‘‘ ہو جس کا نتیجہ ا مدرسوں سے علماء کی بجائے ملاوٗں کی کثیر تعداد میں ترسیل ہے ۔ مگر شوزیب وہاں سے بھی Typical مُلا بن کے نہیں نکلا بلکہ علم عروض پر پختگی ، خدا کے وجود پہ یقین کامل اور عشق نبی کریم ﷺ کی نعمت سے سرشار ہو کے آیا۔اس کی نعتوں کا مجموعہ اور نعت گوئی میں کمال سخن اس امر کا بہترین ثبوت ہے۔ یہاںیہ زکر بھی کرتا چلوں کہ شوزیب کی کچھ شاعر دوستوں سے اس وجہ سے نہیں بن پائی کہ وہ آج کے مروجہ فیشن کے طور پر خدا کے وجود پہ میم میخ نکالتے تھے جو شوزیب کو کسی طور قابل قبول نہیں تھی سو اس نے تعلق محدود کر لیا ۔

اس کا ضدی مزاج شعر گوئی میں بھی اس کے ساتھ رہتا ہے۔ ایک طرف ہم جیسے شاعر ہیں کہ غزل کے پانچ سے سات اشعار ہو جائیں تو قلم کی سانسوں کے ساتھ اپنی سانسیں بھی پھول جاتی ہیں اور دوسری طرف شوزیب کا کمال فن ہے کہ پچاس ساٹھ اشعارپہ مشتمل غزل یوں کہہ دیتا ہے جیسے اس کے بائیں ہاتھ کاکھیل ہو۔وہ ایسے ایسے قافیے ڈھوند کے لاتا اور ان کو چن چن کے باندھتا ہے کہ قافیے بیچارے چھپتے پھرتے ہیں۔

’’سیاہ رنگ کادلدادہ‘‘ محفل آرائی کا شوقین، اپنی حاضر جوابی، لطیفہ گوئی اور فی البدیع گفتگو کے باعث قوس قزح کے رنگ بکھیر دیتا ہے۔ گفتگو نپی تلی کرتا ہے مگر چند جملوں کی فضول خرچی کا مرتکب پا یا گیا ہے۔ جیسے ’’ مطلب یہ ہے کہ ‘‘ ’’ دیکھیں نا اصل میں ‘‘ ، ’’ بالفرض کیا ‘‘ وٰغیرہ وغیرہ

سیر و سیاحت کا شوقین ہے۔ مشاعروں میں جانا ہو یا گھومنے پھرنے دوستوں کی دی گئی دستک پرفورا حاضر ہو جاتا ہے۔ بعض دفعہ تو گھر والے آٹا لینے مارکیٹ بھیجتے ہیں اور جناب مشاعرہ پڑھنے ’’اکرم آباد‘‘ ( لائن آف کنٹرول کے قریب دور افتادہ گائوں) پہنچ جاتا ہے۔ وہاں پہنچ کے یاد آتا ہے کہ او ہو گھر والوں نے تو آٹا لینے بھیجا تھاتو ہنستے ہوئے خود کلامی کرتا ہے کہ خیرہے کچھ نہ کچھ بندوبست کر لیں گیــ‘‘۔ دوستوں کے ساتھ ساری رات جاگ کر محفل آرائی کرتا ہے اور دوسرے دن ایسا فریش رہتا ہے کہ دوستوں کو حیرت اورکبھی کبھی جیلسی بھی ہوتی ہے۔ وہ بظاہر شوخ طبعیت کا حامل ہے ۔ مگر اندر سے ہراہل قلم کی طرح حساس ، ہمدرد، درد دل رکھنے والا شخص ہے۔اس کے لیے انتظار کی سولی پہ ٹنگا ایک لمحہ بھی صدیوں پہ بھاری ہوتا ہے۔

بلا کا گوشت خور ہے۔ ایک بار کسی دوست نے پوچھ ہی لیا کہ آپ گوشت کھا کھا کے کبھی بیزار نہیں ہوتے تو جواب دیا ’’ہاں ہوتا ہوں نہ یار‘‘۔ تو پھر کیا کھاتے ہیں ، جواب دیتا ہے ’’پھر گوشت کھاتا ہوں‘‘۔

عموما شادی شدہ شعرا کی شکایت یہ ہوتی ہے کہ بھئی گھر میں ہماری شاعری کی کوئی خاص و قعت نہیںہے اوراکثر مشاعروںمیں شرکت نہ کرنے کی وجہ بیگم کی طبعیت جو در اصل موڈ کا اچھا نہ ہونا ہوتا ہے بتاتے ہیں مگر شوزیب اس معاملے میں بھی بڑا خوش قسمت واقع ہوتا ہے۔اس کی بیگم علم ریاضی کی ماہر تو ہیں ہی اوپر سے سخن فہم بھی ہیں ۔ان کی طرف سے نہ صرف داد ملتی ہے تنقید ہوتی ہے بلکہ دبی تقریبات اور دوستوں کی محفل میں شرکت کی بلا ’’ ناک چڑھائے ‘‘اجازت بھی دے دیتی ہیں۔ ایک دفعہ شوزیب پہ غزل کی آمد ہو رہی تھی۔ بیگم صاحبہ غورسے دیکھ رہی تھی کہ صاحب صحن یعنی ’’ بہڑے ‘‘ میں ٹہل رہے ہیں۔ زیر لب شاید کوئی ورد بھی کر رہے ہیں۔ سر بھی دھن رہے ہیں۔بیگم نے پوچھا ’’کیا معاملہ ہے‘‘ تو جواب دیا کہ’’ غزل کی آمد ہو رہی ہے۔ چپ رہنا اور مجھے ڈسٹرب نہیں کرنا‘‘۔ بیگم صاحبہ فرماں برداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاموشی سے بیٹھ جاتی ہیں اور تماشا دیکھنے کے ساتھ ساتھ صاحب کے چکروں کا حساب کتاب بھی کرنے لگتی ہیں، ریاضی دان جو ٹھہری ۔ جب صاحب کے 500 چکر پورے ہو گئے تو بیگم کو خوشخبری سنائی کہ 50 شعر ہو گئے ہیں۔ بیگم نے برجستہ جواب دیا آپ کو ایک شعر کہنے کے لیے 10 چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔ اپنی کارکردی بہتر بنائیں تاکہ 5 چکروں میں ایک شعر کہہ سکیں۔ اگر بیگم سخن فہم نہ ہوتی تو شوزیب آج کل مزاحیہ شاعری کر رہا ہوتا اور ساری دنیا کی بیگمات کو کوس رہا ہوتا۔

اگرچہ شوزیب کو کسی بڑی محرومی کا سامنا نہیں رہا مگر حساس ، درد دل رکھنے والوں لوگوں کی طرح اس نے بھی زندگی کی مختلف شعبوں کے لیے خاص معیارات مقرر کر رکھے ہیں۔ ہمارا لکیر کا فقیر معاشرہ ہے لکھنے والوںاور مروجہ معیارات سے بغاوت کواہمیت نہیں دیتا۔ سو اس کی وجہ سے شوزیب کبھی کبھی ڈپریشن کا شکار بھی ہو جاتا ہے مگر جلد ہی اس پہ حاوی ہو جاتا ہے اور اپنی فطرت کے مطابق ہنسنے مسکرانے کا سلسلہ جاری رکھتا ہے۔

شوزیب کاشر ہمارا مان ہے ، فخر ہے،دبستان کشمیر کی پہچان ہے ، حلقہ یاراں کی شان ہے اور سب سے بڑھ کر بہت ہی پیارا انسا ن ہے۔ دست دعا بلند ہیں کہ اس کا مجموعہ ’’ خمیازہ‘‘ ہر عام و خاص ادب میں قبولیت کے اعلی درجے پہ پہنچ جائے۔ اور اس کے کلام میں برکت اور تازگی برقرار رہے۔

اور آخر میں اپنا ایک شعر شوزیب کاشر کی نذر

اب حوالہ بن گئے ہیں اس نگر میں کہ جہاں

خواب آنکھوں میں لیے ہم بے ثمر پھرتے رہے

==========================

کوئی تین چار سال پہلے فیسبک پر عالین زہرہ کے انتخاب میں شوزیب کاشر کا تعارف اور کچھ اشعار پڑھنے کو ملے اور خوش بختی کہ وہیں سے شوزیب کی فیسبک آئی ڈی بھی ملی ۔ شوزیب سے بات کی بےچینی پیدا ہوئی انبکس میں سلام کیا جسکا جواب کوئی چھ ماہ بعد آیا ۔
پھر کچھ دوستوں سے شوزیب کا نام اور اشعار سننے کا اتفاق بڑھتا جا رہا تھا کہ کھوئی رٹہ کے ایک مشاعرہ میں شوزیب سے ملاقات بھی ہوگئی ۔ مشاعرہ کے اختتام پر کھوئی رٹہ سے عباس پور تک کے سفر میں بھرپور نشست ہوئی ۔
پہلی ملاقات کا رس ابھی تازہ ہی تھا کہ صداقت طاہر شوزیب کو لیے مجھے ملنے صدر راولپنڈی آگئے ۔ کھانا کھلانا پڑا چائے پلانی پڑی اور ساتھ شوزیب سے پچاس پچاس شعروں والی غزلیں بھی سننا پڑیں۔ 
قوتِ برداشت دیکھتے جائیے باتوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھتے بڑھتے صبح دوپہر شام تک آ گیا اور یوں ہی چل رہا ہے۔
مجھے شوزیب سے کبھی نہ ختم ہونے والی محبت ہے ۔
"خمیازہ " شوزیب کی شاعری کی بھرپور کتاب ہے ۔ شوزیب بہت محنت اور لگن سے شعر کہتا ہے۔ خمیازہ کا ہر مصرع شوزیب کے ذمہ دار شاعر ہونے کی گواہی دیتا ہے۔
میں شوزیب کو قریب سے جانتا ہوں وہ جب کسی لفظ میں الجھتا ہے تو اسکی نسلیں معلوم کر کے ہی دم لیتا ہے اسکے ہاں الفاظ کا اک بڑا ذخیرہ موجود ہے ۔وسیع مطالعہ اور بقول بشارت تنشیط شوزیب کاشر جون ایلیا کا دوسرا جنم ہے۔

