Tuesday, February 13, 2018

ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری پروگرام با با we translate your poetry in Hindi language





ادارہ،عالمی ادارہ بیسٹ پوئیٹری
کی جانب سے ایک اور منفرد پیش رفت پروگرام نمبر 140
ایک ردیفیہ مشاعرا17.02.2018 کو رات سات بجے  منعقد کیا جائے گا اس مشاعرے کی ردیف ہوگی " بابا "
بحر وزن اور قافیہ  کی کوئی قید نہیں ہے
مشاعرے میں اول آنے والے شاعر و شاعرہ کو " رحمان بابا " ایوارڈ دیا جائے گا
جو شعراء اس مشاعرے میں حصہ لینا چاہیں وہ اپنے نام شیئر کریں اس مشاعرے میں شامل ہر شاعر کو اپنا کلام خود شیئر کرنا پڑے گا.غزل کے زیادہ سے زیادہ سات شعر ہوں

ادارۂ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے، جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء,ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے...
===========================
*We present 140th Unique Program*
*We translate your poetry in Hindi language and make unique graphick design*

نوٹ 👇
پروگرام میں سارے شعرا اپنا کلام خود برائے تنقید پیش کریں گے

ان شاء اللہ بروز ہفتہ
تاریخ 17 فروری 2018
رات 7 بجے

شکریہ
منجانب انتظامیہ ادارہ
===========================

*🌏آرگنائزر🌏*
 *توصیف ترنل ہانگ کانگ*

پروگرام آئیڈیا
محترم امین اڈیرائی صاحب پاکستان

لسٹ انچارج
محترم اشرف علی اشرف سندھ پاکستان
===========================

صدارت
محترم شہیر تہامی صاحب پاکستان

مہمانانِ خصوصی
محترم ضیاء شادانی صاحب انڈیا
محترم خالد صدیقی صاحب بھارت
محترم احمد کاشف صاحب بھارت

مہمانانِ اعزازی
 محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی۔۔۔ مراداباد۔۔۔ ۔بھارت
محترمہ صبیحہ صدف  مدھیہ پردیش انڈیا
محترمہ سیما گوہر رامپور انڈیا

نظامت
محترم مختار تلہری صاحب بھارت

رپورٹ
محترم ڈاکٹر ارشاد خان صاحب بھارت

مقالہ
محترم امیرالدین امیر بیدر بھارت
محترم نفیس احمد نفیس ناندوروی بھارت

===========================

● ججز پینل اول پوزیشن کا فیصلہ کریں گے

محترم انور کیفی صاحب بھارت
محترم علی مزمل صاحب پاکستان
محترم امین اڈیرائی صاحب پاکستان
محترم خالد صدیقی صاحب بھارت
محترم شاہین فصیح ربانی پاکستان

===========================
● شعرا ءکرام

حمدِ باری تعالی ﷻ:
محترمہ شہناز مزمل صاحبہ پاکستان
محترم ضیاء شادانی صاحب انڈیا

نعتِ شافعِ محشر ﷺ:
محترم ڈاکٹر ارشاد خان صاحب بھارت
محترم نفیس احمد نفیس ناندوروی بھارت
===========================
محترم مختار تلہری صاحب انڈیا

محترم ایاز بسمل صاحب پاکستان

علیم اسرار مہاراشٹر انڈیا

محترم اشرف علی اشرف سندھ پاکستان

محترم ڈاکٹر سمی شاہد بھمبر آزاد کشمیر

محترم ارسلان فیض کھوکھر پسرور سیالکوٹ

 محترم مختار ساگر قریشی مہاراشٹر انڈیا

محترم اصغر شمیم کولکاتا انڈیا

محترم علیم طاہر انڈیا

محترم ڈاکٹر منظور احمد صاحب

محترم امین جس پوری صاحب بھارت

محترم عابد خان طالب ہاشمی بھارت

محترم ارشد محمود ارشد صاحب پاکستان

محترم ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی انڈیا

محترم احمد علی برقی اعظمی، نئی دہلی انڈیا

Thursday, February 8, 2018

ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری پروگرام نظمیں بعنوان دُکھ مولانا الطاف حُسین حالی ایوارڈ سے نوازا جاۓ گا






आलमी बेस्ट उर्दू पोएट्री का 139वा इंटरनेशनल मुशायरा आयोजित।
चैयरमेन तौसीफ तर्नल ने इस ज़बरदस्त प्रोग्राम की सभी साथियों को दी मुबारकबाद।
मुरादाबाद ।10 फरवरी बरोज़ शनिवार को आलमी बेस्ट उर्दू पोएट्री ग्रुप की जानिब से 139वा ऑनलाइन मुशायरा एक अलग अंदाज में आयोजित किया गया जिसमे ग़ज़लों के बजाय नज़्मों पर आधारित एक बेहतरीन प्रोग्राम जिसका उनवान "दुख"था।इस शानदार प्रोग्राम का आयोजन सफलतापूर्वक ग्रुप के चैयरमेन तौसीफ तर्नल ओर सभी साथियों ने मिलकर अंजाम दिया ।नज़्मों के इस ऑनलाइन मुकाबले में जीतने वाले शायर को "मौलाना अल्ताफ हुसैन हाली"से नवाजा गया ।
प्रोग्राम की शुरुवात डॉ इरशाद खान ने हम्दो नात से की इसके बाद शायरों ने अपनी अपनी  नज़्म पेश की
शायरों में मुख्य रूप से अहमद अली बरकी(भारत),ज़िया शादानी(भारत),अमीन जसपुरी(भारत),अशरफ अली अशरफ(पाकिस्तान),अज़गर शमीम(भारत),डॉ समी शाहिद(कश्मीर),शोज़ेब काशिर(कश्मीर),सीमा गोहर (भारत),
अमीन उडवाई(पाकिस्तान),शहज़ाद नय्यर (पाकिस्तान),अहसन लखनवी(भारत),सबीहा सिद्दीक(भारत),खालिद सिरोही(पाकिस्तान),जहां आरा (पाकिस्तान)समेत कई शायरों ने अपनी नज़्में पेश कर जजेज़ कमेटी ओर साथियों से वाहवाही लूटी ।
जजेज़ कमेटी में शामिल ज़िया शादानी(भारत),अनवर कैफ़ी(भारत) और मीना नक़वी (भारत) तीनो जजो ने मिलकर वोटिंग की और अहमद अली बरकी (भारत) की नज़्म को सबसे प्यारी नज़्म चुनकर उन्हें मौलाना अल्ताफ हुसैन हाली पुरुस्कार से नवाज़ा।
प्रोग्राम की अध्यक्षता डॉ साबरा शाहीन(पाकिस्तान)ने की मुख्य अतिथि के रूप में डॉ मंज़ूर अहमद(कश्मीर),यूसुफ रज़ा (दिल्ली),हफीज़ मिनाज़गीरी(मुम्बई)और मुनव्वर पाशा मौजूद रहे।
प्रोग्राम का बेहतरीन संचालन ज़िया शादानी ने किया ।
प्रोग्राम के अंत मे  चैयरमेन तौसीफ तर्नल ने सभी शायरों ,जजेज़ और अतिथीयों का शुक्रिया अदा करते हुवे कहा कि वो काफी समय से उर्दू की तरक्की के लिए लगातार काम कर रहे हैं और आने वाले समय मे भी अपनी मज़बूत टीम के साथ आगे बढ़ते रहेंगे साथ ही बताया के ये ऑनलाइन ग्रुप दुनिया का पहला ऐसा ग्रुप है जिसमे शायरी और नज़्मो पर तनक़ीद की जाती है और दुनिया भर के बेहतरीन शायर इस ग्रुप में अपनी ग़ज़ले पेश करते हैं और उन पर बेझिझक तनक़ीद भी करवाते है
kamran zia from India


رپورٹ
از  ۔ ڈاکٹر ارشاد خان

ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری ہمیشہ ، ہمہ جہت پروگرام جو واہی سے ہٹ کر ، روایت سے بچ کر ، اپنی ایک الگ ڈگر جو قلب و نظر میں سما جائے ، جو روح کو تسکین اور جمالیاتی حس کو فرحت بخشے ۔
وہ جو کہتے ہیں نا کہ " جہاں نہ پہنچے روی وہاں پہنچے کوی " یہی مقولہ عزت مآب توصیف سر پر صادق آتا ہے جو نئے جہانوں کی تلاش میں سرگرداں ،  نت نئے گلستانوں سے گلہائے رنگارنگ اور عطر بیز ہوائیں مقید کرنے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں ۔ جو نہ صرف خود نچلا بیٹھتے ہیں بلکہ پوری ٹیم کو چکرانے پر مجبور کرتے ہیں ، جس کے نتیجے میں ہر پروگرام کی کامیابی کے بعد دوسرے گروپس کو چکر آنے لگتے ہیں اور آخر کار ، چکرویو، میں پھنس کر بھونڈی نقالی کرنے لگتے ہیں ۔
پر ۔۔۔ ظاہر ہے ،
چمکتا جو نظر آتا ہے سب سونا نہیں ہوتا
ادارہ ہذا کا 139واں پروگرام بعنوان ،، دکھ ،، جو موضوعاتی نظمیہ شاعری پر مشتمل تھا دس فروری 2018 کو پیش ہوا ۔پروگرام آئیڈیا امین اڈیرائی صاحب کا تھا ۔
حسب سابق یہ پروگرام بھی نیا موضوع لیے ہوئے تھا ۔وہ موضوع جو زندگی سے جڑا ہوا ہے ۔وہ موضوع جو احساسات سے جڑا ہے ۔ وہ موضوع جو غم ذات بھی ہے اور غمِ کائنات بھی ۔۔ سماجی بھی ، معاشرتی بھی ۔ جو انسان کو توڑنے والا بھی ، جو ذہنوں کو جھنجھوڑنے والا بھی ۔ جو درد تنہا بھی ہے تو غمِ زمانہ بھی ۔ جو حیوان ناطق کو کبھی کبھی حیوان مطلق بھی بنا دیتا ہے اور انسان ٹوٹ پھوٹ کر بکھر جاتا ہے ۔ وہ اپنی ذات کی کرچیاں اور جگر لخت لخت کو صفحہ قرطاس پر بکھیر دیتا ہے کبھی سعدی کی صورت تو کبھی شیرازی کی صورت ، تو کبھی میر وغالب کو اپنے قالب میں ڈھال کر ۔۔۔انتہا یہ کہ رنج کا خوگر ہوکر ۔۔ اپنی مشکلات کو آسانیاں سمجھ کر زندگی کی تکمیل کرتا ہے ۔
کون ہے وہ جو دکھ سے مبرا ہے ؟ کون ہے وہ جو غم شناس نہیں ؟ کون ہے وہ جو رنج سے خالی اور درد سے آشنا نہیں ؟۔۔۔انہی جذبات و احساسات کو الفاظ کی لڑی میں دورِ حاضرہ کے شعراء نے پرویا ہے ۔ جسے خوب ، بہت خوب ، خوب ترسے خوب ترین انداز میں پیش کیا گیا ۔
پروگرام کا آغاز پروردگار عالم کی حمد و ثنا سے ہوا ۔ حمد باری تعالی ڈاکٹر ارشاد خان نے پیش کی ،

