Thursday, August 23, 2018

عالمی اجلاس و سرد مشاعرہ بیاد علی مزمل پروگرام نمبر 167




عالمی اجلاس و سرد مشاعرہ بیاد علی مزمل
پروگرام نمبر 167 ادارے میں سارے پروگرامز برائے تنقید ہوتے ہیں 
============================
ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری ہانگ کانگ کی جانب سے ممتاز شاعر جناب علی مزمل مرحوم کی یاد میں ایک تعزیتی اجلاس و سرد مشاعرہ منعقد کیا جا رھا ھے۔ سرد پروگرام میں آپ سب دوسرے شعرا کے چند اشعار پیش کر سکتے ہیں اور اپنی ایک کاوش بعنوان عید بھی پیش کر سکتے ہیں ۔۔۔آپ سب سے شرکت  کی درخواست ھے۔تاکہ ھم سب ملکرمحترم علمی مزمل جیسے مایہ ناز شاعر کو خراج تحسین پیش کر سکیں ۔۔۔۔۔
بمقام  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ادارے کی برانچ دی بیسٹ اردو پوئیٹری وائیس

بروز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہفتہ 
بتاریخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   25/08/2018
بوقت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٹھیک شام 7 بجےپابندی وقت کا خیال رکھیں۔

آپکی آمد کی منتظر:       
                                                    
توصیف ترنل --------- بانی و چیئرمین ادارہ
معاون انچارج پروگرام
 محترم عامر حسنی ملائیشیا
منجانب انتظامیہ 
============================
صدارت 
محترم شہزاد نیّر پاکستان 

مہمانانِ خصوصی
محترم مسعود حساس بھارت 
محترم ضیاء شادانی بھارت

مہمانانِ اعزازی 
محترم مائل پالدھوی سورت گجرات بھارت
محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی بھارت

نظامت
محترمہ ثمینہ ابڑو پاکستان 

رپورٹ 
محترم نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی (انڈیا) 

لائیوفیس بُک رپورٹ 
توصیف ترنل 

مقالہ
محترم ڈاکٹر ارشاد خان بھارت 

 حمد بارئ تعالیٰ
1)محترم انور کیفی صاحب(بھارت)
2)محترم ڈاکٹر ارشاد خان بھارت 

نعتِ پاک
3)محترم نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی (انڈیا)

دعامغفرت 
محترم وزیر احمد بجواتی پاکستان

=============================
شعرائے کرام
4)محترم علی شیدا کشمیر

5)محترم احمد کاشف مہاراشٹرا انڈیا

6)محترم عامر حسنی ملائیشیا

7)محترم خالد سروحی گکھڑ سٹی گوجرانوالہ

9)محترم اصغر شمیم،کولکاتا،بھارت

8)محترم اشرف علی اشرف سندھ پاکستان

9)محترم مشرف حسین محضر بھارت

10)محترم ثمریاب ثمر سہارنپور اترپردیش انڈیا

11)محترم اطہر حفیظ فراز فیصل آباد پاکستان

12)محترم ندیم اعجاز فیصل آباد پاکستان

13)محترمہ غزالہ انجم پاکستان

14)محترم صفی ربانی مانسہرہ پاکستان

15)محترم ظہیر احمد مغل حویلی کہوٹہ آزاد کشمیر

Wednesday, August 15, 2018

عالمی جشنِ آزادی مشاعرہ پیشکش ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری





عالمی جشنِ آزادی مشاعرہ 
ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری دورِ حاضر میں دنیا کا واحد ادارہ ہے جو اِس برقی ترقی یافتہ دَور میں شعراء، ادباء و مُصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسّانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے. ادارۂ ہٰذ میں تمام تر پروگرامز برائے تنقید منعقدکئے جاتے ہیں. عالمی سطح پر کامیابی کے ساتھ ادبی تنقیدی پروگرامز کا انعقاد یقیناً ادارۂ ہٰذا کی انفرادیت و مقبولیت نیز کامیابی کی ضمانت ہے. 
 یہ ادارہ اب تک اپنے 165 ہفتہ وار پروگرام منعقد کر چکا ہے۔ اور اپنا 166 واں ہفتہ وار پروگرام بعنوان"جشنِ آزادی" تاریخ 18 اگست 2018ء کو بروز ہفتہ بھارت کے وقت کے مطابق شام ساڑھے سات بجے اور پاسکتانی وقت کے مطابق شام سات بجے منعقد کرنےجا رہا ہے ۔ ادارہ اس جشنِ آزادی کے پروگرام کو عظیم بھارت کے منقسم ممالک موجودہ بھارت،پاکستان اور بنگلہ دیش کے قائدینِ اعظم ، مہاتما گاندھی،محمّد علی جناح اور شیخ مجیب الرّحمٰن کے نام سے منسوب  و معنون کرتا ہے۔ برِّ صغیر میں شامل ممالک کے آزاری کی دو عظیم  اور مقدّس تاریخیں 14 اگست اور 15 اگست ہیں ،لیکن بعد میں قائم ہونے والے ملک بنگلہ دیش کو بھی برّے صغیر کا اہم رکن ہونے کے سبب شامل رکھا گیا ہے۔  
 ادارہ ہٰذا کسی سیاسی تنظیم کا ترجمان نہیں ہے لیکن برِّ صغیر میں امن و سلامتی اور خوشحالی خواہاںضرور ہے۔ اس لئے اس" جشنِ آزادی "کے پروگرام کو برِّصغیرکے ان تینوں ممالک کے قائدین کے نام منسوب کر رہا ہے۔
 ادارہ برِّصغیر کے کسی خصوصی ملک کا ترجمان نہیں لیکن اس برِّ صغیر میں اردو زبان کے پیدا ہونے اس کی پرورش پانے اور پھلنے پھولنے والے سبھی علاقوں میں اردو کی مزید ترقی و ترویج  کے لئے وہاں امن و سکون اور خوش حالی کا خواہاں ہے۔ کیونکہ ان علاقوں امن وسکون مفقود ہوگا تو  اردو زبان کے فروغ کی راہیں بھی مسدود ہوںگی۔ اس نظریے سے ادارہ کشمیر کے علاقے میں امن و سکون اور خوشحالی کا خواہاں ہے۔ چاہے وہ آزاد کشمیر ہو یا پاکستانی یا بھارتی مقبوضہ کشمیر۔ادارے کوکشمیر کی سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ وہاں کے انتشار کے سبب اردو زبان کا جو نقصان اور زیاں ہوا ہے ادارہ اس کے لئے فکر مند ہے۔
 اسی لئے اس پروگرام"جشنِ ادارہ" میں شریک ہونے کے لئے اردو کے جملہ پرستاران کو جشنِ آزادی کے لئے کلام کہنے اور تخلیق فرمانے کی دعوت دی جاتی ہے۔
 شرکاء بطور خاص خیال فرمائیں کہ آپ کوئی کلام ایسا ہر گز پیش نہ فرمائیں جس سے بھارت پاکستان اور بنگلہ دیش کسی بھی ملک کے وقار کو کوئی ٹھیس پہنچے یا اس پر آنچ آئےیا ایسا کلام بھی پیش نہ فرمائیں جو مذکورہ کسی ایک ملک کی تعریف وتوصیف کا ترجمان ہو۔بلکہ اپنے کلام میں آزادی کے منجملہ تصور کا اظہار فرمائیں۔جو اردو کے فروٖ اور ترویج کے عوام کے دلوں تک رسائی حاصل کر سکے۔
 جشنِ آزادی کے اس پروگرام کے لئے کہے گئے جملہ کلام شعرا حضرات  15 اگست 2018ءبروزبدھ 12 بجے شب تک ادارے کے چیئر مین جناب توصیف ترنل یا وائس چیئر مین امین جس پوری کو میسج باکس کے توسل سے ارسال فرما دیں۔
 خیال رہے 18 اگست کو منعقد ہونے والےادارے کے ہفتہ وار پروگرام بعنوان" جشنِ آزادی" میں صرف 2 1 منتخب کلام کو شامل کیا جائے گا اور یہ منتخب کلام بھی برائے تنقید ہوں گے۔
 باقی اپنے  دوسرے کلام احبا ب وائس گروپ کی ٹائم لائن پرپوسٹ کر سکتے ہیں۔
 اگر احبا ب نے جوش و خروش سے اس پروگرام  میں شرکت کے لئے اظہار کیا اور کافی اور معیاری کلام کہے تو "جشنِ آزادی" کا دوسرا حصّہ اگلے ہفتہ منعقد کیا جا سکتا ہے۔
ان سبھی منتخب کلام کو ادارہ اپنی استطاعت کے مطابق سوشیل میڈیا پر دنیاا بھر میں مشتہر کرے گا۔اور ادارے کے ترجمان"آسمانِ ادب" میں بھی شائع کئے جائیں گے۔

=============================

صدارت
20-محترم ثمریاب ثمر اترپردیش انڈیا

مہمانِ خصوصی 
19-محترم شاہ روم خان ولی پاکستان 

مہمانِ اعزازی 
18-محترم بی ایم خان معالے اچلپوری بھارت

نظامت
محترم وسیم احسؔن،  ٹھاکرگنج بہار، بھارت 
1 to 10
محترمہ ڈاکٹر صابرا شاہین پاکستان
11 to 20

رپورٹ 
محترم عامر حسنی ملائیشیا 

ناقدین 
محترم شہزاد نیّر پاکستان 
محترم شفاعت فہیم بھارت 
محترم ضیاء شادانی بھارت

==========================

حمد
1-محترمہ صبیحہ صدف بھوپال بھارت

نعت 
2-محترم اطہر حفیظ فراز فیصل آباد پاکستان
3-محترم اظہر عاطف ناندورہ، مہاراشٹر

==========================

فہرست شعرا
4-محترم وسیم احسؔن ٹھاکرگنج بہار، بھارت

5-محترم اظہر عاطف، ناندورہ مہاراشٹر بھارت

6-محترم عامر حسنی ملائیشیا

7-محترمہ غزالہ انجم پاکستان

8-محترم مشرف حسین محضر بھارت

9-محترم رام بن جموں و کشمیر

10- محترم خالد سروحی گکھڑ سٹی گوجرانوالہ

11-محترم صفی ربانی مانسہرہ پاکستان

12- محترم اصغر شمیم،کولکاتا،بھارت

14-محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی مرادابادبھارت

15-محترم ڈاکٹر فرحت عباس اسلام آباد پاکستان

16-محترمہ نیر رانی شفق پاکستان

17-محترم عقیل احمد رضی ،ممبئ ،بھارت

Monday, August 6, 2018

ادارہ ،عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری مشاعرہ نمبر 165 ردیف تنہا



طرحی مشاعرہ

------ادارہ ،عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری-------
 ادارے کا ہفتہ وار165 واں پروگرام ردیف"تنہا"پر مبنی نیم طرحی مشاعرہ کے متوقع شعرا کا کلام و ان کی ترتیب ، تہنیت نامہ اور خطبۂ صدارت کی تفصیل

اردو ادب اور اردو تہذیب کی آبیاری میں فلموں جو تعاون رہا ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا
یکم اگست  1932 ءاردو کی نمائندہ فلم پاکیزہ کی ادا کاری مینا کماری کا یومِ پیدائش ہے۔ مینا کماری کا اصل نام ماجبیں  اور تخلّص نازتھا ۔ ان کے واحد شعری مجموعے "تنہا چاند " نے زبر دست مقبولیت حاصل کی۔ مینا کماری یعنی ما جبیں نازؔ کی مشہور زمانہ غزل ؎
چاند تنہا ہے آسماں تنہا
دل ملا ہے کہاں کہاں تنہا
ماہ جبیں ناز ؔمرحومہ کی یاد کو تازہ رکھنے کے لئےادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کے وائرس روپ کے جملہ ممبران کو مرحومہ ماہ جبیں ناز ؔ کے اس مصرعۂ طرح
چاند تنہا ہے آسماں تنہا
 کے مطابق نیم طرحی غزل کہنے کی دعوت دی جاتی ہے ۔
 آپ کے نیم طرحی کلام کی ردیف میں  لفظ"تنہا" ہونا ضروری ہے۔ بحر اور قوافی شعرءا خود اپنی مرضی سے قائم کر سکتے ہیں۔ 
 منتخب اور چنندہ طرحی غزلیات کوعالمی ماہ نامہ "آسمانِ ادب: ماہ ستمبر 2018ء کے شمارے میں شائع کیا جائے گا۔ کلام لطیف تغزّل سے بھرپور، رومانی اور بلیغ ہونا چاہے۔مضامین عامیانہ اور سطحی نہ ہوں۔مبتدی شعرا ء اپنا کلا م  کسی استاد شاعر کی اصلاح کے بعدہی پوسٹ فرمائیں۔
غیر موزوں کلام پوسٹ کرنے والےشعراء کو ادارے سے ریمو کردیا جائے گا۔ 
اس طرحی انعقاد میںصرف ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کے 255 ممبران کی شریک ہو سکتے ہیں۔ خیال رہے آپ ادارہ بیسٹ اردو پوئیٹری کے ترجمان"آسمانِ ادب" میں اشاعت کے لئے کلام کہہ رہے ہیں۔اس لئے بیسٹ کلام ہی شائع کئے جائیں گے۔
اپنی مکمّل غزل وائس گروپ کی ٹائم لائن پر پوسٹ فرمائیں۔ منتخب کلام وہیں سے ادارہ اخذ کر گے۔ مفرد اشعار ہر گز پیش نہ کئے جائیں۔ ۔ادارے کے کسی ممبر کو اس کا کلام منتخب نہ کیے جانے پر کوئی شکایت نہیں ہونی چاہئے۔
آپ کا کلام ، کلام کے محاسن کی بنیاد پر منتخب کیا جائے شخصت یا نام کے  سبب نہیں
کلام پوسٹ کرنے کی آخری تاریخ :10/اگست 2018ء ہے۔
11اگست 2018 شام سات بجے پروگرام کیا جائے گا 

=============================

آرگنائزر
امین جس پوری بھارت 
وائس چیئر مین ادارہ/چیف ایڈیٹر
عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب 
ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری

 سرپرست 
عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب 
ویب سائیٹس ایڈمن 
پبلشر
توصیف ترنل ہانگ کانگ
بانی و چیئرمین ادارہ

