Tuesday, July 3, 2018

ادارہ ،عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کی جانب سے 159 واں منفرد پروگرام پیش کرتے ہیں





رپورٹ  گلِ نسرین ملتان پاکستان 
ایڈیٹر عبدالحمید صفی ربانی پاکستان

  ادارہ ،عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کی طرف سے 159 واں منفرد پروگرام
بعنوان : تعزیتی اجلاس و طنز و مزاح، 
 برائے آنجہانی مشتاق احمد یوسفی کی وفات پر ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے مورخہ 18۔6۔30 پاکستانی وقت۔۔00۔7 بجے اور ہندوستانی وقت شام 03۔7 بجے منعقد کیا گیا ۔ انتہائی خوبصورت،،،جاندار اور کامیاب پروگرام  کے سحر نے آغاز تا انجام تمام حاضرین محفل ۔۔۔ سامعین و شرکاء مشاعرہ کو اپنی گرفت میں لیے رکھا ۔۔
پروگرام کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔
پہلے حصے میں مشتاق یوسفی صاحب،معروف شاعر نقاد پروفیسر یوسف حسن اور حناء نواز صاحبہ کی وفات مغفرت کی گئی اور مرحومین کی ادبی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لۓ 5 منٹ کی خاموشی اختیار کی گئ۔

جبکہ پروگرام کے دوسرے حصے،،،، طنز و مزاح،،،کے   آغاز میں *مشتاق یوسفی صاحب کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے محترمہ گلِ نسرین صاحبہ کی طنز و مزاح پر مبنی کتاب ماسی نامہ کی تقریب رونمائی* کی گئی جسے  مشتاق یوسفی صاحب کے نام کی کیا گیا۔

پروگرام کا آغاز حمد و نعت پاک سے کیا گیا۔ناظم مشاعرہ گل نسرین نے محترم مشتاق یوسفی صاحب مرحوم کی شخصیت اور ادبی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوے مختصر نوٹ پیش کیا۔ اس موقع پر  پروگرام آرگنائزر محترم ارسلان فیض کھو کھر صاحب  نے اردو مزاح نگاری کےاس  عظیم شہنشاہ آنجہانی مشتاق احمد یوسفی کے فنو شخصیت کے حوالے سے مفصل مقالہ پیش کیا   

دعائے مغفرت : محترم شمس الحق ناطق صاحب نے فرماتے ہوئے مرحومین کے ایصال ثواب کے لے اجتماعی طور پر خصوصی دعاے خیر کروائ ۔۔    
 ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کے بانی و چیئرمین محترم توصیف ترنل نے بھی اس تمام پروگرام میں شروع سے آخر تک شرکت کی۔
پروگرام  کی صدارت 
 محترم امین جس پوری صاحب انڈیا نے کی جبکہ 
مہمانِ خصوص محترم اقبال حسین شاہ صاحب اٹک، پاکستان
محترم علی شیداّ صاحب کشمیر، انڈیا۔۔
  مہمانِ اعزازی محترمہ غزالہ انجم بورے والہ، پاکستان۔۔۔محترمہ نیئر رانی شفق صاحبہ ڈیرہ غازی خان، پاکستا ن 
سے شامل ہوے جبکہ ناقدین کے فرائض 
محترم شہزاد نئیر صاحب پاکستان اور براے شعری کاوش 
 اور محترم عدیل ارشد خان صاحب انڈیا نے  (برائے نثر کاوش ) سر انجام دیے اور باوجود انتہائی محدود وقت کے موقع پر ہی ہر کاوش پر تبصرہ و تنقید کے وائس نوٹس پیش کۓ ۔

-----------------------------------

تمام شرکائے محفل کی شعری و نثری کاوشوں کے نمونے پیش خدمت ہیں
----------------------------------------------

