Friday, April 6, 2018

ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئیٹری کی جانب سے پیش کرتے ہیں نظم و گیت مشاعرہ




ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئیٹری
کی جانب سے پیش کرتے ہیں ایک اور منفرد پروگرام 

 نظم و گیت مشاعرہ

السلام علیکم احباب 

سنیچر (ہفتہ) 2018-04 -07 کو جو مشاعرہ منقد کیا جا رہا ہے وہ نظم اور گیت پر مبنی ہوگا  جو احباب اس میں حصہ لینا چاہتے ہیں وہ اپنی پابند یا آزاد نظم مجھے واٹس ایپ پر ارسال کردیں جسے مشاعرے میں پیش کرنے کا کام بھی ناظم کا ہوگا مشاعرے کے وقت کئ بار دیکھا گیا ہے کہ احباب مصروفیت کے سبب حاضر نہیں ہو پاتے اسلئے اس بار یہ قدم اٹھایا جا رہا ہے تاکہ نام دینے والے شاعر کی تخلیق مشاعرے میں شامل ہو جائے  

تلک راج پارس صاحب کو اپنی تخلیق ارسال کردیں عنایت ہوگی

ہر بار کی طرح اس بار بھی ایک منفرد پروگرام منعقد کرنے جا رہا ہے، ادارہ اس بار ایک پروگرام، ( بعنوان ) *نظم و گیت* منعقد کرنے جا رہا ہے۔ 

ادارۂ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے، جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء,ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور منفرد لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے...
===========================
*We present 147th Unique Program*

یہ پروگرام 07-4-2018 بروز ہفتہ، پاکستانی وقت کے مطابق، شام سات بجے، اور ہندوستانی وقت کے مطابق، شام ساڑھے سات بجے، ان شاءاللہ ، منعقد ہوگا،  اسی وقت،،، نوٹ اس پروگرام میں تنقید کرنے پر پابندی ہے اسلئے احباب سے گزارش ہے اس بات کا دھیان رکھیں کسی بھی کلام پر تنقید نہ کریں عنایت ہوگی

آپ احباب سے بھی مؤدبانہ گزارش ہے، کہ وقتِ مقرہ پر تشریف لاکر پروگرام کو رونق بخشیں، اور ادارہ کو شکریہ کہنے کا موقع عنایت فرمائیں،  کرم ہوگا،

منجانب،    انتظامیہ
(( ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئیٹری))

==========================
*🌏آرگنائزر🌏*
تلک راج پارس بھارت 

پبلشر
توصیف ترنل ہانگ کانگ
===========================

صدارت 
 محترمہ گل نسرین صاحبہ پاکستان 

مہمانانِ خصوصی
 علی اکبر صاحب پاکستان 
۲۔ ثمر یاب ثمر [انڈیا]

مہمانانِ اعزازی 
 محترمہ نیر رانی شفق صاحبہ
علیم طاہر صاحب بھارت 
مقیم مینا نگری صاحب بھارت 

نظامت 
تلک راج پارس بھارت 
محترم علی سبحان زیدی صاحب


رپورٹ
 محترم ڈاکٹرارشادخان بھارت

==========================

شعرائے کرام 

۱ علیم طاہر صاحب [ حمدیہ نظم] انڈیا

۲۔ تلک راج پارس [انڈیا
نعتیہ کیت]

۳۔مصطیٰ دلکش صاحب [انڈیا]

۴ صبیحہ صدف صاحبہ [ انڈیا]

۵۔عامر حسنی صاحب[ ملیشیا]

۶ مشرف محضر صا حب[ انڈیا] 

۷ ۔ڈاکٹر سراج گلاوٹھوی صاحب [انڈیا]

۸ ۔ڈاکٹر ارشاد خان صاحب انڈیا

۹ شکیل انجم صاحب[ انڈیا]

۱۰۔ علیم طاہر صاحب[ انڈیا]

۱۱ ۔غزالہ انجم

۱۲ ۔ اصغر شمیم [انڈیا]

۱۳ ۔ثمر یاب ثمر [ انڈیا] 

 ۱۴۔ نیر رانی شفق  [ پاکستان]

۱۵۔ عمر تنہا صاحب[ پاکستان] 

۱۶۔ محمد امجد [پاکستان 

۱۷ سیما گوہر [انڈیا] 

۱۸ ارشد مینانگری صاحب [ انڈیا]

 ۱۹۔ساحل تماپوری [ انڈیا]

۲۰۔ علی اکبر صاحب [ پاکستان] 

۲۱۔امین جسپوری صاحب [ انڈیا ]

۲۲۔ شاہد رحمان صاحب [ پاکستان] 

۲۳۔ ڈاکٹر مینا نقوی صاحبہ [انڈیا]

۲۷۔احمد علی برقی صاحب بھارت 

۲۵۔ ابنٍ  ربانی صاحب [ پاکستان ]

۔۲۶مقیم مینا نگری صاحب [انڈیا

۲۷۔شاہد عباس ملک

Monday, April 2, 2018

ادارہ،عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری"کا 146 واں عالمی غیر طرحی مشاعرہ اور تقریب رو نمائی