=============================

صدارت
29-محترم شمیم زمانوی فرام بنگلہ دیش

مہمانِ خصوصی 
29- محترم نازمظفرآبادی آزادکشمیر

مہمانِ اعزازی 
28-محترم انور کیفی مرادابادبھارت

ناقدین 
محترم شفاعت فہیم بھارت
محترم مسعود حساس کویت

مبصرین 
محترم ضیا شادانی بھارت 
محترمہ غزالہ انجم پاکستان

نظامت
محترمہ ثمینہ ابڑو پاکستان 
1 to10
محترم مختار تلہری بریلی اترپردیس بھارت
11 to 20
محترم وسیم احسؔن،  ٹھاکرگنج بہار، بھارت 
21 to 30

رپورٹ اردو
محترم نفیس احمد نفیس ناندوروی بھارت 

رپورٹ انگریزی 
محترم ڈاکٹرارشادخان بھارت

رپورٹ ہندی
محترم ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی انڈیا

رپورٹ سرائیکی
ہمرازاوچوی پاکستان

لائیو آڈیو رپورٹ 
فیس بُک و یوٹیوب
توصیف ترنل

مقالہ
محترم امیرالدین امیر بیدر بھارت 
محترم احمد کاشف بھارت

=============================

حمد
1-محترمہ غزالہ انجم پاکستان 

نعت  
2-محترم وسیم احسؔن ، بہار (بھارت)
3-محترم اطہر حفیظ فراز فیصل آباد، پاکستان

=============================

فہرست شعرا

4-اصغر شمیم،کولکاتا،بھارت

5-ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی انڈیا

6-ڈاکٹر مینا نقوی مرادابادبھارت

7-ڈاکٹر شاھد رحمان فیصل آباد

8-خالد سروحی گکھڑ سٹی گوجرانوالہ پاکستان

9-اسد ہاشمی بھارت 

10-دلشاد نسیم پاکستان 

11-علی شیدا کشمیر بھارت

12-مختار تلہری بریلی اترپردیس بھارت

13-اروی سجل پاکستان

14-شبانہ زیدی پاکستان

15عقیل احمد رضی ،ممبئ ،انڈیا

16-انعام الحق معصوم صابری

17-نفیس احمد نفیس ناندوروی بھارت 

18-امین جس پوری بھارت

19-احمد علی برقیؔ اعظمی‎ بھارت

20-فانی ایاز گولوی رام بن جموں و کشمیر

21-نفیسہ حیا,احمدنگر مہاراشٹر,(بھارت )

22-امین اڈیرائی پاکستان

23-قیوم راز مارولی جلگانو...انڈیا

24-ڈاکٹر احمد منظور کشمیر

25-ابن عظیم فاطمی کراچی.پاکستان

26-صبیحہ صدف بھوپال بھارت

27-عامر حسنی ملائیشیا

=============================

((((    حمد    )))

تیری حمد و ثنا میں کروں یا خدا 
اپنا رحم و کرم کر دے مجھ کو عطا

تو رحیم و کریم اور بخشندہ ہے
تیری ہی ذات جاوید و پائندہ ہے

آسمانوں زمینوں کا خالق ہے تو
ان میں موجود ہر جاں کا رازق ہے تو

تو اندھیرا کرے تو اجالا کرے
تو جسے چاہے ادنی'سے اعلی'کرے

تونے پیدا کئے بجا و شمس قمر 
رکھ دئے ہیں سمندر میں لعل و گہر 

یہ جمادات ہیں یی نباتات ہیں 
تیری قدرت سے ارض و مساوات ہیں 

میں سیہ کار ہوں میں خطاوار ہوں 
تیری رحمت کا مولی' طلب گار ہوں 

میری ناقص زباں میرا عاجز بیاں
میں گنہگار ہوں بخش دے مہرباں 

سر بہ سجدہ ہے تیرا سراجِ حزیں 
بخش اسے زاہدوں سا مزاجِ متیں

ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی انڈیا

=============================

محمد کی دعاؤں نے فلک سارے ھلا ڈالے، 
تکبر سے جو اٹھتے تھے، وہ سر نیچے جھکا ڈالے

عرب کی سرزمیں پہ خوگر توحید جو آیا، 
بتوں کے سب پجاری تھے، خدا والے بنا ڈالے

خداوند یگانہ کا جو اک نعرہ لگایا تھا، 
ھبل عزی لرز اٹھے، وہ اوندھے منہ گرا ڈالے

ستارے ضوفشاں دیکھو!! اسی کے دم قدم سے ھیں، 
وہ دھرتی چاند بنتی ھے وہ چس پہ نقش پا ڈالے

محمد حسن و احساں میں مرا دلبر جو ٹھہرا ھے،
کہاں ھے چاند میں جرآت کہ دل میں وہ شبہ ڈالے

ضلالت سے ھدائت تک سماں کچھ اس طرح بدلے، 
وہ جو کنکر کی مانند تھے وہ سب ھیرے بنا ڈالے

محمد کے چراغوں کی لہو سے لو بڑھائیں گے، 
بھلے دشمن ھمارا ھم پہ قدغن بھی لگا ڈالے

فراز!! المختصر یہ کہ محمد کی عنایت ھے، 
شب دیجور میں لاکھوں دئیے اس نے جلا ڈالے

اطہر حفیظ فراز پاکستان

=============================

نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم

حور و غلماں اے میاں نا مصر کا بازار ڈھونڈ
والضحٰی جن کی صفت ہے وہ حسیں سرکار ڈھونڈ

خاکِ طیبہ کا لگاکر سرمہ اپنی آنکھ میں
پڑھ تُو قرآنِ مقدّس نعت کے اشعار ڈھونڈ

 پہلے کر تسلیم تُو لَا تَرفَعُو اَصوَاتَکُم
لَا تَقُولُو رَاعِنَا پڑھ احمدی معیار ڈھونڈ

ہوتی ہے سجدوں کی قیمت کیا تُو سمجھے گی تبھی
"اے جبینِ آرزو سنگِ درِ سرکار ڈھونڈ"

مشکلوں میں مشکلیں ہی آئیں گی تجھکو نظر
کامیابی چاہیے گر مشکلوں کے پار ڈھونڈ

سنگِ طیبہ سے لگی ٹھوکر کرم کی بات ہے
جو ملے اس جاء سے احسؔن بس وہی آزار ڈھونڈ

وسیم احسؔن  ٹھاکرگنج بہار، بھارت

=============================

*ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری...*
 *"حمدیہ محفل، (داغ دہلوی ایوارڈ/ ۲۰۱۸)"*

*حمد بارئ تعالٰی*

*اعـلٰی مَقــام تیـرا ، اَفـضل کلام تیرا*
*مِدحَت سَرا دو عالم وہ پاک نام تیرا*  

*حَمدوثنا میں ڈوبی یہ کائنات ساری*
*مَمنون ہے اِلٰہی ، ہر خاص و عام تیرا*

*خـلّاق ِ کائـنات و ، رَزّاقِ کُل تُـو یا رَب*
*خَلقَت پہ ہَر گَھڑی ہے بَس فیض عام تیرا*

*مُوسیٰ کو دی سَماعَت تیری نَوازِشوں نے*
*اور کـوہِ طُور پر بھی گُونجـا کلام تیرا*

*یا رَب تری تَـجلّی کـوئی نہ دیکھ پایا*
*بَس تجھکو دیکھ پایا خَـیرالانام تیرا*

*جَـبّار ہے تُو یا رَب ، قَـہّار ہے تُو یا رَب*
*ہَرگز نہ سَہہ سَکینگے ہم اِنتَـقــام تیرا*

*جَبّار ہے تُو گرچہ ،  قَہّار بھی ہے لیکن*
*تیرے غضب پہ غالِب، رَحمان نام تیرا*

*مَولا، نَبی کے صَدقے آدَم کو تُو نے بَخشا*
*اُمّت بھی بَخش دینا، یا رَب ہے کام تیرا*

*تَوبہ نفـیسؔ کی تُو کر لے قبول یا رَب*
*آقــــا کا اُمّتی ہے ، بَنـدہ غُـــلام تیــرا*

*نفیسؔ ناندوروی، مہاراشٹر(اِنڈیا)*

*ادارۂ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کی جانب سے "آنلائن نیم طرحی مشاعرہ" ۱۱/۰۸/۲۰۱۸*
*پروگرام نمبر....165*
*آنلائن نیم طرحی مشاعرہ.....*
*ردیف...."تنہا"*
=============================
نیم طرحی کاوش....*
*نفیسؔ ناندوروی، مہاراشٹر (انڈیا)*
=============================

*مَوسَمِ  گُل  میں  ہر  شجر  تنہا*
*شوخ  بُلبل  بھی  ہے  مگر  تنہا*

*مَوسَمِ  دار  اب  ہے  گلشن  پر*
*صبر  ٹوٹے  ڈگر  ڈگر  تنہا*

*زعمِ  باطِل  کو  مِل  گئی  مَسنَد* 
*حق  بَیانی  ہے  دار  پر  تنہا*

*دامَنِ  دَشت  یوں  ڈرا  نہ  ہمیں*
*ہم  نے  کاٹے  کئی  سَفر  تنہا*

*اُڑ  گئے  پھر  بَہار  کے  پَنچھی*
*دیکھو  پھر  ہوگیا  شجر  تنہا*

*ساری  تنہائیاں  سمٹتی  ہیں*
*چَھت  پہ  آتا  ہے  جب  قمر  تنہا*

*شب  کی  تاریکیاں  مٹانے  کو*
*روز  آتی  ہے  اک  سَحَر  تنہا*

*ایک  تیری  ہی  دِید  کی  خاطر*
*پھرتا  رہتا  ہوں  دَر  بہ  دَر  تنہا*

*نِسبَتاً  بھی  نفیسؔ  لگتا  ہے*
*بزمِ  انجم  میں  اک  قمر  تنہا*

  *نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی...،* 
 *ضلع بلڈانہ، مہاراشٹر (انڈیا)*

=============================

4-اصغر شمیم،کولکاتا،بھارت
----------------------
کر رہا ہوں میں طے سفر تنہا
ہے کڑی دھوپ اور ڈگر تنہا
بند مٹھی میں تیری قسمت ہے
جو بھی کرنا ہے تجھکو کر تنہا
کتنے لوگوں کا پیٹ بھرتا ہے
بوجھ ڈھوتا ہوا وہ سر تنہا
جب ہوائیں مخالفت پر ہوں
کیسے رہ پائے گا شجر تنہا
شہر میں خوب گہما گہمی ہے
پھر بھی رہتا ہے کیوں بشر تنہا
سب ستارے کہاں گئے اصغرؔ
رات آیا نظر قمر تنہا
----------------------
5-ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی انڈیا
----------------------
میرے جینے کی آرزو تنہا
مار دے گی یہ جستجو تنہا
جو تری بے رخی سے ٹوٹ گیا
اب بھی کرتا ہوں دل رفو تنہا
اُن کا وعدہ کوئی وفا نہ ہوا
حسرتوں کا کیا لہو تنہا
اتنا رسوا کیا زمانے نے
لٹ گئی جو تھی آبرو تنہا
اس گھڑی میں تھا خود سے بیگانا
جب تھا میں ان کے روبرو تنہا
آج بھی میرے دل کے آنگن میں
بس رہی تیری باس و بو تنہا
آپ جب سے گئے ہو محفل سے
خود کو دیکھوں میں چار سو تنہا
----------------------
6-ڈاکٹر مینا نقوی مرادابادبھارت
----------------------
جیسے صحرا میں پڑا رہتا ہے پتھر تنہا 
کر گیا مجھ کو محبت کا وہ آزر تنہا
محفلیں لوگ سجاتے رہے اور ہنستے  رہے 
ہم سزاوارِ محبت رہے اکثر تنہا
اس کو ہم اپنا سمجھ کر رہے سرشار مگر
جذب کرتا رہا ندیوں کو سمندر تنہا
میرا دل توڑنے والے تجھے معلوم نہیں 
خوشبوؤں کی تھا ضمانت وہ گلِ تر تنہا
وقت کے ساتھ گیا چھوڑ کے سایہ مجھ کو
چڑھتے سورج نے کیا دھوپ کا منظر تنہا
دل طلبگارِ محبت ہے مگر کیا کیجے
خالی کاسہ لئے پھرتا ہے گدا گر تنہا
کوزہ گر چھوڑ گیا مجھ کو ادھورا لیکن 
چاک سے لپٹا رہا مٹی کا پیکر تنہا
نور سے حق کےجو معمور تھے سینےمیناؔ
لڑ گئے لاکھوں کے لشکر سے بہتر تنہا
----------------------
7-ڈاکٹر شاہد رحمان فیصل آباد
----------------------
 بناتا ہے کسی کے واسطے کوئی جو گھر تنہا
جہاں میں دیکھتے ہیں ہم اسی کو دربدر تنہا
پرندے اڑ گئے ہیں جب سے سارے فضاؤں میں
صدائیں دے رہا ہے رات دن دیکھو شجر تنہا
 ملیں گے راستے میں اور بھی دلکش نئے منظر
چلو گے تم زمانے میں اگر شام و سحر تنہا
وفائیں تم سمیٹو اور اب ہم کو اجازت دو
ہمیں کرنا ہے اب آگے میاں سارا سفر تنہا
نہیں کوئی ذرا بھی فکر دنیا میں اکیلے ہیں
ہمارے سامنے ہیں جب یہاں شمس و قمر تنہا