ہم جون کی تلمیذ , ہمارے لیے کاشر
دانتے کوئی منزل ہے نہ نطشے کوئی منزل 

ہنسی ہنسی میں رو لیتا ہے اور امید کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیتا

زندگی کے خوف سے کاشر میں کر لوں خودکشی 
زندگی مشکل تو ہے پر اس قدر مشکل نہیں 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے پیار میں اجڑی ہوئی وادی! کوئی رستہ ؟
اے درد کے مقبوضہ علاقے! کوئی  منزل؟
شوزیب کے ہاں ہچکچاہٹ نہیں ہے وہ جو بھی کہتا ہے پورے وثوق سے کہتا ہے عملی اور شعری زندگی میں شوزیب تقریباً ایک جیسا ہے

پیرہن پھاڑ کر میں رقص کروں 
عشق وحشت میں مبتلا ہوں کیا؟

ایک ہی فارہہ سے پیار کروں 
میں کوئی جون ایلیا ہوں کیا؟

شوزیب کی شاعری کشمیر میں ہریالی کے جیسی ہے اور حالیہ اردو زبان کی خوش قسمتی ہےکہ اسے شوزیب کاشر میسر ہے جو اس کی روایت پر پورے قدم رکھ کر چل رہا ہےاور مہینوں جاگ کر غزل کہتا ہے۔ 
اڑیں پھریں گے ہواؤں میں ,ساتھ چل میرے
میں لے چلوں تجھے گاؤں میں ساتھ چل میرے

بہشت زاد ہوں کشمیر ہے مرا مسکن
تجھے بھی سیر کراوں میں ,ساتھ چل میرے 

ہماری گرد۔سفر کو زمانہ چھو نہ سکے
پہن کے بجلیاں پاوں میں  ساتھ چل میرے

پھر ایک دن مجھے ہمزاد مل گیا آخر 
کہا,جہاں کہیں جاوں میں ,ساتھ چل میرے

شوزیب کے لیے بہت سی دعائیں اور بہت کچھ بقایا 

 عاصم سلیم بٹ

===============================

خمیازہ کی اشاعت پر کشمیر  اور پاکستان  بھر سے دوستوں کی طرف سے ملنے والے مبارک باد کے پیغامات کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ ہے جو پچھلے ایک ہفتے سے جاری و ساری ہے فیسبک، واٹس ایپ کے سٹیٹس ہوں کہ انباکسزز، کالز ہوں کہ مسیجز دوستوں اور پیاروں کی محبتیں دیدنی ہیں .......... مجھ نا چیز پر یہ ایک ایسا قرض ہے جو میں شاید کبھی نہ اتار سکوں......  آپ احباب کی محبتوں کا کماحقہ قرض اتارنا تو یقینا مجھ جیسے انسان کے لیے نا ممکن ہے تاہم میں اس پوسٹ کے توسط سے آپ تمام احباب کا بارِ دگر شکر گزار ہوں اور اللہ تعالی سے آپ سب کی صحت و سلامتی کے لیے دعا گو ہوں

خمیازہ کی اشاعت کو ابھی بمشکل ہفتہ ہی گزرا ہے اور پہلی ہی تقریب میں اس کا ہاتھوں ہاتھوں بکنا بھی آپ احباب کی مجھ سے بے انت محبت اور پیار کا منہ بولتا ثبوت  ہے .....تقریب کو چار چاند لگانے والے پیارے احباب کا جتنا بھی شکریہ ادا کروں کم ہے ..…
چند دوستوں کے نام لے کر شکریہ ادا نہ کرنا بھی نا انصافی ہو گی ......برادرم توصیف ترنل ، مولانا عبد الخالق صاحب،سجاد افضل صاحب، قاری فاروق صابر صاحب،لیاقت شعلان صاحب،پروفیسر شفیق راجہ صاحب، محب احمد شیراز صاحب، صغیر خانصاحب،بالخصوص بہت بہت بہت پیارے دوست جانی صداقت طاہر ،عاصم سلیم بٹ، آصف اسحاق،عثمان لیاقت،ماجد محمود ماجد،شہباز گردیزی، ،ضیا الرحمان ضیا،غضنفر شاہین،باسط منشاد،ویسی ملک، زین حفیظ،عبید بھائی ،اعطاس احمد، ساجد علی، فہیم یسین، ایاز قدیر ،کامران غلام،عتیق احمد،جاوید خان،ساجد بشیر، ڈاکٹر اشتیاق ،اسد سلیم،عمران کمال،سجاد حسین کا ممنون احسان ہوں.... پیارے دوستوں نے جہاں تقریب کی خوبصورتی اور کامیابی میں  کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی وہاں کتاب کی خوبصورتی اور دلکشی کے حوالے سے رمیل پبلی کیشنز کی پوری ٹیم خصوصا برادر مکرم ارشد ملک کی محنت اور محبت بھی لائق صد داد و تحسین ہے، اللہ تعالی آپ سب کی توفیقات میں اضافہ کرے
شوزیب کاشر آزادکشمیر

Thursday, August 23, 2018

عالمی اجلاس و سرد مشاعرہ بیاد علی مزمل پروگرام نمبر 167




عالمی اجلاس و سرد مشاعرہ بیاد علی مزمل
پروگرام نمبر 167 ادارے میں سارے پروگرامز برائے تنقید ہوتے ہیں 
============================
ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری ہانگ کانگ کی جانب سے ممتاز شاعر جناب علی مزمل مرحوم کی یاد میں ایک تعزیتی اجلاس و سرد مشاعرہ منعقد کیا جا رھا ھے۔ سرد پروگرام میں آپ سب دوسرے شعرا کے چند اشعار پیش کر سکتے ہیں اور اپنی ایک کاوش بعنوان عید بھی پیش کر سکتے ہیں ۔۔۔آپ سب سے شرکت  کی درخواست ھے۔تاکہ ھم سب ملکرمحترم علمی مزمل جیسے مایہ ناز شاعر کو خراج تحسین پیش کر سکیں ۔۔۔۔۔
بمقام  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ادارے کی برانچ دی بیسٹ اردو پوئیٹری وائیس

بروز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہفتہ 
بتاریخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   25/08/2018
بوقت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٹھیک شام 7 بجےپابندی وقت کا خیال رکھیں۔

آپکی آمد کی منتظر:       
                                                    
توصیف ترنل --------- بانی و چیئرمین ادارہ
معاون انچارج پروگرام
 محترم عامر حسنی ملائیشیا
منجانب انتظامیہ 
============================
صدارت 
محترم شہزاد نیّر پاکستان 

مہمانانِ خصوصی
محترم مسعود حساس بھارت 
محترم ضیاء شادانی بھارت

مہمانانِ اعزازی 
محترم مائل پالدھوی سورت گجرات بھارت
محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی بھارت

نظامت
محترمہ ثمینہ ابڑو پاکستان 

رپورٹ 
محترم نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی (انڈیا) 

لائیوفیس بُک رپورٹ 
توصیف ترنل 

مقالہ
محترم ڈاکٹر ارشاد خان بھارت 

 حمد بارئ تعالیٰ
1)محترم انور کیفی صاحب(بھارت)
2)محترم ڈاکٹر ارشاد خان بھارت 

نعتِ پاک
3)محترم نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی (انڈیا)

دعامغفرت 
محترم وزیر احمد بجواتی پاکستان

=============================
شعرائے کرام
4)محترم علی شیدا کشمیر

5)محترم احمد کاشف مہاراشٹرا انڈیا

6)محترم عامر حسنی ملائیشیا

7)محترم خالد سروحی گکھڑ سٹی گوجرانوالہ

9)محترم اصغر شمیم،کولکاتا،بھارت

8)محترم اشرف علی اشرف سندھ پاکستان

9)محترم مشرف حسین محضر بھارت

10)محترم ثمریاب ثمر سہارنپور اترپردیش انڈیا

11)محترم اطہر حفیظ فراز فیصل آباد پاکستان

12)محترم ندیم اعجاز فیصل آباد پاکستان

13)محترمہ غزالہ انجم پاکستان

14)محترم صفی ربانی مانسہرہ پاکستان

15)محترم ظہیر احمد مغل حویلی کہوٹہ آزاد کشمیر

Wednesday, August 15, 2018

عالمی جشنِ آزادی مشاعرہ پیشکش ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری





عالمی جشنِ آزادی مشاعرہ 
ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری دورِ حاضر میں دنیا کا واحد ادارہ ہے جو اِس برقی ترقی یافتہ دَور میں شعراء، ادباء و مُصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسّانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے. ادارۂ ہٰذ میں تمام تر پروگرامز برائے تنقید منعقدکئے جاتے ہیں. عالمی سطح پر کامیابی کے ساتھ ادبی تنقیدی پروگرامز کا انعقاد یقیناً ادارۂ ہٰذا کی انفرادیت و مقبولیت نیز کامیابی کی ضمانت ہے. 
 یہ ادارہ اب تک اپنے 165 ہفتہ وار پروگرام منعقد کر چکا ہے۔ اور اپنا 166 واں ہفتہ وار پروگرام بعنوان"جشنِ آزادی" تاریخ 18 اگست 2018ء کو بروز ہفتہ بھارت کے وقت کے مطابق شام ساڑھے سات بجے اور پاسکتانی وقت کے مطابق شام سات بجے منعقد کرنےجا رہا ہے ۔ ادارہ اس جشنِ آزادی کے پروگرام کو عظیم بھارت کے منقسم ممالک موجودہ بھارت،پاکستان اور بنگلہ دیش کے قائدینِ اعظم ، مہاتما گاندھی،محمّد علی جناح اور شیخ مجیب الرّحمٰن کے نام سے منسوب  و معنون کرتا ہے۔ برِّ صغیر میں شامل ممالک کے آزاری کی دو عظیم  اور مقدّس تاریخیں 14 اگست اور 15 اگست ہیں ،لیکن بعد میں قائم ہونے والے ملک بنگلہ دیش کو بھی برّے صغیر کا اہم رکن ہونے کے سبب شامل رکھا گیا ہے۔  
 ادارہ ہٰذا کسی سیاسی تنظیم کا ترجمان نہیں ہے لیکن برِّ صغیر میں امن و سلامتی اور خوشحالی خواہاںضرور ہے۔ اس لئے اس" جشنِ آزادی "کے پروگرام کو برِّصغیرکے ان تینوں ممالک کے قائدین کے نام منسوب کر رہا ہے۔
 ادارہ برِّصغیر کے کسی خصوصی ملک کا ترجمان نہیں لیکن اس برِّ صغیر میں اردو زبان کے پیدا ہونے اس کی پرورش پانے اور پھلنے پھولنے والے سبھی علاقوں میں اردو کی مزید ترقی و ترویج  کے لئے وہاں امن و سکون اور خوش حالی کا خواہاں ہے۔ کیونکہ ان علاقوں امن وسکون مفقود ہوگا تو  اردو زبان کے فروغ کی راہیں بھی مسدود ہوںگی۔ اس نظریے سے ادارہ کشمیر کے علاقے میں امن و سکون اور خوشحالی کا خواہاں ہے۔ چاہے وہ آزاد کشمیر ہو یا پاکستانی یا بھارتی مقبوضہ کشمیر۔ادارے کوکشمیر کی سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ وہاں کے انتشار کے سبب اردو زبان کا جو نقصان اور زیاں ہوا ہے ادارہ اس کے لئے فکر مند ہے۔
 اسی لئے اس پروگرام"جشنِ ادارہ" میں شریک ہونے کے لئے اردو کے جملہ پرستاران کو جشنِ آزادی کے لئے کلام کہنے اور تخلیق فرمانے کی دعوت دی جاتی ہے۔
 شرکاء بطور خاص خیال فرمائیں کہ آپ کوئی کلام ایسا ہر گز پیش نہ فرمائیں جس سے بھارت پاکستان اور بنگلہ دیش کسی بھی ملک کے وقار کو کوئی ٹھیس پہنچے یا اس پر آنچ آئےیا ایسا کلام بھی پیش نہ فرمائیں جو مذکورہ کسی ایک ملک کی تعریف وتوصیف کا ترجمان ہو۔بلکہ اپنے کلام میں آزادی کے منجملہ تصور کا اظہار فرمائیں۔جو اردو کے فروٖ اور ترویج کے عوام کے دلوں تک رسائی حاصل کر سکے۔
 جشنِ آزادی کے اس پروگرام کے لئے کہے گئے جملہ کلام شعرا حضرات  15 اگست 2018ءبروزبدھ 12 بجے شب تک ادارے کے چیئر مین جناب توصیف ترنل یا وائس چیئر مین امین جس پوری کو میسج باکس کے توسل سے ارسال فرما دیں۔
 خیال رہے 18 اگست کو منعقد ہونے والےادارے کے ہفتہ وار پروگرام بعنوان" جشنِ آزادی" میں صرف 2 1 منتخب کلام کو شامل کیا جائے گا اور یہ منتخب کلام بھی برائے تنقید ہوں گے۔
 باقی اپنے  دوسرے کلام احبا ب وائس گروپ کی ٹائم لائن پرپوسٹ کر سکتے ہیں۔
 اگر احبا ب نے جوش و خروش سے اس پروگرام  میں شرکت کے لئے اظہار کیا اور کافی اور معیاری کلام کہے تو "جشنِ آزادی" کا دوسرا حصّہ اگلے ہفتہ منعقد کیا جا سکتا ہے۔
ان سبھی منتخب کلام کو ادارہ اپنی استطاعت کے مطابق سوشیل میڈیا پر دنیاا بھر میں مشتہر کرے گا۔اور ادارے کے ترجمان"آسمانِ ادب" میں بھی شائع کئے جائیں گے۔

=============================

صدارت
20-محترم ثمریاب ثمر اترپردیش انڈیا

مہمانِ خصوصی 
19-محترم شاہ روم خان ولی پاکستان 

مہمانِ اعزازی 
18-محترم بی ایم خان معالے اچلپوری بھارت

نظامت
محترم وسیم احسؔن،  ٹھاکرگنج بہار، بھارت 
1 to 10
محترمہ ڈاکٹر صابرا شاہین پاکستان
11 to 20

رپورٹ 
محترم عامر حسنی ملائیشیا 

ناقدین 
محترم شہزاد نیّر پاکستان 
محترم شفاعت فہیم بھارت 
محترم ضیاء شادانی بھارت

==========================

حمد
1-محترمہ صبیحہ صدف بھوپال بھارت

نعت 
2-محترم اطہر حفیظ فراز فیصل آباد پاکستان
3-محترم اظہر عاطف ناندورہ، مہاراشٹر

==========================

فہرست شعرا
4-محترم وسیم احسؔن ٹھاکرگنج بہار، بھارت

5-محترم اظہر عاطف، ناندورہ مہاراشٹر بھارت

6-محترم عامر حسنی ملائیشیا

7-محترمہ غزالہ انجم پاکستان

8-محترم مشرف حسین محضر بھارت

9-محترم رام بن جموں و کشمیر

10- محترم خالد سروحی گکھڑ سٹی گوجرانوالہ

11-محترم صفی ربانی مانسہرہ پاکستان

12- محترم اصغر شمیم،کولکاتا،بھارت

14-محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی مرادابادبھارت

15-محترم ڈاکٹر فرحت عباس اسلام آباد پاکستان

16-محترمہ نیر رانی شفق پاکستان

17-محترم عقیل احمد رضی ،ممبئ ،بھارت

Monday, August 6, 2018

ادارہ ،عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری مشاعرہ نمبر 165 ردیف تنہا



طرحی مشاعرہ

------ادارہ ،عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری-------
 ادارے کا ہفتہ وار165 واں پروگرام ردیف"تنہا"پر مبنی نیم طرحی مشاعرہ کے متوقع شعرا کا کلام و ان کی ترتیب ، تہنیت نامہ اور خطبۂ صدارت کی تفصیل

اردو ادب اور اردو تہذیب کی آبیاری میں فلموں جو تعاون رہا ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا
یکم اگست  1932 ءاردو کی نمائندہ فلم پاکیزہ کی ادا کاری مینا کماری کا یومِ پیدائش ہے۔ مینا کماری کا اصل نام ماجبیں  اور تخلّص نازتھا ۔ ان کے واحد شعری مجموعے "تنہا چاند " نے زبر دست مقبولیت حاصل کی۔ مینا کماری یعنی ما جبیں نازؔ کی مشہور زمانہ غزل ؎
چاند تنہا ہے آسماں تنہا
دل ملا ہے کہاں کہاں تنہا
ماہ جبیں ناز ؔمرحومہ کی یاد کو تازہ رکھنے کے لئےادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کے وائرس روپ کے جملہ ممبران کو مرحومہ ماہ جبیں ناز ؔ کے اس مصرعۂ طرح
چاند تنہا ہے آسماں تنہا
 کے مطابق نیم طرحی غزل کہنے کی دعوت دی جاتی ہے ۔
 آپ کے نیم طرحی کلام کی ردیف میں  لفظ"تنہا" ہونا ضروری ہے۔ بحر اور قوافی شعرءا خود اپنی مرضی سے قائم کر سکتے ہیں۔ 
 منتخب اور چنندہ طرحی غزلیات کوعالمی ماہ نامہ "آسمانِ ادب: ماہ ستمبر 2018ء کے شمارے میں شائع کیا جائے گا۔ کلام لطیف تغزّل سے بھرپور، رومانی اور بلیغ ہونا چاہے۔مضامین عامیانہ اور سطحی نہ ہوں۔مبتدی شعرا ء اپنا کلا م  کسی استاد شاعر کی اصلاح کے بعدہی پوسٹ فرمائیں۔
غیر موزوں کلام پوسٹ کرنے والےشعراء کو ادارے سے ریمو کردیا جائے گا۔ 
اس طرحی انعقاد میںصرف ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کے 255 ممبران کی شریک ہو سکتے ہیں۔ خیال رہے آپ ادارہ بیسٹ اردو پوئیٹری کے ترجمان"آسمانِ ادب" میں اشاعت کے لئے کلام کہہ رہے ہیں۔اس لئے بیسٹ کلام ہی شائع کئے جائیں گے۔
اپنی مکمّل غزل وائس گروپ کی ٹائم لائن پر پوسٹ فرمائیں۔ منتخب کلام وہیں سے ادارہ اخذ کر گے۔ مفرد اشعار ہر گز پیش نہ کئے جائیں۔ ۔ادارے کے کسی ممبر کو اس کا کلام منتخب نہ کیے جانے پر کوئی شکایت نہیں ہونی چاہئے۔
آپ کا کلام ، کلام کے محاسن کی بنیاد پر منتخب کیا جائے شخصت یا نام کے  سبب نہیں
کلام پوسٹ کرنے کی آخری تاریخ :10/اگست 2018ء ہے۔
11اگست 2018 شام سات بجے پروگرام کیا جائے گا 

=============================

آرگنائزر
امین جس پوری بھارت 
وائس چیئر مین ادارہ/چیف ایڈیٹر
عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب 
ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری

 سرپرست 
عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب 
ویب سائیٹس ایڈمن 
پبلشر
توصیف ترنل ہانگ کانگ
بانی و چیئرمین ادارہ

=============================

صدارت
29-محترم شمیم زمانوی فرام بنگلہ دیش

مہمانِ خصوصی 
29- محترم نازمظفرآبادی آزادکشمیر

مہمانِ اعزازی 
28-محترم انور کیفی مرادابادبھارت

ناقدین 
محترم شفاعت فہیم بھارت
محترم مسعود حساس کویت

مبصرین 
محترم ضیا شادانی بھارت 
محترمہ غزالہ انجم پاکستان

نظامت
محترمہ ثمینہ ابڑو پاکستان 
1 to10
محترم مختار تلہری بریلی اترپردیس بھارت
11 to 20
محترم وسیم احسؔن،  ٹھاکرگنج بہار، بھارت 
21 to 30

رپورٹ اردو
محترم نفیس احمد نفیس ناندوروی بھارت 

رپورٹ انگریزی 
محترم ڈاکٹرارشادخان بھارت

رپورٹ ہندی
محترم ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی انڈیا

رپورٹ سرائیکی
ہمرازاوچوی پاکستان

لائیو آڈیو رپورٹ 
فیس بُک و یوٹیوب
توصیف ترنل

مقالہ
محترم امیرالدین امیر بیدر بھارت 
محترم احمد کاشف بھارت

=============================

حمد
1-محترمہ غزالہ انجم پاکستان 

نعت  
2-محترم وسیم احسؔن ، بہار (بھارت)
3-محترم اطہر حفیظ فراز فیصل آباد، پاکستان