"ادارہ،عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری"کا 146 واں
عالمی غیر طرحی مشاعرہ اور تقریب رو نمائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔رپورٹ: امین جس پوری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 ای میڈیا کی دنیا میں" ادارہ: عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری" اردو کے فروغ ترویج اور ترقّی کیلئے بے نظیر طورپر فعال ادارہ ہے۔ جو اب تک مختلف قسم کے نوع بہ نوع145 ہفتہ وار پروگرام پیش کر چکا ہے جن کی پذیرائی اردو دنیا کے گوشے گوشے میں ہو رہی ہے اور اردو تخلیقات کے نئے شاہکار روز بروز منظرِ عام پر آ رہے ہیں۔ جن کی تشہیر اور تعارف کیلئے ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری، ای میڈیا کے مختلف وسائل:فیس بک، وٹس ایپ، انسٹا گرام، بلاگس،یو ٹیوب، گوگل کے ساتھ بیسیوں ویب سائٹس اور چینلس پر اپنے جملہ ممبران کی تخلیقات کو مستعدی اور پابندی اور تسلسل کے ساتھ بلا تاخیر مشتہر کرتا ہے۔ اس کا اثر یہ ہوا ہے اردو کے قلم دوست غیرمتوقع طور پر فعال ہو گئے ہیں اور اردو کی خوشبو نے کرّۂ ارض کو اپنے حصار میں لے لیا ہےاردو کے فروغ کیلئے ادارہ کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتا ہے اردو کی مقبولیت ہندی داں حضرات میں بھی دیکھتے ہوئے ادارے نے اپنے مختلف پروگرام کیلئےتخلیق ہونے والی ادبی تخلیقات کو دیوناگری رسم الخط میں اپنے مختلف ضمنی گروپس میں فراہم کرا دیا ہے۔ ادارہ اردو کے فروغ کیلئے کسی ایک ہی مخصوص سمت میں گامزن نہیں بلکہ اس کی کوششیں ہمہ جہت ہیں۔ادارہ ہر ہفتہ اپنے ہفتہ وار پروگرام ہفتہ یعنی سنیچر کے روز پاکستانی وقت کے مطابق شام سات بجے اور بھارت کے وقت کے مطابق ساڑھے سات بجے منعقد کرتا ہے ۔مورّخہ 31 مارچ 2018  کو منعقد46 واں  یہ پروگرام اب تک کے انعقاد میں سب سے مختلف اور تنوّع کا حامل ہے۔ جس کا عنوان "عالمی غیر طرحی مشاعرہ و اجتماعی رونمائی تقریب " رکھا گیا ہے۔
 "غیرحی عالمی مشاعرہ اور تقریب رونمائی" عنوان سے آج منعقد کیا گیا یہ پروگرام بڑے کینوس کا پروگرام ہے اس لئے یہ کافی وقت طلب بھی تھا اس پروگرام کا تصور گذشتہ سال پیش کیا گیا تھا، جس کے تحت اس پروگرام پہلا حصّہ 24 مارچ 2017 کو پیش کیا جا چکا ہے ، جس کی رپورٹ جناب عبدالرّزاق صاحب نے سپردِ قلم کی تھی۔ آج اس عنوان کے پروگرام کے دوسرے حصّے کا انعقاد آج مورّخہ 31 مارچ 2018 کو کیا گیا۔ اس ایک سال کے دورانیے میں شائع ہونے والی احباب کی کتب کی رونمائی گذشتہ سال کی طرح اس بار بھی کی جا رہی ہے ۔
  اس پروگرام میں شامل ہونے والے شرکا ء کی فہرست اب تک کافی طویل ہو چکی تھی۔ پروگرام کا خاکہ ادارے کے چیئر مین( جو پروگرام آرگنائزر بھی ہیں) جناب توصیف ترنل( ہانگ کانگ /چائنا) نے اس طرح پیش فرمایا کہ صرف ادارے کا ہر رکن ہی نہیں غیر ارکان بھی اس انعقاد میں شرکت کیلئے پہلے اپنے نام کے ساتھ اپنا مختصر تعارف/نام، قلمی نام، جائے پیدائش، مقام سکونت، تعلیم پیشہ ، اردو ادب کے میدان میں سرگرمیاں، تصنیف یا تالیف یا تدوین شدہ کتب کے سرورق کی تصویراور اپنی پانچ/5 غزلیں ادارے کے فہرست ساز کو پیش فرمائیں گے ، تاکہ پروگرام کے انعقاد کے وقت نظامت کو بحسن و خوبی تسلسل سے انجام دیا جا سکے اور پرو گرام میں شرکت فرمانے والے معزّز ارکان کو اپنا کلام پیش کرنے کیلئے پہلے تیار رہنے کا موقع مل جائے۔ اس 146ویں پروگرام کو منظّم طور پر منعقد کرنے کیلئے مشاعرے میں پیش کئے جانے والے کلام پر تیقید فرمانے کے ایک تنقید نگار جناب شہزاد نیّرؔ 
کو ذمّہ داری تفویض کی گئی ہے۔جو ہر کلام کے معائب و محاسن اور دوسرے فنّی پہلوؤں پر ناقدانہ روشنی ڈالتے رہیں گے۔ اس پروگرام کی صدارت کو وقار بخشنے کے لئے محترم مشرف حسین محضر( علی گڑھ/ انڈیا) سے درخواست کی گئی، اس انعقاد کےمہمانانِ خصوصی محترم تلک کراج پارس( جبلپور/بھارت)  ،محترم احمد عقیل جذبی( اٹک/بھارت) ہیں اورمہمانانِ اعزازی :محترم ابنِ ربانی (پاکستان)محترم احمد کاشف (مہاراشٹر/ انڈیا ) سے ہیں۔  مشاعرے اور تقریب رونمائی کی دو ناظمین محترمہ گلِ نسرین صاحبہ اور جناب طاہر علیم صاحب کے سپرد کی گئی۔اردو کے ساتھ ہندی رسم الخط میں پروگرام کی رپورٹ تیار کرنے پیش کرنے ذمّہ داریاں جناب امینؔ جس پوری کے سپرد کی گئیں ۔ پروگرام کے لائحۂ عمل کے تحت محترم علیم طاہر صاحب ایک پرمغزمقالہ بھی پیش فرمائیں گے۔
 اس 146 ویں ہفتہ وار پروگرام میں شرکا کی تعداد 18  تھی ۔ اس انعقاد کی نظامت کو دو/2 مرحلوں میں تقسیم کیا گیا تاکہ ناظم حضرات کے لب و لہجے تازگی اور پروگرا م کی شادابی برقرار رہے ۔پہلے مرحلے میں پہلے 9 شرکا ء کے ساتھ مشاعرے کی نظامت جناب گلِ نسرینصاحبہ نے فرمائی اور دوسرے مرحلے میں آخری 9 شعراء کے ساتھ پروگرام کی نظامت جناب علیم طاہر صاحب  نے فرمائی۔
 اس پروگرام کے آغاز سے قبل ادارے کی جانب سے مشمولات کی تفصیل جاری کی تاکہ شرکاء ، تنقید نگار اور جزز صاحبان اپنی ذمّہ داریوں اور فرائض کی ادائیگی کے لئے پہلے سے مستعد رہیں۔اس تفصیل میں پروگرام کے شرکاء کو آن لائن حاضر رہنے اور اپنی پیش کش کے لئے سلسلہ نمبر جاری کئے گئے۔ 
  ادارے کا 146 واں بے مثال پروگرام اپنے مقرّرہ وقت پر ٹھیک  سات بجے/ ساڑے سات بجے پروگرام کے آرگنائزر جناب توصیف ترنل صاحب کی وائس کلپ کے ساتھ ہوا۔
 اپنے اس مختصر نشریےمیں توصیف ترنل صاحب نے فرمایا،"اردو ادب کی دنیا میںاور برقی دنیا میںآج ہم 146 واں پروگرام پیش کرنے جا رہے ہیں۔اس پروگرام  میںپوری دنیا سے احباب حصّہ لے سکتے ہیں ۔ "عالمی غیر طرحی مشاعرے واجتماعی رو نمائی" کے پروگرام کی خوبی یہ بھی ہے کہ آج ایک خود رنگ شاعر کی تلاش کی جائے گی اور اسے ادارے کی جانب سے "بشیر بدر ایوارڈ"سے نوازا جائے گا۔"
 اس کے بعد محترمہ گلِ نسرین صاحبہ (ملتان) نے پروگرام کی ابتدابسم اللہ سے کرتے ہوئے اپنا آداب و سلام شرکا کے لئے پیش کیا اور جملہ شرکا کو تفویض کئے گئے فرائض کی تفصیل پیش کرنے کے ساتھ حسبِ مراتب استقبال کرنے کے بعد کہا،" ڈاکٹر سراج گلاؤٹھی صاحب کے حمد ِخدائے وحدٗ لاشریک لہٗ اللہ تبارک تعالیٰ بارگاہ میں حمد پاک کا نذرانہ پیش فرمائیں گے۔"
ڈاکٹر سراج گلاؤٹھی صاحب کی حمدِ پاک کا  مطلع تھا:
حمد
ڈاکٹر سراج گلاؤٹھی
کام بگڑا تھا مرا جوبھی، بنایا تونے
میرے مولیٰ مجھے ہر آن سنبھالا تو نے
 ڈاکٹر سراج گلاؤٹھی صاحب کی 9 اشعار پر مشتعمل حمد پاک سے بڑا پاکیزہ اور نورانی  فضاقائم ہو جانے سے آن لائن شرکا اپنی نیازمندیاں اور اظہار بندگی کے کلمات پوسٹ کرتے رہے۔ زبردست حمد،سبحان اللہ، ماشا اللہ،اور جزاک اللہ کے کلمات اور صدائیں پوسٹ ہوتی رہیںاور احباب اپنے آن لائن موجودگی کا احساس کراتے رہے۔
 ڈاکٹر سراج گلاؤٹھی صاحب کی حمد کی تکمیل کے بعد نعت رسولِ مقبول کے لئے محترم تلک راج پارس صاحب (انڈیا) کو مدعو کیا گیا۔جناب پارسؔ صاحب کی پیشکی گئی نعت پاک کا مطلع تھا:
نعتِ پاک ﷺ
تلک راج پارسؔ