چاند تنہا ہے آسماں تنہا
عشق کا ہے میاں مکاں تنہا
وقت کے بیکراں سے کاغذ پر 
لکھ رہا ہوں میں داستاں تنہا
زندگی رات دن تری خاطر
دینا پڑتا ہے امتحاں تنہا
گھر بنائے کسی وہ چوٹی پر
دیکھنا ہے جسے، جہاں تنہا
دشت میں یا کبھی ہوں صحرا میں
پھر رہا ہوں کہاں، کہاں تنہا
کھو گیا اس میں ہے کیا تیرا
دیکھتا ہے جو آسماں تنہا
----------------------
8-خالد سروحی، پاکستان
----------------------
جل سے آنکھیں پرو لیے تنہا
ٰخار در پا چبھو لیے تنہا
اے محبت بس اک تری خاطر 
کارواں چھوڑے ہو لیے تنہا
لب تماشائی بن گئے تیرے
تھی خطا رنج جو لیے تنہا
آرزو تھی کہ وہ رہے دل میں 
یاد میں اسکی رو لیے تنہا
چھا نہ جائے جہان میں تیرگی
زلف مت آپ کھو لیے تنہا
رنگ ہاتھوں پہ بھی چڑھے جاناں 
مہندی یوں اب نہ گھولیے تنہا
رات بھر انتظار تھا جس کا 
کسی دامن میں سو لیے تنہا
ہم سنیں گے جو بھی کہیں گے آپ
آپ تو بس لفظ بولیے تنہا
تیرا جب شہر دیکھنے آئے 
بیچ پھولوں کے کھو لیے تنہا 
----------------------
9-اسد ہاشمی بھارت
----------------------
کس طرح کٹے گا یہ زیست کا سفر تنہا 
آکے مجھ سے مل جاؤ آپ ہو اگر تنہا
جو بھی چاہئے تم کو سب ملے گا اس در سے
کیوں بھٹکتے پھرتے ہو تم ادھر اودھر تنہا
اہل حق  کو ہے معلوم جاکے پوچھ سکتے ہو 
کیوں جلایا لوگوں نے آج میرا گھر تنہا
آج دل کی باتوں کو شعر میں میں ڈھالوں گا
ہے پتا کے مجھ میں ہے فن کا یہ زہر تنہا
آپ اپنے بارے میں سوچئے اسدؔ صاحب 
ہم تو خیر کرلیں گے زندگی بسر تنہا

سچ ہے اب مجھ سے تو یہاں تنہا 
ایک تم ہی ہو بدگماں تنہا          
گھول دیتی ہے رس یہ کانوں میں 
سب سے شیریں ہے یہ زباں تنہا
آج پھولوں پہ گفتگو ہو گی
یاں پہ بولے گا باغباں تنہا  
اتنے تاروں کے بیچ رہ کر بھی
چاند تنہا ہے آ سماں تنہا 
آپ گر رہنما نہ ہوتے تو
ہم  بھٹکتے کہاں کہاں  تنہا 
ہم کو معلوم ہے بروز حشر
ہوگا بس  تیرا سائباں تنہا
لوگ پوچھیں  گے وہ کہاں ہیں اسدؔ 
جاؤگے تم جہاں جہاں تنہا
----------------------
10-دلشاد نسیم پاکستان
----------------------
رہے گا چاند محبت کا یہ سدا تنہا 
جسے نصیب ہوا عشق ہو گیا تنہا
بٹانے آئے تھے تنہائی چاند کی تارے 
مگر وہ دے نہ سکے شب کو آسرا تنہا 
سجا رہی ہوں محبت سے اس کو کمرے میں 
رہے گا ذات میں لیکن یہ آئینہ تنہا 
بلاؤ مجھ کو اشارے سے یا صدائیں دو 
  نہ مجھ سے ہو گا کبھی طے یہ فاصلہ تنہا 
کبھی تو آ کے مرے غم کو بانٹ لو جاناں 
اٹھاؤں کیسے میں یہ بار ہجر کا تنہا
جنوں کی موج ہے ہمراہ ہیں جہاں والے 
ذرا جو ہوش میں آیا وہ ہو گیا تنہا 
بتاؤ کیسے میں دلشادؔ تم کو کہتی رہوں 
چھپا کے رکھتی ہو ہر اشک آنکھ کا تنہا

----------------------
11-علی شیدا کشمیر بھارت
----------------------
میرا رونا مری ہنسی تنہا
زندگی ہے گزررہی تنہا
شہرِ الفت بسانے والا آج
ہے بھٹکتا گلی گلی تنہا
بھیڑ میں اس قدر ہے تنہائی
موت تنہا ہے زندگی تنہا 
تیرے جانے کے بعد گاؤں میں
چاند تنہا ہے چاندنی تنہا
گنگناتے ہیں وصل کے نغمے
ہجر زادے کبھی کبھی تنہا
مجھ میں رہتی ہے اب دھواں بن کر
گرم یادوں کی اک صدی تنہا
پھر حویلی میں آگئی رہنے
کوئی دلہن نئی نئی تنہا
رہ گیا کٹ کے آدمیّت سے
دورِ حاضر کا آدمی  تنہا
پہلے بھی تھا کوئی کوئی ہوتا
اب تو  شیداؔ ہے ہر کوئی تنہا
----------------------
12-مختار تلہری بھارت
----------------------
نیم طرحی غزل... ردیف... تنہا

کوئ  محفل  ہو  مگر  لگتا  ہوں تنہا  تنہا
سوچئے  مجھ سے زیادہ  کوئی ہو گا تنہا

چھوڑ کرجانےکی دھمکی نہ دیاکرمجھکو
میری عادت میں توویسےبھی ہےرہنا تنہا

چپقلش میں ہی گزرتےہوں شب وروزاگر
ایسی  قربت سے بہت  اچھا  ہے رہنا تنہا

لمحہ لمحہ  تری  یادیں مرے  ہمراہ رہیں
مجھ کو حالانکہ سمجھتی رہی دنیا تنہا

آپ  کو  میری اجازت کی ضرورت کیا ہے
جب   کبھی  آنے  کا  من  ہو  چلے آنا تنہا

جب  مرا  ساتھ نبھانا  تجھے منظور نہیں
تیری خواہش  ہی اگر ہے تو جا کر جا تنہا

میری  تنہائ  نے  مختار   مرا   ساتھ   دیا
رہ کےتنہابھی نہ خودکوکبھی سمجھا تنہا

مختار تلہری بریلی اترپردیس انڈیا
----------------------
14-شبانہ زیدی پاکستان
----------------------
  چار سو راکھ کے انبار سے دیکھے تنہا
سب نظارے ہی دھواں دھار سے دیکھے تنہا
کوئی کیا نقش تراشے گا حقیقت سے یہاں
لوگ بکتے ہوئے کردار سے دیکھے تنہا
پیار کا خواب نگاہوں مں لیے صبح تک میں نے
کچھ ستارے بھی شرربار سے دیکھے تنہا
قریہ دل میں کو ئی لمحہ سکوں کا کیا ہو
لوگ اپنے سے ہی بیزار سے دیکھے تنہا
   یہ جو بیٹھی ہو ں بس اک شہر لیے پانی کا
کچھ عجب لوگ خریدار سے دیکھے تنہا
کیسے نبٹے گا غم دہر سے ہر ایک ادھر
بے گنہ اب تو گنہگار سے دیکھے تنہا
حال دل کیسے کہوں اور شبیںؔ میں کس سے
لوگ جتنے ہیں ستم گار سے دیکھے تنہا  
----------------------
15عقیل احمد رضی  ممبئی،انڈیا
----------------------
دل ہے تنہا ہے جان و تن، تنہا
ہجر کی رات میں بدن تنہا
یاد کے آہو ہیں رمیدہ اب
کب ہُوا ہے یہ دل کا بَن تنہا
سیلِ افراد ہے زمانے میں
چہ عجب است، ہے زمن تنہا
لے گئ رنگ و بو خزاں اب کے
رہ گیا ہے فقط چمن تنہا
چاند ڈوبا، ستارے غرق ہوئے
صرف باقی ہے اک گگن تنہا
روح نکلی تو پیچھے چھوڑ گئ
ایک خاکی سا پیرہن تنہا 
جانِ محفل تھے جو کبھی اب وہ
پہنے لیٹے ہیں اک کفن تنہا
ہے ریا کار سب زمانے میں 
سادگی میں ہیں ہم مگن تنہا
ذکر تیرا تھا میرے شعروں میں
تو نہیں جو تو ہے سخن تنہا
کوئی خوبی نہیں رضیؔ تجھ میں
ہاں مگر ایک ہے یہ فن تنہا
----------------------
16-انعام الحق معصوم صابری
----------------------
"چاند تنہا ہے آسماں تنہا"
ہجر میں ہے لگے جہاں تنہا
اور عاشق ہیں دشت میں پھرتے
راہ میں قیس ہے کہاں تنہا
تجھ کو چاھا صنم بہت ہم نے
تو وہاں اور ہم یہاں تنہا
اب نہ موسم بھی بن ترے اچھا
یہ بہاریں بھی , ہے خزاں تنہا
اس کے معصوم وصل سے میرے
اب نہیں دل کا بھی جہاں تنہا
----------------------

18-امین جس پوری بھارت
----------------------
نیلگوں فضاؤں میں، چاند تنہا تنہا ہے
دوٗر تک خلاؤں میں، چاند تنہا تنہا ہے
ہم نشیں ستارے ہیں، اور نہ ساتھ جگنو ہیں
ریشمی گھٹاؤں میں، چاند تنہا تنہا ہے
لذّتِ غمِ دل نے محفلیں چُھڑا دی ہیں
درد کی دعاؤں میں، چاند تنہا تنہا ہے
آرزو بھڑتی ہے، حسرتیں سلگتی ہیں
صندلی چتاؤں میں، چاند تنہا تنہا ہے
نورمند سیّارے، ہیں کنارہ کش سارے
اپنے ہمنواؤں میں، چاند تنہا تنہا ہے
فطرتاً مقیّد ہے، تابشوں کے مرکز میں
نور کی شعاؤں میں، چاند تنہا تنہا ہے
اپنا ہی بدن خود ہی ڈس رہی ہے رعنائی
سرمئ رداؤں میں، چاند تنہا تنہا ہے
کھینچتی ہیں آنچل کو، چھیڑ تی ہیں گیسو کو
سر پھری ہواؤں میں، چاند تنہا تنہا ہے
ہجر، رنجشیں پیہم، طنز و طعن رسوائی
عشق کی بلاؤں میں، چاند تنہا تنہا ہے
عصمت و تقدّس پر گرد چڑھ کے بیٹھی ہے
وقت کی ہواؤں میں، چاند تنہا تنہا ہے
دل نے ڈر کے ظلمت سے، آفتاب مانگا تھا
اب مری دعاؤں میں، چاند تنہا تنہا ہے
----------------------
19-احمد علی برقیؔ اعظمی‎ بھارت
----------------------
بن تمہارے ہے یہ جہاں تنہا
’’ چاند تنہا ہے آسماں تنہا ‘‘
آکے اس کو کروگے کب آباد
میرے دل کا ہے یہ مکاں تنہا
منتظر ہیں یہ جاں بلب آنکھیں
رہوں کب تک میں نیم جاں تنہا
ایسا لگتا ہے مجھ کو چاروں طرف
چاند تنہا ہے کہکشاں تنہا
تیرہ و تار زندگی ہے مری
ہر طرف ہے دھواں دھواں تنہا
جب سے روٹھی ہے مجھ سے جانِ بہار
گلشنِ دل میں ہے خزاں تنہا
کوئی بھی ہمنوا نہیں ملتا
رہوں کب تک میں بے زباں تنہا
کچھ بتاتے نہیں ہو کیوں آخر
کیا رہوں یونہی نوحہ خواں تنہا
میرا مسکن جہاں بھی ہو برقی
میں یہاں بھی ہوں اور وہاں تنہا

خراجِ عقیدت
پیش کرتا ہوں میں اُس مینا کماری کو خراج
جو دلوں پر کرتی تھی اپنی اداکاری سے راج
مہ جبیں بانو سے جو مینا کماری بن گئی
دلبری اور دلنوازی کا تھا اس میں امتزاج
سن بہتّر میں جو اس دنیا سے رخصت ہو گئی
حکمراں ہے وہ دلوں پر آج بھی بے تخت و تاج
فلمی دنیا میں ہے جس کا شہرۂ آفاق نام
رہتی دنیا تک کریں گے پیش سب اس کو خراج
مِٹ نہیں سکتے کبھی اُس کے نقوشِ جاوداں
جیسے تھے مقبول کل وہ، ویسے ہیں مقبول آج
اُس اداکارہ کا سب سے منفرد انداز تھا
غمزدہ انسانیت کی تھی صدائے احتجاج
تھی اداکارہ وہ جیسی ویسی ہی تھی شاعرہ
غم کی اک ملکہ تھی،جس کا دردِ دل تھا لا علاج
’’جوار بھاٹا‘‘ اور ’’پاکیزہ‘‘ میں اپنے کام سے
کردیا پیدا دلوں میں اہل دل کے اختلاج
پردۂ سیمیں پہ تھیں جس کی ادائیں دلنواز
فلم بینوں کی تھی برقیؔ اعظمی وہ ہم مزاج
----------------------
20-فانی ایاز گولوی رام بن کشمیر
----------------------
گزاری ہے میں نے جو زندگی تنہا
کبھی  مٹ نہ سکی ہے تشنگی تنہا
سجائے پھول ہیں گلشن میں جو یارو
ہے مالی کی یہ بھی وابستگی تنہا
بجھاؤ گر چراغوں کی یہ محفل تم
جلاؤں گا غموں کی روشنی تنہا
گزر جائے کبھی وہ رات میری بھی 
ڈسیں گے جب اجالے مجھ کو ہی تنہا
ہوں لاکھوں لوگ تیرے ساتھ اے فانیؔ
لحد میں تم نے جانا ہے کبھی تنہا