=============================

فہرست شعرا

4-اصغر شمیم،کولکاتا،بھارت

5-ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی انڈیا

6-ڈاکٹر مینا نقوی مرادابادبھارت

7-ڈاکٹر شاھد رحمان فیصل آباد

8-خالد سروحی گکھڑ سٹی گوجرانوالہ پاکستان

9-اسد ہاشمی بھارت 

10-دلشاد نسیم پاکستان 

11-علی شیدا کشمیر بھارت

12-مختار تلہری بریلی اترپردیس بھارت

13-اروی سجل پاکستان

14-شبانہ زیدی پاکستان

15عقیل احمد رضی ،ممبئ ،انڈیا

16-انعام الحق معصوم صابری

17-نفیس احمد نفیس ناندوروی بھارت 

18-امین جس پوری بھارت

19-احمد علی برقیؔ اعظمی‎ بھارت

20-فانی ایاز گولوی رام بن جموں و کشمیر

21-نفیسہ حیا,احمدنگر مہاراشٹر,(بھارت )

22-امین اڈیرائی پاکستان

23-قیوم راز مارولی جلگانو...انڈیا

24-ڈاکٹر احمد منظور کشمیر

25-ابن عظیم فاطمی کراچی.پاکستان

26-صبیحہ صدف بھوپال بھارت

27-عامر حسنی ملائیشیا

=============================

((((    حمد    )))

تیری حمد و ثنا میں کروں یا خدا 
اپنا رحم و کرم کر دے مجھ کو عطا

تو رحیم و کریم اور بخشندہ ہے
تیری ہی ذات جاوید و پائندہ ہے

آسمانوں زمینوں کا خالق ہے تو
ان میں موجود ہر جاں کا رازق ہے تو

تو اندھیرا کرے تو اجالا کرے
تو جسے چاہے ادنی'سے اعلی'کرے

تونے پیدا کئے بجا و شمس قمر 
رکھ دئے ہیں سمندر میں لعل و گہر 

یہ جمادات ہیں یی نباتات ہیں 
تیری قدرت سے ارض و مساوات ہیں 

میں سیہ کار ہوں میں خطاوار ہوں 
تیری رحمت کا مولی' طلب گار ہوں 

میری ناقص زباں میرا عاجز بیاں
میں گنہگار ہوں بخش دے مہرباں 

سر بہ سجدہ ہے تیرا سراجِ حزیں 
بخش اسے زاہدوں سا مزاجِ متیں

ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی انڈیا

=============================

محمد کی دعاؤں نے فلک سارے ھلا ڈالے، 
تکبر سے جو اٹھتے تھے، وہ سر نیچے جھکا ڈالے

عرب کی سرزمیں پہ خوگر توحید جو آیا، 
بتوں کے سب پجاری تھے، خدا والے بنا ڈالے

خداوند یگانہ کا جو اک نعرہ لگایا تھا، 
ھبل عزی لرز اٹھے، وہ اوندھے منہ گرا ڈالے

ستارے ضوفشاں دیکھو!! اسی کے دم قدم سے ھیں، 
وہ دھرتی چاند بنتی ھے وہ چس پہ نقش پا ڈالے

محمد حسن و احساں میں مرا دلبر جو ٹھہرا ھے،
کہاں ھے چاند میں جرآت کہ دل میں وہ شبہ ڈالے

ضلالت سے ھدائت تک سماں کچھ اس طرح بدلے، 
وہ جو کنکر کی مانند تھے وہ سب ھیرے بنا ڈالے

محمد کے چراغوں کی لہو سے لو بڑھائیں گے، 
بھلے دشمن ھمارا ھم پہ قدغن بھی لگا ڈالے

فراز!! المختصر یہ کہ محمد کی عنایت ھے، 
شب دیجور میں لاکھوں دئیے اس نے جلا ڈالے

اطہر حفیظ فراز پاکستان

=============================

نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم

حور و غلماں اے میاں نا مصر کا بازار ڈھونڈ
والضحٰی جن کی صفت ہے وہ حسیں سرکار ڈھونڈ

خاکِ طیبہ کا لگاکر سرمہ اپنی آنکھ میں
پڑھ تُو قرآنِ مقدّس نعت کے اشعار ڈھونڈ

 پہلے کر تسلیم تُو لَا تَرفَعُو اَصوَاتَکُم
لَا تَقُولُو رَاعِنَا پڑھ احمدی معیار ڈھونڈ

ہوتی ہے سجدوں کی قیمت کیا تُو سمجھے گی تبھی
"اے جبینِ آرزو سنگِ درِ سرکار ڈھونڈ"

مشکلوں میں مشکلیں ہی آئیں گی تجھکو نظر
کامیابی چاہیے گر مشکلوں کے پار ڈھونڈ

سنگِ طیبہ سے لگی ٹھوکر کرم کی بات ہے
جو ملے اس جاء سے احسؔن بس وہی آزار ڈھونڈ

وسیم احسؔن  ٹھاکرگنج بہار، بھارت

=============================

*ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری...*
 *"حمدیہ محفل، (داغ دہلوی ایوارڈ/ ۲۰۱۸)"*

*حمد بارئ تعالٰی*

*اعـلٰی مَقــام تیـرا ، اَفـضل کلام تیرا*
*مِدحَت سَرا دو عالم وہ پاک نام تیرا*  

*حَمدوثنا میں ڈوبی یہ کائنات ساری*
*مَمنون ہے اِلٰہی ، ہر خاص و عام تیرا*

*خـلّاق ِ کائـنات و ، رَزّاقِ کُل تُـو یا رَب*
*خَلقَت پہ ہَر گَھڑی ہے بَس فیض عام تیرا*

*مُوسیٰ کو دی سَماعَت تیری نَوازِشوں نے*
*اور کـوہِ طُور پر بھی گُونجـا کلام تیرا*

*یا رَب تری تَـجلّی کـوئی نہ دیکھ پایا*
*بَس تجھکو دیکھ پایا خَـیرالانام تیرا*

*جَـبّار ہے تُو یا رَب ، قَـہّار ہے تُو یا رَب*
*ہَرگز نہ سَہہ سَکینگے ہم اِنتَـقــام تیرا*

*جَبّار ہے تُو گرچہ ،  قَہّار بھی ہے لیکن*
*تیرے غضب پہ غالِب، رَحمان نام تیرا*

*مَولا، نَبی کے صَدقے آدَم کو تُو نے بَخشا*
*اُمّت بھی بَخش دینا، یا رَب ہے کام تیرا*

*تَوبہ نفـیسؔ کی تُو کر لے قبول یا رَب*
*آقــــا کا اُمّتی ہے ، بَنـدہ غُـــلام تیــرا*

*نفیسؔ ناندوروی، مہاراشٹر(اِنڈیا)*

*ادارۂ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کی جانب سے "آنلائن نیم طرحی مشاعرہ" ۱۱/۰۸/۲۰۱۸*
*پروگرام نمبر....165*
*آنلائن نیم طرحی مشاعرہ.....*
*ردیف...."تنہا"*
=============================
نیم طرحی کاوش....*
*نفیسؔ ناندوروی، مہاراشٹر (انڈیا)*
=============================

*مَوسَمِ  گُل  میں  ہر  شجر  تنہا*
*شوخ  بُلبل  بھی  ہے  مگر  تنہا*

*مَوسَمِ  دار  اب  ہے  گلشن  پر*
*صبر  ٹوٹے  ڈگر  ڈگر  تنہا*

*زعمِ  باطِل  کو  مِل  گئی  مَسنَد* 
*حق  بَیانی  ہے  دار  پر  تنہا*

*دامَنِ  دَشت  یوں  ڈرا  نہ  ہمیں*
*ہم  نے  کاٹے  کئی  سَفر  تنہا*

*اُڑ  گئے  پھر  بَہار  کے  پَنچھی*
*دیکھو  پھر  ہوگیا  شجر  تنہا*

*ساری  تنہائیاں  سمٹتی  ہیں*
*چَھت  پہ  آتا  ہے  جب  قمر  تنہا*

*شب  کی  تاریکیاں  مٹانے  کو*
*روز  آتی  ہے  اک  سَحَر  تنہا*

*ایک  تیری  ہی  دِید  کی  خاطر*
*پھرتا  رہتا  ہوں  دَر  بہ  دَر  تنہا*

*نِسبَتاً  بھی  نفیسؔ  لگتا  ہے*
*بزمِ  انجم  میں  اک  قمر  تنہا*

  *نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی...،* 
 *ضلع بلڈانہ، مہاراشٹر (انڈیا)*