انؐ کا آنا نعت ہے  انؐ کا گھرانا نعت ہے
 سرورِ کونینؐ کا سارا زمانہ نعت ہے
  بارگاہِ رسالت میں نذرانۂ عقیدت کے احترام میں آن لائن حضرات کے نیازمندانہ کلمات اور نظامت کی توصیف  پوسٹ کی جاتی رہیں جس کا شکریہ محترم تلک راج پارسؔ صاحب نے بھی ادا کیا۔ اس کے بعد مشاعرے کے بہاریہ دور کا آغاز ہوا۔ جس کے لئے سرِ دست جمّو کشمیر سے اشتیاق کاشمیری صاحب کے اپنا تعارف اور پانچ غزلیں پیش کرنے کے لئے مدعو کیا گیا۔ 
 جناب اشتیاق کاشمیری صاحب آن لائن موجود نہ ہونے کے سبب محترم عرشیہ احسان مفتیؔ(بھارت) کو مدعوکی گیا کہ وہ اپنا کلام اور تعارف پیش فرمائیں۔
 محترم عرشیہ احسان مفتیؔصاحب بھی آئن حاضر نہ ہوسکے اس لئے مناسب وقت تک انتظار کے بعد جناب ارشدؔ مینا نگری(بھارت) کو دعوتِ سخن دی گئی۔اپنی دعوت پر جناب ارشد مینا نگری نے پہلے اپنے شعری مجموعے "غزل، غزال، غزل نما" کا سرورق اور کتاب میں شامل اپنا تفصیلی تعارف پوسٹ کیااور اس پوسٹنگ کے بعد آن لائن احباب سے مبارکبا د قبول کرتے ہوئے اپنی پانچ غزلیں پیش کی ناظرین کے لئے جناب ارشد مینا نگری کے ہر کلام کس مطلع پیشِ خدمت ہے:
کلام 
ارشد مینا نگری(بھارت)
اپنی سنتا نہ اپنی کہتا ہے
اپنی اپنی ہی دھن میں رہتا ہے
سب سر دھنتے رہتے ہیں
 تجھ کو سنتے رہتے ہیں
جب بھی ہم انتخاب دیکھتے ہیں
اک سہانا سراب دیکھتے ہیں
یہ ہے کچّا مکان ٹوٹے گا
 خود ہی تیرا گمان ٹوٹے گا
دل سے جب دل کے سلسلے ٹوٹے
منزلیں چھوٹیں راستے ٹوٹے
جناب ارشد مینا نگری کے کلام پر آن لائن موجود احباب اور ناظرین اظہار تبریک داد وتحسین پوسٹ کرتے رہے۔
 اسی درمیان پروگرام کے آرگنائزر جناب توصیف ترنل نے جناب شہزاد نیّرؔ صاحب کو ارشد مینا نگری کے کلام پر تنقید پیش کرنے کے وائس کلپ جاری کیا۔لہٰذاگلِ نسرین صاحبہ نے وقت کی قلت کا احساس کراتے ہر جلد ازجلد شہزاد نیّر صاحب سے تنقید پیش کرنے التماس کی اور اسی کے ساتھ  ارسلان کھوکھر صاحب (پاکستان)کو دعوتِ کلام دی گئی۔جناب ارسالان کھو کھر صاحب نے اپنے تعارف کے ساتھ اپنی پانچ غزلیں بھی پوسٹ کیں۔ جن کے مطلعے احباب اور ناظرین کے لئے پیش ہیں:
کلام 
ارسلان فیض کھوکھر(پاکستان)
تم نے ٹوٹا ہوا تارہ بھی کبھی دیکھا ہے
میں نے تاروں سے بھی آگے کا جہاں دیکھا ہے
 یہ زمین چپ چپ ہے
آسمان چپ چپ ہے
آؤ! دل اپنا چاک کرتے ہیں
بغض و کینہ سے پاک کرتے ہیں
 اپنی حسرت پہ لگی آج گرہیں کھولیں گے
دو گھڑی بیٹھ کے ہم اور کہیں رولیں گے
مرے خدا یہ دیس سرفراز رہے
 یہ چال ڈھال یوں ہی اب خرامِ ناز رہے
  ارسلان فیض کھوکھر صاحب کے ہر بہترین شعر پر آن لائن احباب کی جانب سے بھر پور پذیرائی کی گئی۔ اسی درمیان جناب شہزاد نیّرؔ صاحب (جن کو مشاعرے میں پیش کئے جارہے کلام پر تنقید کی ذمّہ داری سونی گئی تھی) نے جناب ارشد مینا نگری کے کلام پر اپنی تنقید پیش کی۔اسی درمیان صاحبِ صدرجناب مشرف حسین محضرؔ اور جناب سراج گلاؤٹھی کے درمیان ایک خوبصورت مکالمہ قائم ہوا جس کی تحریک پر اوّل ناظمِ مشاعرہ محترمہ گلِ نسرین صاحبہ نے ساغر ؔ صدّیقی کا یہ شعر پیش فرمایا:
چلو کہ جشنِ بہار دیکھیں چلو کہ ظرفِ بہار جانچیں 
 چمن چمن روشنی ہوئی ہے،کلی کلی پہ نکھار سا ہے
  اس شعر کے بعد  ناظمِ مشاعرہ گلِ نسرین صاحب دوسرے  شاعر کو دعوتِ کلام دینے کے لئے آمادہ ہوئیں کی جناب شہزاد نیّرؔ صاحب نے ارسلان فیض کھوکھر کی سخنوری پر تنقید کرتے ہوئے ان کو خوش امکان شاعرقرار دیتے ہوئے ان کے یہاں شعری جوہر کی نشاندہی کی ۔
 محترم شہزاد نیّرؔ صاحب کی تنقید اور انداز تنقید کو پروگرام کے آرگنائزر جناب توصیف ترنل نے سراہا۔ جس سے مشاعر میں ایک تازگی اور چستی  فضا  قائم ہو گئ اور اسی کے ساتھ ڈاکٹر نبیل احمد نبیلؔ کلا م پیش فرمانے کی دعوت دی گئی لیکن ڈاکٹر نبیل احمد نبیل کے آن لائن غیر حاضر ہونے کے سبب  اگلے شریکِ مشاعرہ ڈاکٹر سراج احمد سراج گلاؤٹھی صاحب کو ساغر صدّیقی کے اس شعر کے ساتھ کو مدعو کی گیا۔ 
 تمہارا نام لیتا ہوں فضائیں رقص کرتی ہیں
تمہاری یاد آتی ہے تو ارماں لڑ کھڑاتے ہیں
 ڈاکٹر سراج گلاؤٹھی صاحب نے بلا تاخیر اپنا تعارف اور کلا پیش فرمایا دیا
کلام
ڈاکٹر سراج گلاؤٹھی 
ناتواں جیسے سہاروں سے لپٹ جاتے ہیں
 ہم تری یاد کی بانہوں سے پلٹ جاتے ہیں
 تمہاری ذات سے مجھ کو لگاؤ ہے  ہے اب تک
 تمہاری سمت ہی دل کا جھکاؤ ہے اب تک
 ایک شعلہ مری نس نس میں بھڑک جا تا ہے 
جب کوئی بھوک سے بے حال پھڑک جاتا ہے
 بڑی مشکل سے راحت کا کوئی رستہ نکلتا ہے
 پہاڑوں کا کلیجہ چیر کر دریا نکلتا ہے
 میں جس کے واسطے سب سے لڑا تھا
  وہی حذبِ مخالف میں کھڑا تھا
 ڈاکٹر سراج گلاؤٹھی کے کلام کے بعد مشاعرے کے آرگنائزر جناب توصیف ترنل صاحب نے بطور رونمائی ان کے مجموعۂ کلام "گھاس کی پتوار" کا کور پیج پوسٹ کیا۔جس کو ناظرین نے بہت پسند فرمایا اور سراج صاحب کی تبریکی کلمات پوسٹ کئے گئےاور اس کے ساتھ ہی جناب شہزاد نیّرؔ کی جانب سے بے ساختہ انداز سے تنقید پیش کی گئی اور سراج صاحب کی سخنوری کا بڑاصحت مند تجزیہ پیش فرمایا۔ جس سے سراج کی صاحب کی شعری روح کو سمجھنے کی راہیں کافی حد تک استوار ہوئیں۔ اس تنقیدی پوسٹنگ کے بعد جناب اصغر شمیم صاحب(بھارت) کو اپنا کلام اور تعارف پیش فرمانے کی دعوت دی گئی  ۔ جس کی تعمیل کرتے ہوئے شمیم صاحب نے بلا تاخیر اپنا تعارف پوسٹ کرنے کے ساتھ ہی اپنے پانچ کلام بھی یک بارگی پیش فرمائے۔  جناب اصغرشمیم کی بروقت پوسٹنگ سے مشاعرے کو روانی مل گئی اور بہتر تاثّر قائم ہوگیا۔
 ناظرین جناب اصغر شمیم صاحب کے کلام کے سرنامے یا مطالع آپ کے ذوقِ طبع کے لئے یہاں پیش کئے جا رہے ہیں ملاحظہ فرمائیں:
کلام
اصغر شمیم
کون سا خوف آ گیا مجھ میں
روز ہوتا ہے حادثہ مجھ میں
 فنکار، زندگی کی بقا میں لگا رہا
 جو بے ہنر تھا صرف دعا میں لگا رہا
 عجیب لگتا ہے مجھ کو یہ معاملہ دل کا
 فقط  نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا
 ظلم ڈھائے گا کب تک جہاں چپ رہو
رنگ لائے گی یہ داستاں چپ رہو
وہ کہتا ہے مٹادوں زندگی کیا
یہی رستہ بچا  ہے آخری کیا
  اصغر شیم صاحب کے کلام کی پوسٹنگ کا مشاہدہ فرمانے کے بعد جناب شہزاد نیّر ؔ صاحب نے تنقیدی خیال کا اظہار فرما یا۔جناب نیّرؔ صاحب کے شفیق اندازِ تنقید کو مشاعرے کے آن لائن سامعین ناظرین اور شرکا نے نہایت پسند فرمایا ہو اوردادوتحسین کلمات سے نوازا۔
  مشاعرے کے دوسرے دور کے ناظم جناب طاہر علیم صاحب نے بھی جناب شہزاد نیّرؔ صاحب کے تنقیدی اور مشفقانہ اندازِ تنقید کو سراہتے ہوئے تحریر پوسٹ کی،
 " المحترم شہزاد نیّرؔ صاحب! آپکے اندازِ تنقید میں بڑی معقولیت ہے۔ شعری مقصدیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے آپ  نےبڑے لطیف اور خفیف اظہارپیش فرماتے ہیں۔ جس سے دل شکنی کا کرب مطلق محسوس نہیں ہوتا اور یہی دلداری آپ کی اعلیٰ فہمی کو اجاگر کرتی ہے۔ مسرّت ہوئی کہ آپ عروضیت کی نزاکتوں سے بھی مشرّف ہیں ۔ اللہ آپ کو اس کا اجر عطا فرمائے۔"