----------------------
21-نفیسہ حیاؔ، احمدنگربھارت 
----------------------
میں یہاں ہوں وہ وہاں تنہا 
ہے رواں زیرِ لب فغاں تنہا 
گلشنوں کی بہار کر کے تباہ 
رقص کرتی ہے اب خزاں تنہا  
تو بچا لے خدا سفینہ کو 
زورِ طوفاں ہے بادباں تنہا 
روٹھ کر تو گیا ہے جب مجھ سے 
میرے دل کا ہے یہ مکاں تنہا 
جب زباں اُس نے کاٹ لی میری 
آنکھ کرتی ہے  پھر بیاں تنہا 
زخم چھوکر جو تو نے دیکھا تھا 
ہے معطر وہی نشاں تنہا 
جانے کس کی نظر لگی اُن کو 
"چاند تنہا ہے آسماں تنہا"
زیست کیسے حیاؔ گزارے گی 
ہجر کے غم میں جانِ جاں تنہا 
----------------------
22-امین اڈیرائی پاکستان
----------------------
  تنہا ہو کے بھی جو نہیں تنہا
بیٹھا ہوگا یہیں کہیں تنہا
اک طرف نفرتوں کی بارش تھی
اک طرف تھا دلِ حزیں تنہا
شہرِ یاراں میں اب بھی رہتے ہیں 
کچھ  مکانوں میں کچھ مکیں تنہا
 رات کے پچھلے پہر سپنے میں 
روز ملتا ہے اک حسیں تنہا
آسماں کا بھی خیر ہو لیکن
ہونے دینگے نہ ہم زمیں تنہا
عالمِ کربِ خوں کے پیاسے تیر
اور سجدے میں اک جبیں تنہا
کل تلک ساتھ ساتھ تھا جو امین 
اب وہ رہتا ہے ہم نشیں تنہا
----------------------
23-قیوم راز مارولی
----------------------
تھاجو محفل میں بھی کھڑا تنہا
وہ اکیلا کہاں چلا تنہا
باہرِ آئینہ بھی ہے تنہا
آئینے میں بھی تھا کھڑا تنہا
ہے زمیں پر دھواں دھواں مرا دل
مہہ فلک پر ہے جل رہا تنہا
وقت آتاہے، کاٹتا ہے یہاں
ہر کوئی شخص راستا تنہا
ایک دل ہی نہیں دماغ کے بھی
کتنے فتنوں سے میں لڑا تنہا
میں نے آواز دی نہ آیا کوئی
آخرش میں ہی چل پڑا تنہا
میرا گھر میں نے ڈھایا، ملبے تلے
کیا نتیجہ ہوا؟ دبا تنہا
اٹھ گئے چہرہ دیکھنے والے
آئینہ گھر میں ہے پڑا تنہا
غور سے دیکھاپھر ملا جس سے
چہرہ چہرہ مجھے لگا تنہا
اے سیاست رذیل تونے ہر اک۔۔
نیک انسان کو کیا تنہا
مہہ جبیں، ناز، مینا پردے پر
عکس تیرا صدا رہا تنہا
رات بھر اپنی آگ میں اے راز۔
میں ہوں جلتا ہوا دیا تنہا
----------------------
25-ابن اعظیم فاطمی،پاکستان
----------------------
کٹ گئ عمر رائیگاں تنہا
اب پھریں گےکہاں کہاں تنہا
ہم نہ ہوں گے تو کیسے سنبھلے گی
تجھ اکیلے سے یہ جہاں تنہا
سب نے اپنا نشان چھوڑا ہے
میں فقط کیوں ہوں بے نشاں تنہا
آپ کیسے رہیں گے سوچا ہے
مجھ سے ہوکر جدا وہاں تنہا
کتنی دنیا بسی ہوئ ہے وہاں
کب ہوا ہے وہ آسماں تنہا
اک نظر اس طرف بھی ہو جائے
کیوں رہیں ہم بھی مہرباں تنہا
سارے مل کر جو کر نہیں پاتے
کام کرتی ہے وہ زباں تنہا
لازمی ہے عمل بھی شامل ہو
بے اثر ورنہ ہے بیاں تنہا
ساحلوں کے بنا عظیمؔ میاں
کچھ نہیں بحر بیکراں تنہا
تہنیت نامہ:از- ابن عظیم فاطمی

میں ابن عظیم فاطمی کراچی پاکستان بھائ توصیف ترنال کے فیس بک میسیج کو پڑھ کر بہت متاثر ہوا اور فوری طور پر غزل ہوگئ جو انہیں بھیج دی .پھر واٹس اپ کا نمبر انہوں نے عنایت کیا اور رابطے کی صورت بنی. مجھے اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ بھائ شمیم زمانوی اس نشست کی صدارت فرما رہے ہیں جبکہ دنیا بھر سے معروف اور اہم اہل قلم کے ساتھ اس خاکسار کو بھی شرکت کا موقع عطا کیا گیا ہے جو یقینی طور پر ایک اعزاز کی بات ہے.
فیس بک اور واٹس ایپ پر ادارے کی کرگزاریوں کی تفصیلات اور رپورٹس پڑھ کر معلوم ہوا آپ نے ادب کی ترویج و اشاعت کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے جو انتہائ قابل تحسین ہے.یہ کام یقینی طور پر ایک آدمی کا نہیں ساتھ احباب بھی اہم اور ضروری ہیں لیکن تحریک ایک آدمی ہی سے شروع ہوتی ہے اور پھر قافلہ بن جاتا ہے.جہاں اور بہت سے احباب آپ کے ساتھ پیش پیش ہیں وہیں محترم امینن جس پوری کی خدمات بھی قابل تعریف ہیں کہ آسمان ادب جیسا مربوط,بھرپور اور اہم سلسلہ بھی چلا رہے ہیں.میری طرف سے ادارہ عالمی بیسٹ  اردو پوئٹری کے تمام اراکین کو ڈھیروں مبارکباد.164 پروگرام بہت بڑی تعداد ہوتی ہے اور یہ 165واں پروگرام آپ کی مستقل مزاجی کی واضح دلیل ہے.اللہ آپ تمام احباب کی کوششوں کو تقویت اور مقبولیت عطا فرماۓ.آمین
ابن عظیم فاطمی..کراچی.پاکستان

----------------------
26-صبیحہ صدف بھوپال بھارت
----------------------
دھوپ ہے زندگی سفر تنہا
کاٹنی ہے یہ رہ گزر تنہا

کوئ مل جائے تو مقدر ہے
ورنہ ہر گام ہر ڈگر تنہا

کیسی منزل پہ آگئے ہیں ہم
ہم سفر ہوکے بھی مگر تنہا

اب میں تنہائ کی علامت ہوں
دل بھی تنہا میرا جگر تنہا

ایک تمہاری تلاش میں جاناں
بھٹکے کتنا نگر نگر تنہا

شبِ فرقت ہے ایک بس میں ہوں
جاگنا ہے سحر سحر تنہا

بھول جاؤ اسے "صدف" رانی
کاٹنا تمکو ہے سفر تنہا
صبیحہ صدف بھوپال بھارت
----------------------
27-عامر حسنی، ملائیشیا
----------------------
روح تنہا رُواں رُواں تنہا
قلب تنہا ہے میری جاں تنہا
اپنی آنکھیں جھپک نہ پائے ہم
دل میں اترا وہ  جان ِجاں تنہا
کاش حسن و جمال کو پائیں 
ہائے قلب و نظر زباں تنہا
گلبدن انگ انگ مہکانے
آبھی جاؤ نہ مہرباں تنہا
خوش نصیبی انہیں بنا لائی
دل کے آنگن میں میہماں تنہا
ایک مہمان آبسا دل میں 
اور شاعر ہے میزباں تنہا
ان کی آنکھوں نے صاف کہہ ڈالا
رہ نہ پائیں گے شادماں تنہا
روٹھ جانے سے ان کے یہ عالم
ارض تنہا ہے آسماں تنہا
اپنے عامرؔ کو جو ہیں تڑپائیں
لوگ تنہا وہ خانداں تنہا
----------------------
28- جناب انور کیفی، انڈیا
----------------------
خود سے ہوں محوِ گفتگو تنہا 
کاش آئے وہ روبرو تنہا 
اک ہی خواہش ہے آرزو تنہا 
ساتھ میرے ہو تو ہی تو تنہا 
ایسا تنہا ہوں سارے عالم میں 
کرتا رہتا ہوں ہاؤ ہو تنہا 
عشق حق ہے نماز کی صورت 
جس کو پڑھتے ہیں باوضو تنہا 
علم و فن کی تلاش میں اکثر 
پھرتا رہتا ہوں کو بہ کو تنہا 
زندگی بے سکون ہے 'انورؔ
 میں اِدھر اور اُدھر ہے تو تنہا
----------------------
29- نازمظفرآبادی کشمیر
----------------------
آپ کا شہر اور ہم تنہا 
جھیلتے ہیں ہراک ستم تنہا 
دعوۂِ دوستی تمہیں بھی تھا
ہم نے رکھامگر بھرم تنہا
لوگ چلتے ہیں ساتھ ساتھ مگر
پھر بھی ہوتے ہیں ہر قدم تنہا
کیا پتہ تم کو،تیرے حصّے کے
ہم اُٹھاتے رہے الم تنہا
ورنہ ہم ایک میں کئی سو تھے
کر گیا ہم کو تیرا غم تنہا
ہجر میں آسماں بھی روتا ہے
آنکھ میری نہیں ہے،نم تنہا
یہ ثمردار کا سلیقہ ہے
شاخ ہوتی نہیں ہے،خم تنہا
سچ لکھا تو سبھی نے چھوڑ دیا
ایک ساتھی رہا قلم تنہا
دل بغاوت پہ کیوں اُتر آیا
پہلے ہی نازؔ کیا تھے کم تنہا
----------------------
تہنیت نامہ:از- نازمظفرآبادی کشمیر
-----------------------
 ادارہ 'بیسٹ اردو پوئٹری،اپنے منفرد پروگرامز اور ادرو ادب کی ترقی و ترویج کے لیے جس طرح دن رات کوشاں ہے،اس کا اعتراف ہر فورم پر کیا جانے لگا ہے،ادارہ کی مفید اور روایت سے ہٹ کر نت نئی سوچ کے ساتھ اردو ادب کی خدمات قابلِ تحسین ہیں،جن کا نہ سراہا جانا قرین انصاف نہ ہوگا،
 میں ادارہ ہذا کے روح رواں جناب توصیف ترنل(ہانگ کانگ)اور ان کے تمام رفقائے کار کو مبارک باد پیش کرتا ہوں،
 آج کے اس غیر معمولی پروگرام میں میری بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت میرے لئے نہایت خوشی اور اعزاز کی بات ہے،اس پزیرائی و عزت افزائی کے لیے میں جناب توصیف ترنل،انتظامیہ اور ادارہ کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں،
 دعا ہے اس ادارہ کے افراد اسی محنت،جانفشانی اور محبت سے اردو اب کی خدمت کا اہم فریضہ سرانجام دیتے رہیں.
نازمظفرآبادی.
----------------------
30-  شمیم زمانوی، بنگلہ دیس
----------------------
بیچ تاروں کے ہے قمر تنہا
آج وہ بھی ہے بام پر تنہا
کوئ صحرا نورد آئے گا
اس کا ہے منتظر شجر تنہا
روشنی کیوں نہ ہو صداقت کی
دار پر ہے چراغِ سر تنہا
ساتھ چھوڑا سبھی نے غربت میں
کام  آیا  مرا  ہنر  تنہا
جب سے روپوش آدمیت ہے
بھیڑ میں بھی ہے ہر بشر تنہا
مفت بدنام  ہو گئ ہجرت
میں بھٹکتا ہوں دربدر  تنہا
ہر دریچے پہ سوچے حیرانی
کیا ہوئے لوگ کیوں ہے گھر تنہا
سر پھرا قیس کیا نہ آئے گا
خارزاروں کی رہگزر تنہا
راس آئ نہ جب شمیم خوشی
غم ہی سہنا ہے عمر بھرتنہا

---------------------
31-امیر الدّین امیرؔ ،بھارت
----------------------
آرزو تھی کبھی میں آپ سے ملتا تنہا 
پھر لکھا تھا مری تقدیر میں رہنا تنہا 
میرے محبوب مرے غم کو مٹا دے یکسر 
تابکہء دشت میں پھرتا ہوں میں تنہا تنہا 
تیری دم بھر کی جدائی بھی نہیں مجھ کو قبول 
چھوڑکر تجھ کو میں کس طرح رہوں گا تنہا 
فصلِ گُل میں بھی اکیلا رہوِں کیسے ممکن 
کیسے دیکھوں گا کسی پھول کا چہرہ تنہا 
ڈر ہے تقدیر نہ دونوں کو جدا کردے پھر 
کبھی ایسا نہ ہو رہ جاؤں اکیلا تنہا 
دن محبت کے گزرتے ہیں بہاروں کی طرح 
چھوٹ کر تم سے کبھی رہ سکوں گا تنہا 
جب محبت مری تکمیل کو پا جائے امیر 
پھر فقط میں رہوں اور قبر کا گوشہ تنہا
----------------------
32-بی ایم خان معالے اچلپوری
----------------------
 ہر جگہ پر مرے خدا تنہا 
ہے فقط تیرا آسرا تنہا 
ساتھ رہتے ہیں سب مرے لیکن 
سانس لیتا ہوں میں سدا تنہا 
آخری وقت یاد رکھ تیرے 
کلمہ ہی ساتھ جائے گا تنہا 
ہر کسی کو ہی اپنی مدت میں 
کاٹنا ہے یہ فاصلہ تنہا 
موت محرم ہے اور بر حق ہے 
ملنے آئے گی برملا تنہا 
راہِ الفت میں ہجر کی شب سے 
ہوگا میرا بھی سامنا تنہا
اے خوشی ہنستے کھیلتے اک دن 
میرے گھر بھی کبھی تو آ تنہا
کن کے کہتے ہی ایک محور پر 
چل رہا ہے یہ قافلہ تنہا
جب بلائے کوئی اشارے سے 
تو معالےؔ نہ پاس جا تنہا 
-ـــــــــــــــــــــــــ-----------------------
33وسیم احسن ؔ،انڈیا 
-ـــــــــــــــــــــــــ-----------------------
بہہ گیا ابر آس کا تنہا
یوں جہاں سے میں ہو گیا تنہا
مجھ کو خود سے نکال دیتا ہے
تیری یادوں کا سلسلہ تنہا
تیری خوشبو سے رَہ معطّر تھا
تیرے در تک سو آ گیا تنہا
تجھ سا کوئی حسیں نہ دوجہ تھا
تُو ہی دل میں رہا سدا تنہا
گر تُو جی بھر کے دیکھتا مجھکو
میرے بارے میں سوچتا تنہا
میں بتاؤں گا دشمنی کا حل
تجھ میں دم ہے اگر، تو آ تنہا
رہ گئے میرے چاہنے والے
میں کتابوں میں آ گیا تنہا
ہے تعجّب کی بات کیا احسنؔ
تنہا آیا تھا چل دیا تنہا
-ـــــــــــــــــــــــــ-----------------------
34-غلام علی راجاؔ۔انڈیا 
-ـــــــــــــــــــــــــ-----------------------
شام تنہا، مری سحر تنہا 
کتنی ویران ، کس قدر تنہا 
جستجو میں تری یہ طائرِ دل  
پھر  رہا  ہے نگر  نگر  تنہا
بن ترے روز و شب گزارے ہیں 
انجمن  انجمن ، مگر  تنہا 
ہے میرے درد کا علاج  یہی 
چھوڑ دے مجھ کو چارہ گر تنہا
ہر نَفَس ساتھ ہیں تری یادیں 
نہیں رہتا میں لمحہ بھر تنہا
ہے وہ ایک ایک پل صدی پہ محیط 
کر رہا ہوں جو میں  بسر تنہا
روٹھ مت مجھ سے میری تنہائی 
یوں نہ جا مجھ کو چھوڑ کر تنہا
ذہن و دل جسم و جاں سے لے جو خراج
شاعری  ہے  وہی  ہنر تنہا
کہہ دوں سب دل کی ان کہی ! راجاؔ 
خود کو پا جاؤں میں اگر تنہا
---------------------
35-محمدندیم قاصؔ پاکستان
---------------------
شبِ دیجور میں بیٹھا ہے تنہا 
الجھائے  گیسو بیٹھا  ہے تنہا 
اک تمنا جو عمر بھر نامکمل رہی 
آرزوئےخام لیے بیٹھا ہے تنہا 
دنیا لگتی ہے کنج ِ  ذنداں  اِسے 
خندہ مینا سے گبھرائے بیٹھا ہے تنہا 
رقصاں ہیں نوعمر دسانِ چمن 
دور کیوں "عندلیب" بیٹھا ہے تنہا 
موضوع جو رکھ دیا وفا اہل ِ بزم نے 
اہلِ وفا میں وہ سست پیماں بیٹھا ہے تنہا 
قاصؔ تابہ اوجِ فلک تھے نازوانداز جسکے 
آج اُداس و آبدیدہ  وہ  بیٹھا  ہے  تنہا 