سبھی بحر وبر میں   ہے لعل وگہر میں
تو خشکی میں تر میں ۔۔ہے شمس وقمر میں
ہر شے میں یارب
ہے جلوہ نمائی
تیری کبریائی
حمد باری تعالی کے بعد معروف شاعر شوزیب کاشر نے بارگاہ رسالت میں نعت کا نذرانہ پیش کیا ، جس کے لفظ لفظ سے ہویدا عشقِ رسول کی خوشبو دلوں کو معطر کرگئی ،

حم، منیر ، طہٰ ، یس
محتاج کرم ہے دہر غمگیں
نعت پاک کے بعد باقاعدہ پروگرام کو آغاز ہوا ۔ ناظم بزم جناب ضیا شادانی صاحب نے اشرف علی اشرف صاحب کو دعوت سخن دی ۔اشرف صاحب نے نظم ،
،،آج تو پاس نہیں ہے میرے ،، پیش کی ۔

آج تو پاس نہیں ہے میرے
آج میں کس قدر فسردہ ہوں
آج میں کس قدر ہوں گھبرایا

شریک بزم شعراء نے اس نظم کو بہت سراہا ۔ ناقدین نے اپنے تاثرات پیش کیے ۔ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کی یہ انفرادیت رہی ہے کہ صرف واہ واہی نہیں ہوتی بلکہ تنقید برائے اصلاح بھی ہوتی ہے ۔ جسے تخلیق کار خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہیں ۔
اس کے بعد ضیا شادانی صاحب نے اصغر شمیم صاحب کو آواز دی جن کا تعلق کولکتہ بھارت سے ہے ۔ ان کی نظم کا عنوان تھا ۔  ،، کہ دکھ کا بھی کچھ حساب ہوتا ،،
مذکورہ نظم کا یہ شعر خصوصی طور پر دیکھیے ،

سبھی کو ملتا بساط بھر یہ
کہ دکھ کا بھی کچھ حساب ہوتا

شرکائے محفل نے اس نظم کی خوب پذیرائی کی اور داد وتحسین سے نوازا ۔
اس کے بعد ناظم مشاعرہ نے ڈاکٹر سمی شاہد صاحب کو دعوت سخن دی ، ڈاکٹر صاحب نے ایک منفرد موضوع پر اپنی نظم ،، کشمیر کا دکھ ،، پیش کی ۔

یہ وادیاں ، یہ ندیاں ، یہ مرغزار سارے
یہ پہاڑیاں ، یہ داماں ، یہ کہسار پیارے

ڈاکٹر صاحب نے بہترین منظر کشی کی جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔کشمیر کے دکھ کو دلکش انداز میں پیش کیا اور جنت ارضی کے دکھ کو کرہ ارض کے کونے کونے میں پہنچا دیا ۔
اس کے بعد ارسلان فیض صاحب جن کا تعلق پسرور سیالکوٹ سے ہے ، سیالکوٹ کی سرزمیں سے اقبال اور فیض جیسی شخصیات کا تعلق رہا ہے ۔اسی مردم خیز سرزمیں سے ارسلان صاحب کے اپنی نظم ،، دکھ ،، پیش کی ۔

کبھی تم سناتے
کبھی ہم سناتے
مگر کیا کریں ہم
بہت دکھ ہے ورنہ
لبوں سے سنائیں
تجھے گیت اپنے

اس نظم نے فیض کی نظم ،، مجھ سے پہلی سی محبت ۔۔۔۔،، کی یاد دلادی ۔ اس نظم کو خوب داد وتحسین سے نوازا گیا ۔ضیا شادانی صاحب کی نظامت نے محفل میں چار چاند لگادیے۔
اس کی بعد خالد سروجی صاحب گکھڑ سٹی نے اپنی آزاد نظم ،، دکھ اپنی جگہ ،، پیش کی ،

کیا ؟ ہمیں کو سہنا تھا یہ دکھ
کیا ؟ ہمیں میں رہنا تھا یہ دکھ
ہم نے ترا آئینہ بن کر

اس نظم کو بہت پسند کیا ۔
اس کے بعد سیماگوہر صاحبہ نے اپنی آزاد نظم ،، میری تقدیر کی یہ زنجیریں ،، پیش کی ،

کیا کوئی توڑ پائے گا آکر
کیا میرے دکھ کا کچھ مداوا ہے
کیا میرے خواب یوں ہی بکھریں گے ؟
اس نظم کی خوب پذیرائی ہوئی ، ناقدین نے سیرحاصل اور بے لاگ تبصرے کیے ۔یہ کاروانِ سخن یوں ہی آگے بڑھتا رہا ۔ ڈاکٹر ارشاد خان نے اپنی منفرد نظم ،، احساس غم،، سامعین کی نذر کی ،

یا الہٰی ، میری قسمت میں اندھیرے کب تک ؟
میرے گلشن میں خزاں رنگی کے ڈیرے کب تک ؟
ہوں گے معدوم چمک دار سویرے کب تک ؟
اس نظم خوب داد ملی ۔
ناظم مشاعرہ کی دعوت پر نیر رانی شفق صاحبہ نے اپنی نظم بعنوان ،، یہ وہ آنکھیں نہیں جاناں ،، حاضرین کی نذر کی جو مخصوص نسائ لب و لہجہ لیے دل پر انمٹ نقوش چھوڑ گئی ۔
نیلم کو تضادی زرد ، کہہ کر چبھتا سوال ،، کیوں ،، ندرتِ خیال ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔ مبصرین اور ناظرین نے اس نظم کا پرجوش استقبال کیا ۔ محفل کا رنگ بام عروج پر تھا اسی بیچ اروا سجل صاحبہ اپنی سجی سجائی نظم لے کر رونق افروز ہوئیں ،

یہ مجھ سے پوچھتے کیوں ہو
کہ کیا غم ہے مرے اندر
اداسی موجزن کیوں ہے !

رواں دواں الفاظ ہیں دریا ،سرگمی ردم لیے بہتا رہا ، تشنہ لبوں کی پیاس بجھاتا رہا ،دلوں کے تار جھنجھوڑ تا رہا ۔۔۔بہت داد وتحسین سے نوازا گیا ۔
امین جس پوری صاحب نے اپنی کاوش ،، دکھ ،، پیش کی ،

ہماری زندگی کے ہر ورق پر
بزمِ ہستی میں
کوئی ایسی عبارت روز ہی
تحریر ہوتی ہے

اہلِ محفل کی داد اس پر نظامت گویا سونے پہ سہاگہ ۔
استاد محترم امین اڈیرائی صاحب اپنی نظم ،، بعنوان دکھ لے کر حاضر ہوئے ، محفل اپنے پورے شباب پر تھی ۔ کلام استاد دیکھیے ،

کون ہیں جو رستوں پر
نقش پا بناتے ہیں
منزلوں کی خواہش میں
ہاتھ چھوٹ جاتے ہیں

بہترین کاوش جسے بے حد پسند کیا گیا ۔ڈاکٹر عدیل صاحب نے اپنے بیٹے کے سانحہ ارتحال پر کہی گئی نظم ،، تلاش گمشدہ ،، اہل بزم کو نمناک کرگئی ، حفیظ مینا نگری کی ،، دکھ ،، کے عنوان پر کہی گئی نظم کے اشعار ملاحظہ ہوں ،

سنو اے لوگو
سنو یہ دکھ
یہ دکھ بھی بڑا عجیب ہے

نے سماں باندھ دیا ۔ڈاکٹر صابرہ شاہین کی نظم نسوانی احساسات کی بہترین ترجمان تھی ، نیز ڈاکٹر منظور صاحب کی پیش کردہ نظم ،، دکھ ،، کے مصرع دیکھیے ،

میں تم کو کیسے سمجھاؤں
میری آنکھوں میں
میرے ذہن میں
نادر تشبیہات اور استعاروں سے سجی یہ نظم بھر پور تاثر چھوڑ گئی ۔
اخیر میں ہندوستان کے دل ،، نئی دلی ،، سے نوارد شاعر احمد علی برقی اعظمی صاحب اپنی شاہکار نظم
،،مجھ سے دیکھا نہیں جاتا کسی انسان کا دکھ ،،
پیش کی ،

ان کو ہے اپنی فقط گھٹتی ہوئی شان کا دکھ
مجھ سے دیکھا نہیں جاتا کسی انسان کا دکھ

اس ماسٹر پیس نظم کو ججیز کے پینل نے ،، مولانا الطاف حسین حالی پانی پتی ،، جو بہرحال غالب کے مرشد اور دلی میں متمکن رہے ۔۔۔ تو دلی کا ایوارڈ ۔۔۔ دلی کو ۔۔۔ کیا خوب دل سے دل ملے !!
ڈھیروں مبارکباد احمد علی برقی صاحب کو ، عزت مآب توصیف ترنل صاحب اور ان کی انتظامیہ کو جو یونیک پروگرام منعقد کرتی ہے ۔ یہ پروگرام مسلسل تین گھنٹے تک چلتا رہا جو آنکھوں کو ٹھنڈک اور روح کو فرحت بخشتا
رہا ۔