 جناب توصیف ترنل صاحب نے پروگرام کی توصیف کرتے ہوئے فرمایا،"  بہترین پروگرام ہو رہا ہے، میرے خیال میں نظامت بھی جاندار ہو رہی ہے اور تنقید بھی عمدہ ہو رہی ہے۔ "
  توصیف ترنل صاحب نے مزید فرمایا کہ اب نظامت تبدیل ہو گی اور جناب علیم طاہر صاحب برائے نظامت تیار رہیں۔
  بعد ازاں محترمہ نسرین گل صاحبہ نے بڑے لطیف انداز میں محترمہ نفیس حیاؔ (انڈیا) کو اپنا کلام و تعارف پیش فرمانے کے لئے مدعو کیا۔ محترمہ نفیس حیا صاحبہ نے  بلا وقت گنوائے اپنا تعارفی خاکہ  مع کلا م کے پوسٹ فرمایا:لیجئے ان کا کلام کے جملہ مطالع ملاحظہ فرمائیے!
کلام 
نفیس حیاؔ (انڈیا)
 رات بھر دل کا دیا مدّھم رہا
 تم نہیں تھے تو عجب عالم رہا
تم خفا ہو جاؤ گے تو اور کیا رہ جائے گا
چند سانسوں کا پرانا سلسلہ رہ جائے گا
آتی ہے یاد اس کی محبّت کبھی کبھی
 ہوتی ہے دل میں درد کی شدّت کبھی کبھی
نظم: چاند
 میں تو ان کی پریم دیوانی ان سے اتنا کہنا چاند
 میں بن جاؤں چاندنی اس کی وہ بن جائے میرا چاند
نظم
رنگ آنکھوں نے میری تو دیکھا نہیں
 کیا بتاؤں نظر کچھ بھی آتا نہیں
 محترمہ نفیسہ حیاؔ  کے کلام پر بڑی صحت مند تنقید فرماتے ہوئےشاعرہ کومزیدانہماک سے کلام کہنے کی ترغیب دی گئی اور اسی کے ساتھ پہلے مرحلے کی نظامت فرمارہی محترمی گل نسرین صاحبہ نے  نظامت کا فریضہ جناب علیم طاہر صاحب کے حوالے کرتے ہوئے رخصت لی اورمشاعرے کے دوسرے حصّے کی نظامت کی ذمّہ داری سنبھالنے کے لئے اعوذ باللہ اوربسم اللہ کا ورد کرتے ہوئے جناب علیم طاہر(انڈیا) نے اپنی جانب سے تمام احباب کو آداب عرض کا نذرانہ پیش کیا اورساحرؔ لدھیانوی کی نظم،"چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں" کے ساتھ جناب علی مزمّل صاحب کو اپنی کتاب کا ٹائٹل ، مختصر تعارف اور چانچ غزلیں پیش فرمانے کیلئے مدعو کیا لیکن ذرا وقفے بعد جناب علی مزمّل کی آن لائن عدم موجودگی کے بعد جناب ضیاء شادانی اورجناب انور کیفی بھی آف لائن پائے گئے۔مگر ناظم جناب طاہر علیم صاحب اپنی آواز کا جادو جگاتے رہے اور امین ؔ جس پوری کو ناصر کاظمی کے کلام کے ساتھ دعوتِ کلام دی۔ امینؔ جس پوری نے اپنا مختصر تعارف اورکلام اور پوسٹ کیا اور تنقید اور دادوتحسین کا دور شروع ہوا۔ 
 جناب شہزاد نیّر ؔ صاحب نے فرمایا،" محترم امین جس پوری کی چھ غزلیات جو کافی گہری ہیں اور بیانیہ بھی خاصہ معیاری اور فارسیت آمیز انداز ہے ان کا جس میں تراکیب کو کافی استعمال کیا ہے انھوں نے اور خاص طور پر جو ردیفوں کا اہتمام کیا بڑی ندرت کے ساتھ ۔ ایک غزل جو غالبؔ کی مشہورِ زمانہ غزل میں ہےغالب کا تو خیر سارا ہی کلام مشہورِ زمانہ ہے۔ وہ جو ہے کہ دریا مرے آگے۔ کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے،اس زمین میں غزل ہے باقی جو ہے انھوں نے زمینوں کا انتخاب انھوں نے سنگلاخ زمینوں میںفصلِ غزل کاشت کی ہےاور بالعموم نہایت عمدہ اشعار نکالنے میں کامیاب رہے ہیں۔رفعتِ فکر بھی ہے اور پورے تردّدکے ساتھ، پورے غوروفکر کے ساتھ شعر کہے ہیں،پورے اہتمام کے ساتھ کہے ہیں۔یہ معیاری غزل ہے اورمجھے کہیں کہیں حضرتِ عرفان صدّیقی مرحوم جو بھارت سے تعلق رکھتے تھے ان کے لہجے کی کہیں کہیں جھلک محسوس ہوتی ہےاور عام طور پر ان کا اسلوب اور انداز ہے ،وہ جیسا کہ ایک بھاری بھرکم اور سنجیدہ غزل گو ، ان کے یہاں فکری مضامین بہت زیادہ آئے ہیں۔ خاص طور پر وہ غزل جس کی ردیف "تشکیک"ہے اور اسی طرح آگے بھی۔اچھّا !ایک غزل میں ایک مصرعۂ اولیٰ قدیر(ٹائپو/تقدیر)کے لفظ سے شروع ہو رہا ہے وہ مجھے نہیں سمجھ آ رہا تو وہ لفظ کوئی اور ہے یا پھر کہیں کوئی ٹائپنگ مسٹیک ہے اسی طرح ایک دو جگہوں پر ٹائپنگ مسٹیکس ہیں جن میں لفظ ملے ہوئے ہیںلیکن وہ میں پڑھ لئے ہیں تاہم ان کے یہاں ایک ردیف جو ہے وہ  فارسی سے بھی لی ہوئی ہے وہ بھی درست انداز میں آئی ہے۔اس میں بھی کوئی غلطی نہیں ہے۔ البتّہ ایک چیز جس میں تھوڑی سی زبان کی طرف توجّہ کرنا چاہئے!
ہم بھی ہر گز نہیں محفوظِ عذابِ تشکیک
 تو محفوظِ عذابِ تشکیک،یہ ایک سہ لفظی مرکّبِ اضافی ہے۔جس میں علامتِ اضافت دو الفاظ کے ساتھ آئی ہےتو علامتِ اضافت جو ہے اسے کھولنے کے لئے کا کی کے کا استعمال کیا جا تا ہے۔ تو آئیے بھلاکھولتے ہیں بھلا اس کو کھولتے ہیں اس ترکیب کو اس مرکّب کو ۔۔۔۔
 محفوظِ عذابِ تشکیک،تشکیک کے عذاب کا محفوظ
تو یہاں تو "از "ہونا چاہئے ،جیسے:ہم بھی ہر گز نہیں محفوظ از عذابِ تشکیک، اب وہ ظاہر ہے اس میں نہیں آئے گا ،ز ،آسکتا ہے ، ہم بھی پر گز نہیں محفوظ ،ز، از، وہ بھی نہ آ سکے تو یہ ترکیب تھوڑی سی اس اعتبار نہیں ٹھیک بنی کہ اس میں زبان کا خیال نہیں رکھا جا سکا، ہم بھی ہر گز نہیں محفوظِ عذابِ تشکیک، کہنا تو یہی چاہتے ہیں کہ محفوظ از عذابِ تشکیک، بہر حال یہ غزل ہے بڑی عمدہ ، یہ تو ایک چھوٹا سا نکتہ تھا، دیگر غزلیات میں بھی مضامین کی رفعت اور خاص طور پر جو ان کا فکر ی انسلاک ہے وہ خاصہ متاثّر کن ہے غزلیں معیاری ہیں لہجہ ٹُھکا ہوا ہے مصرعے پختہ ہیںاور بندشیں چست ہیںاور یہ بہت اچھا کلام پڑھنے کو مِلا"
 جناب شہزاد نیّرؔ صاحب نےاپنی مزید ایک وائس کلپ میں ارشاد فرمایا،"امینؔ جس پوری صاحب کی جو" کھینچ" ردیف کی غزل ہےبہت ہی عمدہ ہے، کیا کہنے!بڑی ندرت فکر بھی ہے اور پختہ بیانی بھی ہے ،کیا اچھی اور معیاری غزل پڑھنے کو ملی۔واہ جی واہ،سبحان اللہ!"
 پروگرام کو وسعت دیتے ہوئے اور بلندیوں سے ہم کنار کرتےہوئے  جناب علیم طاہر صاحب نے یہ دو اشعار پیش کئے:
خواب حسبِ حال کیسے آ گیا
چاند کو زوال کیسے آ گیا
تم نے لب دیئے کی لو پہ رکھ دیئے
تم کو یہ خیا ل کیسے آ گیا
 اور ان اشعار کے ساتھ مہمان اعزازی جناب ابنِ ربّانی(پاکستان) کو دعوتِ کلام دی گئی لیکن جناب ابنِ ربّانی صاحب بھی آف لائن پائے گئے لہٰذاجناب احمد کاشف ؔ کو ارشد مینا نکری کے شعروں سے دعوت کلام دی گئی۔
 اسی درمیان جناب توصیف ترنل صاحب نے اپنی وائس کلپ کے توسل سے آڈئینس سے درخواست کی کہ" سبھی سے درخواست ہے کہ آپ بھی اپنے خیالات کا اظہار کریں،میں آڈیئنس پول بھی یوز کرنا چاہتا ہوں کہ آپ بتائیں کہ آج کے اس پروگرام میں"خود رنگ شاعر" آپ کو کون محسوس ہوا، بیشمار شعرا نے اپنی شاعری پیش کی،"دا بیسٹ شاعر" آپ کی نظر میں کون ہے، جس کو "بشیربدرؔ ایوارڈ" دیا جائے؟"
اس کے بعد جناب احمد کاشفؔ نے اپنا تعارف اور پانچ غزلیں پوسٹ فرمائیں جن کے مطالع آپ کی نذر ہیں:
کلام
 احمد کاشفؔ
تیرے ہونٹوں پہ کوئی حرفِ دعا ہو جیسے
میرے بارے میں ہی کچھ تونے کہا ہو جیسے
 شرط اتنی ہے فقط ہمّتِ مرداں ہونا
اتنا مشکل نہیں ، مشکل کوئی آساں ہونا
وقت بے درد ہو کتنا ہی گزر جائے گا
 زخم گہرا ہے تو کچھ روز میں بھر جائے گا
ہجر کی رت کا مزہ درکار ہے
عشق میں بھی فاصلہ درکار ہے
زباں سے نکلا ہر ایک جملہ  تمہارا ہے ترجمان بابا
 سنبھل کے بولو پھسل نہ جائے زبان پھر ہے زبان بابا