ـ----------------------
36-مائلؔ پالدھوی بھارت
----------------------
سوچتا ہوں کبھی کبھی تنہا 
کیسے کٹتی ہے زندگی تنہا 
کس طرف جاتا ہے خداجانے 
چھوڑ کر سب کو آدمی تنہا 
زخم دونوں کے دل میں ہے روشن
میں بھی تنہا ہوں آپ بھی تنہا 
صرف مٹی کا گھر بنانے میں 
میں نے اک عمر کاٹ دی تنہا 
پھول صحرا میں مسکراتے ہیں
دشت میں کھلتی ہے کلی تنہا 
اک ترے بعد زندگانی میں 
رنگ بھرتی ہے شاعری تنہا 
دیکھنا ہے کہ کیا نکلتا ہے
میں ہوں اور مری بے بسی تنہا 
کتنا رنگین ہے جہاں مائلؔ
کون جھیلے گا زندگی تنہا
-----------------------
37-خورشید زوہیب
-----------------------
تشنگی دل کی مٹا کر چلے جانا تنہا
جام نینوں سے پلا کر چلے جانا تنہا 
مرگ بستر پہ تڑپتا ہے ترا دیوانہ
اک جھلک اپنی دکھا کر چلے جانا تنہا 
عمر بھر ساتھ نبھانے کی نہیں گر فرصت
مختصر ساتھ نبھا کر چلے جانا تنہا
اب بھی ہم تم میں مراسم ہیں محبت والے
یہ رقیبوں کو بتا کر چلے جانا تنہا
اوڑھ کر میں تری یادوں کا کفن سو جاؤں 
مجھ کو مدہوش بنا کر چلے جانا تنہا
تو مجھے وادئ کشمیر میں تنہا کر کے
خون کے آنسو رلا کر چلے جانا تنہا
جل رہا ہوں میں ترے ہجر کی لو سے زوہیب
آتشِ ہجر بجھا کر چلے جانا تنہا
------------------------
38- روبینہ ممتاز روبی،پاکستان
-----------------------
ہم   نے  کاٹی   ہے   زندگی  تنہا 
غم ہو چاہے کہ ہو خوشی،  تنہا
حق   کہے  گی  زبان   یہ   چاہے
مجھکو  کردے  یہ  راستی  تنہا
اک دیا ہی  بہت  ہے  جو  کردے
گھپ اندھیرے میں روشنی تنہا
اس  کا  لہجہ  مجھے  ڈراتا   ہے
کر نہ دے اس کو  بے حسی تنہا
ساتھ یوں تو تھا عمر بھر کوئی
پھر  بھی  روبیؔ  مگر  رہی  تنہا
-----------------------    

شام بھی اکیلی ہے اور ہے سحر تنہا 
کس طرح کٹے گا اب یار یہ سفر تنہا

" ہم تو خیر کر لیں گے زندگی بسر تنہا " 
تم کہاں گزارو گے عمر مختصر تنہا

کاذبوں کی بستی میں ہم ہی حق بیاں ٹھہرے 
بس ہمیں کو جانا ہے آج دار پر تنہا

بوجھ کر سمجھ کر بھی راہِ پر خطر پر بھی 
چھوڑ کر چلے آئے مجھ کو راہبر تنہا

سارے شہر سے اس کو کب رہا کوئی مطلب 
چاہیے ہے حاکم کو صرف میرا سر تنہا

ہائے کیا قیامت ہے چین سے وہ سوتے ہیں 
کروٹیں بدلتے ہیں ہم ہی رات بھر تنہا

لگ رہا ہے آیئنہ رو برو کیا شاید 
آج آپ ہیں برہم کیوں وقار پر تنہا

وقار جعفری مالیگاؤں ۔ مہاراشٹر ۔ بھارت

=============================
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کلا و خطبۂ صدارت"
جناب شمیم زمانویصآح﷽
کلام 
جناب شمیم زمانوی، بنگلہ دیس
----------٭----------
بیچ تاروں کے ہے قمر تنہا
آج وہ بھی ہے بام پر تنہا
کوئ صحرا نورد آئے گا
اس کا ہے منتظر شجر تنہا
روشنی کیوں نہ ہو صداقت کی
دار پر ہے چراغِ سر تنہا
ساتھ چھوڑا سبھی نے غربت میں
کام  آیا  مرا  ہنر  تنہا
جب سے روپوش آدمیت ہے
بھیڑ میں بھی ہے ہر بشر تنہا
مفت بدنام  ہو گئ ہجرت
میں بھٹکتا ہوں دربدر  تنہا
ہر دریچے پہ سوچے حیرانی
کیا ہوئے لوگ کیوں ہے گھر تنہا
سر پھرا قیس کیا نہ آئے گا
خارزاروں کی رہگزر تنہا
راس آئ نہ جب شمیم خوشی
غم ہی سہنا ہے عمر بھرتنہا

 خطبۂ صدارت
جناب شمیم زمانوی، بنگلہ دیش
      ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری کے گروپ کے بارے میں مجھے ناکافی علم تھا کبھی کبھی میرے سٹ پر محترم توصیف ترنل صاحب Live پروگرام کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ اس Live پروگرام سے مزید کچھ معلومات حاصل ہوئیں ۔مگر اس گروپ کے بارے میں محترم امین جسپوری صاحب نے تفصیل سے آگاہ کیا تو میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ ہانگ کانگ سے یہ ادارہ لشکری بیگم کو سجانے اور سنوارنے میں مصروف ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک سے خدام اردو ادب اس ادارے کی مدد کر رہے ہیں۔ اور یہ ادارہ اپنے احباب کی مدد سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے ۔ 
           محترم امین جس پوری صاحب سے فیس بک کے ذریعہ بہت پرانے تعلقات ہیں ۔ ہم ایک دوسرے کی کاوش پر تبصرے کرتے رہتے ہیں ۔          
               تین روز قبل محترم امین صاحب نے فون کیا اور انہوں نے آج کے اس پروگرام کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کی صدارت آپ کو کرنی ہے ۔ اتنا سنتے ہی میری اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئ ۔ چند لمحوں بعد میں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے اتنے بڑے اور شاندار پروگرام کی صدارت میرے بس کا روگ نہیں ۔ آپ کسی لائق و فائق شخص کو اسکی صدارت دیں ۔ مگر انہوں نے میری ایک نہ سنی۔ اور اسطرح آج یہ خاکسار محجوبیت اور شرمساری کی ملی جلی کیفیت کے ساتھ صدارت کی مسند پر براجمان ہے ۔ 
              ذرے کو آفتاب بنانا محترم امین صاحب کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔ لیکن مجھے اپنی کم مائیگی کا شدت سے احساس ہے ۔ محترم امین صاحب نے آفتاب تو بنا دیا مگر آفتاب کے خواص آنے میں مدت لگ جائے گی میں نے کل پاکستان مشاعرے میں شرکت کی ہے ١٩٦٧ء میں جو شہر کھلنا میں کل پاکستان مشاعرہ ہوا اسکا آغاز میرے ہی کلام سے ہوا۔ وہ میری طالب علمی کا زمانہ تھا۔ آج کا مشاعرہ کل ہند یا کل پاکستان مشاعرہ نہیں بلکہ بین ا لاقوامی مشاعرہ ہے ۔ اس کی آن،بان اور شان ہی نرالی ہے ۔
              اس کا پروگرام جس ترتیب سے سجایا گیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے دنیائے اردو ادب کی بڑی بڑی قدآور شخصیتیں آج کے پروگرام میں شریک ہوئیں ۔ اس کی نظامت بھی اپنی مثال آپ رہی ۔ میں تمام شرکاء کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں خاص طور پر اس ادارے کے بانی اور سر پرست محترم توصیف ترنل اور محترم امین جس پوری صاحبان کا بے حد ممنون ہوں جن کی کوششوں سے اتنا خوبصورت اور مثالی پروگرام پایۂ تکمیل کو پہنچا ۔ جاتے جاتے اپنے بارے میں بھی کہتا چلوں کہ
  کس منہ سے اور بات کریں اب کیسی سے ہم
 قالین پر اچھل کے گئے ہیں دری سے ہم 
شمیم  زمانوی

Sunday, July 29, 2018

ادارے کا 163 واں منفرد عالمی تنقیدی پروگرام کا انعقاد کیا گیا




رپورٹ   ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی انڈیا

عالمی شام چار شعراء کے ساتھ تنقیدی پروگرام

28 جون 2018 بروز ہفتہ ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کی شاخ بیسٹ اردو پوئیٹری وائرس کی جانب سے واٹس ایپ پر ادارے کا 163 واں منفرد عالمی تنقیدی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، پروگرام پاکستان کے وقت کے مطابق شام 7 بجے جبکہ ہندوستانی وقت کے مطابق شام 7-30 بجے شروع کیا گیا جسکی صدارت محترم سید ایاز مفتی صاحب ہوسٹن ٹیکساس امریکہ نے فرمائی جبکہ مہمانِ خصوصی اسکرپٹ رائٹر محترمہ  دلشاد نسیم صاحبہ پاکستان تھیں، پروگرام کی نظامت کے فرائض محترمہ ثمینہ ابڑو صاحبہ پاکستان نے شاندار طریقے سے انجام دے اس پروگرام کے آرگنائزر محترم توصیف ترنل صاحب ہانگ کانگ تھے جو کے اس ادارے کے بانی و چیئرمین بھی ہیں جبکہ تنقید و تبصرے کے فرائض محترم ضیاء شادانی صاحب انڈیا، محترمہ غزالہ انجم صاحبہ بورے والا پاکستان و محترم مائل پالدھوی صاحب انڈیا نے عمدہ طور پر انجام دے
اس پروگرام میں ہر ایک شاعر سے اپنا مختصر تعارف و پانچ غزلیں برائے تنقید پیش کرنے کے لئے کہا گیا تھا
پروگرام حمد باری تعالیٰ سے شروع کیا گیا جس کے لئے محترم امین جسپوری صاحب کو دعوت سخن دی گئی
حمد پاک
تو ہی وقف ہے کیا، کس شے میں ہے حکمت تیری
ماروا وہم گمان سے بھی ہے، خلقت تیری

ترجماں تیری ہی عظمت کے ہیں سب لوح و قلم
تیری قدرت کے نشاں، آسماں، جنّت تیری
**************************
اس کے بعد نعتِ دسول پیش کی گئی جس کے لئے ارشد محمود ارشد صاحب سرگودھا پاکستان کو دعوت کلام دی گئی
نعت رسول
اس لئے دوسروں سے اعلیٰ ہوں
آپ کی نعت کہنے والا ہوں

دھڑکنوں کی صدا ہے نعتِ نبی
آپ کا نام لے کے جیتا ہوں
**************************
اس کے بعد ایک اور نعتِ رسول پیش کی گئی جس کے لئے محترم اطہر حفیظ فراز صاحب  فیصل آباد پاکستان کو دعوت سخن دی گئی
نعت رسول
مہ و مہر و اختر حضور آپ کے ہیں
یہ گردش پہ محور حضور آپ کے ہیں

سبھی انبیاء سے سبھی اصفیا سے
مقامات بڑھ کر حضور آپ کے ہیں
**************************
اس کے بعد باقاعدہ مشاعرے کا دور شروع ہوا قارئین کی دلچسپی کے لیے سبھی شعرا کا نمونہ کلام، تنقیدی گفتگو و تبصرے رقم کئے جارہے ہیں

محترم سید ایاز ابنِ مفتی صاحب (صدرِ مشاعرہ)