*🌍ادارہ,عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری🌍*
کی جانب سے ایک اور منفرد پروگرام پیش کرتے ہیں
پروگرام بعنوان " دُکھ
جس میں جیتنے والے کو
*مولانا الطاف حُسین حالی ایوارڈ*
سے نوازا جاۓ گا
*نوٹ-* 👇
ناقدین کو تنقید کی پوری اجازت ہو گی۔
پروگرام بعنوان " دُکھ میں سب سے اچھی کہی جانے والی نظم پر مولانا الطاف حُسین حالی ایوارڈ سے نوازا جاۓ گا۔
ڈاکٹر سید بشیر احمد لکھتے ہیں اردو اصناف شاعری میں نظم ایک اہم صنف ہے ۔ اردو زبان کے ابتدائی دور میں حضرت امیر خسرو نے اس صنف میں وقیع اضافہ کیا ۔ اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر قلی قطب شاہ نے بھی اس صنف سخن کے احیاء میں اپنا حصہ ادا کیا ۔ نظیر اکبرآباد میں صنف کے اہم شاعر ہیں ۔ انہوں نے ہندوستان کے موسم ، میوے ، تہوار اور موسموں وغیرہ کا اپنی نظموں میں احاطہ کیا ہے ۔
اسد معیل میرٹھی نے بچوں کے لئے نظمیں لکھیں ۔ نظیر اکبر آبادی سے علامہ اقبال کے دور تک نظم نگاری کا طرز پابند نظم ہی تھا ۔ علامہ اقبال نے نظم کو ایک ایسا اندرونی آہنگ دیا کہ ہم آسانی سے نظم کو اس کی ہیئت کی وجہ سے شناخت کرسکتے ہیں ۔ تمثیلی الفاظ ، موضوعاتی ندرت ، وطنی اور قومی نظمیں اور اخلاقی نظمیں بچوں کے لئے بھی نظمیں لکھی گئیں ۔ اکبر الہ آبادی نے ظریفانہ نظمیں لکھ کر اس صنف کو استحکام بخشا ۔ اکبر الہ آبادی بھی پابند نظم کے شاعر کی حیثیت سے مقبولیت حاصل کی ۔ 
آزاد نظم : 1930 میں آزاد نظم لکھنے کی ابتداء ہوئی ۔ سب سے پہلے فرانسیسی ادب میں اسے رواج ہوا ۔ فرانسیسی سے انگریزی اور انگریزی ادب سے اردو میں اس کا ورد ہوا ۔ اسمعیل میرٹھی نے اس دور میں پہلی آزاد نظم ’’چڑیا کا بچہ‘‘ لکھا ۔ ن م راشد آزاد نظموں کے لکھنے والوں کے قافلہ میں سب سے آگے ہیں ۔ ان کے دو شعری مجموعے ’’ماوری‘‘ اور ’’جرات پرواز‘‘ زیور طبع سے آراستہ ہو کر شائع ہوچکے ہیں ۔ پابند نظم میں شروع سے آخر تک بحر کی پابندی کی جاتی ہے ۔ اس کے برخلاف آزاد نظم میں ارکان کو توڑ کر مصرعوںکو چھوٹا یا بڑا کیا جاسکتا ہے

نظم کی چار قسمیں ہیں (۱) پابند نظم (۲) آزاد نظم (۳) معری نظم (۴) نثری نظم ۔
۱) پابند نظم : پابند نظم درحقیقت ہیئت کی پابند ہے ۔
ادارۂ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے، جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء,ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے...
===========================
*We present 139th Unique Program*
اداراہ  کی جانب سے ایک اور خوبصورت پروگرام بعنوان " دُکھ "تمام شعراء سے گذارش ہے کہ اس عنوان پر اپنی خوبصورت نظمیں پیش کر سکتے ہیں
ان شاء اللہ 10.02.2018 بوقت سات بجےجو شعراء شامل ہونا چاہیں اپنا نام لکھیں
نوٹ 👇
ان شاء اللہ بروز ہفتہ
تاریخ 10 فروری 2018
رات 7 بجے
منجانب
انتظامیہ ادارہ
===========================
*🌏آرگنائزر🌏*
*توصیف ترنل ہانگ کانگ*
پروگرام آئیڈیا
محترم امین اڈیرائی صاحب پاکستان
===========================
صدارت
27-محترمہ ڈاکٹر صابرہ شاہین ڈیرہ غازی خان پاکستان
مہمانانِ خصوصی
26-ڈاکٹر منظور احمد  کشمیر انڈیا
25-محترم یوسف رضا یوسف دہلی انڈیا
مہمانانِ اعزازی
24-محترم حفیظ مینانگری مہاراشٹر بھارت
23-محترم منور پاشاہ ساحل تماپوری بھارت
ناقدین برائے تنقید بات کریں گے
محترم شفاعت فہیم صاحب بھات
محترم سعید اقبال پسروری صاحب لاہور پاکستان
نظامت
محترم ضیاء شادانی۔ مرادآباد۔ انڈیا
رپورٹ
محترم ڈاکٹر ارشاد خان  بھارت
ججزپینل اول پوزیشن کا فیصلہ کریں گے
محترم انور کیفی صاحب بھارت
محترم ضیاء شادانی۔ مرادآباد۔ انڈیا
محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی۔۔۔ مراداباد۔۔۔ ۔بھارت
حمدِ باری تعالی ﷻ:
1-محترم ڈاکٹر ارشاد خان  بھارت
نعتِ شافعِ محشر ﷺ:
2-محترمہ ڈاکٹر صابرہ شاہین ڈیرہ غازی خان پاکستان
3-محترم شوزیب کاشر راولاکوٹ آزاد کشمیر
===========================
4-محترم اشرف علی اشرف۔ سندھ۔ پاکستان
5-محترم اصغر شمیم، کولکاتا، انڈیا
6-محترم اسامہ  زاہروی ڈسکہ سیالکوٹ  پاکستان
7-محترم عبدالحمید ابن ربانی پاکستان
8-محترم ڈاکٹر سمی شاہد بھمبر آزاد کشمیر
9-محترم ارسلان فیض کھوکھر پسرور سیالکوٹ
10-محترم خالد سروحی گکھڑ سٹی گوجرانوالہ پاکستان
11-محترمہ جہاں آراء تبسم پاکستان
12-محترمہ سیما گوہر بھارت
13-محترم ڈاکٹر ارشاد خان  بھارت
14-محترمہ نیر رانی شفق ڈیرہ غازی خان
15-محترمہ ارویٰ سجل.... چکوال پاکستان
16-محترمہ صبیحہ صدف انڈیا
17-محترم امین جس پوری بھارت
18-محترم احسن لکھنوی صاحب بھارت
19-محترم احمد علی برقی اعظمی ، نئی دہلی
20-محترم ضیاء شادانی۔ مرادآباد۔ انڈیا
21-محترم امین اڈیرائی صاحب پاکستان

22-محترم شہزاد نیّر صا حب پاکستان

Wednesday, January 31, 2018

ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری *We present 138th Unique international Program* ساحر لدھیانوی ایوارڈ




ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری
رپوٹر

आलमी बेस्ट उर्दू पोएट्री ग्रुप के तत्वाधान में इंटरनेशनल ऑनलाइन मुशायरे का आयोजन ।
अमीन जसपुरी को मिला "साहिर लुध्यानवी पुरुस्कार "
मुरादाबाद ।बीते शनिवार को आलमी बेस्ट उर्दू पोएट्री ग्रुप की जानिब से 138वे इंटरनेशनल ऑनलाइन मुशायरे का आयोजन किया गया।काफी लंबे समय से इस ऑनलाइन ग्रुप को चैयरमेन तौसीफ तर्नल (हांगकांग)बहुत ही कामयाब तरीके से चला रहे हैं उन्होंने ग्रुप के सभी साथियों को इस शानदार प्रोग्राम की कामयाबी पर बधाई देते हुए बताया कि ये दुनिया का पहला शायरी  ग्रुप है जिसमे शायरों की ग़ज़लों पर तनक़ीद भी की जाती है इस ग्रुप में देश विदेश से सेकड़ो युवा और उस्ताद शायर जुड़े हैं जो अपना क़लाम इस ग्रुप में पेश करते हैं और ग्रुप में मौजूद जजेज़ कमेटी से दाद ओर पुरुस्कार दोनो पाते हैं शायरों में मुख्य रूप से मुख्तार तिलहरी(भारत),ज़िया शादानी(भारत),अरशद मो अरशद ( पाकिस्तान),हमराज़ ओछी (पाकिस्तान),अशरफ अली अशरफ (पाकिस्तान),डॉ बुलंद इक़बाल नियाज़ी (भारत),तौसीफ तर्नल (हांगकांग),अमीन जसपुरी (भारत),अनवर कैफ़ी( भारत),डॉ मीना नक़वी (भारत),नफीस अहमद नफीस (भारत),अर्सलान फैज़ (पाकिस्तान),शकील अंजुम (भारत),यूसुफ रज़ा (भारत),इत्यादि शायरो ने अपने अपने क़लाम ने नवाज़ा।
प्रोग्राम के अंत में जजेज़ कमेटी में शामिल मुख्तार तिलहरी ,ज़िया शादानी,अनवर कैफ़ी,अहसन लखनवी ,मीना नक़वी ने अमीन जसपुरी को साहिर लुधयानवी पुरुस्कार से सम्मानित किया ।
प्रोग्राम की अध्यक्षता डॉ बुलंद इक़बाल नियाज़ी और संचालन मुख्तार तिलहरी ने किया शाम 7 बजे शुरू हुई ये बेहतरीन महफ़िल देर रात तक चलती रही ।आखिर में चैयरमेन तौसीफ तर्नल ने सभी शायरों ओर ग्रुप के साथियों का प्रोग्राम की कामयाबी पर शुक्रिया अदा किया।

kamran zia India news reporter
------------------------------------------------


program report in Hindi language translation by   DrSiraj Gulaothwi From India 

*✒रिपोर्ट✒* 
नफ़ीस अहमद नफ़ीस, (भारत)

*✒हिंदी तजॅमा✒* 
डॉ सिराज गुलावठवी इंडिया

''एक शाम डॉ सिराज गुलावठवी के नाम '' 

अमीन जसपुरी को मिला (साहिर लुधियानवी) एवार्ड 

इदारा, आलमी बेस्ट उर्दू पोइटरी, यक़ीनन दौर ए हाजि़र में दुनिया का वाहिद इदारा है जो इस इलेक्ट्रॉनिक तरक्की याफ़ता ज़माने में शायरों, अदीबों, और उर्दू साहित्य के लेखकों की ज़हनी परवरिश करता है और नये नये अदबी प्रोग्राम का आयोजन करता रहता है। यह इस संस्था की पहली खूबी है कि यहाँ प्रोग्राम बिना भेदभाव के व आलोचना के साथ किये जाते हैं जनाब तौसीफ़ तरनल साहब जो कि इस संस्था के संस्थापक एवं चेयरमैन हैं, की अनथक मेहनत का नतीजा है कि अंतरराष्ट्रीय स्तर पर दिनांक 3, फ़रवरी 2018 बरोज़ हफ़्ता 138वां प्रोग्राम 'अॉन लाइन तरही मुशायरा( एक शाम डा सिराज गुलावठवी, इंडिया, के नाम)  का आयोजन किया गया इस अन्तरराष्ट्रीय आॅन लाइन तरही मुशायरे में सब से अच्छी ग़ज़ल के लिये (साहिर लुधियानवी एवार्ड) का ऐलान किया गया था। मुशायरे की साझा सदारत मुहतरम अमीन जसपुरी साहब, इंडिया व डॉ बुलंद इक़बाल न्याज़ी साहब, इंडिया ने की जबकि मेहमानाने खु़सूसी मुहतरमा गुले नसरीन साहिबा, मुहतरमा अरवा सजल साहिबा, पाकिस्तान, और मेहमाने ऐज़ाज़ी मुहतरमा सीमा गौहर साहिबा, इंडिया,व मुहतरमा  जहाँ आरा तबस्सुम साहिबा, पाकिस्तान, थीं। निज़ामत के फ़राइज़ मुहतरम मुख्तार तिलहरी साहब इंडिया ने बहुत खूबसूरती से अंजाम दिये। 
मुशायरे की शुरुआत अल्लाह पाक की हमदो सना से की गई जिस के लिए नफ़ीस अहमद नफ़ीस नांदोरवी, इंडिया, को आवाज दी गई 
नज़र चार सू आये रहमत ख़ुदा की 
दो आलम पै छाई इनायत ख़ुदा की 
ज़रा मन की आंखों को खोलो तो जानो
हर इक शै से ज़ाहिर है कु़दरत ख़ुदा की 
नफ़ीस अहमद नफ़ीस नांदौरवी 