  احمد کاشف ؔ صاحب کے کلام کے مطالعے کے بعد محترم ناقدجناب شہزاد نیّرؔ صاحب نے کئی قیمتی مشورے اپنی وائس کلپ میں دئے اور کئی رہ نما اصولوں کو پیش کیا۔اس کے بعد ناظمِ مشاعرہ نے اگلے شریک شاعر جنا ب نفیس ناندوروی صاحب کو مدعو فرمایا گیا۔جناب نفیس ناندوروی صاحب نے اپنا تعارف اور کلا پوسٹ کیا ۔احباب ہر غزل کا صرف مطلع یہاں آپ کے لئے پیش کیا جا رہا ہے۔
کلام
نفیس حنیف شیخ نفیسؔ 
حمد
 نظر چار سو آئے رحمت خداکی 
دو عالم پہ چھائی  عنایت خدا کی
نعتِ پاک
آقائے دوجہاں تری عظمت نفیس ہے
 اس ربِّ ذوالجلال کی  قدرت نفیس ہے
نظم /ارباب ہمم/برما سے
جو ستم نہ تجھ پہ ہوتا تو نہ اشکبار ہوتا
 کہ جہان میں مہکتا، گلِ لالہ زار ہوتا
دل منتظر تھا چاہ بھی ٹالی نہ گئی
توڑی وہ ہم سے پیار کی ڈالی نہ گئی
ہم نے جس جا بھی پایا سنّاٹا
ہنس کے فوراً بھگایا سنّاٹا
جناب نفیس ناندوروی کے کلام پر تنقید پیش کرتے ہو جناب نیّر صاحب نے کہا حمد و نعت تنقید سے بالا تر لیکن جناب جناب نفیس ناندوروی نے اپنی بات سلیقے سے کہی ہے۔ 
 بعد ازاںمحترم تلک راج پارس صاحب کو ارشد مینا نگری کے اس شعر کے ساتھ دعوتِ کلام دی گئی:
 یہ سویرا کوئی سویرا ہے
جس طرف دیکھئے اندھیرا ہے
ہر قدم ہے مرا فلک پیما
گو مرا  فرش پہ بسیرا ہے
  اس کلام کی پوسٹنگ کے بعد نے جناب توصیف ترنل صاحب نے ایک بار مزید " خود رنگ شاعر" کی تلاش کی بات دہرائی۔
  ناظمِ مشاعرہ جناب علیم طاہر نے بڑے پُر جوش لہجے میں احمد عقیل صاحب کو مدعو فرمایا اسی اسی دعوت کے ساتھ جناب محمّد عقیل صاحب نے اپنا جو تعارف اور کلام پیش کیا اس کے مطلعے پیش کئے جاتے ہیں۔
کلام 
 احمد عقیل جذبی
اس گلی سے گریز کرتا ہوں
زندگی سے گریز کرتا ہوں
قلم اگر میں اٹھاؤں تو مارا جاؤںگا
زباں اگر میں ہلاؤں تو مارا جاؤں گا
 مت سنا مجھے ناصح!فلسفے محبّت کے
تو نہیں سمجھ سکتا سلسلے محبّت کے 
شاید اس نے دیکھا ہے
دل ہی ایسا دھڑکا ہے
مستقر ہی نہیں شفا مجھ میں
کچھ تو ایسا ہے لادوا مجھ میں
 جناب احمد عقیل جذبی کے کلام میںسہلِ ممتنع اور تغزّل کے ساتھ کئی معروف شعرا کے رنگ اور اسلوب کی  نشاندہی فرمائی اور کئی مفید مشوروں سے نوازااور تسلی بخش کلام قرار دیا۔
 اس آخری شریکِ مشاعرہ کے کلام اور تعارف کی پوسٹنگ کے بعد صدر مشاعرہ جناب مشرف حسین محضر ؔصاحب کو بصد احترام دعوتِ کلام پیش کی گئی اور صدرِ مشاعرہ کے کلا م کے ساتھ یہ منفرد آن لائن مشاعرے کا ایک عظیم پروگرام اپنی تکمیل کو پہنچا ۔
  پروگرام آرگنائزر جناب توصیف ترنل صاحب نے جس کی ستائش کرتے ہوئے اپنی وائس کلپ میں فرمایا،" السلام علیکم ، احباب!برقی دنیا میں ادبی دنیا میں"عالمی بیسٹ اردو پوئٹری " نےجگہ جگہ اپنے جھنڈے گاڑھ رکھے ہیںآج کا یہ پروگرام بھی اردو ادب کی دنیا میں ایک بڑا ہی مقام رکھتا ہے۔عالمی تقریب رو نمائی کا پروگرام اور دوست احباب نے اپنی شاعری پیش کی اور برائے تنقید پیش کی۔ بڑی بات یہ ہےکہ برائے تنقید پیش کی،سوچنے کی بات یہ ہے اور تنقید کو برداشت بھی کیا۔میں شہزاد نیّرؔ صاحب کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں آپ نے بڑی اچھی اور جاندا اور مناسب تنقید کی ادھر نظامت بھی بڑھیا اوربہت خوب ہوئی ۔"
 اس انعقاد کی محترم تلک راج پارس صاحب نے بھی توصیف کی۔سامعین ے دونوں ناظمینِ مشاعرہ محترمہ گلِ نسرین اور جناب طاہر علیم صاحب کی نظامت کو بڑی تعداد میں سراہا اور تحسینی کلمات سے نوازا۔ واقعی مشاعرے دونوں ناظمین اور شہزاد نیّر صاحب نے مشاعرے کے تسلسل اور  وقار کو اپنے مقام اپنی ذمّہ داروں کو بروقت انجام دیتے ہوئے مشاعرے کو بڑا مفید اور بے مثال بنا دیا۔  ورنہ جن احباب کی شرکت کے بھروسے مشاعرے کی فہرست تیار کی گئی تھی ان کی لا پرواہی اور بے راہ روی نے تو اس انعقاد کو فیل کرنے میں کوئی کسر نہیں رہنے دی ۔ ان کےنام کا پکارے جاتے رہے اور وہ آف لائن رہے اور ناظمین اور آرگنائزر کی صدائیں، صدائے صحرا ثابت ہوتی رہیں۔یہی نہیں شاملِ فہرس حضرات نے  مشاعرے سے غیر حاضر رہنے کی اطلاع  پیشگی دینا بھی مناسب نہیں سمجھا۔
 نہ ہی  بعد میں بھی اخلاقی طور پر اپنی عدم موجودگی کا کوئی جواز اطلاعاً آرگنائزر کو پیش نہیں کیا۔ ا س سے گمان گزرتا ہے کچھ لوگ اس پروگرام کو قصداً ناکام کرنا چاہتے تھے۔ آئندہ ایسے لوگوں سے احتیاط لازمی ہے۔ تاکہ ادارے کے انعقادات کو ناکامیوں کا منہ نہ دیکھنا پڑے اور ادارے کے وقار اور اس کی کوششوں کو ٹھیس نہ پہنچے۔
 اب تک صاحبِ صدر جناب مشرّف حسین محضرؔ صاحب بھی اپنا کلام پوسٹ فرما چکے احبا ب کے لئے  محضرؔ صاحب کے کلام کے مطلعے بھی پیشِ خدمت ہیں:
کلام
مشرف حسین محضر
بادلو ں کے درمیاں جس وقت اٹھلاتی ہے آگ
پھر زمیں کو مبتلائے خوف کر جاتی ہے آگ
ہو اگر بیکراںآگ، پانی،ہوا
ہیں سراسر زیاںآگ، پانی، ہوا
بادل چھائے، بجلی کڑکی،چاروں دھام پڑا پانی
شہر کو آخر کارہمارے لے کر ڈوب گیا، پانی 
اس کے بدن کو چھو کر جب بھی آتی ہے نمناک ہوا
دنیا کے ہر غم سے دل کو کر جاتی ہے پاک ہوا
رکھ کر اپنے زعم کو گرویں اپنی ہی تقدیر کے پاس
 سر کو جھکائے کون آیا ہے قاتل کی شمشیر کے پاس
صدرِ محترم کے کلا کے بعد پروگرام کے آرگنائزر جناب توصیف ترنل صاحب نے اپنی وائس کلپ سے مطلع فرماتے ہوئے کہاکہ اس پروگرام کے نتیجے کا اعلان کرنے کے لئے ادارے کی انتظامیہ ٹائم مانگ رہی ہے کہ ہمیں وقت چاہئے فیصلہ کرنے کے لئے۔ تو ایوارڈ کا اعلان کل کیا جائے گااور اسی کے ساتھ ترنل صاحب نے جملہ شرکا، جزز، تنقید نگار اور ناظمینِ مشاعرہ کے ساتھآن لائن کوجود رہ کرپروگرام کو کامیابی سے ہم کنار کرنے کے لئےسامعین اور ناظرین کا بھی شکریہ ادا کرتے ہو کیا کہ پروگرام واقعی بہت کامیاب ہو گیا ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے
اور ترنلؔ صاحب کی اطلاع کے بعد جناب صدر نے  مشاعر میںکی صدارت، ذرا تاخیر اور بروقت نہ سنبھال پانے کا جواز اپنی اس پوسٹ سے فرمایا: 
 محترم احباب!
  پہلے تو میں آپ تمامی حضرات سے معافی کا طلب گار ہوں کہ قابل احترام ایڈمن صاحب نے مجھ نا اہل کو صدارت کی ذمے داری سونپی اور میں یہ ذمے داری نہیں نبھا سکا۔ 
 احباب دراصل میں علی گڑھ نگر نگم یعنی بلدیہ میں منتخب رکن بلدیہ (کونسلر) ہوں اس لیے مشاعرہ کے دوران ہی قریب کے نرسنگ ہوم میں میرے حلقہ کے ایک باشندہ کی ڈاکٹر کے ذریعے غلط انجکشن لگانے کے سبب موت واقع ہوگئی مجھے امرجنسی وہاں جانا پڑا اور میں بد نصیب مشاعرہ میں شامل نہ رہ سکا امید ہے احباب میری مجبوری کو سمجھتے ہوئے میری غیر حاضری کو معاف فرمائیں گے۔
 احقر 
 مشرف محضر
 1/ اپریل 2018 کی صبح  6 بجے ادارہ عالمی بیسٹ اردو ہوےٹری کی جانب سے ایوارڈ کا اعلان اس پوسٹ سے کیا گیا:
ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری 
کی جانب سے
 ڈاکٹر بشیر بدر ایوارڈ 
محترم امین جس پوری 
کو پیش کرتے ہیں 
منجانب انتظامیہ ادارہ
 اور اس طرح" ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری"بحسن و خوبی کامیابی کی نئی بلندیاں طے کرتے ہوئے اپنی انفرادیت برقرار رکھتے ہوئے انجام پزیر ہوا۔