=============================

4-اصغر شمیم،کولکاتا،بھارت
----------------------
کر رہا ہوں میں طے سفر تنہا
ہے کڑی دھوپ اور ڈگر تنہا
بند مٹھی میں تیری قسمت ہے
جو بھی کرنا ہے تجھکو کر تنہا
کتنے لوگوں کا پیٹ بھرتا ہے
بوجھ ڈھوتا ہوا وہ سر تنہا
جب ہوائیں مخالفت پر ہوں
کیسے رہ پائے گا شجر تنہا
شہر میں خوب گہما گہمی ہے
پھر بھی رہتا ہے کیوں بشر تنہا
سب ستارے کہاں گئے اصغرؔ
رات آیا نظر قمر تنہا
----------------------
5-ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی انڈیا
----------------------
میرے جینے کی آرزو تنہا
مار دے گی یہ جستجو تنہا
جو تری بے رخی سے ٹوٹ گیا
اب بھی کرتا ہوں دل رفو تنہا
اُن کا وعدہ کوئی وفا نہ ہوا
حسرتوں کا کیا لہو تنہا
اتنا رسوا کیا زمانے نے
لٹ گئی جو تھی آبرو تنہا
اس گھڑی میں تھا خود سے بیگانا
جب تھا میں ان کے روبرو تنہا
آج بھی میرے دل کے آنگن میں
بس رہی تیری باس و بو تنہا
آپ جب سے گئے ہو محفل سے
خود کو دیکھوں میں چار سو تنہا
----------------------
6-ڈاکٹر مینا نقوی مرادابادبھارت
----------------------
جیسے صحرا میں پڑا رہتا ہے پتھر تنہا 
کر گیا مجھ کو محبت کا وہ آزر تنہا
محفلیں لوگ سجاتے رہے اور ہنستے  رہے 
ہم سزاوارِ محبت رہے اکثر تنہا
اس کو ہم اپنا سمجھ کر رہے سرشار مگر
جذب کرتا رہا ندیوں کو سمندر تنہا
میرا دل توڑنے والے تجھے معلوم نہیں 
خوشبوؤں کی تھا ضمانت وہ گلِ تر تنہا
وقت کے ساتھ گیا چھوڑ کے سایہ مجھ کو
چڑھتے سورج نے کیا دھوپ کا منظر تنہا
دل طلبگارِ محبت ہے مگر کیا کیجے
خالی کاسہ لئے پھرتا ہے گدا گر تنہا
کوزہ گر چھوڑ گیا مجھ کو ادھورا لیکن 
چاک سے لپٹا رہا مٹی کا پیکر تنہا
نور سے حق کےجو معمور تھے سینےمیناؔ
لڑ گئے لاکھوں کے لشکر سے بہتر تنہا
----------------------
7-ڈاکٹر شاہد رحمان فیصل آباد
----------------------
 بناتا ہے کسی کے واسطے کوئی جو گھر تنہا
جہاں میں دیکھتے ہیں ہم اسی کو دربدر تنہا
پرندے اڑ گئے ہیں جب سے سارے فضاؤں میں
صدائیں دے رہا ہے رات دن دیکھو شجر تنہا
 ملیں گے راستے میں اور بھی دلکش نئے منظر
چلو گے تم زمانے میں اگر شام و سحر تنہا
وفائیں تم سمیٹو اور اب ہم کو اجازت دو
ہمیں کرنا ہے اب آگے میاں سارا سفر تنہا
نہیں کوئی ذرا بھی فکر دنیا میں اکیلے ہیں
ہمارے سامنے ہیں جب یہاں شمس و قمر تنہا

چاند تنہا ہے آسماں تنہا
عشق کا ہے میاں مکاں تنہا
وقت کے بیکراں سے کاغذ پر 
لکھ رہا ہوں میں داستاں تنہا
زندگی رات دن تری خاطر
دینا پڑتا ہے امتحاں تنہا
گھر بنائے کسی وہ چوٹی پر
دیکھنا ہے جسے، جہاں تنہا
دشت میں یا کبھی ہوں صحرا میں
پھر رہا ہوں کہاں، کہاں تنہا
کھو گیا اس میں ہے کیا تیرا
دیکھتا ہے جو آسماں تنہا
----------------------
8-خالد سروحی، پاکستان
----------------------
جل سے آنکھیں پرو لیے تنہا
ٰخار در پا چبھو لیے تنہا
اے محبت بس اک تری خاطر 
کارواں چھوڑے ہو لیے تنہا
لب تماشائی بن گئے تیرے
تھی خطا رنج جو لیے تنہا
آرزو تھی کہ وہ رہے دل میں 
یاد میں اسکی رو لیے تنہا
چھا نہ جائے جہان میں تیرگی
زلف مت آپ کھو لیے تنہا
رنگ ہاتھوں پہ بھی چڑھے جاناں 
مہندی یوں اب نہ گھولیے تنہا
رات بھر انتظار تھا جس کا 
کسی دامن میں سو لیے تنہا
ہم سنیں گے جو بھی کہیں گے آپ
آپ تو بس لفظ بولیے تنہا
تیرا جب شہر دیکھنے آئے 
بیچ پھولوں کے کھو لیے تنہا 
----------------------
9-اسد ہاشمی بھارت
----------------------
کس طرح کٹے گا یہ زیست کا سفر تنہا 
آکے مجھ سے مل جاؤ آپ ہو اگر تنہا
جو بھی چاہئے تم کو سب ملے گا اس در سے
کیوں بھٹکتے پھرتے ہو تم ادھر اودھر تنہا
اہل حق  کو ہے معلوم جاکے پوچھ سکتے ہو 
کیوں جلایا لوگوں نے آج میرا گھر تنہا
آج دل کی باتوں کو شعر میں میں ڈھالوں گا
ہے پتا کے مجھ میں ہے فن کا یہ زہر تنہا
آپ اپنے بارے میں سوچئے اسدؔ صاحب 
ہم تو خیر کرلیں گے زندگی بسر تنہا

سچ ہے اب مجھ سے تو یہاں تنہا 
ایک تم ہی ہو بدگماں تنہا          
گھول دیتی ہے رس یہ کانوں میں 
سب سے شیریں ہے یہ زباں تنہا
آج پھولوں پہ گفتگو ہو گی
یاں پہ بولے گا باغباں تنہا  
اتنے تاروں کے بیچ رہ کر بھی
چاند تنہا ہے آ سماں تنہا 
آپ گر رہنما نہ ہوتے تو
ہم  بھٹکتے کہاں کہاں  تنہا 
ہم کو معلوم ہے بروز حشر
ہوگا بس  تیرا سائباں تنہا
لوگ پوچھیں  گے وہ کہاں ہیں اسدؔ 
جاؤگے تم جہاں جہاں تنہا
----------------------
10-دلشاد نسیم پاکستان
----------------------
رہے گا چاند محبت کا یہ سدا تنہا 
جسے نصیب ہوا عشق ہو گیا تنہا
بٹانے آئے تھے تنہائی چاند کی تارے 
مگر وہ دے نہ سکے شب کو آسرا تنہا 
سجا رہی ہوں محبت سے اس کو کمرے میں 
رہے گا ذات میں لیکن یہ آئینہ تنہا 
بلاؤ مجھ کو اشارے سے یا صدائیں دو 
  نہ مجھ سے ہو گا کبھی طے یہ فاصلہ تنہا 
کبھی تو آ کے مرے غم کو بانٹ لو جاناں 
اٹھاؤں کیسے میں یہ بار ہجر کا تنہا
جنوں کی موج ہے ہمراہ ہیں جہاں والے 
ذرا جو ہوش میں آیا وہ ہو گیا تنہا 
بتاؤ کیسے میں دلشادؔ تم کو کہتی رہوں 
چھپا کے رکھتی ہو ہر اشک آنکھ کا تنہا

----------------------
11-علی شیدا کشمیر بھارت
----------------------
میرا رونا مری ہنسی تنہا
زندگی ہے گزررہی تنہا
شہرِ الفت بسانے والا آج
ہے بھٹکتا گلی گلی تنہا
بھیڑ میں اس قدر ہے تنہائی
موت تنہا ہے زندگی تنہا 
تیرے جانے کے بعد گاؤں میں
چاند تنہا ہے چاندنی تنہا
گنگناتے ہیں وصل کے نغمے
ہجر زادے کبھی کبھی تنہا
مجھ میں رہتی ہے اب دھواں بن کر
گرم یادوں کی اک صدی تنہا
پھر حویلی میں آگئی رہنے
کوئی دلہن نئی نئی تنہا
رہ گیا کٹ کے آدمیّت سے
دورِ حاضر کا آدمی  تنہا
پہلے بھی تھا کوئی کوئی ہوتا
اب تو  شیداؔ ہے ہر کوئی تنہا
----------------------
12-مختار تلہری بھارت
----------------------
نیم طرحی غزل... ردیف... تنہا

کوئ  محفل  ہو  مگر  لگتا  ہوں تنہا  تنہا
سوچئے  مجھ سے زیادہ  کوئی ہو گا تنہا

چھوڑ کرجانےکی دھمکی نہ دیاکرمجھکو
میری عادت میں توویسےبھی ہےرہنا تنہا

چپقلش میں ہی گزرتےہوں شب وروزاگر
ایسی  قربت سے بہت  اچھا  ہے رہنا تنہا

لمحہ لمحہ  تری  یادیں مرے  ہمراہ رہیں
مجھ کو حالانکہ سمجھتی رہی دنیا تنہا

آپ  کو  میری اجازت کی ضرورت کیا ہے
جب   کبھی  آنے  کا  من  ہو  چلے آنا تنہا

جب  مرا  ساتھ نبھانا  تجھے منظور نہیں
تیری خواہش  ہی اگر ہے تو جا کر جا تنہا

میری  تنہائ  نے  مختار   مرا   ساتھ   دیا
رہ کےتنہابھی نہ خودکوکبھی سمجھا تنہا

مختار تلہری بریلی اترپردیس انڈیا
----------------------
14-شبانہ زیدی پاکستان
----------------------
  چار سو راکھ کے انبار سے دیکھے تنہا
سب نظارے ہی دھواں دھار سے دیکھے تنہا
کوئی کیا نقش تراشے گا حقیقت سے یہاں
لوگ بکتے ہوئے کردار سے دیکھے تنہا
پیار کا خواب نگاہوں مں لیے صبح تک میں نے
کچھ ستارے بھی شرربار سے دیکھے تنہا
قریہ دل میں کو ئی لمحہ سکوں کا کیا ہو
لوگ اپنے سے ہی بیزار سے دیکھے تنہا
   یہ جو بیٹھی ہو ں بس اک شہر لیے پانی کا
کچھ عجب لوگ خریدار سے دیکھے تنہا
کیسے نبٹے گا غم دہر سے ہر ایک ادھر
بے گنہ اب تو گنہگار سے دیکھے تنہا
حال دل کیسے کہوں اور شبیںؔ میں کس سے
لوگ جتنے ہیں ستم گار سے دیکھے تنہا  
----------------------
15عقیل احمد رضی  ممبئی،انڈیا
----------------------
دل ہے تنہا ہے جان و تن، تنہا
ہجر کی رات میں بدن تنہا
یاد کے آہو ہیں رمیدہ اب
کب ہُوا ہے یہ دل کا بَن تنہا
سیلِ افراد ہے زمانے میں
چہ عجب است، ہے زمن تنہا
لے گئ رنگ و بو خزاں اب کے
رہ گیا ہے فقط چمن تنہا
چاند ڈوبا، ستارے غرق ہوئے
صرف باقی ہے اک گگن تنہا
روح نکلی تو پیچھے چھوڑ گئ
ایک خاکی سا پیرہن تنہا 
جانِ محفل تھے جو کبھی اب وہ
پہنے لیٹے ہیں اک کفن تنہا
ہے ریا کار سب زمانے میں 
سادگی میں ہیں ہم مگن تنہا
ذکر تیرا تھا میرے شعروں میں
تو نہیں جو تو ہے سخن تنہا
کوئی خوبی نہیں رضیؔ تجھ میں
ہاں مگر ایک ہے یہ فن تنہا
----------------------
16-انعام الحق معصوم صابری
----------------------
"چاند تنہا ہے آسماں تنہا"
ہجر میں ہے لگے جہاں تنہا
اور عاشق ہیں دشت میں پھرتے
راہ میں قیس ہے کہاں تنہا
تجھ کو چاھا صنم بہت ہم نے
تو وہاں اور ہم یہاں تنہا
اب نہ موسم بھی بن ترے اچھا
یہ بہاریں بھی , ہے خزاں تنہا
اس کے معصوم وصل سے میرے
اب نہیں دل کا بھی جہاں تنہا
----------------------