مجھ کو ساحل کی کہانی نہ سنائیں جائیں
پہلے طوفان سے کشتی کو بچائیں جائیں

میں دیا ہوں تو فقط کام مرا جلنا ہے
آندھیاں کام کریں اپنا بجھائیں جائیں

پوچھئے مت رات میں نے کب کہاں کی سیر کی
فکر نے میرے مکاں کی لا مکاں کی سیر کی

وہ مرے ہمراہ تھا جیسے کہ ہم ہوں بال و پر
خواب کے براق پر تھے کل جہاں کی سیر کی

آئینہء حالات پہ مفتی کی غزل ہے
اک شوخیء جزبات پہ مفتی کی غزل ہے

نازل جو ہوئیں عشق میں اک مضحفِ دل پر
وہ پیار کی آیات یہ مفتی کی غزل ہے

سید ایاز مفتی صاحب
کی شخصیت پر
اجمالی جائزہ 
از قلم !   مائل پالدھوی( بھارت)
==='=================
ادرارہء عالمی  بیسٹ  اردو پوئٹری (وائرس) نے صرف اس ترقی یافتہ دور میں  اردوادب کی خدمات ہی انجام نہیں دی بلکہ پوری دنیا کے شعراء ادباء و مصنفین کو ایک مرکز پہ لاکر متعارف بھی کروایا اردو کی محبت میں اتنی بڑی قربانی دینا معمولی بات نہیں 
ادارءہھذا کے بانی وچیرمن اور تمام انتظاميہ کو دلی مبارکباد 
محترم المقام عزیم المرتبت قبلہ سید ایاز مفتی صاحب کے تعارف نامے میں آپ کی ایک جمالیاتی غزل  اور نعت شریف کا ایک بہت ہی خوبصورت شعر پڑھادل کو بے خوشی ہوئ کہ ایسی معتبر شخصیت کے کمالِ فن پہ کچھ کہنے کا موقع ملا کہ جنہوں نے اردوشاعری میں نعت گوئ کو اپنا مرکزِ فکر بنایا
اردوادب میں نعت گوئ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے
نعتیہ شاعری مذہبی شاعری کی اولیات میں شامل ہے جس کاتعلق دینی احساس ! صِدق واخلاص سے ہے
حضورؐ کی ذات و صفات کا احاطہ کرنے کے لیۓ ہر عہد کے شعراءنے اپنی ذہنی اور قلبی  صلاحیتوں سے کام لیا اور اپنے عہد کے حساب سے اس میں معنویت اور جدت پیدا کی موصوف کایہ شعر اسی بات پر دلالت کرتا ہے
ساری دنیاکے عطر سے دھویا
لب کو پھر جرت کلام نہیں 
بہترین شعر خوبصورت اندازِ بیان رحمتِ عالمؐ سے سچی عقدتوں کااعلان کرہا ہے
موصوف کا نام ادب کی دنیا میں  محتاجِ تعارف نہیں   آپ کو نعت گوئ میں  ایک مقام حاصل ہے
میں ان کے نعتیہ مجموعہ کلام ”رہبر و رہنما “کی 
 کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوۓ دعاگو کہ اللہ 
رب العزت نعت گوئ کے فن کو مذید جِلا بخشےو
تماتر مصیبتوں اور بلاوں سے محفوظ رکھے
آمین ثم آمین
تبصره  مائل پالدھوی بھارت

**************************
محترمہ دلشاد نسیم صاحبہ (مہمانانِ خصوصی)
پچھلے پہر کے نیند سے جاگی ہوئی ہوں میں
یہ کیسے اصطراب سے بندھی ہوئی ہوں میں

دھڑکا سا مجھکو بجھنے کا ہے بھی نہیں بھی ہے
جیسے کسی چراغ میں رکھی ہوئی ہوں میں

نہ جانے کیسی محبت کے وعدے رات جلے
جلا جو خط تو سکھی دونوں میرے ہاتھ جلے

گزارا دن جو اداسی میں شام کہنے لگی
بہت اکیلی ہوں میں کوئی میرے ساتھ جلے

درد دل کا کفیل ہوتا ہے
ہجر کا بھی قبیل ہوتا ہے

یاد آیا نہ کر نمازوں میں
میرا سجدہ طویل ہوتا ہے

اشک آنکھوں میں چھپاتے ہوئے روتی ہوں بہت
حالِ دل اس کو سناتے ہوئے روتی ہوں بہت

روشنی کمرے میں تھی وہ یونہی شب بھر جاناں
پر کوئی بات بتاتے ہوئے روتی ہوں بہت
**************************
محترم احمد علی برقی اعظمی صاحب دہلی انڈیا

سیاست میں اراکاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے
اداکاری و عیّاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے
ہے اس کی بد گمانی ایک ذہنی کرب کا باعث
مسلسل اک دلآزاری جو پہلے تھی سو اب بھی ہے

مجھکو بس اس کی رضا درکار ہے
فکر اسبابِ وفا درکار ہے
جس میں شامل شربت دیدار ہو
دردِ دل کی وہ دوا درکار ہے

آپ کا حسنِ عمل حسنِ بیاں تک پہنچے
دل میں جو بات نہاں ہے وہ زباں تک پنہچے
آئیے ایسی فضا امن کی ہموار کریں
حسنِ نیت جو یہاں ہے وہ وہاں تک پنہچے

تھے جتنے یار چپ سادھے ہوئے ہیں
سبھی اغیار چپ سادھے ہوئے ہیں
جو تھے سردار چپ سادھے ہوئے ہیں
پسِ دیوار چپ سادھے ہوئے ہیں

کیوں کریں شکوہ کسی سے اپنی ہم تقدیر کا
صاف جب اپنے لئے ہے راستہ تدبیر کا
اب بھروسہ آٹھ گیا ہے عدل کی زنجیر کا
کیوں بتاتے ہیں عدو وہ مجھکو ہی تعزیر کا

السلام علیکم!
محترم احمد علی برقی ایک زود گو شاعر ہیں اور ہم اکثر گروپ میں ان کی زود گوئی سے فیض یاب ہوتے ہیں۔۔۔ہر موضوع پر شعر کہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔آپ کی شاعری پر بات کرنا باعث اعزاز ہے۔۔آپ نے اپنے تعارف میں جس طرح اپنی زندگی کے سفر اور ہمسفروں کے بارے میں جس طرح خوبصورتی سے بیان کیا ہے وہ قابل ستائش ہے۔
آپ کی غزل نمبر 1 نظر کے سامنے ہے۔۔۔حسب حال ہے۔۔۔معاشرتی مسائل کی خوب عکاسی کی ہے۔ہر شعر میں ایک نیا مسئلہ بیان کیا گیا ہے اور خوب کیا گیا ہے۔۔

غزل نمبر 2۔۔۔اس غزل میں آپ کی زود گوئی کی صلاحیت کا اظہار ہے۔۔اچھی غزل ہے۔۔۔مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ قافیہ بندی پر زور دیا گیا ہے۔یعنی اشعار کی تعداد میں اضافہ اصل  مقصود ہے۔۔

غزل 3۔۔۔مطلع کا دوسرا مصرع کمزور ہے بلکہ ایک رکن اضافی ہے اور تر تیب بہتر نہ ہونے کی وجہ سے روانی بے حد متاثر ہوئ ہے محسوس ہوتا ہے۔اسی وجہ سے بحر کا بھی مسئلہ دکھائی دیتا ہے۔۔
اس غزل میں روانی کی کمی اکثر جگہوں پر محسوس ہوئی 

غزل نمبر 4
اچھی ردیف ہے اور خوب نبھائی بھی گئ ہے۔۔۔کہیں کہیں ایک شعر کے دونوں مصرعوں میں باہمی تلازم کی کمی محسوس ہوتی ہے۔۔جبکہ انفرادی حیثیت میں ہر مصرع خوب ہے۔۔۔اچھی پر لطف غزل ہے

غزل 5۔۔۔اچھی غزل ہے۔۔۔خیالات بھی اچھے ہیں۔۔۔
ایک مصرع شاید ٹاءپنگ مسٹیک ہے
"رخ ہوا کا ایک یہ جانب نہیں رہتا سدا"
اس مصرعے میں یہ کی جگہ شاید" ہی" ہے
قافیہ خوب ہے۔۔اچھا برتا بھی گیا ہے۔۔۔خیال بھی اچھے ہیں۔
مجموعی طور پر احمد علی برقی ایک اچھے شاعر ہیں ۔لفظوں اور خیال پر گرفت رکھتے ہیں۔۔اور ہر خیال کو رنگ سخن دینے کی صلاحیت سے بہرہ مند ہیں۔۔
اللہ پاک ان کی صلاحیتوں اور کامیابیوں میں مزید اضافہ فرمائے۔۔۔
مبصر:۔۔۔غزالہ انجم
---------------------------
جناب احمد علی برقی صاحب ایک ذود گو شاعر ہیں، آجکل ایسے شاعر کم دیکھنے میں آتے ہیں وہ ایک الھامی شاعر معلوم ہوتے ہیں ان کے اشعار میں بہت روانی ہے بہت اچھے شاعر ہیں اس گروپ کے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ ان جیسا شاعر یہاں موجود ہے
ضیاء شادانی انڈیا
------------------------------

احمد علی برقی اعظمی صاحب کے کلام میں دریا کی سی روانی ہے، تسلسل کی خوبصورتی سمائے ہوئے ہے ایک ہی مضمون کو ایک سے زائد بار باندھ دیتے ہیں سبھی غزلیں بہت خوبصورت ہیں ایک جیسے مضامین کو ایک سے زائد بار نہ باندھا جائے
سعید احمد صاحب
**************************

محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی صاحب انڈیا

بلندیوں کا تھا جو مسافر وہ پستیوں سے گزر رہا ہے
کہ جیسے دن کا سلگتا سورج سمندروں میں اتر رہا ہے
تمہاری یادوں کے پھول ایسے سحر کو آواز دے رہے ہیں
کہ جیسے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا مری گلی سے گزر رہا ہے

یہ مت سمجھنا فقیر ہوں میں
انا کے حق میں کثیر ہوں میں
مجھے ستارا سمجھنے والو
فلک پہ بدرِ منیر ہوں میں

رت میں ہے کیسی سرگم
آنکھیں ہیں پر نم پر نم
آندھی نے کیا ظلم کیا
شاخیں کرتی ہیں ماتم

سرد سرد موسم میں، بھیگتے اندھیرے میں، زندگی گزرتی ہے
شکل ایک مبہم سی، آئینے میں آنکھوں کے، چپکے سے سنورتی ہے
عمر کٹ گئی ساری، یوں ہی دشت و صحرا میں، اک تلاشِ مبہم میں
جانے کس لئے پھر بھی راستوں پہ لاحاصل، جستجو ٹھہرتی ہے

یوں تو کچھ بھی نہیں عیاں مجھ میں
ہے مگر کہکشاں نہاں مجھ میں
ربط رکھتے ہوئے زمین کے ساتھ
جزب سارا ہے آسماں مجھ میں


مینا نقوی کی ہیں غزلیں  دلنشیں 
ان کے حسنَ فکر و فن پر آفریں
ہے نمایاں ان سے عصری حسیت
کرتی ہے ہموار جو فکری زمیں
برقی اعظمی
------------------------------------- 
تنقید و تبصرہ 

محترمہ مینا نقوی صاحبہ کا کلام زیر نظر ہے۔۔۔بلاشبہ آپ ایک بلند پایہ شاعرہ ہیں۔۔۔بہت سے ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں۔آپ جیسی سینئر شاعرہ کے کلام پر بات کرنا میری خوش بختی ہے۔جس کے لیے میں عالمی ادارہ اردو بیسٹ پوئٹری  اور جناب توصیف ترنل صاحب کی ممنون ہوں۔
بہر طور کوشش کی ہے کہ ذمہ داری کا حق ادا کر سکوں۔

غزل ۔۔۔1۔۔۔بلندیوں کا تھا جو مسافر۔۔۔۔
مترنم اور نازک خیالات پر مبنی غزل ہے۔۔مطلع بہت خوبصورت ہے۔۔۔تشبہیہ کا بہترین استعمال کیا گیا ہے
پوری غزل ہلکے پھلکے خیالات پر مبنی ہے۔ اچھے الفاظ کے ساتھ رواں دواں اور سلاست سے بھر پور غزل  ہے۔۔

غزل نمبر 2۔۔یہ مت سمجھنا فقیر ہوں میں

اس غزل میں محترمہ مینا نقوی صاحبہ بھر پور انانیت اور خود پرستی کے اظہار  کے ساتھ دکھائی دیتی ہیں۔۔۔کبھی کبھی حالات کے دامن میں کچھ ایسی تلخیاں ہوتی ہیں کہ مزاج درشت ہو ہی جاتا ہے اور انسان کی انا اسے مجبور کر دیتی ہے کہ تلخیوں  کا جواب دیا جائے۔۔اور اس جواب کے اظہار اور اپنا آپ منوانے کی خواہش میں انسان خود پرست بھی ہوجاتا ہے اور انا پرست بھی۔محترم شاعرہ اس غزل میں کچھ ایسی ہی کیفیت سے دوچار نظر آتی ہیں جو بہر طور زندگی کا حصہ ہے۔
مطلع۔۔۔دیگر اشعار۔۔۔غرض یہ خود نمائی مقطع تک تمام اشعار میں دکھائی دیتی ہے۔۔۔
کہیں کہیں اسے اس حد تک قبول کیا جانا نا قابل قبول بھی ہو جاتا ہے۔۔۔بہرحال کیفیت کی سچائی شاعر بذات خود ہی سمجھ سکتا ہے۔

غزل 3۔۔۔رت میں ہے کیسی سرگم
 ۔۔خوبصورت مترنم غزل ہے۔۔۔تمام اشعار میں سادگی  سے مفہوم واضح کیا گیا ہے ۔چھوٹی بحر  میں اچھے لفظیات پر مبنی اچھی غزل ہے

غزل 4۔۔۔ سرد سرد موسم میں۔۔۔
تیسرے شعر میں حبس کی ہواءوں کا ذکر کیا گیا جو عجیب محسوس ہوا۔۔۔کیونکہ  ہوا نہ ہو گھٹن ہو تب حبس کہلاتا ہے۔۔۔۔اگر ہوا گرم ہو تو لو کہلاتی ہے مگر حبس میں ہوا کا ہونا حبس کا خاتمہ ہے۔۔جبکہ ذکر حبس کا ہے۔
آخری شعر کا پہلا مصرع ترتیب میں کچھ اور بہتر ہوسکتا تھا۔۔
باقی اچھی اور منفرد غزل ہے۔۔ماشاءاللہ

غزل 5۔۔۔۔یوں تو کچھ بھی نہیں عیاں مجھ میں

تمام غزل اچھے اشعار پر مبنی ہے۔۔خاص طور پر یہ شعر نہائت خوب صورت ہے کہ
ربط رکھتے ہوئے زمیں کے ساتھ
جذب سارا ہے اسماں مجھ میں
ڈھیروں داد
۔چھوٹی بڑی تمام بحور میں محترمہ مینا نقوی صاحبہ کو عبور حاصل ہے۔نسائی جزبات و خیالات کی بھر پور آئینہ دار ہیں۔لفظوں کی تراش خراش مصرع سازی  اور روانی جیسے بنیادی علم سے واقف ہیں
میری طرف سے ڈھیروں دعائیں محترمہ ڈ اکٹر مینا نقوی صاحبہ کے لیے ۔۔
اللہ مزید عزت شہرت اور کامیابیوں سے نوازے