Friday, March 30, 2018

عالمی غیر طرحی مشاعرہ و اجتماعی رونمائی تقریب




ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئیٹری
کےزیر اہتمام ایک اور منفرد تقریب 

"عالمی غیر طرحی مشاعرہ و اجتماعی رونمائی تقریب "

ہر بار کی طرح اس بار بھی ایک منفرد پروگرام منعقد کرنے جا رہا ہے، ادارہ اس بار ایک پروگرام، ( بعنوان ) *عالمی غیر طرحی مشاعرہ و اجتماعی رونمائی تقریب* منعقد کرنے جا رہا ہے۔ 

ادارۂ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے، جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء,ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے...
===========================
*We present 146th Unique Program*

خواتین و حضرات 
جو شعرا اس تقریب میں شرکت کرنا چاہتے ہیں وہ اپنا نام، جگہ کا نام، اپنا مختصر تعارف،آپنی پانچ  غزلیں، اور جس کتاب کی رونمائی ہونی ہے اس کے بارے میں مختصر معلومات بھی تحریر کریں 

یہ پروگرام 31-3-2018 بروز ہفتہ، پاکستانی وقت کے مطابق، شام سات بجے، اور ہندوستانی وقت کے مطابق، شام ساڑھے سات بجے، ان شاءاللہ ، منعقد ہوگا،  اسی وقت،،، تنقید نگار احباب،،، آن لائن تشریف لاکر  معائب ومحاسن پر گفتگو فرمائیں گے۔

نوٹ
جس کی کاوش بہترین ہو گی ادارے کی جانب سے اسے *ڈاکٹر بشیر بدر ایوارڈ* پیش کیا جائے گا

آپ احباب سے بھی مؤدبانہ گزارش ہے، کہ وقتِ مقرہ پر تشریف لاکر پروگرام کو رونق بخشیں، اور ادارہ کو شکریہ کہنے کا موقع عنایت فرمائیں،  کرم ہوگا،

منجانب، انتظامیہ 
(( ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئیٹری))

==========================
*🌏آرگنائزر🌏*
*توصیف ترنل ہانگ کانگ* 
===========================

صدارت
18-محترم مشرف حسین محضر علی گڑھ انڈیا

مہمانانِ خصوصی
16-محترم تلکراج پارس، جبلپوربھارت
17-محترم احمد عقیل جذبی اٹک پاکستان

مہمانانِ اعزازی 
13-محترم ابنِ ربانی پاکستان
14-محترم احمد کاشف ۔۔مہاراشٹر۔۔۔ انڈیا
 15-محترم نفیسؔ ناندوروی، مہراشٹر(انڈیا)

نظامت
محترمہ گلِ نسرین پاکستان 
1' تا 9 

محترم علیم طاہر بھارت
19 'تا 10

رپورٹ 
محترم امین جس پوری بھارت

مقالہ
محترم علیم طاہر بھارت

==========================
حمد
1-محترم سراج گلاٹھوی بھارت 
نعت
2-محترم تلکراج پارس، جبلپور بھارت

========================
3-محترم اشتیاقؔ کاشمیری جموں و کشمیر

4-محترم عرشیہ احسان خان مفتیؔ پاکستان 

5-محترم ارشد مینا نگری (بھارت)

6-محترم ڈاکٹر نبیل احمد نبیل

7-محترم سراج گلاٹھوی بھارت

8-محترم اصغر شمیم،کولکاتا،انڈیا

9-محترم علی مزمل کراچی پاکستان

10-محترم انور کیفی۔۔مراداباد۔۔بھارت

11-محترم امین جس پوری بھارت

12-محترم مختار تلہری صاحب بھارت

Sunday, March 25, 2018

محفلِ حمد و نعت ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کی پیشکش پروگرام نمبر 145






हिंदी रिपोर्ट । शमसुल हक़ नातिक लखनऊ भारत

🥗महफिल ए हमद व नात ☘

––---------------------------- 
आज के तरक़्क़ी याफ़्ता दौर में बरकी़ तरसील ने हमारी  ज़िंदगी को जितनी तेज़ ऱफ्तारी बख़्शी है वह पहले कभी देखने में नही आई तरसील व अब्लाग़ के अमल को जो बर्क़ ऱफ्तारी बख़्शी  है इस से दूर दराज़ के इलाक़ों को करीब तर होने का एहसास पैदा कर दिया है। लोग फेसबुक वाट्सअप ट्यूटर और इंस्टाग्राम के ज़रिये पूरी दुनिया मे एक दूसरे से जान पहचान बना रहे हैं और अपने पैगामात भेज रहे हैं। 
🌱इदारा बेस्ट उर्दू पोइट्री 🌱
एक ऐसा ही इदारा है जिसने इस सिस्टम से फायदा उठा कर दुनिया भर के मुसन्निफ़ीन उदबा व शोरा ए  इकराम को एक प्लेटफार्म पर इकट्ठा किया है और उनके लिए नए नए अछूते और मुन्फ़रिद प्रोग्राम मुनअक़िद करा रहा है इस बार भी 24―3―2018 शनिवार के दिन अपने आप मे एक इंफ्रादियत लिए हुए 145 वां पुर नूर व रूह अफ़ज़ा प्रोग्राम 'महफिले हम्द ओ नात' का इनअक़ाद किया गया जिस की खासियत ये रही कि इस प्रोग्राम में शोअरा ने अपने हम्दिया व नातिया कलाम पेश किए वह न सिर्फ उर्दू रसमुल खत में थे बल्कि सभी कलाम हिंदी (देव नागरी) में भी पेश किए गए जिस से उनके कलाम को हिंदी दाँ तबक़े तक भी रसाई होगी। 
प्रोग्राम पाकिस्तानी समय के अनुसार शाम 7 बजे और भारतीय समय के अनुसार शाम 7:30 बजे शुरू किया गया प्रोग्राम की एक ख़ास बात ये भी रही कि इस से पहले बा क़ायदा कोई लिस्ट तैयार नहीं की गई थी कि किस किस शायर को अपना कलाम पेश करना है बल्कि समय पर जो शायर भी आन लाइन मौजूद थे उन्ही के नाम प्रोग्राम में शामिल किए गए और नाकि़दीन ने आन लाइन रह कर कुछ शोअरा के कलाम पर तनक़ीद की और अदबी गलतियों और अच्छाइयों पर खुल कर बात की और अपनी क़ीमती रायों का इज़हार किया 
प्रोग्राम के ऑर्गनाइज़र माननीय अर्सलान फ़ैज़ खोखर पाकिस्तान से थे जबकि प्रोग्राम का आईडिया तौसीफ तरनल साहब बानी व चेरमैन इदारा हाज़ा का था। इस पुर वक़ार महफ़िल के मनसबे सदारत पर माननीय शमसुल हक़ साहब (लखनऊ भारत )जलवा अफ़रोज़ थे जबकि निज़ामत को मुश्तरका तौर पर माननीय मुख्तार तलहरी साहब भारत और माननीय ज़िया शादानी साहब भारत कर रहे थे
इस पुर नूर महफ़िल के मेहमानाने ख़ुसूसी मोहतरमा समीना गुल साहिबा व माननीय आमिर हसनी साहब मलेशिया से थे जबकि मेहमाने ऐज़ाज़ी माननीय अकी़ल जज़्बी साहब पाकिस्तान व माननीय ज़हीर अहमद ज़िया साहब आज़ाद कश्मीर और माननीय शाहिद रहमान साहब पाकिस्तान से रहे। 
रिपोर्ट को उर्दू में डा सिराज गुलावठवी साहिब इन्डिया ने जबकी हिंदी में जनाब शमसुल हक़ लखनऊ ने टाईप किया ये मुशायरा शाम 7 बजे से रात 11 बजे तक बहुत कामयाबी और अच्छे अंदाज़ के साथ चला नाकि़दीन ने कुछ के कलाम पर अपनी राय पेश की जबकि सामईन ने सभी को दिल खोल कर दाद व तहसीन से नवाज़ा
आप लोगों की दिल चस्पी के लिए सभी शामिले मुशायरा शायर का नमूना कलाम हाज़िर है

माननीय शमसुल हक़ नातिक साहब लखनऊ भारत 

मदीने से आया जो झोंका हवा का
वह पैग़ाम लाया नबी मुज्तबा का
--------
माननीय आमिर हसनी साहब मलेशिया

हर घड़ी आप के दरबार से खुशबू आये
एक इक हर्फ़ से गुफ्तार से खुशबू आये
--------
माननीय अक़ील जज़्बी साहब पाकिस्तान 

मूसा, ईसा हैं ख़लील और ज़बीह उल्लाह भी
आप सा देखा नहीँ राज दुलार मैं ने
----
माननीय ज़हीर अहमद ज़िया साहब आज़ाद कश्मीर

तेरी हसरत में तिरे मस्त ख्यालों में रहे
तेरा ये बन्दा तिरे चाहने वालों में रहे
-----
माननीय मुख़्तार तलहरी साहब भारत

आली है तू वाली है 
तेरी शान निराली है
मैं हूँ आसी और तिरी 
हस्ती रहमत वाली है
-----
मोहतरम डॉ सिराज गुलावठवी साहब भारत

तारीफ सब हैं तेरी
तू रब है आल्मों का 
रहमान भी है तू ही
ज़ाते रहीम यकता

इस हम्द के पहले मिसरे पर अपनी तनक़ीदी नज़र डालते हुए माननीय ज़िया शादानी साहब ने फ़रमाया की ,तारीफ़ सब हैं, यहां ,तारीफ़ वाहिद का सीगा़ है जबकि ,हैं, जमा का सीगा़ है वाहिद के सीग़े के साथ जमा का सीगा़ मुनासिब नहीं जबकि माननीय शमसुल हक़ साहब लखनऊ ने कहा कि मुझे इस कलाम में कोई मक़ामे मशविरा नज़र नही आया क्योंकि तारीफ के साथ लफ़्ज़े ,सब, जमा की तरफ इशारा करता है और इस तरह बहुत मुस्तामल है
--------/
माननीय अरशद मीना नगरी साहब भारत 

ज़ुल्म का राज चार सू 
आंख नम नज़र लहू लहू
काम हो रहा वह रु बरु

कह चुके जो बात मुस्तफ़ा 
फखरे कायनात मुस्तफ़ा
-------
माननीय अलीम ताहिर साहब भारत

है आता करदा फ़िकरो फ़न तेरा
शुक्र करता है अदा मन तेरा

एक कुन से किया जहां तख़लीक़ ये ज़मीं तेरी ये गगन तेरा

इस हमद पर मोहतरम ज़िया शादानी साहब ने मिसरा ,शुक्र करता है अदा मन तेरा , पर अपनी तनक़ीदी राय पेश करते हुए यूँ फ़रमाया की ये मिसरा अगर ऐसे ,शुक्र करता है यूँ भी मन मेरा, कर लिया जाए तो बहुत मुनासिब रहे
मिसरा,, खींचता है मुझे अपनी जानिब ,को मुझे तेरी जानिब कर लिया जाए और, विर्द करती हैं फिजायें ताहिर को ,विर्द करती है ये फ़िज़ा ताहिर, कर लिया जाए तो अशआर का हुस्न निखर जाए
--------
माननीय शाहीर तहामी साहब पाकिस्तान 