18-امین جس پوری بھارت
----------------------
نیلگوں فضاؤں میں، چاند تنہا تنہا ہے
دوٗر تک خلاؤں میں، چاند تنہا تنہا ہے
ہم نشیں ستارے ہیں، اور نہ ساتھ جگنو ہیں
ریشمی گھٹاؤں میں، چاند تنہا تنہا ہے
لذّتِ غمِ دل نے محفلیں چُھڑا دی ہیں
درد کی دعاؤں میں، چاند تنہا تنہا ہے
آرزو بھڑتی ہے، حسرتیں سلگتی ہیں
صندلی چتاؤں میں، چاند تنہا تنہا ہے
نورمند سیّارے، ہیں کنارہ کش سارے
اپنے ہمنواؤں میں، چاند تنہا تنہا ہے
فطرتاً مقیّد ہے، تابشوں کے مرکز میں
نور کی شعاؤں میں، چاند تنہا تنہا ہے
اپنا ہی بدن خود ہی ڈس رہی ہے رعنائی
سرمئ رداؤں میں، چاند تنہا تنہا ہے
کھینچتی ہیں آنچل کو، چھیڑ تی ہیں گیسو کو
سر پھری ہواؤں میں، چاند تنہا تنہا ہے
ہجر، رنجشیں پیہم، طنز و طعن رسوائی
عشق کی بلاؤں میں، چاند تنہا تنہا ہے
عصمت و تقدّس پر گرد چڑھ کے بیٹھی ہے
وقت کی ہواؤں میں، چاند تنہا تنہا ہے
دل نے ڈر کے ظلمت سے، آفتاب مانگا تھا
اب مری دعاؤں میں، چاند تنہا تنہا ہے
----------------------
19-احمد علی برقیؔ اعظمی‎ بھارت
----------------------
بن تمہارے ہے یہ جہاں تنہا
’’ چاند تنہا ہے آسماں تنہا ‘‘
آکے اس کو کروگے کب آباد
میرے دل کا ہے یہ مکاں تنہا
منتظر ہیں یہ جاں بلب آنکھیں
رہوں کب تک میں نیم جاں تنہا
ایسا لگتا ہے مجھ کو چاروں طرف
چاند تنہا ہے کہکشاں تنہا
تیرہ و تار زندگی ہے مری
ہر طرف ہے دھواں دھواں تنہا
جب سے روٹھی ہے مجھ سے جانِ بہار
گلشنِ دل میں ہے خزاں تنہا
کوئی بھی ہمنوا نہیں ملتا
رہوں کب تک میں بے زباں تنہا
کچھ بتاتے نہیں ہو کیوں آخر
کیا رہوں یونہی نوحہ خواں تنہا
میرا مسکن جہاں بھی ہو برقی
میں یہاں بھی ہوں اور وہاں تنہا

خراجِ عقیدت
پیش کرتا ہوں میں اُس مینا کماری کو خراج
جو دلوں پر کرتی تھی اپنی اداکاری سے راج
مہ جبیں بانو سے جو مینا کماری بن گئی
دلبری اور دلنوازی کا تھا اس میں امتزاج
سن بہتّر میں جو اس دنیا سے رخصت ہو گئی
حکمراں ہے وہ دلوں پر آج بھی بے تخت و تاج
فلمی دنیا میں ہے جس کا شہرۂ آفاق نام
رہتی دنیا تک کریں گے پیش سب اس کو خراج
مِٹ نہیں سکتے کبھی اُس کے نقوشِ جاوداں
جیسے تھے مقبول کل وہ، ویسے ہیں مقبول آج
اُس اداکارہ کا سب سے منفرد انداز تھا
غمزدہ انسانیت کی تھی صدائے احتجاج
تھی اداکارہ وہ جیسی ویسی ہی تھی شاعرہ
غم کی اک ملکہ تھی،جس کا دردِ دل تھا لا علاج
’’جوار بھاٹا‘‘ اور ’’پاکیزہ‘‘ میں اپنے کام سے
کردیا پیدا دلوں میں اہل دل کے اختلاج
پردۂ سیمیں پہ تھیں جس کی ادائیں دلنواز
فلم بینوں کی تھی برقیؔ اعظمی وہ ہم مزاج
----------------------
20-فانی ایاز گولوی رام بن کشمیر
----------------------
گزاری ہے میں نے جو زندگی تنہا
کبھی  مٹ نہ سکی ہے تشنگی تنہا
سجائے پھول ہیں گلشن میں جو یارو
ہے مالی کی یہ بھی وابستگی تنہا
بجھاؤ گر چراغوں کی یہ محفل تم
جلاؤں گا غموں کی روشنی تنہا
گزر جائے کبھی وہ رات میری بھی 
ڈسیں گے جب اجالے مجھ کو ہی تنہا
ہوں لاکھوں لوگ تیرے ساتھ اے فانیؔ
لحد میں تم نے جانا ہے کبھی تنہا

----------------------
21-نفیسہ حیاؔ، احمدنگربھارت 
----------------------
میں یہاں ہوں وہ وہاں تنہا 
ہے رواں زیرِ لب فغاں تنہا 
گلشنوں کی بہار کر کے تباہ 
رقص کرتی ہے اب خزاں تنہا  
تو بچا لے خدا سفینہ کو 
زورِ طوفاں ہے بادباں تنہا 
روٹھ کر تو گیا ہے جب مجھ سے 
میرے دل کا ہے یہ مکاں تنہا 
جب زباں اُس نے کاٹ لی میری 
آنکھ کرتی ہے  پھر بیاں تنہا 
زخم چھوکر جو تو نے دیکھا تھا 
ہے معطر وہی نشاں تنہا 
جانے کس کی نظر لگی اُن کو 
"چاند تنہا ہے آسماں تنہا"
زیست کیسے حیاؔ گزارے گی 
ہجر کے غم میں جانِ جاں تنہا 
----------------------
22-امین اڈیرائی پاکستان
----------------------
  تنہا ہو کے بھی جو نہیں تنہا
بیٹھا ہوگا یہیں کہیں تنہا
اک طرف نفرتوں کی بارش تھی
اک طرف تھا دلِ حزیں تنہا
شہرِ یاراں میں اب بھی رہتے ہیں 
کچھ  مکانوں میں کچھ مکیں تنہا
 رات کے پچھلے پہر سپنے میں 
روز ملتا ہے اک حسیں تنہا
آسماں کا بھی خیر ہو لیکن
ہونے دینگے نہ ہم زمیں تنہا
عالمِ کربِ خوں کے پیاسے تیر
اور سجدے میں اک جبیں تنہا
کل تلک ساتھ ساتھ تھا جو امین 
اب وہ رہتا ہے ہم نشیں تنہا
----------------------
23-قیوم راز مارولی
----------------------
تھاجو محفل میں بھی کھڑا تنہا
وہ اکیلا کہاں چلا تنہا
باہرِ آئینہ بھی ہے تنہا
آئینے میں بھی تھا کھڑا تنہا
ہے زمیں پر دھواں دھواں مرا دل
مہہ فلک پر ہے جل رہا تنہا
وقت آتاہے، کاٹتا ہے یہاں
ہر کوئی شخص راستا تنہا
ایک دل ہی نہیں دماغ کے بھی
کتنے فتنوں سے میں لڑا تنہا
میں نے آواز دی نہ آیا کوئی
آخرش میں ہی چل پڑا تنہا
میرا گھر میں نے ڈھایا، ملبے تلے
کیا نتیجہ ہوا؟ دبا تنہا
اٹھ گئے چہرہ دیکھنے والے
آئینہ گھر میں ہے پڑا تنہا
غور سے دیکھاپھر ملا جس سے
چہرہ چہرہ مجھے لگا تنہا
اے سیاست رذیل تونے ہر اک۔۔
نیک انسان کو کیا تنہا
مہہ جبیں، ناز، مینا پردے پر
عکس تیرا صدا رہا تنہا
رات بھر اپنی آگ میں اے راز۔
میں ہوں جلتا ہوا دیا تنہا
----------------------
25-ابن اعظیم فاطمی،پاکستان
----------------------
کٹ گئ عمر رائیگاں تنہا
اب پھریں گےکہاں کہاں تنہا
ہم نہ ہوں گے تو کیسے سنبھلے گی
تجھ اکیلے سے یہ جہاں تنہا
سب نے اپنا نشان چھوڑا ہے
میں فقط کیوں ہوں بے نشاں تنہا
آپ کیسے رہیں گے سوچا ہے
مجھ سے ہوکر جدا وہاں تنہا
کتنی دنیا بسی ہوئ ہے وہاں
کب ہوا ہے وہ آسماں تنہا
اک نظر اس طرف بھی ہو جائے
کیوں رہیں ہم بھی مہرباں تنہا
سارے مل کر جو کر نہیں پاتے
کام کرتی ہے وہ زباں تنہا
لازمی ہے عمل بھی شامل ہو
بے اثر ورنہ ہے بیاں تنہا
ساحلوں کے بنا عظیمؔ میاں
کچھ نہیں بحر بیکراں تنہا
تہنیت نامہ:از- ابن عظیم فاطمی