مبصر: غزالہ انجم
----------------------------------------
ڈاکٹر مینا نقوی ایک ایسی شاعرہ کا نام ہے جس کو شاعری کا جنون سوار ہے وہ ایک خوبصورت نظامِ مشاعرہ بھی ہیں میں نے ان کو کبھی غصہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا وہ ایک اچھی شاعرہ کے ساتھ ایک اچھی انسان بھی ہیں بہت اچھے اشعار کہتی ہیں ان کو الفاظ پر بہت زبردست دسترس حاصل ہے اور خوبصورت اشعار بہت آسانی سے کہہ جاتی ہیں ہندوستان کی اس شاعرہ کا دنیا کی گنی چنی شاعرات میں شمار ہوتا ہے جنکو اللہ نے بہت صلاحیتوں سے نوازہ ہے خوبصورت اشعار کہتی ہیں
ضیا شادانی انڈیا
----------------------------------------
مینا نقوی کی ہیں غزلیں  دلنشیں 
ان کے حسنَ فکر و فن پر آفریں
ہے نمایاں ان سے عصری حسیت
کرتی ہے ہموار جو فکری زمیں
برقی اعظمی
----------------------------------------
محترم مسعود حساس صاحب کویت
غزلیں
چکّر میں ترے آکے بہل جاؤں کیا کروں
اے چاک تری ضد پہ بدل جاؤں کیا کروں
ساری حدوں کو توڑ دیا میں نے طیش میں
اب دائرے سے میں بھی نکل جاؤں کیا کروں

بھٹک نہ پائے مگر شخصیت بھگو ہی گئ
وہ ایک بوند تھی جو قلب و روح دھو ہی گئی
خطا معاف مرا حرف حرف سورج تھا
تمہاری آنکھ ہی کچھ دیر تم سے کھو ہی گئی

اک سیل معانی کا کوزے میں ٹھہر جانا
آساں نہیں غزلوں کا کاغذ پہ اتر جانا
دستور غزل کا ہے جزبات کی عکاسی
الفاظِ کی حیئت میں تصویر ابھر آنا
نظمییں
"ہم سایہ"
میں اپنی ذات کی پارہ دری کے آنچل میں
اگرچہ قید میں ہوں اک طویل مدت سے
مگر فتین نگاہوں کا حسنِ ظن یہ ہے
مرا وجود ہے پارا صفت عجب ہیئت
ہزار دام بھی اس کے لئے کھلونا ہے
"انکشاف"
عزاب وقت کے ابرو کی نوک آرائش
عجیب فلسفہ حکمِ امیر سے چسپاں
زمین خون سے رنگین چار سو وحشت
افق پہ دور کہیں حسرتوں کے مرقد پر
اداس گرد میں لپٹی ہوئی ہے قوسِ قزح

جناب مسعود حساس صاحب صدی کے عظیم شخصیت ہیں ان پر کہنے کی جسارت کر رہا ہوں، وہ لوگ جو ترقی کی منازل پار کر چکے ہیں ایسے لوگوں کے لیے ان کے علم کی خوبیاں، ان کے اشعار کی خوبیاں، زبان و بیان کی خوبیاں، الفاظ کا چناؤ، مزاج کی گہرائی کی خوبیاں بیان کرنا ایک مشکل کام ہے وہ ایک صاحب دیوان شاعر ہیں خلیج میں پہلے صاحب دیوان کے اعزاز سے نوازے گئے ہیں ان کے اشعار زبردست ہیں ان کے بارے میں اگر دفتر کے دفتر کہے جائیں تو کم ہیں
ضیاء شادانی انڈیا
----------------------------------------

محترم المقام جناب مسعود حسساس صاحب بہترین  نقاد شاعر وادیب اور قادر الکلام شخصیت ہے جو اپنے موضوعات و خیالات کو فنی پختگی و
فکری صلاحیتوں کے ساتھ ادا کرنے کا ہنر جانتے ہیں
انہوں نے اپنی شاعری میں عصری تقاضوں امتزاج بھی رکھا ہے اور روایات کی پاسداری بھی کی ہے
زندگی کی تلخیوں کو بہت قریب سے محسوس کرنے والے شاعرکے تعلق سے کچھ کہنا میرے لیۓ سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہوگا
یہ الگ بات ہے کہ ان سے میری ملاقات نہیں مگر ادارہء عالمی بیسٹ اردو پوئٹری کے پلیٹ فارم پر غائبانہ تعارف ضرور ہواہے موصوف نے بارہا میری غزلوں پر اپنے خیالات کا منصفانہ طریقے سے اظہار کیا ہے حضرتِ علیؓ کا قول ہے کہ آدمی زبان کے نیچیے پوشیدہ ہوتاہے اسی قول کے حوالے سے موصوف کے معیارِ فن و شخصیت کا اندازہ ہوتاہے
میں خوش نصیب ہوں کہ ادارہء عالمی بیسٹ اردو پوئٹری کے بانی وچیرمن محترم توصيف ترنل صاحب و جملہ اراکین نے اس قابل سمجھا کہ میں بر صغیر کی معتبر و معروف شخصیت محترم مسعود حسساس صاحب کے کمالِ فن و شخصیت
پر تبصره کروں
میں نے موصوف کی تینوں غزلیں بغور پڑھی
خوبصورت مرصع غزلیں حق آشنا ٍ منبع مشاہدات
بصیرتِ آگہی افکارِ مجمع ؛ اندازِ بیان و اسلوب 
 جداگانہ تخلیقی ارتقاء ؛ عمیق مطالعے پر دال ہے
موصوف کے کلام و شخصیت دونوں میں ایسی تاثیر ہےکہ قاری ان سے فوراً متاثر ہو جاتا ہے
غزل( 1)شعر (2 )ساری حدوں !!!!!!! اب دائرے!!!
بہترین شعر احساسات کی بھر پور ترجمانی کر رہا ہے مطلع تا مقطع عمدہ غزل     (مبارکباد )
غزل (2)ٹپک نہ پائ!!!!!!!! وہ ایک بوند!!!!!
یہ ایک جذب کی کیفیت کا ترجمان مطلع ہےمعنی ومفہوم کی پرتیں ورق در ورق ہے  اور بہت عمدہ طریقے سے موصوف نے جذبات کی عکاسی کی ہے
غزل کا ہر شعر بڑا  ہی خوبصورت( گلہاۓ عقیدت)
غزل (3) شعر (2)دستورغزل!!!!!!! الفاظ کی !!!!!!!
کمال کا شعر شاعر کے تجربات کی غمازی کر رہاہے
مگر اسی غزل کا آخری شعر کہنے کو!!!! مقتل کے!!!!
اس شعر کا  ثانی !  مقتل کے سجانے کو بے خوف وخطر جانایہاں میری ناقص راۓ یہ ہے کہ مقتل کو
سجانے نہیں جایا جاتا جانے کے بعد مقتل سج جاۓ یہ الگ بات ہے تاریخ کے پس منظر میں ہم نے دیکھا کہ حق و باطل کی لڑائی میں کئ صداقتوں کے امیں سوۓ مقتل بے خوف وخطر چلے گۓ مگر ارادہ
یا منشا مقتل کو سجانے کا نہیں تھا بہرکیف موصوف کا اپنا خیال  ہے میری راۓ غلط بھی ہو سکتی ہے باقی غزل جمالیاتی و جاذبیت کا مرقع ہے
شاعری میں لفظوں کو تجربات کی سان پر چڑھانااور سخن کے گہرِ نایاب تراشنا کمالِ فن ہے
جو موصوف کی شاعری میں بدرجہ اتم موجود ہے

مبصر مائل پالدھوی بھارت
====================
منعکس حساس ہیں آئینۂ احساس میں
جانفزا ہے فکرو فن کا ان کے دلکش تجزیہ
ہے نہایت روٖح پرور ان کا احساسِ جمال
ان کی اردو شاعری ہے ایک روحانی غذا
پیش کرتا ہوں مبارکباد میں اس کی اُنھیں
کرتے ہیں نقدِ سخن برقی جو سب کی برمَلا
برقی اعظمی
---------------------------------------- 
تنقید و تبصرہ 
محترم مسعود حساس ایک معروف نقاد کی حیثیت سے اپنا ایک مستند مقام رکھتے ہیں۔باعلم شخصیت ہیں۔مدلل گفتگو کرتے ہیں۔اور باقاعدہ تحقیقی عمل کو مد نظر رکھتے ہوئے تعریف و تنقیص کے مراحل طے کرتے ہیں۔گفتگو میں کمال حاصل ہے۔سامع پر سحر سا طاری کر دیتے ہیں۔برجستگی خوبصورت الفاظ کا چناوء، بات سے بات نکالتے ہوئے موضوع کا خیال بھی رکھنا اور سامع کی دلچسپی بھی قائم رکھنا آپ کی گفتگو کا خاصہ ہے۔
ایک اچھے نقاد اور ایک اچھے مقرر ہونے کے ساتھ ساتھ مسعود حساس بلاشبہ ایک اچھے شاعر بھی ہیں۔ان کی چند غزلیں اور نظمیں نظر کے سامنے ہیں۔جن میں وہ فنی طور پر ایک پختہ کار،  اور تجربہ کار شاعر کی حیثیت رکھتے ہیں۔۔۔
آپ کو فنی اور شعری محاسن پہ عبور حاصل ہے۔تمام کلام خوبصورت الفاظ و خیال پر مبنی ہے۔بحر و اوزان پر گرفت مضبوط ہے۔الفاظ کا چناوء بھی بہترین ہے
۔
غزل نمبر 1۔۔۔۔۔
ردیف انتہائی خوب صورت اور دلچسپ ہے۔۔اور تمام اشعار میں نبھایا بھی خوب گیا ہے
"شمع ہوں میرے سر میں لگائی گئی ہے آگ
چیخوں مروں خموش پگھل جاوءں کیا کروں"
شعر بہت اچھا ہے خاص طور پر دوسرا مصرع روانی اور سلاست لیے بہت خوب ہےالبتہ شمع کے سر میں آگ کا ہونا کچھ عجیب تاثر کا حامل ہے۔۔۔۔محترم حساس صاحب ایک کہنہ مشق شاعر ہیں ۔یقینا زیر غور مصرع کے حوالے سے یقینا مدلل اسباب کے حامل ہوں گے۔

غزل نمبر 2۔۔۔۔
جدید اسلوب کی خوب صورت غزل میرے سامنے ہے۔۔بہت خوب مطلع۔۔۔حسن مطلع کمال
البتہ چو تھے شعر کا پہلا مصرع
۔۔۔۔یہ پھر سے آپ نکالے ہیں کیوں وہی موضوع ۔۔۔۔۔
میں زبان و بیان میں کسر محسوس ہوتی یے۔۔
مصرع میں" نے " کی کمی واضح طور پر ہے۔۔۔آپ نکالے کی بجائے آپ نے نکالا کسی اور باوزن صورت ترتیب میں ہونا چاہیے۔
"
غزل 3۔۔۔۔۔۔۔
بہت پیارا مطلع یے۔۔۔واااہ وااہ
تمام اشعار مفہوم و معانی کے لحاظ سے اعلی تخیلاتی اظہار و عمل کے حامل ہیں۔۔البتہ مقطع کا پہلا مصرع
۔۔۔کج فہم کو سمجھا نا عاقل اسے کہتے ہیں۔۔۔
مزید بہتر ہو سکتا ہے
باقی بے حدددددد خوب صورت غزل ہے۔۔

نظم ہمسایہ
اچھی نظم ہے۔۔۔واااہ ۔۔۔بہت خوب تاثر سحر انگیز موسم طاری کرنے والی

نظم۔۔۔۔انکشاف
پہلا مصرع ہی انتہائی سحر انگیز۔۔پوری نظم بہترین تاثر لیے ہوئے۔۔الفاظ کا چناءو روانی ۔۔۔مرصع اور پختہ نظم

مسعود حساس دور جدید کے بھر پور شاعر و نقاد ہیں۔۔۔آپ کی شخصیت علم و ادب کے لیے سرمایہ ہے۔۔۔میری دعا ہے کہ 
"اللہ کرے زور قلم اور زیادہ"
اور وہ اسی طرح علم و ادب کی ترویج و ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔اور اپنی زبان کی محبت کا حق ادا کرتے رہیں۔۔۔آمین
مبصر:   غزالہ انجم
----------------------------------------
محترم امین اڈیرائی صاحب پاکستان
(تین زبانوں کا شاعر)
درونِ ذات تیقن کی انتہا کو دیکھ
جنونِ عشق اگر ہے تو کربلا کو دیکھ
ہٹا کے چہرے سے اپنے ملوکیت کا غلاف
کسی غریب کی آنکھوں میں التجا کو دیکھ

اس نے جو غم کئے حوالے تھے
ہم نے تا عمر وہ سنبھالے تھے
صحنِ دل میں تمہارے سب وعدے
میں نے بچوں کی طرح پالے تھے

قیس کا نقشِ پا ملا تھا مجھے
تب کہیں راستہ ملا تھا مجھے
تیری بس ایک مسکراہٹ سے
کس قدر حوصلہ ملا تھا مجھے

رکھ دیا میں نے درِ حسین پہ ہارا ہوا عشق
آج کے بعد مری جان تمہارا ہوا عشق
چوٹ گہری تھی مگر پاؤں نہیں رک پائے
ہم پلٹ آئے وہیں ہم کو دوبارا ہوا عشق

سایہء وصل میں آؤں گا چلا جاؤں گا
ہجر کی دھوپ اٹھاؤں گا جلا جاؤں گا
مسکراتا ہے مری ذات میں رکھا ہوا دکھ
آج میں خوب رو لاؤں گا چلا جاؤں گا

محترم *امین اڈیرائی کا دلپذیر تعارف اور ان کے یہ گلہائے سخن ان کے شعور فکر و فن کے آئینہ دار ہیں جن سے مشامِ جاں معطر ہے۔ خاکسار کی جانب سے پرخلوص تبریک و تہنیت قبول فرمائیں۔
برقی اعظمی
------------------------------------جب--- 
تنقید و تبصرہ