रसूल अकरम (स अ व) की शान में नाते पाक का नज़ाराना पेश किया गया 

सर झुकाना फ़र्ज़ है बेशक ख़ुदा के सामने 
सर उठाना कब रवा है मुस्तफा़ के  सामने 
दिल की कैफ़ियत बयां मुख्तार मैं कैसे करूँ 
हेच हैं अलफ़ाज़ सब दिल की सदा के सामने 
मुहतरम मुख्तार तिलहरी साहब, इंडिया 

सभी शायरों ने इदारा की तरफ से दिया गया मिसरा 
'कहॉ से ढूंढ कर लायें मुहब्बत '
पर अपना अपना कलाम पेश किया, नमूने के तोर पर अश्आर हाजिर है 

हो जैसा भी मयस्सर साज़े हस्ती । 
बुलन्द इकबाल बस गायें मुहब्बत।। 
मुहतरम बुलन्द इकबाल न्याज़ी साहब ( इंडिया ) 

कहीं से हम अगर पायें मुहब्बत । 
तो वाजिब है कि लौटायें मुहब्बत।। 
मुहतरम अमीन जसपुरी  साहब (इंडिया) 

जो हैं महरूम अक्सर सोचते हैं । 
कहीं से हम भी पाजायें मुहब्बत ।। 
डॉ सिराज गुलावठवी  साहब (इंडिया) 

बहुत बेलौस जज़्बा है ये 'अरवा'। 
तो फिर क्यूं कर के जतलायें मुहब्बत।। 
मुहतरमा अरवा सजल साहिबा ( पाकिस्तान) 

तबस्सुम वो दिलों के बादशाह हैं। 
' तबस्सुम 'पर जो बरसायें मुहब्बत।। 
मुहतरमा जहाँ आरा तबस्सुम साहिबा (पाकिस्तान) 

तअससुब का है ये ' मुख्तार 'सहरा। 
कहाँ तक हम भी बरसायें मुहब्बत ।। 
मुहतरम मुख्तार तिलहरी साहब (इंडिया ) 

' अमीन' इन ख़ार सिफफ़त बस्तियों में। 
खिलायें ज़ख़्म महकायें मुहब्बत।। 
मुहतरम अमीन ऐडराई साहब ( पाकिस्तान) 

ग़रज़ क्या बादा व साग़र से 'मीना' । 
चलो आंखों से छलकायें मुहब्बत।। 
मुहतरमा डा मीना नक़वी साहिबा (इंडिया ) 

चलो 'तालिब' मियाँ हम भी किसी दिन। 
जबीं पै अपनी गदवायें मुहब्बत।। 
मुहतरम तालिब हाशमी साहब ( इंडिया ) 

करो तसख़ीर दिल 'हमराज़' सब के। 
तो फिर धीरे से सिखलायें मुहब्बत ।। 
मुहतरम हमराज़ ओचवी साहब (पाकिस्तान) 

'ज़िया' हम तो फ़क़त ये चाहते हैं। 
कि हर इक दिल में भर जायें मुहब्बत।। 
मुहतरम ज़िया शादानी साहब  (इंडिया) 

रहे इख़लास के राही हैं 'अंजुम' । 
जो आयें पास वो पायें मुहब्बत।। 
मुहतरम शकील अंजुम साहब ( इंडिया )

चलो सब मिलके महकायें मुहब्बत। 
ज़माने भर में फैलायें मुहब्बत।। 
मुहतरम यूसुफ रज़ा साहब (इंडिया) 

फ़लक को कोन फिर देखेगा 'असग़र'। 
ज़मीं पर हम जो फैलायें मुहब्बत।। 
मुहतरम असग़र शमीम साहब (इंडिया) 

ये है' अरशद 'असासा ज़िंदगी का। 
किसी की नाम लिखवायें मुहब्बत।। 
मुहतरम अरशद महमूद अरशद साहब ( पाकिस्तान) 

जिन्हें अपना समझता हूँ मैं' अनवर' । 
वो क्यूं गैरों पै बरसायें मुहब्बत।। 
मुहतरम अनवर कैफ़ी साहब (इंडिया) 

मुझे घेरा हुआ है नफरतों ने। 
न दांये है न है बांये मुहब्बत।। 
मुहतरम अशरफ अली अशरफ (पाकिस्तान) 

करो तसख़ीर दिल 'हमराज़' सब के। 
तो फिर धीरे से सिखलायें मुहब्बत।। 
मुहतरम हमराज़ ओचवी (पाकिस्तान) 

फकत होठों तलक न फैज रखना। 
चलो दिल तक भी फैलायें मुहब्बत।। 
मुहतरम अरसलान फैजी (पाकिस्तान) 

बहुत लोग साहिल को अपना बता ते। 
चलो हम भी इस से जतायें मुहब्बत।। 
मुहतरम साहिल तिमापुरी (इंडिया ) 

रहे इखलास के राही हैं 'अंजुम'। 
जो आयें पास वो पायें मुहब्बत।। 
मुहतरम शकील अंजुम (इंडिया) 

प्रोग्राम के बीच में डा सिराज गुलावठवी जिनके नाम आज की शाम मंसूब की गई थी का तअरूफ़, उन की अदबी ख़िदमात व उनका नमूना ए कलाम पेश किया गया। 
प्रोग्राम में जनाब मुख्तार तिलहरी साहब ने अपने मखसूस अन्दाज़ ए निज़ामत से न सिर्फ सब का दिल मोह लिया बल्कि प्रोग्राम को भी चार चांद लगा दिए। 
आख़िर में जजिज़ कमेटी में शामिल मुहतरम मुख्तार तिलहरी साहब, मुहतरम अहसान लखनवी साहब, मुहतरम ज़िया शादानी साहब, मुहतरमा मीना नक़वी साहिबा,मुहतरम अनवर कैफ़ी साहब ने फि़क्र ओ फ़न के ऐतबार से उम्दा तरही कलाम का ऐलान किया जिस का हकदार मुहतरम अमीन जसपुरी साहब (इंडिया) को क़रार दिया गया और उनको '' साहिर लुधियानवी एवार्ड '' से नवाजा़ गया। 
मुशायरे में शामिल शोर इकराम का कलाम पढ़ने और सुनने से अन्दाजा हुआ कि जहाँ रिवायत के सांचे में ढलने वाले और मुश्किल लै पर सर धुनने वाले मैदान ए शायरी में रक़स कुनां हैं, तो वहीं आज के इस इनहमाकी दौर में शौरा ए आलम को एक जामा प्लेट फ़ार्म पर मुनजमिद करने वाले नीज़ हौसला अफ़ज़ाई के साथ उन्हें असनाद ए अदब से नवाज़ने वाले इदारे के बानी व चेयरमैन मुहतरम तौसीफ़ तरनल साहब जैसे अदब के दीवाने भी हाज़िर हैं 
मुशायरा देर रात तक कामयाबी। के साथ चला आखिर में सदर मुशायरा ने सभी शोरा को मुशायरे की कामयाबी की मुबारकबाद पेश की और तमाम हाजरीन का शुक्रिया अदा किया और मुशायरे के खत्म होने का ऐलान किया 

*✒रिपोर्ट✒* 
नफ़ीस अहमद नफ़ीस, (भारत)  

*✒हिंदी तजॅमा✒* 
डॉ सिराज गुलावठवी इंडिया


*🖌رپورٹ
*🖌نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی(انڈیا)...*

* ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری*, یقیناََ دورِ حاضر میں دنیا کا واحد ادارہ ہے جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء, ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامس منعقد کرتا ہے... ادارۂ ھٰذا کی اوّلین خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تمام پروگرامس بلا تفاوت نیز برائے تنقید کئے جاتے ہیں... *جذبئہ توصیفی نے کامیابی کے اس سفر کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے، بین الاقوامی سطح پر مورخہ، ٣-فروری ٢۰١٨، بروز سنیچر، ١٣٨واں پروگرام، بنام "آنلائن طرحی مشاعرہ (ساحر لدھیانوی ایوارڈ)" کے ذریعہ بہترین ادبی کارنامہ سر انجام دیا ہے۔* اس عالمی آنلائن طرحی محفلِ مشاعرہ کے صدور محترم امین جسپوری صاحب، ڈاکٹر بلند اقبال نیازی صاحب (انڈیا)، مہمانانِ خصوصی محترمہ گل نسرین صاحبہ، محترمہ ارویٰ سجل صاحبہ (پاکستان) اور مہمانانِ اعزازی محترمہ سیما گوہر صاحبہ (انڈیا)، محترمہ جہاں آراء تبسّم صاحبہ (پاکستان) رہیں... نیز جنابِ محترم مختار تلہری صاحب (انڈیا) نے اپنے منفرد لب ولہجہ اور دَمدار اندازِ نظامت سے محفلِ مشاعرہ میں چار چاند لگا دیئے... مشاعرہ کا باقائدہ آغاز ربِّ ذوالجَلال کی پاک وشفّاف حَمد وثنا کے ساتھ بندہء ناچیز نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی (انڈیا) نے کچھ یوں کیا...کہ

نَظر  چار  سُو  آ ئے  رَحمت  خُدا  کی
دو عالَم  پہ  چھائی عِنایت  خُدا  کی
ذرا مَن کی آنکھوں کو کھولو تو جانو
ہر اک شئے سے ظاہر ہے قدرت خُدا کی
*نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی (انڈیا)*

اور رَسولِ اکرم نُور مُجسّم محمّدﷺ کی شانِ اقدس میں نعتیہ کلام کا نذرانۂ عقیدت محترم مختار تلہری صاحب (انڈیا) نے پیش کیا...