میں ابن عظیم فاطمی کراچی پاکستان بھائ توصیف ترنال کے فیس بک میسیج کو پڑھ کر بہت متاثر ہوا اور فوری طور پر غزل ہوگئ جو انہیں بھیج دی .پھر واٹس اپ کا نمبر انہوں نے عنایت کیا اور رابطے کی صورت بنی. مجھے اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ بھائ شمیم زمانوی اس نشست کی صدارت فرما رہے ہیں جبکہ دنیا بھر سے معروف اور اہم اہل قلم کے ساتھ اس خاکسار کو بھی شرکت کا موقع عطا کیا گیا ہے جو یقینی طور پر ایک اعزاز کی بات ہے.
فیس بک اور واٹس ایپ پر ادارے کی کرگزاریوں کی تفصیلات اور رپورٹس پڑھ کر معلوم ہوا آپ نے ادب کی ترویج و اشاعت کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے جو انتہائ قابل تحسین ہے.یہ کام یقینی طور پر ایک آدمی کا نہیں ساتھ احباب بھی اہم اور ضروری ہیں لیکن تحریک ایک آدمی ہی سے شروع ہوتی ہے اور پھر قافلہ بن جاتا ہے.جہاں اور بہت سے احباب آپ کے ساتھ پیش پیش ہیں وہیں محترم امینن جس پوری کی خدمات بھی قابل تعریف ہیں کہ آسمان ادب جیسا مربوط,بھرپور اور اہم سلسلہ بھی چلا رہے ہیں.میری طرف سے ادارہ عالمی بیسٹ  اردو پوئٹری کے تمام اراکین کو ڈھیروں مبارکباد.164 پروگرام بہت بڑی تعداد ہوتی ہے اور یہ 165واں پروگرام آپ کی مستقل مزاجی کی واضح دلیل ہے.اللہ آپ تمام احباب کی کوششوں کو تقویت اور مقبولیت عطا فرماۓ.آمین
ابن عظیم فاطمی..کراچی.پاکستان

----------------------
26-صبیحہ صدف بھوپال بھارت
----------------------
دھوپ ہے زندگی سفر تنہا
کاٹنی ہے یہ رہ گزر تنہا

کوئ مل جائے تو مقدر ہے
ورنہ ہر گام ہر ڈگر تنہا

کیسی منزل پہ آگئے ہیں ہم
ہم سفر ہوکے بھی مگر تنہا

اب میں تنہائ کی علامت ہوں
دل بھی تنہا میرا جگر تنہا

ایک تمہاری تلاش میں جاناں
بھٹکے کتنا نگر نگر تنہا

شبِ فرقت ہے ایک بس میں ہوں
جاگنا ہے سحر سحر تنہا

بھول جاؤ اسے "صدف" رانی
کاٹنا تمکو ہے سفر تنہا
صبیحہ صدف بھوپال بھارت
----------------------
27-عامر حسنی، ملائیشیا
----------------------
روح تنہا رُواں رُواں تنہا
قلب تنہا ہے میری جاں تنہا
اپنی آنکھیں جھپک نہ پائے ہم
دل میں اترا وہ  جان ِجاں تنہا
کاش حسن و جمال کو پائیں 
ہائے قلب و نظر زباں تنہا
گلبدن انگ انگ مہکانے
آبھی جاؤ نہ مہرباں تنہا
خوش نصیبی انہیں بنا لائی
دل کے آنگن میں میہماں تنہا
ایک مہمان آبسا دل میں 
اور شاعر ہے میزباں تنہا
ان کی آنکھوں نے صاف کہہ ڈالا
رہ نہ پائیں گے شادماں تنہا
روٹھ جانے سے ان کے یہ عالم
ارض تنہا ہے آسماں تنہا
اپنے عامرؔ کو جو ہیں تڑپائیں
لوگ تنہا وہ خانداں تنہا
----------------------
28- جناب انور کیفی، انڈیا
----------------------
خود سے ہوں محوِ گفتگو تنہا 
کاش آئے وہ روبرو تنہا 
اک ہی خواہش ہے آرزو تنہا 
ساتھ میرے ہو تو ہی تو تنہا 
ایسا تنہا ہوں سارے عالم میں 
کرتا رہتا ہوں ہاؤ ہو تنہا 
عشق حق ہے نماز کی صورت 
جس کو پڑھتے ہیں باوضو تنہا 
علم و فن کی تلاش میں اکثر 
پھرتا رہتا ہوں کو بہ کو تنہا 
زندگی بے سکون ہے 'انورؔ
 میں اِدھر اور اُدھر ہے تو تنہا
----------------------
29- نازمظفرآبادی کشمیر
----------------------
آپ کا شہر اور ہم تنہا 
جھیلتے ہیں ہراک ستم تنہا 
دعوۂِ دوستی تمہیں بھی تھا
ہم نے رکھامگر بھرم تنہا
لوگ چلتے ہیں ساتھ ساتھ مگر
پھر بھی ہوتے ہیں ہر قدم تنہا
کیا پتہ تم کو،تیرے حصّے کے
ہم اُٹھاتے رہے الم تنہا
ورنہ ہم ایک میں کئی سو تھے
کر گیا ہم کو تیرا غم تنہا
ہجر میں آسماں بھی روتا ہے
آنکھ میری نہیں ہے،نم تنہا
یہ ثمردار کا سلیقہ ہے
شاخ ہوتی نہیں ہے،خم تنہا
سچ لکھا تو سبھی نے چھوڑ دیا
ایک ساتھی رہا قلم تنہا
دل بغاوت پہ کیوں اُتر آیا
پہلے ہی نازؔ کیا تھے کم تنہا
----------------------
تہنیت نامہ:از- نازمظفرآبادی کشمیر
-----------------------
 ادارہ 'بیسٹ اردو پوئٹری،اپنے منفرد پروگرامز اور ادرو ادب کی ترقی و ترویج کے لیے جس طرح دن رات کوشاں ہے،اس کا اعتراف ہر فورم پر کیا جانے لگا ہے،ادارہ کی مفید اور روایت سے ہٹ کر نت نئی سوچ کے ساتھ اردو ادب کی خدمات قابلِ تحسین ہیں،جن کا نہ سراہا جانا قرین انصاف نہ ہوگا،
 میں ادارہ ہذا کے روح رواں جناب توصیف ترنل(ہانگ کانگ)اور ان کے تمام رفقائے کار کو مبارک باد پیش کرتا ہوں،
 آج کے اس غیر معمولی پروگرام میں میری بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت میرے لئے نہایت خوشی اور اعزاز کی بات ہے،اس پزیرائی و عزت افزائی کے لیے میں جناب توصیف ترنل،انتظامیہ اور ادارہ کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں،
 دعا ہے اس ادارہ کے افراد اسی محنت،جانفشانی اور محبت سے اردو اب کی خدمت کا اہم فریضہ سرانجام دیتے رہیں.
نازمظفرآبادی.
----------------------
30-  شمیم زمانوی، بنگلہ دیس
----------------------
بیچ تاروں کے ہے قمر تنہا
آج وہ بھی ہے بام پر تنہا
کوئ صحرا نورد آئے گا
اس کا ہے منتظر شجر تنہا
روشنی کیوں نہ ہو صداقت کی
دار پر ہے چراغِ سر تنہا
ساتھ چھوڑا سبھی نے غربت میں
کام  آیا  مرا  ہنر  تنہا
جب سے روپوش آدمیت ہے
بھیڑ میں بھی ہے ہر بشر تنہا
مفت بدنام  ہو گئ ہجرت
میں بھٹکتا ہوں دربدر  تنہا
ہر دریچے پہ سوچے حیرانی
کیا ہوئے لوگ کیوں ہے گھر تنہا
سر پھرا قیس کیا نہ آئے گا
خارزاروں کی رہگزر تنہا
راس آئ نہ جب شمیم خوشی
غم ہی سہنا ہے عمر بھرتنہا

---------------------
31-امیر الدّین امیرؔ ،بھارت
----------------------
آرزو تھی کبھی میں آپ سے ملتا تنہا 
پھر لکھا تھا مری تقدیر میں رہنا تنہا 
میرے محبوب مرے غم کو مٹا دے یکسر 
تابکہء دشت میں پھرتا ہوں میں تنہا تنہا 
تیری دم بھر کی جدائی بھی نہیں مجھ کو قبول 
چھوڑکر تجھ کو میں کس طرح رہوں گا تنہا 
فصلِ گُل میں بھی اکیلا رہوِں کیسے ممکن 
کیسے دیکھوں گا کسی پھول کا چہرہ تنہا 
ڈر ہے تقدیر نہ دونوں کو جدا کردے پھر 
کبھی ایسا نہ ہو رہ جاؤں اکیلا تنہا 
دن محبت کے گزرتے ہیں بہاروں کی طرح 
چھوٹ کر تم سے کبھی رہ سکوں گا تنہا 
جب محبت مری تکمیل کو پا جائے امیر 
پھر فقط میں رہوں اور قبر کا گوشہ تنہا
----------------------
32-بی ایم خان معالے اچلپوری
----------------------
 ہر جگہ پر مرے خدا تنہا 
ہے فقط تیرا آسرا تنہا 
ساتھ رہتے ہیں سب مرے لیکن 
سانس لیتا ہوں میں سدا تنہا 
آخری وقت یاد رکھ تیرے 
کلمہ ہی ساتھ جائے گا تنہا 
ہر کسی کو ہی اپنی مدت میں 
کاٹنا ہے یہ فاصلہ تنہا 
موت محرم ہے اور بر حق ہے 
ملنے آئے گی برملا تنہا 
راہِ الفت میں ہجر کی شب سے 
ہوگا میرا بھی سامنا تنہا
اے خوشی ہنستے کھیلتے اک دن 
میرے گھر بھی کبھی تو آ تنہا
کن کے کہتے ہی ایک محور پر 
چل رہا ہے یہ قافلہ تنہا
جب بلائے کوئی اشارے سے 
تو معالےؔ نہ پاس جا تنہا 
-ـــــــــــــــــــــــــ-----------------------
33وسیم احسن ؔ،انڈیا 
-ـــــــــــــــــــــــــ-----------------------
بہہ گیا ابر آس کا تنہا
یوں جہاں سے میں ہو گیا تنہا
مجھ کو خود سے نکال دیتا ہے
تیری یادوں کا سلسلہ تنہا
تیری خوشبو سے رَہ معطّر تھا
تیرے در تک سو آ گیا تنہا
تجھ سا کوئی حسیں نہ دوجہ تھا
تُو ہی دل میں رہا سدا تنہا
گر تُو جی بھر کے دیکھتا مجھکو
میرے بارے میں سوچتا تنہا
میں بتاؤں گا دشمنی کا حل
تجھ میں دم ہے اگر، تو آ تنہا
رہ گئے میرے چاہنے والے
میں کتابوں میں آ گیا تنہا
ہے تعجّب کی بات کیا احسنؔ
تنہا آیا تھا چل دیا تنہا
-ـــــــــــــــــــــــــ-----------------------
34-غلام علی راجاؔ۔انڈیا 
-ـــــــــــــــــــــــــ-----------------------
شام تنہا، مری سحر تنہا 
کتنی ویران ، کس قدر تنہا 
جستجو میں تری یہ طائرِ دل  
پھر  رہا  ہے نگر  نگر  تنہا
بن ترے روز و شب گزارے ہیں 
انجمن  انجمن ، مگر  تنہا 
ہے میرے درد کا علاج  یہی 
چھوڑ دے مجھ کو چارہ گر تنہا
ہر نَفَس ساتھ ہیں تری یادیں 
نہیں رہتا میں لمحہ بھر تنہا
ہے وہ ایک ایک پل صدی پہ محیط 
کر رہا ہوں جو میں  بسر تنہا
روٹھ مت مجھ سے میری تنہائی 
یوں نہ جا مجھ کو چھوڑ کر تنہا
ذہن و دل جسم و جاں سے لے جو خراج
شاعری  ہے  وہی  ہنر تنہا
کہہ دوں سب دل کی ان کہی ! راجاؔ 
خود کو پا جاؤں میں اگر تنہا
---------------------
35-محمدندیم قاصؔ پاکستان
---------------------
شبِ دیجور میں بیٹھا ہے تنہا 
الجھائے  گیسو بیٹھا  ہے تنہا 
اک تمنا جو عمر بھر نامکمل رہی 
آرزوئےخام لیے بیٹھا ہے تنہا 
دنیا لگتی ہے کنج ِ  ذنداں  اِسے 
خندہ مینا سے گبھرائے بیٹھا ہے تنہا 
رقصاں ہیں نوعمر دسانِ چمن 
دور کیوں "عندلیب" بیٹھا ہے تنہا 
موضوع جو رکھ دیا وفا اہل ِ بزم نے 
اہلِ وفا میں وہ سست پیماں بیٹھا ہے تنہا 
قاصؔ تابہ اوجِ فلک تھے نازوانداز جسکے 
آج اُداس و آبدیدہ  وہ  بیٹھا  ہے  تنہا 