चमकती धूप और साया
ये सहरा तिशनगी पानी
हिसारे ज़ात में तेरे 
ये सब कुछ है तो क्यों फा़नी
रामूज़े इश्क़ का मस्दर 
ख़िरद ज़ादे हुनर तू है
--------
माननीय गुलाम अहमद रज़ा क़ादरी मेहदी रामपुरी
भारत

नबी के रोज़े की जाली को थाम कर मेहदी
मैं अपना सोया मुक़द्दर जगाने आया हूँ
-------
माननीय मुस्तफ़ा दिलकश साहब महाराष्ट्र  भारत

फूलों को खिला दे पत्थर में शाखों को फल दे अल्लाह
धरती को जल थल कर दे इतना तो जल दे अल्लाह
-------/
मोहतरमा सबीहा सदफ़ सिद्दीक़ी साहिबा भोपाल भारत

इंतिहा तू ही इब्तिदा तू ही
मेरे हर दर्द की दवा तू ही
-------
माननीय इब्ने रब्बानी साहब पाकिस्तान

हां अहसने ताक़वीम की तफ़्सीर वह चेहरा
गुलज़ारे बहिशती की है तस्वीर वह चेहरा
------
माननीय असग़र शमीम साहब कलकत्ता भारत
 मदीने की गलयों में घर चाहता हूं 
वह रोज़ ए अक़दस का दर चाहता हूं

दूसरे मिसरे में रोज़ा ए अक़दस को मोहतरम मुख़्तार तलहरी साहब ने गौ़र करने का मशवरा दिया

-------
माननीय ख़ालिद सरुही साहब पाकिस्तान 

अपने दर पर अब बुला लीजिये
जी मचलता है देखूं तुम्हारा नगर
-------
मोहतरमा नय्यर रानी शफ़क़ साहिबा पाकिस्तान

दीदार की प्यासी हूँ दीदार आता आक़ा
हर सिम्त अंधेरे हैं थोड़ी सी ज़िया आक़ा
------------
माननीय शोज़ेब काशिर साहब आज़ाद कश्मीर

तू सैय्यदे आलम है राफा़अना लका ज़िकरक
प्यारे तुझे क्या ग़म है राफा़अना लका ज़िकरक

इस नात में हुज़ूर अकरम स,अ, व, को तू कह कर मुखताब किया गया है इस तरफ नाकिद ने इशारा किया
---------
मोहतरमा सीमा गौहर साहिबा रामपुर भारत  

सिर्फ उस रब से मोहब्बत कीजिये
जितना मुमकिन हो इबादत कीजिए
----------
माननीय मतीन तालिब साहब नंदोरा भारत

मैं सरशार हूँ इश्क़ में मुस्तफ़ा के 
कि बख्शिश की सूरत निकलने लगी है
--------
माननीय मुक़ीम मीना नगरी भारत

सुबह हुई तो सारे परिंदे विर्द करें तेरा
आती जाती सांस सांस से जिक्र चले तेरा
तू ही खुदा है तू ही खुदा तू ही खुदा मेरा
--------
माननीय अर्सलान फ़ैज़ खोखर साहब पाकिस्तान

अब आ रही फिर मुझे खुशबू गुलाब की
दहलीज़ पर खड़ा हूँ रिसालत मआब की
--------
माननीय इरशाद अहमद खान साहब महाराष्ट्र इंडिया 

ख़ुश हो के पत्तों ने ताली बजाई
खुश्बू भी फूलों ने मिलकर लुटाई
अज़कार करते हवा गुनगुनाई

सबके लबों पर तिरा ज़िक्र या रब
-----------------

मुशायरा रात 11 बजे तक बहुत आब व ताब व बशाशत के साथ चलता रहा आखि़र में नाकि़द वे उस्ताद शायर माननीय ज़िया शादानी साहब ने हमदिया व नातिया कलाम पर तनक़ीद के सिलसिले में फ़रमाया कि हमदिया व नातिया कलाम में तनक़ीद कोई मायने नही रखती इस मे दो बातों का ख्याल रखें मफ़हूम के ऐतबार से तो शायर आज़ाद है कि वह अपनी मर्ज़ी से क्या कहता है लेकिन बहर की लिहाज़ ज़रूरी है कि मिसरा बहर में हो 
2 एहतराम के दायरे से बाहर न निकलें 
इसके बाद सदरे महफ़िल मोहतरम शमसुल हक़ साहब लखनवी ने अपने खिताब में फ़रमाया

             ,बिस्मिल्लाह,

आज का मुशायरा ब उनवाने माफ़िले हम्द व नात खत्म हुआ जिसे ऑर्गनाइज़ कर रहे थे माननीय अर्सलान फ़ैज़ साहब

निज़ामत कर रहे थे जनाब मुख्तार तलहरी साहब व जनाब ज़िया शादानी साहब
बहुत शानदार और बहुत पु रौनक़ रहा ला जवाब कलाम सुन ने को मिले उमदा निज़ामत रही और हमारे मेहमाने ख़ुसूसी हों या मेहमाने ऐजाज़ी सभी ने शोअरा को खूब सराहा 

मैं आखि में सब को मुबारकबाद पेश करता हूँ औऱ इस इदारे और तमाम कारकुनान के लिए दुआ भी करता हूं
आईये इख़्तितामे मजलिस पर चन्द दुआ बार गाहे रब्बे अज़ीम के हुज़ूर में मांगते हैं
की ऐ अल्लाह हमारी तमाम कविशों को क़बूल फरमा हमारी कोताहियों को माफ़ फरमा 
हमें सआदते दारैन से हमकिनार फरमा
ऐ अल्लाह अपनी मोहब्बत और रसूल की सच्ची मोहब्बत आता फरमा
इल्म और अमल में और ज़िन्दगियों में बरकत आता फरमा आमीन 
या रब्बल आलमीन

मिंजानिब ,सदरे मुशायरा

इसी के साथ बानी व चेयरमैन इदारा आलमी बेस्ट उर्दू पोइटरी  मोहतरम तौसीफ तरनल साहब ने मुशायरा ख़त्म होने का ऐलान किया

माननीय डॉ सिराज साहब गुलाओठी साहब की उर्दू रिपोर्ट की हिंदी टाइपिंग 
हिंदी रिपोर्ट शमसुल हक़ लखनवी

رپورٹ - ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی انڈیا 

🌸'محفلِ حمد و نعت '🌺
----------------------------------------
آج کے ترقّی یافتہ دور میں برقی ترسیل نے ہماری زندگی کو جتنی تیز رفتاری بخشی ہے وہ پہلے کبھی دیکھ نے میں نہیں آئی، ترسیل و ابلاغ کے عمل کو جو برق رفتاری بخشی ہے اس سے دور دراز کے علاقوں کو قریب تر ہونے کا احساس پیدا کردیا ہے لوگ فیس بک، واٹس ایپ، ٹیوٹر اور انسٹاگرام کے ذریعے پوری دنیا میں ایک دوسرے سے جان پہچان بنا رہے ہیں اور اپنے پیغامات ترسیل کر رہے ہیں "ادارہ بیسٹ اردو پوئیٹری "ایک ایسا ہی ادارہ ہے جس نے اس سسٹم سے فائدہ اٹھاکر دنیا بھر کے مصنفین، ادباء و شعراء اکرام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے اور ان کے لئے نئے نئے اچھوتے اور منفرد پروگرام منعقد کرا رہا ہے، اس مرتبہ بھی 24-3-2018 بروز ہفتہ اپنے آپ میں انفرادیت لئے ہوئے 145 واں پرُنور و روح افزا پروگرام"محفلِ حمد و نعت "کا انعقاد کیا گیا جس کی خاصیت یہ رہی کہ اس پروگرام میں شعراء نے اپنے حمدیہ و نعتیہ کلام پیش کئے وہ نہ صرف اردو رسم الخط میں تھے بلکہ سبھی کلام ہندی( دیوناگری )رسم الخط میں بھی پیش کئے گئے جس سے ان کے کلام کو ہندی داں طبقے تک بھی رسائی حاصل ہوسکتی ہے پروگرام پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے اور ہندوستانی وقت کے مطابق 7-30 بجے شام کو شروع کیا گیا پروگرام کی ایک خاص بات یہ بھی رہی کہ اس کی پہلے سے باقاعدہ کوئی لسٹ تیار نہیں کی گئی تھی کہ کس کس شاعر کو اپنا کلام پیش کرنا ہے بلکہ بر وقت جو شاعر موجود تھے ان ہی کے نام پروگرام میں شامل کئے گئے اور ناقدین نے آن لائن رہ کر کچھ شعراء کے کلام پر تنقید بھی کی اور ادبی معائب و محاسن پر بغیر کسی تفریب کے کھل کر بات کی اور اپنی اپنی آراء کا اظہار کیا، پروگرام کے آرگنائزر محترم ارسلان فیض کھوکھر صاحب پاکستان تھے جبکہ پروگرام کا آئیڈیا محترم توصیف ترنل صاحب بانی و چیئرمین اداروں ھز'ہ کا تھا- اس پروقار محفل کے منصبِ صدارت پر محترم شمس الحق صاحب لکھنؤ انڈیا جلوہ افروز تھے جبکہ نظامت کے فرائض مشترکہ طور پر محترم مختار تلہری صاحب انڈیا و محترم ضیاء شادانی صاحب انڈیا نے انجام دئے - محفل پر نور کے مہمانانِ خصوصی محترمہ ثمینہ گل صاحبہ پاکستان و محترم عامر حسنی صاحب ملیشیا تھے جبکہ مہمانانِ اعزازی محترم عقیل جزبی صاحب پاکستان و محترم ظہیر احمد ضیا صاحب آزاد کشمیر اور محترم شاہد رحمان صاحب پاکستان تھے رپورٹ کا ہندی ترجمہ محترم شمس الحق صاحب لکھنؤ انڈیا نے تیار کیا-یہ مشاعرہ شام 7- بجے شروع ہو کر رات 11 بجے تک بہت کامیابی اور خوش اسلوبی کے ساتھ چلا ناقدین نے کچھ کے کلام پر اپنی رائے پیش کی جبکہ سامعین نے سبھی کو دل کھول کر داد و تحسین سے نوازہ - قارئین کی دلچسپی کے لیے سبھی شرکاء مشاعرہ کا نمونہ کلام حاضر ہے 