سَر جُھکانا فرض ہے بیشک خُدا کے سامنے
سَر اُٹھانا کب رَوا ہے... مُصطفٰی کے سامنے
دِل کی کیفیت بیاں مختار میں کیسے کروں
ہیچ ہیں الفاظ سب دِل کی صَدا کے سامنے
*محترم مختار تلہری (بھارت)*

*پروگرام کے تحت شعرائے عالم نے ادارے کی جانب سے تجویز کردہ طرحی مصرع "کہاں سے ڈھونڈ کر لائیں محبّت" پر مختلف النوع افکار وخیالات کے ذریعہ طبع آزمائی کرتے ہوئے اپنے کلامِ بلاغت سے محفلِ مشاعرہ کو فائزالمرامی عطا کی۔۔۔ نمونئہ کلام۔۔۔*

ہو جیسا بھی میسر ساز ہستی
بلند اؔقبال بس گائیں محبت
*محترم بلند اقبال نیازی(بھارت)*

مجھے گھیرا ہوا ہے نفرتوں نے
نہ دائیں  ہے نہ ہے بائیں محبت
*محترم اشرف علی اشرف(پاکستان)*

کرو تسخیر دل ہمراز سب کے 
تو پھر دھیرے سے سکھلائیں محبت
*محترم ہمراز اوچوی (پاکستان)*

فقط ہونٹوں تلک نہ فیض رکھنا 
چلو دل تک بھی پھیلائیں محبت
*محترم ارسلان فیض(پاکستان)*

بہت  لوگ  ساحل  کو اپنا  بتاتے
چلو ہم بھی اس سے جتائیں محبت
*محترم ساحل تماپوری(بھارت)*

رَہِ اخلاص کے راہی ہے انجم 
جو آئیں پاس وہ پائیں محبت
*محترم شکیل انجم (بھارت)*

چلو سب مل کے مہکائیں محبت 
زمانے بھر میں پھیلائیں محبت
*محترم یوسف رضا (بھارت)* 

بہت بے لوث جذبہ ہے یہ ارویٰ 
تو کیوں پهر کر کے جتلائیں محبت
*محترمہ ارویٰ سجل*

فلک کو کون پھر دیکھے گا اصغر 
زمیں پر ہم جو پھیلائیں محبت 
*محترم اصغر شمیم (بھارت)*

جو ہیں محروم اکثر سوچتے ہیں 
کہیں سے ہم بھی پاجائیں محبت 
*محترم ڈاکٹر سراج گلاٹھوی(بھارت)* 

چلو طالب میاں ہم بھی کسی دن
جبیں پر اپنی گدوائیں محبت
*محترم طالب ہاشمی(بھارت)*

غرض کیا بادہ و ساغر سے "مینا" 
چلو آنکھوں سے چھلکائیں محبت
*محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی(بھارت)*

ضیاء ہم تو  فقط یہ چاہتے ہیں 
کہ ہر اک دل میں بھرجائیں محبت
*محترم ضیاء شادانی (بھارت)*

تبسم   وہ   دلوں   کے بادشاہ  ہیں 
تبسم    پر    جو   برسائیں  محبت
*محترمہ جہاں آراء تبسّم(پاکستان)*

یہی ارشد اثاثہ زندگی کا 
کسی کی نام لکھوائیں محبت
*محترم ارشد محمود ارشد(پاکستان)*

امین ان خار صفّت بستیوں میں 
کھِلائیں  زخم  مہکائیں   محبت
*محترم امین اڈیرائی (پاکستان)*

کہیں سے ہم اگر پائیں محبّت
تو واجب ہے کہ لوٹائیں محبّت
*محترم امین جسپوری*

تعصب  کا  ہے  یہ  مختار  صحرا
کہاں تک ہم بھی برسائیں محبت
*محترم مختار تلہری(بھارت)*

جنہیں اپنا سمجھتا ہوں میں 'انور'
وہ کیوں غیروں پہ برسائیں محبت
*محترم انور کیفی (بھارت)*

پروگرام کے آخر میں ججیز کمیٹی میں شامل
محترم مختار تلہری صاحب، محترم انور کیفی صاحب، محترم احسن لکھنوی صاحب، محترم ضیاء شادانی، محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی (انڈیا)  نے بہ اعتبارِ فکروفن عمدہ طرحی کلامِ کا اعلان کیا... جس کے تخلیق کار محترم امین جسپوری صاحب تھے جنھیں *ساحر لُدھیانوی ایوارڈ* سے نوازہ گیا...

محفلِ ھٰذا نے، نہ صرف ادب و ثقافت کو جلا بخشی بلکہ دشمنانِ ادب کو باخبر کرادیا کہ *دورِ حاضر بھی اپنے زمرہء ادب میں ایسے شعراء و ادباء کو اپنے سَر کا تاج بنائے ہوئے ہے جن کی کہنہ مشقی سے ادب کی دقیق اصناف بھی ماہِ کامل کی طرح روشن ہو اٹھتیں ہیں۔۔۔۔* مشاعره میں شامل شعراء کا کلام پڑھنے سے پتہ چلا کہ جہاں روایت کے سانچے میں ڈھلنے والے اور مشکل لے پر سر دھنّے والے میدانِ شاعری میں رقص کناں ہیں، تو وہی آج کے اس انہماکی دور میں شعرائے عالم کو ایک جامع پلیٹفارم پر منجمد کرنے والے، نیز حوصلہ افزائی کے ساتھ انھیں اسنادِ ادب سے نوازنے والے، ادارے کے بانی و چئیرمن محترم توصیف ترنل صاحب جیسے ادب کے دیوانے بھی حاضر ہیں۔۔۔

اس تاریخی پروگرام میں شریک تمامی شعرائے عالم نیز رفقائے بزم کو اپنی اور ادارے کی جانب سے مبارکباد پیش کرتا ہوں....

🙏احقر.....🙏
*🖌نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی....*
       ضلع,بُلڈانہ,مہاراشٹر(بھارت)۔۔۔

((( اعلان )))))
International program

(( ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئیٹری))

 کی جانب سے سب سے بہترین کاوش پیش کرنے والے شاعر کو 
*ساحر لدھیانوی ایوارڈ* 
سے نوازا جاۓ گا۔ 
منجانب انتظامیہ ادارہ

اس پروگرام میں پوری دنیا سے شعرا شامل ہو سکتے ہیں 

ادارۂ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے، جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء,ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے...

*کہاں سے ڈھونڈ کر لائیں محبت*

لائیں..... قافیہ
محبت.... ردیف

مفاعیلن مفاعیلن فعولن

====================
تمام حضرات سے گزارش کی جاتی ہے کہ اپنا مطروحہ کلام 1.فروری بروز جمعرات شام 8 بجے تک جناب توصیف ترنل صاحب کے انباکس میں بھیج دیں تا کہ ججز حضرات صحیح فیصلہ سنا سکیں 
===========================
*We present 138th Unique international Program*
International program 

یہ پروگرام بتاریخ03-02-2018 بروز ہفتہ، پاکستانی وقت کے مطابق، شام سات بجے، اور ہندوستانی وقت کے مطابق، شام ساڑھے سات بجے، ان شاءاللہ ، ادارہ کے وائس گروپ میں منعقد ہوگا،  اسی وقت،،، تنقید نگار احباب،،، آن لائن تشریف لاکر غزل کے معائب ومحاسن، پر تنقید پیش فرمائیں گے،

آپ احباب سے بھی مؤدبانہ گزارش ہے، کہ وقتِ مقرہ پر تشریف لاکر پروگرام کو رونق بخشیں، اور ادارہ کو شکریہ کہنے کا موقع عنایت فرمائیں،  کرم ہوگا،

منجانب،    انتظامیہ
(( ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئیٹری))

==========================
*🌏آرگنائزر🌏*

کبھی کرتا ہے دل ملنے کو آئیں 
ترے آنگن میں پھلائیں محبت
 *توصیف ترنل ہانگ کانگ*

For example 
ججزپینل
محترم مختار تلہری صاحب بھارت 
4

محترم انور کیفی صاحب بھارت
6

محترم احسن لکھنوی صاحب بھارت 
5

محترم ضیاء شادانی۔ مرادآباد۔ انڈیا
5

محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی۔۔۔ مراداباد۔۔۔ ۔بھارت
6

Total 26

صدارت 
محترم ڈاکٹر بلند اقبال نیازی صاحب بھارت 

مہمانانِ خصوصی
محترم امین اڈیرائی صاحب پاکستان
محترم طالب ہاشمی برہان پور انڈیا
محترم امین جس پوری بھارت

مہمانانِ اعزازی 
محترمہ سیما گوہر صاحبہ رامپور انڈیا
محترمہ جہاں آراء تبسم صاحبہ کوئٹہ پاکستان
محترم ارشد محمود ارشد صاحب پاکستان 

ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کے زیرِ اہتمام 
بھارت میں مقیم جدید لب ولہجے کے معروف شاعر ڈاکٹر سراج گلاٹھوی کے ساتھ ایک شام و عالمی طرحی شعری نشست 

نظامت 
محترم مختار تلہری بھارت

رپورٹر.. 
محترم نفیس احمد نفیس ناندوروی صاحب انڈیا

مقالہ
محترم ڈاکٹر سراج گلاٹھوی صاحب بھارت 
محترم ڈاکٹر ارشاد خان صاحب بھارت

حمدِ باری تعالٰی. 
محترم نفیس احمد نفیس ناندوروی صاحب

نعت 
محترم مختار تلہری صاحب بھارت 

=======================

محترم اشرف علی اشرف سندھ پاکستان

محترم ہمراز اوچوی پاکستان

محترم ارسلان فیض صاحب پسرور سیالکوٹ

محترم شکیل انجم صاحب مینا نگری جلگاؤں بھارت

محترم ظہیر ضیاء صاحب بھمبر آزاد کشمیر

محترم رمز جلال آبادی صاحب بھارت

محترمہ اروی سجل صاحبہ چکوال پاکستان

محترم اصغر شمیم، کولکاتا، انڈیا

محترم ڈاکٹر ارشاد خان صاحب بھارت

محترم ڈاکٹر سراج گلاٹھوی صاحب بھارت 

محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی صاحبہ بھارت

محترم ضیاء شادانی صاحب بھارت

محترم مختار تلہری بھارت

Thursday, January 25, 2018

ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئیٹری ،عالمی تنقیدی اجلاس، ( بعنوان ) غزل میں معائب ومحاسن





http://touseefturnal.blogspot.hk/2018/01/blog-post_25.html?m=1

https://touseefturnal.tumblr.com/post/170134000698/اعلان-international-program-for-most

(((( اعلان )))))
International program for most senior poets

(( ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئیٹری))

 کی جانب سے سب سے بہترین کاوش پیش کرنے والے شاعر کو
*میر تقی میر ایوارڈ*
سے نوازا جاۓ گا۔
منجانب انتظامیہ ادارہ