ـ----------------------
36-مائلؔ پالدھوی بھارت
----------------------
سوچتا ہوں کبھی کبھی تنہا 
کیسے کٹتی ہے زندگی تنہا 
کس طرف جاتا ہے خداجانے 
چھوڑ کر سب کو آدمی تنہا 
زخم دونوں کے دل میں ہے روشن
میں بھی تنہا ہوں آپ بھی تنہا 
صرف مٹی کا گھر بنانے میں 
میں نے اک عمر کاٹ دی تنہا 
پھول صحرا میں مسکراتے ہیں
دشت میں کھلتی ہے کلی تنہا 
اک ترے بعد زندگانی میں 
رنگ بھرتی ہے شاعری تنہا 
دیکھنا ہے کہ کیا نکلتا ہے
میں ہوں اور مری بے بسی تنہا 
کتنا رنگین ہے جہاں مائلؔ
کون جھیلے گا زندگی تنہا
-----------------------
37-خورشید زوہیب
-----------------------
تشنگی دل کی مٹا کر چلے جانا تنہا
جام نینوں سے پلا کر چلے جانا تنہا 
مرگ بستر پہ تڑپتا ہے ترا دیوانہ
اک جھلک اپنی دکھا کر چلے جانا تنہا 
عمر بھر ساتھ نبھانے کی نہیں گر فرصت
مختصر ساتھ نبھا کر چلے جانا تنہا
اب بھی ہم تم میں مراسم ہیں محبت والے
یہ رقیبوں کو بتا کر چلے جانا تنہا
اوڑھ کر میں تری یادوں کا کفن سو جاؤں 
مجھ کو مدہوش بنا کر چلے جانا تنہا
تو مجھے وادئ کشمیر میں تنہا کر کے
خون کے آنسو رلا کر چلے جانا تنہا
جل رہا ہوں میں ترے ہجر کی لو سے زوہیب
آتشِ ہجر بجھا کر چلے جانا تنہا
------------------------
38- روبینہ ممتاز روبی،پاکستان
-----------------------
ہم   نے  کاٹی   ہے   زندگی  تنہا 
غم ہو چاہے کہ ہو خوشی،  تنہا
حق   کہے  گی  زبان   یہ   چاہے
مجھکو  کردے  یہ  راستی  تنہا
اک دیا ہی  بہت  ہے  جو  کردے
گھپ اندھیرے میں روشنی تنہا
اس  کا  لہجہ  مجھے  ڈراتا   ہے
کر نہ دے اس کو  بے حسی تنہا
ساتھ یوں تو تھا عمر بھر کوئی
پھر  بھی  روبیؔ  مگر  رہی  تنہا
-----------------------    

شام بھی اکیلی ہے اور ہے سحر تنہا 
کس طرح کٹے گا اب یار یہ سفر تنہا

" ہم تو خیر کر لیں گے زندگی بسر تنہا " 
تم کہاں گزارو گے عمر مختصر تنہا

کاذبوں کی بستی میں ہم ہی حق بیاں ٹھہرے 
بس ہمیں کو جانا ہے آج دار پر تنہا

بوجھ کر سمجھ کر بھی راہِ پر خطر پر بھی 
چھوڑ کر چلے آئے مجھ کو راہبر تنہا

سارے شہر سے اس کو کب رہا کوئی مطلب 
چاہیے ہے حاکم کو صرف میرا سر تنہا

ہائے کیا قیامت ہے چین سے وہ سوتے ہیں 
کروٹیں بدلتے ہیں ہم ہی رات بھر تنہا

لگ رہا ہے آیئنہ رو برو کیا شاید 
آج آپ ہیں برہم کیوں وقار پر تنہا

وقار جعفری مالیگاؤں ۔ مہاراشٹر ۔ بھارت

=============================
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کلا و خطبۂ صدارت"
جناب شمیم زمانویصآح﷽
کلام 
جناب شمیم زمانوی، بنگلہ دیس
----------٭----------
بیچ تاروں کے ہے قمر تنہا
آج وہ بھی ہے بام پر تنہا
کوئ صحرا نورد آئے گا
اس کا ہے منتظر شجر تنہا
روشنی کیوں نہ ہو صداقت کی
دار پر ہے چراغِ سر تنہا
ساتھ چھوڑا سبھی نے غربت میں
کام  آیا  مرا  ہنر  تنہا
جب سے روپوش آدمیت ہے
بھیڑ میں بھی ہے ہر بشر تنہا
مفت بدنام  ہو گئ ہجرت
میں بھٹکتا ہوں دربدر  تنہا
ہر دریچے پہ سوچے حیرانی
کیا ہوئے لوگ کیوں ہے گھر تنہا
سر پھرا قیس کیا نہ آئے گا
خارزاروں کی رہگزر تنہا
راس آئ نہ جب شمیم خوشی
غم ہی سہنا ہے عمر بھرتنہا

 خطبۂ صدارت
جناب شمیم زمانوی، بنگلہ دیش
      ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری کے گروپ کے بارے میں مجھے ناکافی علم تھا کبھی کبھی میرے سٹ پر محترم توصیف ترنل صاحب Live پروگرام کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ اس Live پروگرام سے مزید کچھ معلومات حاصل ہوئیں ۔مگر اس گروپ کے بارے میں محترم امین جسپوری صاحب نے تفصیل سے آگاہ کیا تو میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ ہانگ کانگ سے یہ ادارہ لشکری بیگم کو سجانے اور سنوارنے میں مصروف ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک سے خدام اردو ادب اس ادارے کی مدد کر رہے ہیں۔ اور یہ ادارہ اپنے احباب کی مدد سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے ۔ 
           محترم امین جس پوری صاحب سے فیس بک کے ذریعہ بہت پرانے تعلقات ہیں ۔ ہم ایک دوسرے کی کاوش پر تبصرے کرتے رہتے ہیں ۔          
               تین روز قبل محترم امین صاحب نے فون کیا اور انہوں نے آج کے اس پروگرام کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کی صدارت آپ کو کرنی ہے ۔ اتنا سنتے ہی میری اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئ ۔ چند لمحوں بعد میں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے اتنے بڑے اور شاندار پروگرام کی صدارت میرے بس کا روگ نہیں ۔ آپ کسی لائق و فائق شخص کو اسکی صدارت دیں ۔ مگر انہوں نے میری ایک نہ سنی۔ اور اسطرح آج یہ خاکسار محجوبیت اور شرمساری کی ملی جلی کیفیت کے ساتھ صدارت کی مسند پر براجمان ہے ۔ 
              ذرے کو آفتاب بنانا محترم امین صاحب کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔ لیکن مجھے اپنی کم مائیگی کا شدت سے احساس ہے ۔ محترم امین صاحب نے آفتاب تو بنا دیا مگر آفتاب کے خواص آنے میں مدت لگ جائے گی میں نے کل پاکستان مشاعرے میں شرکت کی ہے ١٩٦٧ء میں جو شہر کھلنا میں کل پاکستان مشاعرہ ہوا اسکا آغاز میرے ہی کلام سے ہوا۔ وہ میری طالب علمی کا زمانہ تھا۔ آج کا مشاعرہ کل ہند یا کل پاکستان مشاعرہ نہیں بلکہ بین ا لاقوامی مشاعرہ ہے ۔ اس کی آن،بان اور شان ہی نرالی ہے ۔
              اس کا پروگرام جس ترتیب سے سجایا گیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے دنیائے اردو ادب کی بڑی بڑی قدآور شخصیتیں آج کے پروگرام میں شریک ہوئیں ۔ اس کی نظامت بھی اپنی مثال آپ رہی ۔ میں تمام شرکاء کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں خاص طور پر اس ادارے کے بانی اور سر پرست محترم توصیف ترنل اور محترم امین جس پوری صاحبان کا بے حد ممنون ہوں جن کی کوششوں سے اتنا خوبصورت اور مثالی پروگرام پایۂ تکمیل کو پہنچا ۔ جاتے جاتے اپنے بارے میں بھی کہتا چلوں کہ
  کس منہ سے اور بات کریں اب کیسی سے ہم
 قالین پر اچھل کے گئے ہیں دری سے ہم 
شمیم  زمانوی