محترم شمس الحق ناطق صاحب لکھنؤ انڈیا 

مدینے سے آیا جو جھونکا ہوا کا
وہ پیغام لایا نبی مجتبی'کا
-------------
محترم عامر حسنی صاحب ملیشیا 

ہر گھڑی آپ کے دربار سے خوشبو آئے
ایک اک حرف سے گفتار سے خوشبو آئے 
----------

محترم احمد عقیل جزبی صاحب پاکستان 

موسی' و عیسی' ہیں خلیل اور ذبیح اللہ بھی
آپ سا دیکھا نہیں راج دلارا میں نے 
------------

محترم ظہیر احمد ضیاء صاحب آزاد کشمیر 

تیری حسرت میں ترے مست خیالوں میں رہے
تیرا یہ بندہ ترے چاہنے والوں میں رہے
---------------
محترم مختار تلہری صاحب انڈیا 
حمد
عالی ہے تو والی ہے 
تیری شان نرالی ہے 
میں ہوں عاصی اور تری
ہستی رحمت والی ہے
نعت
دونوں جہان پر ہے شہِ دو سرا کے ہاتھ
ہیں کس قدر بلند رسولِ خدا کے ہاتھ
----------------
محترم ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی صاحب انڈیا 

تعریف سب ہیں تیری 
تو رب ہے عالَموں کا
رحمان بھی ہے تو ہی 
ذاتِ رحیم یکتا 

اس حمد کے پہلے مصرعے پر اپنی تنقیدی نظر ڈالتے ہوئے محترم ضیا السلام ضیاء شادانی صاحب نے فرمایا کہ مصرع "تعریف سب ہیں تیری" یہاں' تعریف' واحد کا صیغہ ہے جبکہ 'ہیں' جمع کا صیغہ ہے، واحد کے صیغے کے ساتھ جمع کا صیغہ مناسب نہیں ہے، جبکہ محترم شمس الحق صاحب لکھنؤ انڈیا نے فرمایا کہ مجھے اس کلام میں کوئی مقام مشورہ نظر نہیں آتا کیونکہ تعریف کے ساتھ لفظ 'سب' جمع کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اس طرح بہت مستعمل ہے 
------------------
محترم ارشد مینا نگری صاحب انڈیا 
ظلم کا راج چار سو
آنکھ نم نظر لہو لہو 
کام ہو رہا وہ روبرو

کہہ چکے جو بات مصطفٰی 
فخرِ کائنات مصطفٰی 
-----------------
محترم علیم طاہر صاحب انڈیا 

ہے عطا کردہ فکر و فن تیرا
شکر کرتا ہے ادا، من، تیرا

ایک کن سے کیا جہاں تخلیق 
یہ زمیں تیری یہ گگن تیرا

اس حمد پر محترم ضیا شادانی صاحب نے مصرع "شکر کرتا ہے ادا من تیرا" پر اپنی تنقیدی رائے پیش کر تے ہو ئے یوں فرمایا کہ یہ مصرعہ اگر ایسے  "شکر کرتا ہے یوں بھی من میرا" کر لیا جائے تو بہت مناسب رہے-
مصرع "کھینچتا ہے مجھے اپنی جانب" کو "کھینچتا ہے مجھے تیری جانب" کر لیا جائے اور "ورد کرتی ہیں فضائیں طاہر" کو "ورد کرتی ہے یہ فضا طاہر" کرلیا جائے تو اشعار کا حسن نکھر جائے گا 
-----------------
محترم شہیر تہامی صاحب پاکستان 

چمکتی دھوپ اور سایا 
یہ صحرا، تشنگی، پانی
حصارِ ذات میں تیرے
یہ سب کچھ ہے تو کیوں فانی
رموزِ عشق کا مصدر 
خرد زادِ ہنر تو ہے
---------------
محترم غلام احمد رضا قادری مھدی صاحب رامپوری انڈیا 

نبی کے روضے کی جالی کو تھام کر مھدی
میں اپنا سویا مقدّر جگانے آیا ہوں 
------------------------
محترم مصطفٰی دلکش صاحب مہاراشٹر انڈیا 

پھول کھلادے پتّھر میں شاخوں کو پھل دے اللہ 
دھرتی کو جل تھل کردے اتنا تو جل دے اللہ 
---------------
محترمہ صبیحہ صدف صدیقی صاحبہ بھوپال انڈیا 

انتہا تو ہی ابتدا تو ہی 
میرے ہر درد کی دوا تو ہی
---------------------
محترم ابنِ ربّانی صاحب پاکستان 

ہاں احسانِ تقویم کی تفسیر وہ چہرہ 
گلزارِ بہشتی کی ہے تصویر وہ چہرہ 
----------------
محترم اصغر شمیم صاحب کولکتہ انڈیا 
مدینے کی گلیوں میں گھر چاہتا ہوں 
وہ روضہء اقدس کا در چاہتا ہوں 

کہیں دل مرا اب یہ لگتا نہیں ہے 
مدینے کی شام و سحر چاہتا ہوں

دوسرے مصرعے میں' روضہء اقدس'کو محترم مختار تلہری صاحب نے غور کرنے کا مشورہ دیا 
------------------
محترم خالد سروحی صاحب پاکستان 

اپنے در پر مجھے اب بلا لیجئے 
جی مچلتا ہے دیکھوں تمہارا نگر
-----------------
محترمہ نیّر رانی شفق صاحبہ پاکستان 

دیدار کی پیاسی ہوں دیدار عطا آقا
ہر سمت اندھیرے میں تھوڑی سی ضیا آقا
-------------------
محترم شوزیب کاشر صاحب آزاد کشمیر 

تو سیّدِ عالم ہے رفعنا لکَ ذکرک
پیارے تجھے کیا غم ہے رفعنا لکَ ذکرک

اس نعت میں حضور اکرم صلعم کو تو کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے اس طرف ناقد نے اشارہ کیا ہے 
------------------------
محترمہ سیمہ گوہر صاحبہ رامپور انڈیا 

صرف اس رب سے محبت کیجے
جتنا ممکن ہو عبادت کیجے
------------------
محترم ایڈووکیٹ متین طالب صاحب ناندورا انڈیا 

میں سرشار ہوں عشق میں مصطفٰی کے 
کہ بخشش کی صورت نکلنے لگی ہے 
---------------
محترم مقیم مینا نگری صاحب انڈیا 

صبح ہوئی تو سارے پرندے ورد کریں تیرا
آتی جاتی سانس سانس سے ذکر چلے تیرا
تو ہی خدا ہے تو ہی خدا ہے تو ہی خدا میرا
-------------------
محترم ارسلان فیض کھوکھر صاحب پاکستان 

اب آرہی ہے پھر مجھے خوشبو گلاب کی 
دہلیز پر کھڑا ہوں رسالت مآب کی
------------------

مشاعرہ رات 11 بجے تک بہت آب و تاب و بشاشت کے ساتھ چلتا رہا آخیر میں ناقد و استاد شاعر محترم ضیا شادانی صاحب نے حمدیہ و نعتیہ کلام پر تنقید کے سلسلے میں فرمایا کہ "نعتیہ و حمدیہ کلام میں تنقید کوئی معنی نہیں رکھتی، اس میں دو باتوں کا خیال رکھیں مفہوم کے اعتبار سے تو شاعر آزاد ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کیا کہتا ہے لیکن 1-بحر کا لھذ' ضرورع ہے کہ مصرعہ بحر میں ہوں 2- احترام کے دائرے سے باہر نہ نکلیں 
اس کے بعد صدرِ محفل محترم شمس الحق صاحب لکھنؤی انڈیا نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ 

بسم اللہ الرحمن الرحيم 

آج کا مشاعرہ بعنوانِ محفلِ حمد و نعت اختتام پذیر ہوا جسے آرگنائز کر رہے تھے محترم ارسلان فیض صاحب

نظامت کر رہے جناب مختار صاحب اور جناب ضیا شادنی صاحب

بہت شاندار اور بہت پر رونق رہا لا جواب کلام سن کو ملے 
عمدہ نظامت اور ہمارے مہمانِ خصوصی ہوں مہمانِ اعزازی سبھی نے شعرا کو خوب سراہا

میں آخر سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس ادراے اور تمام کارکنان کے  لیے دعا بھی کرتا ہوں آیے اختتام مجلس پر چند دعا بارگاہِ ربِ عظیم کے دربار میں مانگتے  کہ اے اللہ ہماری تمام کوشوں کو قبول فرما آمین کوتاہیوں کو معاف فرما آمین
ہمیں سعادتِ دارین سے ہمکنار فرما آمین
اے اللہ اپنی محبت اور رسول کی سچی محبت عطا فرما آمین
علم اور عمل میں اور زندگیوں میں برکت عطا فرما آمین
وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین

از صدرِ مشاعرہ

اسی کے ساتھ ہی ادارے کے بانی و چیئرمین محترم توصیف ترنل صاحب نے مشاعرے کے ختم کا اعلان فرمایا