محترم امین اڈیروائی کی غزلیں  میرے سامنے ہیں۔یوں بھی گاہے بگاہے آپ کی شاعری اور دیگر نگارشات سے فیض یاب ہونے کا موقع ملتا رہتا ہے۔۔
بے حد خوبصورت شاعر ہیں۔۔اپ کے ہاں موضوعات کا تنوع، خیال کی بلندی،شعری پختگی اور دیگر محاسن پر مکمل عبور دکھائی دیتا ہے۔بلاشبہ آپ کے کلام میں عظیم شاعری کی تمام علامات بدرجہء اتم موجود ہیں۔
مجھے آپ کی شاعری پر بات کرنے کے لیے چنا گیا اس ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے جسارت تو کر رہی ہوں مگر خود کو کسی طور اس قابل نہیں سمجھتی ۔
میرے لیے بہت مشکل امر تھا کہ میں آپ کے کلام سے کمزور کلام ڈھونڈ نکالوں کیونکہ آپ کا سارا ہی کلام بہت خوب صورت اور مضبوط ہے۔
البتہ بمشکل چند اشعار جن میں میری ناقص رائے میں کچھ کہنے کی گنجائش ہے۔۔چنے ہیں۔۔۔مثلا

1۔۔۔درون۔ ذات تیقن کی۔۔
بہت بہت بہت اعلی تخیلاتی غزل۔۔۔واااہ کیا کہنے 
بس ایک شعر پر بات کرنا چاہوں گی
۔*****وجود خاک سراپا ہے ارتعاش امین۔۔
لبوں کے تار سے الجھی ہوئی دعا کو دیکھ

اس شعر کے پہلے مصرعے میں لفظ ارتعاش کے ساتھ میں کا ہونا لازم محسوس ہوتا ہے وگرنہ کمی رہتی ہے۔۔۔ارتعاش میں ہونا
سو یہاں ارتعاش کی بجائے لفظ مر تعش مصرعے کو مزید بہتر کر سکتا تھا

2۔۔۔اس نے جو غم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل نمبر 2 کا مطلع کچھ کمزور ہیں۔۔مصرع سازی میں جس قدر الفاظ کی ترتیب نثر کے قریب ہو اتنا ہی بہتر ہوتا ہے۔۔۔مطلع کے پہلے مصرع میں یہی کمی محسوس ہوئ۔۔۔خیال بھی عام ہے۔۔۔
باقی بہترین اشعار ہیں

3۔۔۔۔قیس کا نقش پا۔۔۔۔

پوری غزل  بہت کمال  تو نہیں ۔۔۔البتہ اچھے پر تاثیر اشعار پر مبنی ہے 
البتہ بانسری کے سر چھڑنے پر شہر دل کا جلنا کچھ متلازم نہیں معلوم ہوتا۔۔۔بانسری کے سر آس کی جوت جگاتے ہیں۔یاد کی شمع جلاتے ہیں۔۔مگر دل پوری طرح جلتا نہیں۔۔۔دل کی تڑپ کا اظہار کچھ اور طرح ہونا چاہئے تھا۔۔۔بہرحال بعض اوقات شدت ہجر مکمل جلا کےخاک بھی کر دیتی ہے۔۔۔سو اس شعر میں اسی کا اظہار ہے غالبا

4۔۔۔چوتھی غزل

رکھ دیا میں نے در حسن پہ ہارا ہوا عشق۔۔۔
پوری غزل بہت خوبصورت احساسات کی عکاسی ہے
ماشاءاللہ 
سکہء وقت بدلتے ہی سبھی چھوڑ گئے
ذات کے شہر میں اک عمر سہارا ہوا عشق
دوسرے مصرعے میں روانی کچھ کم محسوس ہوئی۔باقی مصرعوں کی نسبت ۔۔خیال کی وضاحت میں بھی کچھ کمی ہے۔۔۔

5۔۔۔۔سایہء وصل میں آوءں گا ، چلا جاوءں گا
مطلع تا مقطع خوب صورت اشعار ہیں۔۔
محترم امیں اڈیروائی بلا شبہ بہترین استاد شاعر ہیں۔۔۔اللہ پاک انہیں سلامت رکھے اور ہمیں ان کے کلام سے فیض یاب ہونے کے مواقع فراہم کرتا رہے۔۔
بہت شکریہ
مبصر " غزالہ انجم
--------------------------------------- 
تنقید و تبصرہ 
شاعرِ باکمال امین اڈیرائ
تبصره   = از قلم  مائل پالدھوی(  بھارت)
====================
محترم امین اڈیرائ صاحب پاکستان کے
صوبہءسندھ سے بہت ہی معورف و کنہ مشق استاد شاعر ہے ادارہ عالمی   بیسٹ اردو  پوئٹری کے حوالےسے ایک عرصہءدراز سے موصوف سے واقفیت ہے ؛ گاہے بہ گاہے ان کی تخلیقات آنکھوں کو زینت و روح کو غذا فراہم کرتی رہتی ہے لفظوں کے  رکھ رکھاٶ  و لہجے کی شگفتگی سے  شاعر کے کمالِ فن کا اعلان ہوتا ہے  ان کے اشعار زندگی کے تجربات کو سمیٹے ہوۓ حقیقت کی عکاسی کرتے ہوۓ نظر آتے ہیں میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے ایسی شخصیت کے تعلق سے اپنے اظہار خیال کا موقع ادارءہھذا کے بانی محترم توصيف ترنل صاحب نے فراہم کیا
موصوف کی کچھ تخلیقات پیشِ نظر ہیں
غزل (١)کا مطلع  !درون!!!!جنونِ عشق !!!!!!
بہت ہی خوبصورت مطلع ہے بڑے ہی جامع انداز میں موصوف نے کہدیا شاعر ذات سے کائنات کی بات کرتاہے مطلع میں واضع طور سے بات رکھی گئ ہے کہ ذات میں یقین کی انتہا کا عالم یہ ہو کہ عشق کی بقا کے لیۓ اس کا فنا ہو جانا ضروری ہے رنگِ تصوف کے لحاظ سے بہترین شعر = مرصع
 غزل( دلی تہنیت)
غزل (2)اس نے !!!!٫ ہم نے تا عمر٫!!!!!!!
شعر کا مفہوم بہترین مگر مصرعے اولیَ زبان کی ثلاثت مجروح کر گیا ثانی بڑی روانی کے ساتھ ہواہے تھوڑی کوشش کرتے تو مذید بہتر ہو سکتا تھاباقی غزل کے تمام اشعار ٹھک ہیں

غزل (3) اس غزل کے کچھ اشعار بھلے ہی مفہوم کا تقاضہ پرا نہ کر سکے اس کے باوجود سادہ سلیس لفظوں میں کہی گئ یہ غزل  پرٗلطف ہے
غزل( 4)رکھدیا !!!!!! آج کے بعد!!!!٫٫!!!!!
مطلع تا مقطع بڑی مرصع غزل روایات کے نکھرے ہوۓ عناصرِ لطیف بھی و ندورت ساحرانہ بھی ثلاثت وروانی بھی گیرائ و گہرائی بھی (المبروک)
غزل( 5) سایہء وصل!!!!!! ہجر کی !!!٫٫٫٫!!!!
بڑا ہی رواں دواں مطلع ہے غزل بھی بہت خوب ہے لیکن مقطع کے شعر میں لفظ” قلندر “کا استمعال میری ناقص راۓ کے مطابق غلط ہو گیا
لفظ قلندر کے معنی تو کئ ہوتے ہیں لیکن عام طور سے اصطلاح میں اس کے جو معنی اخذ کیۓ جاتے ہیں وہ ہے ایک ایسا مست فقیر جو روحانی ترقی یہاں تک کر گیا ہو کہ اپنے وجود اور علائق دینوی سے بے خبر اور لا تعلق ہوکر ہمہ تن خدا کی یاد میں متوجہ رہتاہو اور تکلیفاتِ رسمی کی قیود سے چھٹکارا پاگیا ہو شعر میں اگر یہ معنی لیۓ جاۓتو قلندر کبھی سوتاہی نہیں چہ سونے کی جو علامت ہے وہ لاپرواہی بے خبری ہے  غفلت ہے 
موصوف اگر لفظ قلندر کی جگہ لفظ آدمی یا کسی اور لفظ کا استمعال کر لیتے تو مفہوم کے لحاظ سے شعر درست ہوجاتا نیز اگر موصوف نے قلندر کے کچھ اور ہی معنی لیۓ ہو تو پھر ان کے حساب سے شعر درست ہوسکتا ہے بحر کیف 
میں موصوف کی فنی صلاحیتوں کو سلام کرتا ہوں کہ انہوں نے بڑی تازہ کاری سے اپنے احساسات کی  جو ترجمانی کی ؛ادبی حلقے میں اس کی ضرور پذیرائی ہونی چاہیے
----------------------------------------
یہ پروگرام دو گھنٹوں سے زیادہ دیر تک چلا سبھی سامعین و ناظرین نے شعرا کے کلام پو دل کھول کر دار و تحسین پیش کی آخیر میں صدرِ مشاعرہ محترم سید ایاز مفتی صاحب نے صدارتی خطبہ پیش کر اور مشاعرے کے اختتام کا اعلان کیا

خطبہ ء صدارت 
سامعین ذی وقار ، اور شعرائے والا تبار 
آج کے مہمان خصوصی ، صاحبان ذی شان، ناقدین شعرائے کرام ، مبصرین کرام ، منتظمین و معاونین کرام !
آج یعنی مورخہ اٹھائیس/28 جولائی ۲۰۱۸  کو ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری ، کی جانب سے 163 ویں منفرد عالمی تنقیدی پروگرام بنام ایک عالمی شام چار شعراء کے نام کے کامیاب انعقاد اور انتظام و انصرام پر بطور صدر   محفل میں دل کی بہتر دھڑکنوں کی جانب سے اور دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوںاور اس ضمن میں ادارہ کے چیف آرگنائزر جناب توصیف ترنل صاحب ، امین جس پوری صاحب مدظلہ العالی اور دنیا بھر میں ادارہ  کے تمام معاونین و محبین کو تمام مہمانان ذی احترام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ بالخصوص ان تمام شعراء کی ہمت و جراءت کو بھی سلام پیش کرتا ہوں ۔ جنہوں نے اپنا کلام برائے تنقید پیش کیا اور ان تمام ناقدین کا بھی مشکور ہوں ۔ کہ جن کی شرکت اور خوبصورت ادبی ،اور فنی لحاظ سے دی گئی قیمتی آراء کے بغیر یہ کامیابی ممکن نہ تھی۔ ایک بات یاد رکھیئے کہ عروج ادب مثبت اور تعمیری تنقید  کے بغیر ممکن نہیں ہےکیونکہ تنقید کے حسن سے ہی تو لیلائے اردو ادب کی زلفوں کا حسن دو آتشہ ہوتا ہے…
اور یہ کار خیر ادارۂ ہٰذا بڑے تسلسل اور جانفشانی کے ذریعے کررہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر کامیابی در کامیابی ادارۂ ہٰذا کی شہرت کو چار چاند لگارہی ہے اور یہ شہرت نہ صرف ادب کے سنہری صفحات میں انہیں ہمیشہ یاد رکھے گی بلکہ یہ ادبی خدمت انہیں اوج ثریا مقدور کرے گی۔ ایک اپنا شعر یاد آگیا ؎
ایک سے ایک ہونگے دنیا میں
مفتی ہم سا نہ دوسرا ہوگا
ادارہ: عالمی بیسٹ اردو پوئٹری،
یوں تو اقلیم سخن میں بہت سے ادارے ادب کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں ۔ مگر کچھ ادارے اپنی انفرادیت اور ہیئت کے اعتبار سے لاکھوں کی بھیڑ میں بھی جا نے اور پہچانے جاتے ہیں ۔ اور بیسٹ اردو پوئٹری کا ادارہ بھی ان گنے چنے اداروں میں سے ایک ہے ۔یہ ادارہ، جو عالمی بیسٹ اردو پوئٹری کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے ۔ دورِ حاضر میں دنیا کا منفرد ادارہ ہے جو اِس برقی ترقی یافتہ دَور میں شعراء، نظم کے شہسواروں ا و رمُصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے … ادارۂ ہٰذا میں بیشتر پروگرامز برائے تنقید کئے جاتے ہیں… عالمی سطح پر کامیابی کے ساتھ ادبی تنقیدی پروگرامز کا انعقاد یقیناً ادارۂ ہٰذا کی انفرادیت،مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے …
اللہ جل شانہ سے دعا گو ہوں کہ بانئ ادارہ جناب محترم توصیف ترنل صاحب کی زیرِ سرپرستی، کامیابی کا یہ منفرد سفراسی رفتار سے جاری و ساری رہے ۔ 
ناظم مشاعرہ کا شکریہ:- 
آخر میں اگر میں ناظم ، مشاعرہ محترمہ محترمہ ثمینہ ابڑو پاکستان کا شکریہ ادا نہ کروں ۔ تو تشنگی رہ جائے گی ۔ انہوں نے بہت ہی احسن طریقے سے اس عالمی مشاعرے کی نظامت کی ۔ آخر میں اپنے کلام سے کچھ چنیدہ چیزیں آپ کی نذر کرتا ہوں ۔ ایک دو غزلیں تحت میں اور ایک دو ترنم سے ۔امید ہے صاحبان ذوق کو پسند آئے گا ۔ میرے کلام کے بعد ناظم مشاعرہ آفیشلی طور پر مشاعرے کے اختتام کا اعلان کرسکتی ہیں ۔ 
غزلیات سے پہلےاس موقع پر میر ی جانب سے دو خصوصی اشعار ادارہ ہٰذا اور توصیف ترنل صاحب کی خوبصورت کاوش کی نذر 
سارے جہاں کے اہل ادب کو مرا سلام 
آیا تھا چاند تاروں کے ہمراہ   آج شام 
توصیف  چننے لگتا ہے کلیاں نشاط کی 
تنقید اور کلام جو ہوتے ہیں ہمکلام
سیّد ایاز مفتی، ہیوسٹن