ہر بار کی طرح اس بار بھی ایک منفرد پروگرام منعقد کرنے جا رہا ہے، ادارہ اس بار ایک،،،، تنقیدی اجلاس، ( بعنوان ) غزل میں معائب ومحاسن،،،،   منعقد کرنے جا رہا ہے، جس میں پوری دنیا سے شعرا شامل ہو سکتے ہیں

ادارۂ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے، جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء,ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے...
===========================
*We present 137th Unique international Program*
International program for the best poets

طریقہ یہ ہوگا کہ، غزل میں سے شاعر کا نام اور مقطع، حزف کر کے ،،، تنقید نگاروں،،، کو غزل بھیج دی جائے گی،،، برائے تنقید،،،
یہ پروگرام بتاریخ27-01-2018 بروز ہفتہ، پاکستانی وقت کے مطابق، شام سات بجے، اور ہندوستانی وقت کے مطابق، شام ساڑھے سات بجے، ان شاءاللہ ، ادارہ کے وائس گروپ میں منعقد ہوگا،  اسی وقت،،، تنقید نگار احباب،،، آن لائن تشریف لاکر غزل کے معائب ومحاسن، پر تنقید پیش فرمائیں گے،

آپ احباب سے بھی مؤدبانہ گزارش ہے، کہ وقتِ مقرہ پر تشریف لاکر پروگرام کو رونق بخشیں، اور ادارہ کو شکریہ کہنے کا موقع عنایت فرمائیں،  کرم ہوگا،

منجانب،    انتظامیہ
(( ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئیٹری))

==========================
*🌏آرگنائزر🌏*
 *توصیف ترنل ہانگ کانگ*

پروگرام آئیڈیا
توصیف ترنل
===========================
*📡 پبلشرز 📡*
محترم عثمان عاطس صاحب پاکستان
*📱ویب سائیٹ📱* onlineurdu.com
کی جانب سے سب سے بہترین کاوش پیش کرنے والے شاعر کو
*پاکستان میں کتابیں ارسال کرنے کا اعلان*

=================
محترم منظور قادر بھٹی صاحب
(چیف ایڈیٹر عکسِ جمہور رسالہ)
=================
محترم سردار امتیاز خان صاحب
(چیف ایڈیٹر روزنامہ پرنٹاس اخبار)
=================
Dr M ragib deshmukh sb
www.scholarsimpact.com
=================
توصیف ترنل ہانگ کانگ
بانی و چیئرمین
ادارہ,عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری
عالمی ادب فاؤنڈیشن
عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب

touseefturnal.blogspot.com

touseefturnal.tumblr.com

https://www.youtube.com/channel/UCvWq7-0Sdc107G-yPpoaOhA
=================

محترم محمد عبدالقدیر شاہد محمدی سیفی
کی جانب سے سب سے بہترین کاوش پیش کرنے والے شاعر کو
*پاکستان سے شیلڈ شاعرکو ارسال کرنے کا اعلان*
egohater.wordpress.com

=================
محترم چوہدری جان محمد
روزنامہ لازوال جموں ایڈیشن  بھارت
http://epaper.lazawal.com/index.aspx?page=5

=================

Ishraq a hashmi sb web developer plus founder CEO of TV East West News

=================
Graphic designer
 محترم داؤد حسین عطاری
بہاولپور پنجاب پاکستان

============================

محترمہ ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ
چئیر پرسن ادب سرائے انٹرنیشنل
کی جانب سے سب سے بہترین کاوش پیش کرنے والے شاعر کو
*گولڈ میڈل کا اعلان*
===========================
علی مزمل کی جانب سے اول آنے والی غزل کے خالق کو غلام محمد قاصر کی کلیات تحفہ دی جاۓ گی۔
===========================

صدور
30-محترم مسعود حساس صاحب کویت
31-محترم شہزاد نیّر صاحب پاکستان

مہمانانِ خصوصی
28-محترم ریاض شاہد بحرین
29-محترم سہیل ثاقب سعودی عرب

مہمانانِ عزازی
25-محترم سعد جمشید کینیڈا
26-محترمہ ثمینہ گل۔ سرگودھا۔ پاکستان
27-محترمہ ڈاکٹر شہناز مزمل۔ لاہور۔ پاکستان

نظامت
 محترم ضیاء شادانی صاحب مرادآباد انڈیا
2-4-6-8-10.....

محترمہ گل نسرین پاکستان
1-3-5-7-9.....

رپورٹ
محترم علی مزمل۔ کراچی۔ پاکستان

مقالہ
 محترم خالد صدیقی صاحب دمام، سعودی عربیہ
محترم ڈاکٹر ارشاد خان بھارت
محترم امیرالدین امیر بیدر۔ کرناٹک۔ انڈیا

ناقدین
محترم سعید اقبال پسروری صاحب لاہور
محترم علی مزمل کراچی پاکستان

مبصرین
محترم مختار تلہری صاحب بھارت
محترم انور کیفی صاحب بھارت

حمد
1-محترمہ ڈاکٹر شہناز مزمل۔ لاہور۔ پاکستان
2-محترم ڈاکٹر نبیل احمد نبیل

نعت
3-محترم ڈاکٹر بلنداقبال نیازی۔ انڈیا

===========================

4-محترم ضیاء شادانی۔ مرادآباد۔ انڈیا

5-محترم شوزیب کاشر۔ راولا کوٹ۔ آزاد کشمیر

6-محترم شاہد اقبال شاہد

7-محترم ثمریاب ثمر۔ انڈیا

8-محترم احتشام حسن (بہاولپور ) پاکستان

9-محترم قاضی جلال۔ شکاگو۔ امریکہ

10-محترم امین جس پوری۔ انڈیا

11-محترم امیرالدین امیر بیدر۔ کرناٹک۔ انڈیا

12-محترم ارشد محمود ارشد۔ سرگودھا۔ پاکستان

13محترم اظہر فراغ۔ بہاولپور۔ پاکستان

14-محترم سہیل احمدصدیقی کراچی

15-محترم احسن لکھنوی بھارت

16-محترم عبدالرزاق ایزد پاکستان

17-مضترم امین اڈیرائی۔ سندھ۔ پاکستان

18محترم علی مزمل۔ کراچی۔ پاکستان

19-محترم سعید اقبال پسروری صاحب لاہور

20-محترم شفاعت فہیم صاحب بھارت

21-محترم مختار تلہری صاحب بھارت

22-محترم شہزاد نیّر صاحب پاکستان

23-محترمہ مہ جبین غزل انصاری انگلینڈ

24-محترمہ نوشی گیلانی۔ آسٹرلیا

25- ڈاکٹر نبیل احمد نبیل۔ لاہور


http://touseefturnal.blogspot.hk/2018/01/blog-post_25.html?m=1
بسم تعالیٰ
رب زدنی علما
مقالہ

ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری ہمیشہ سے منفرد پروگرام پیش کرنے کے لیے کوشاں رہا ہے ۔ اس نے نت نئے تجربات کرکے کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں ، اب ایک سو سینتیسواں سنگ میل عبور کرکے کامیابی کی منزل کی جانب رواں دواں ہے جس کا سہرا عزت مآب توصیف ترنل صاحب کے سر بندھتا ہے ۔ بلا شبہ ان کی ٹیم کی شب وروز کاوشیں کو اگر سراہا نہ گیا تو یہ ان کی حق تلفی ہوگی ۔
پروگرام ہذا ۔۔ بعنوان ،، غزل کے محاسن و معائب ،، اپنے تئیں انفرادیت لیے ہوئے ہے ۔ وہ اس لیکن بھی کہ شعراء کے ایک طبقے نے غزل کو ہمیشہ شجر ممنوعہ سمجھا جس میں ترقی پسند شعراء پیش پیش رہے ۔ بعض نقاد نے غزل پر کھل کر تنقید کی ۔ کلیم الدین احمد نے غزل کو نیم وحشی صنف سخن تک کہہ دیا ۔ جدیدیوں میں ن۔ م راشد نے غیر مقفیٰ شاعری میں بہت سے تجربات کیے ۔ اختر الایمان کا رویہ بھی یوں ہی رہا ۔

مولانا الطاف حسین حالی نے مقدمہ شعر وشاعری میں ، غزل کے محاسن پر ، پرمغز تبصرہ کیا ، باوجود باد مخالف کے خدائے سخن سے لے کر شہنشاہِ تغزل تک ۔ چچا سے لے کر علامہ تک اور ابوالاثر سے لے کر مزدوروں کے شاعر تک ،

سب اسی زلف کے اسیر ہوئے

غزل وہ رنگ ہیں جو سر چڑھ کر بولتا جو اساتذہ کو بھی کف افسوس ملنے پر مجبور کرتا ہے ۔

نہ ہوا پر نہ ہوا میر کا انداز نصیب
تم نے اے داغ بہت زور غزل میں مارا
کہ

سنتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

اور ان یہ کوئی بازیچۂ اطفال نہیں ، جگر لخت لخت کرنا پڑتا ،
بقول میر
رنج و غم کتنے جمع کیے تو دیوان ہوا
غزل کی مقبولیت کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے کہ ترقی پسندوں سے جڑے مجروح نے اپنے شعری مجموعہ کا نام ،، غزل ،، رکھا ۔
فیض نے غزل سے فیض حاصل کیا ، قتیل کو غزل نے قتل کیا تو فراز کو سرفرازی ۔ غزل ، ناصر کی ہمیشہ حامی وناصر رہی ۔
دور حاضرہ میں غزل جدید لب و لہجہ لیے کمٹمنٹ سے جڑی صنف سخن سخن ہے جو ادب برائے زندگی کی علمبردار ہے ۔ انسانی مسائل سے بحث کرتی ہے ۔ تلخ حقائق سے روشناس کرتی ہے اس کی پردہ پوشی نہیں ۔ سیاست کو آئینہ دکھتاتی ہے اور غلامانہ ذہنیت کو اکھاڑ پھینکنے کی سعی مسلسل کرتی ہے ۔ جوش، ولولہ ححرکت و عمل کا پیغام لیے غزل نئے سانچے میں ڈھلی ہے ۔
اسی معرکتہ الآرا پیغام کو عام کرنے کی کوشش ، غزل کے نئے مفاہیم ، نئے پیرائے و نئے رنگ وآہنگ کو پیش کرنے کی کاوش ادارے کا نصب العین ہے ۔
ان شاءاللہ یہ پروگرام بھی ایک یادگار پروگرام ہوگا ۔

ڈاکٹر ارشاد خان

بسم اللہ الرّحمٰن الرّحیم
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,مقالہ,,,,,,,,,,,,,,

ادبی تنقید کے اصول

ادبی تنقید کے اپنے اصول اورضابطے ہیں جن کا احاطہ کرنے لئے ایک مکمل کتاب درکار ہے,یہاں نہایت اختصار کے ساتھ ان کا ذکر کیا جا رہاہےاور چند سطور میں صرف اسی کی گنجائش بھی ہے,
فن پارے کو دوپہلووں سے دیکھا اور پرکھا جا سکتا ہے,اس میں کیا پیش کیا گیا ہےاور کس طرح پیش کیا گیا ہے,اس کیا ؟ اور کیسے؟ کے لئے ہماری زبان میں دونام موجود ہیں ,,,مواد اور ہئیت,ان دونوں کا آپس میں جان وتن کاسا رشتہ ہے, انہیں ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن فن پارے کو سمجھنے اور سمجھانے اور اس کی قدر و قیمت کا تعین کرنے کےلئے نقاد انھیں الگ الگ کرکے دیکھنے پر مجبور ہے,
ادبی تنقید کا پہلا کام یہ دیکھنا ہے کہ فن پارے میں جو تجربہ پیش کیا گیا ہے یا یوں کہئے کہ جو جذبہ یا خیال سمویا گیا ہے اس کی کیا اہمیت ہے,جو بات کہی گئی ہے وہ معمولی ہے یا فرسودہ ہے یا تازہ اور فکرانگیز !
ادبی تنقید کا اگلا قدم یہ دیکھنا ہے کہ فنکار اپنے تجربہ کو پُراثر انداز میں پیش کر سکا ہے یا نہیں, کیونکہ پیشکش کا انداز ہی وہ شئے ہے جو کسی فن پارے میں دلکشی پیدا کرتا ہےاور اس کے لئے فنکار کو متعدد فنی وسائل سے کام لینا پڑتا ہے ,
جس طرح مصوّر اپنے تجربہ کو رنگوں کے ذریعے پیش کرتا ہے اسی طرح شاعر یا ادیب اپنے خیالات و جذبات کو لفظوں کے ذریعے پیش کرتا ہے,لفظ ہی اس کا میڈیم یعنی ذریعہ ہوتے ہیں,شعر و ادب محض لفظوں کا کھیل نہیں لیکن فن پارہ الفاظ اور ان کی موزوں ترتیب سے ہی وجود میں آتا ہے اس لئے یہی ادبی تنقید کی خصوصی توجہ کا مرکز رہتے ہیں,,,,,,,,,,,
چیف وبانی توصیف ترنل ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری نے اپنے کارناموں کی نوعیت سے آج برقی دنیا کی افق پر سورج کی طرح جگمگاتے نظر آرہے ہیں اور ساری برقی دنیا میں ان کے پیش کردہ پروگرامز اس قدر منفرد زاویہ سے پھیل چکے ہیں کہ وہ برقی دنیا کے بے تاج بادشاہ کہلانے لگے ہیں,ان ہی پروگرامز کی بدولت ہی ساری دنیا میں اپنی منفرد اور عالی شان شناخت ہوئی ہے,
اس ادارہ کے پروگرامز کی خصوصیت ہےکہ ہر پروگرام تنقیدی ہوتا ہے جس سے شعراء و ادبا و دیگر قلم کار کو سیکھنے سیکھانے کا راستہ ہموار ہوتا ہے ,اس طرح کے پروگرام اس ادارہ کے علاوہ اور کسی گروپ میں منعقد نہیں ہوتے, دیگر گروپ میں صرف واہ واہ کے پروگرام ہوتے ہیں مگر ادارہ ہذا نے ہر پروگرام منعقد کرتے ہوئے اپنی ایک بےمثال ومنفرد شناخت قائم کی ہے جس کا ساری برقی دنیا تسلیم کرتی ہے اس ساری کامیابی کا سہرا توصیف ترنل کے سر جاتا ہے اور ادارہ ہذا کے تمام معزز ومعتبر شامل  حضرات کوجاتا ہے
توصیف ترنل نے اپنی انتھک جستجو اور سخت کاوشوں سے دنیا بھر کے قلم کاروں کو اکٹھا کرتے ہوئے اردوزبان اور ادب کی آبیاری کی جانب توجہ مبذول کروائی ہے جو ناقابلِ فراموش ہے جنھوں نے اپنی مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اردوزبان وادب کی خدمت میں دن دونی رات چوگنی ترقی کی ہے۔ وہ اس کام کو انجام دے رہے ہیں جو قابلِ ستائش ہے,
آج کے منعقدہ تنقیدی ہروگرام ایک بہت ہی اہمیت کا حامل ہے اس لئے کہ اس پروگرام میں شامل تمام شعراء حضرات تقریباً کہنہ مشق اور استادانہ صلاحیت کے حامل ہیں ,اور ناقدین ان کی تخلیقات پر معائب و محاسن دیکھیں گے یہ کوئی معمولی بات نہیں,توصیف ترنل کا یہ اقدام واقعی لائق تحسین ہے,اللہ ربُّ العزت سے دعاگو ہوں کہ اس پروگرام کو عظیم الشان کامیابی عطا فرمائے امین ثم آمین ,,,
اللہ حافظ

خاکسار و خادمِ اردو
امیرالدین امیر بیدرکرناٹک بھارت

موجودہ دور میں مواصلاتی نظام میں دن دونی رات چوگنی ترقی نے دنیا کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے جو کچھ کبھی آپ کے تصور سے بھی بالاتر تھا وہ چشمِ زدن میں آپ کے روبرو ہوتا ہے۔ اس برقی ترقی یافتہ دور نے دنیا کو ایک گلوبل قریہ میں تبدیل کردیا ہے، جہاں ہر کوئی اپنے ذوق و شوق کی مطابقت سے بھانت بھانت کی چوپالیں سجائے بیٹھا ہے،کہیں فن موسیقی کی محافل، تو کہیں نثر و افسانہ نگاری کی تقاریب تو کہیں مشاعرہ و شعر و ادب کی نشستیں، غرض ہر کس وناکس کے ذوق و شوق کی آبیاری کے بھر پور مواقع بہم ہیں۔
ادارہ بیسٹ اردو پوئٹری (وائس) بھی انہیں تحریکات کا ایک جزو لا ینفق ہے جس نے اپنی انفرادی کا وشوں اور منفرد پروگرامس کے سبب بڑے ہی مختصر وقفے میں اس برقی دنیا میں اپنا ایک منفرد مقام پیدا کر لیا ہے،
ادارے نے نو مشق شعراء کی ذہنی تربیت اور رہنمائی میں ایک نمایاں کردار ادا کیا ہے اس لئے کہ ادارے کے ذریعہ منعقدہ پروگرامس "من تورا حاجی بگویم تو مورا حاجی بگو " کے مترادف نہ ہو کر مبنی بر تنقید ہوتے ہیں، جہاں ادیب و شاعر کی کاوشات کے محاسن و معائب پر کھلے ذہن کے ساتھ گفتگو ہوتی ہے جو نئے لکھنے والوں کی ذہنی تربیت و آبیاری کے لئے بے حد ہی معاون ثابت ہوتی ہے۔
ادارے کے بانی و چیرمین
جناب توصیف ترنل صاحب  نے اپنی مسحور کن شخصیت کے طفیل جس طرح لوگوں کو ایک لڑی میں پرو کر رکھا ہوا وہ واقعی لائقِ صد توصیف ہے۔ ان کی اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے ادارے کے تئیں جو فکر نظر آتی ہے وہ نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ اللہ ان کی مخلصانہ کوششوں کو بہرہ ور کرے آمین۔

خالد صدیقی

(ایک نظر ادھر بھی)

ماضی بعید سے لیکر عہدِ حاضر کی تمام ادبی کار گزاریوں کا اگر   بغور جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ ہر دور میں بڑے بڑے ادباء و شعراء حضرات نے اردو کی ارتقا کیلئے تن من دھن سے کام کیا ہے جس کے نتائج خوب سے خوب تر سامنے آتے رہے
عہدِ حاضر میں بھی خدمتِ اردو ادب کے لئے مقامی طور پر بیشمار تنظیمیں کام کرتی نظر آ رہی ہیں لیکن موجودہ دور میں جو ترقی برقی دنیا نے حاصل کی ہے وہ اپنی مثال خود ہے آج تمام فیس بک اور واٹس اپ کے گروپس اچھے اچھے پروگرام کرتے نظر آ رہے ہیں کہیں فی البدیہہ مشاعرے ہو رہے ہیں تو کہیں تصاویر کے حوالے سے تو کہیں ردیف کے حوالے سے المختصر مختلف ذاویوں سے ادب کی آبیاری کی جا رہی ہے اس کا اعتراف نہ کرنا بے انصافی ہوگی لیکن ان تمام گروپس میں واحد ادارہ ایسا ہے جو اپنی شناخت اپنی پہچان الگ بنائے ہوئے ہے وہ ہے ( ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری) یعنی ادارہ ہٰذہ
یہی ایک ایسا منفرد ادارہ ہے جو  ہر پروگرام تنقید کے حوالے سے منعقد کرتا ہے نیز ایوارڈ دیکر شعراء حضرات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے
یہ سب محترم توصیف ترنل صاحب کی بے لوث خدمات کا نتیجہ ہے کہ کئی ممالک کے ممتاز شعراء ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری میں شامل ہونے کو اپنا فرض سمجھتے ہیں

مختار تلہری بریلی اترپردیس انڈیا

Thursday, January 18, 2018

(طرزِِ سخن) ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ایوار


*🌍ادارہ,عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری🌍* 
کی جانب سے ایک اور منفرد پروگرام پیش کرتے ہیں...
(طرزِِ سخن) 
جس میں جیتنے والے کو 
🏆ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ایوارڈ🏆
سے نوازا جاۓ گا

*نوٹ-* 👇
تنقید کی پوری اجازت ہو گی۔

اور سب سے اچھی کہی جانے والی غزل پر 
🥇ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ایوارڈ🥇
سے نوازا جاۓ گا۔ 

اس مشاعرہ میں شامل تمام شعراء علامہ اقبال یا کسی بھی بزرگ شاعر کے کلام کی طرز پر غزل پیںش کریں گے۔ غزل کہنے والا اس شاعر کا نام بتاۓ گا کہ اس نے کس بزرگ شاعر کے رنگ و انداز میں غزل کہی ہے۔ اس بات کا فیصلہ منصفین کریں کہ کون سا شاعر ایسا کرنے میں کامیاب رہا۔
قافیہ۔ ردیف اور بحر کی کوئی پابندی نہیں۔
اور سب سے اچھی کہی جانے والی غزل کو ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ایوارڈ سے نوازا جاۓ گا 

ادارۂ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے، جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء,ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے...
===========================
*We present 136th Unique Program
طرزِِ سخن میں اساتذہ کے اسلوب میں کہی گئی غزلوں کا شاندار پروگرام پیش ہے

  *ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ایوارڈ *

*🌍ادارہ,عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری🌍* 

نوٹ 👇

ان شاء اللہ بروز ہفتہ
تاریخ 20 جنوری 2018
رات 7 بجے 

نوٹ۔
اس "طرزِ سخن" مشاعرہ میں اول آنے والے خوش نصیب کو "ڈاکٹر علامہ محمد اقبال" ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔
منجانب 
انتظامیہ ادارہ
===========================
*🌏آرگنائزر🌏*
 *توصیف ترنل ہانگ کانگ*

پروگرام آئیڈیا
محمد علی بھٹی۔ عمان
===========================
*📡 پبلشرز 📡*
محترم عثمان عاطس صاحب پاکستان
*📱ویب سائیٹ📱* onlineurdu.com
=================
محترم منظور قادر بھٹی صاحب
(چیف ایڈیٹر عکسِ جمہور رسالہ)
=================
محترم سردار امتیاز خان صاحب 
(چیف ایڈیٹر روزنامہ پرنٹاس اخبار)
=================
Dr M ragib deshmukh sb
www.scholarsimpact.com
=================
توصیف ترنل ہانگ کانگ 
بانی و چیئرمین 
ادارہ,عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری
عالمی ادب فاؤنڈیشن 
عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب

touseefturnal.blogspot.com

touseefturnal.tumblr.com

https://www.youtube.com/channel/UCvWq7-0Sdc107G-yPpoaOhA
=================
محترم محمد عبدالقدیر شاہد محمدی سیفی
egohater.wordpress.com
=================
محترم چوہدری جان محمد
روزنامہ لازوال جموں ایڈیشن  بھارت
http://epaper.lazawal.com/index.aspx?page=5

=================

Ishraq a hashmi sb web developer plus founder CEO of TV East West News

=================
Graphic designer
 محترم داؤد حسین عطاری
بہاولپور پنجاب پاکستان

============================
صدارت۔
محترم سعید اقبال پستوری صاحب لاہور

مہمانانِ خصوصی
محترم شہزاد نیّر صاحب پاکسانڈیا
محترم امیرالدین امیر بیدر۔ کرناٹک۔ انڈیا

ناقد ین 
محترم شہزاد نیّر صاحب پاکستان عمان
محترم شاہین فصیح ربانی۔ مسقط عمان
جناب علی مزمل۔ کراچی۔ پاکستان

نظامت 
جناب۔ ضیاء شادانی۔ مرادآباد۔ انڈیا

رپورٹ 
محترم علی مزمل۔ کراچی۔ پاکستان

مقالہ۔ 
محترم ڈاکٹر ارشاد خان ممبرا مہاراشٹر  انڈیا

حمدِ باری تعالی ﷻ:
محترم سراج گلاؤٹھوی صاحب بھارت 

نعتِ شافعِ محشر ﷺ:
محترم سراج گلاؤٹھوی صاحب بھارت 
محترم خالد سروحی۔ گکھڑ سٹی۔ گوجرانوالہ

===========================

جناب۔ ضیاء شادانی۔ مرادآباد۔ انڈیا

جناب۔ اشرف علی اشرف۔ سندھ۔ پاکستان

جناب۔ شوزیب کاشر۔ راولا کوٹ۔ آزاد کشمیر

جناب۔ محمد رضوان عالم۔ ڈیرہ اسماعیل خان

جناب۔ ڈاکٹر ارشاد خان ممبرا مہاراشٹر   انڈیا

جناب۔ مسکین رائچوری۔ رائچور۔ کرناٹک۔ انڈیا

جناب۔ مختار تلہری۔ بریلی۔اترپردیش۔ انڈیا

جناب۔ شاہین فصیح ربانی۔ مسقط عمان

جناب علی مزمل۔ کراچی۔ پاکستان

جناب۔ ڈاکٹر مینا نقوی۔ مرادآباد۔ انڈیا

محترمہ۔ ڈاکٹر شہناز مزمل۔ لاہور۔ پاکستان

Sunday, January 14, 2018

ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری رپوٹ نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی(انڈیا)


🎖🍁🎖🍁🎖🍁🎖🍁🎖
*🖌رپورٹ🖌*
*🖌نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی(انڈیا)...*

*منفرد ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئٹری*, یقیناََ دورِ حاضر میں دنیا کا واحد ادارہ ہے جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء, ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے... ادارۂ ھٰذا کی اوّلین خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تمام پروگرامز بلا تفریق برائے تنقید کئے جاتے ہیں... *تدبیرِ مزمّلی اور جذبۂ توصیفی نے کامیابی کے اس سفر کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے، بین الاقوامی سطح پر مورخہ ١٣جنوری ٢۰١٨، بروز سنیچر، آن لائن پروگرام "صنعتِ توشیح (خواجہ حیدر علی آتش ایوارڈ)" کے ذریعہ بہترین ادبی کارنامہ سر انجام دیا ہے* اس عالمی آن لائن محفلِ مشاعرہ کے *صدر* محترم شہباز نئیر صاحب (پاکستان) اور *مہمانانِ خصوصی* محترم شکیل انجم صاحب (انڈیا)، محترم سیّد محمود احمد صاحب(انڈیا) تھے... نیز *جنابِ محترم علی مزمّل خان صاحب (کراچی) نے اپنے منفرد لب ولہجہ اور دَم دار اندازِ نظامت سے محفلِ مشاعرہ میں جادوئی سَما باندھ دیا...* مشاعرہ کا باقائدہ آغاز ربِّ ذوالجَلال کی پاک وشفّاف حَمد وثنا کے ساتھ محترمہ شہناز مزمل صاحبہ نے کیا۔ 

وہی واحد وہی احد ٹھہرا
حد نہیں ماوراۓ حد ٹھہرا
اس کا عرفان بھی ضروری ہے
لم یلد اور ولم یولد ٹھہرا

بعدازاں بندۂ ناچیز نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی (انڈیا) نے کچھ یوں کیا...کہ

نظر  چار  سُو  آئے  رحمت  خُدا  کی
دو عالم  پہ  چھائی  عنایت  خُدا  کی
ذرا مَن کی آنکھوں کو کھولو تو جانو
ہر اک شئے سے ظاہر ہے قدرت خُدا کی

اور رسول اکرم نُور مُجسّم محمّدﷺ کی شانِ اقدس میں نعتیہ کلام کا نظرانۂ عقیدت محترم شوزیب کاشر صاحب (کشمیر) نے پیش کیا...

رب نے تمہیں ہے صورتِ مہتاب دی ہوئی
یا چاند کو ہے  طلعتِ  سیماب  دی ہوئی 
کاشر  میں ہوں سپاس گزار اس  ندیم کا
جس نےہےدل کوسوزشِ شاداب دی ہوئی

*پروگرام کے تحت شعرائے عالم نے ادارے کی جانب سے تجویز کردہ ناموں پر صنعتِ توشیح کا استعمال کرتے ہوئے اپنے کلامِ بلاغت سے محفلِ مشاعرہ کو فائزالمرامی عطا کی۔۔۔ نمونۂ کلام۔۔۔*

1) پہلی جوڑی۔۔۔👬

عالی جناب...! آپ تو مقصد سے ہٹ گئے 
سب فاصلے میں سوچ رھا تھا سمٹ گئے
*محترم ضیاء شادانی صاحب(انڈیا)...*

2) دوسری جوڑی۔۔۔👬

اگر ہے  پیار  تو  شکوہ  گلہ  ضروری ہے
جنوں کو راستہ رخنوں بھرا ضروری ہے
*محترم شکیل انجم مینانگری(انڈیا)*

شب بھر تم کو سوچوں میں 
اور آنکھوں میں رکھوں میں 
*محترم اشرف علی اشرف(پاکستان)*

3) تیسری جوڑی۔۔۔👬

مے خانہ  کھلا  رکھنا 
پیمانہ   بھرا     رکھنا... 
*محترم ہمراز اوچوی (پاکستان)*

ہمنوائی کا حق ادا کیا ہوتا
کوئی وعدہ تو وفا کیا ہوتا 
*محترم محمد عبدالقدیر شاہد(پاکستان)* 

4) چوتھی جوڑی۔۔۔👬

نقش کیوں عکس کا بدل جائے
کس  طرح   آئنہ   بدل   جائے۔۔۔؟
*محترم شاہین فصیح ربانی(عمان)* 

سُنو کہ جستجو  باقی  نہ  انتظار ہے اب 
غمِ فراق میں ہی دل کو بس  قرار ہے اب
*محترم قاضی جلال (امریکہ)*

5) پانچویں جوڑی۔۔۔👬

عدل اورسچائی کےہیں کتنےدعوے دار اب
کتنے ہیں  ایمان پر  مَر مِٹنے کو  تیار اب۔۔۔
*محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی (انڈیا)...*

میرے افکار  شبِ تار  میں ڈھالے ہوۓ ہیں
تب کہیں جا کے مقدر میں اجالے ہوۓ ہیں 
*محترم علی مزمل خان(کراچی)*

پروگرام کے آخر میں ججیز کمیٹی نے بہ اعتبارِ فکروفن عمدہ کلامِ توشیح کا اعلان کیا... جس کے تخلیق کار محترم قاضی جلال کیلیفورنیا، (امریکہ) تھے جنھیں *خواجہ حیدر علی آتش ایوارڈ* سے نوازہ گیا...

محفلِ ھٰذا نے، نہ صرف ادب و ثقافت کو جلا بخشی بلکہ دشمنانِ ادب کو باخبر کرادیا کہ *دورِ حاضر بھی اپنے زمرۂ ادب میں ایسے شعراء و ادباء کو اپنے سر کا تاج بنائے ہوئے ہے جن کی کہنہ مشقی سے ادب کی دقیق اصناف بھی ماہِ کامل کی طرح روشن ہو اٹھتیں ہیں۔۔۔۔* مشاعره میں شامل شعراء کا کلام پڑھنے سے پتہ چلا کہ جہاں روایت کے سانچے میں ڈھلنے والے اور مشکل لے پر سر دھنّے والے میدانِ شاعری میں رقص کناں ہیں، تو وہی آج کے اس انہماکی دور میں شعرائے عالم کو ایک جامع پلیٹ فارم پر منجمد کرنے والے، نیز حوصلہ افزائی کے ساتھ انھیں اسنادِ ادب سے نوازنے والے، ادارے کے بانی و چئیرمن محترم توصیف ترنل صاحب جیسے ادب کے دیوانے بھی حاضر ہیں۔۔۔

اس تاریخی پروگرام میں شریک تمام شعرائے عالم نیز رفقائے بزم کو اپنی اور ادارے کی جانب سے مبارکباد پیش کرتا ہوں....

🙏احقر.....🙏
*🖌نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی....*
       ضلع,بُلڈانہ,مہاراشٹر(بھارت)۔۔۔
🍁🎖🍁🎖🍁🎖🍁🎖🍁