عہد یوسفی تمام ہوا۔۔۔۔۔
پیش کش
محترم ارسلان فیض کھوکھر صاحب 

"اپنے ادبی کریئر کے آغاز کے بارے میں یوسفی کہتے ہیں کہ 'والد صاحب کی بڑی خواہش تھی کہ ڈاکٹر بنوں اور عرب جا کر بدوؤں کا مفت علاج کروں۔'
لیکن اسے اردو والوں کی خوش نصیبی کہیے کہ وہ میڈیکل ڈاکٹر نہیں بن سکے البتہ طنز و مزاح کے نشتر سے دیسی معاشرے کے دکھوں کا علاج کرنے لگے۔
یوسفی نے پہلا باقاعدہ مضمون 1955 میں 'صنفِ لاغر' کے نام سے لکھا تھا۔
یوسفی کے بنیادی موضوع بدلتی ہوئی معاشرتی صورتِ حال کا تجزیہ پیش کرنا ہے، گزرتے وقت کا ناسٹیلجیا ان کی تحریروں کا اہم جزو ہے۔
اردو مزاح نگاروں کی اکثریت قہقہہ آور صورتِ حال اور مضحکہ خیز کرداروں کی مدد سے مزاح پیدا کرتی ہے
مشتاق احمد یوسفی نے اپنی راہ ان سب سے الگ نکالی۔ چند استثنائی مثالوں کو چھوڑ کر ان کے ہاں مزاح صورتِ حال کی منظرکشی سے نہیں، بلکہ صورتِ حال پر فلسفیانہ غور و فکر اور گہرا اور چبھتا ہوا تبصرہ کر کے پیدا کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ان کی فلسفے کی تعلیم ضرور کام آئی ہو گی۔
وہ کرداروں کی اچھل پھاند سے نہیں، بلکہ لفظوں کے ہیرپھیر، تحریف، لسانی بازی گری اور بات سے بات نکال کر مزاح پیدا کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کا وسیع ذخیرۂ الفاظ اور اس سے بھی وسیع تر مطالعہ ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ وہ ایسے مزاح نگار ہیں جن کی تحریر سے سرسری نہیں گزار جا سکتا، بلکہ ہر ہر فقرے کو بڑی توجہ اور احتیاط سے پڑھنا پڑتا ہے، اور بعض اوقات دوبارہ یا سہ بارہ پڑھ کر ہی اس سے بھرپور حظ کشید کیا جا سکتا ہے۔___________________  _________
پروفیسر یوسف حسن سے یوسف حسن تک

ڈاکٹر فرحت عباس

یوسف حسن کا شاعرانہ جوہر،عالمانہ گفت و شنید اور انقلابی تحریر و تقریر ہمیشہ ہمیشہ مرعوب کرتی آئی ہے۔بے شک وہ ایک سچا انسان،سچا محبِ وطن،اپنی ماں آور ماں دھرتی کو محبوب رکھنے والا ظلم و ستم دیکھ کر رونے اور رلانےوالا ایسا ادیب اور دانشور ہے جو نظریاتی ہونے کے ساتھ ساتھ خالص انسانی جذبوں سے سرشار طبقاتی جلال کو غیر طبقاتی جمال میں دیکھنے کا تمنائی ہے  وہ جانتا تھا کہ انسانی ذات کا جوہر سماجی رشتوں کا مرہونِ منت ہے ۔ وہ آفاقی معیارات کے ساتھ ساتھ مقامیت اور علاقیت کی اہمیت سے آگاہ ہے اور اپنی مٹی سے اپنی خوشبو بکھیرنے اور اپنے ادب میں داخل کرنے کی آگاہی رکھتا ہے اور اسے اس بات کا ادراک ہے کہ اس کی سوچ ابلاغ پاتے ہوۓ انقلاب کی نوید سنائے گی۔۔وہ محض فکری اقدار کا گرفتار بیمار ذہن نہیں رکھتا بلکہ سماجی اور معاشرتی حسّیات پر مشتمل ایسی کیفیات کا متلاشی ہے جو امن و سکون کی ضمانت دے اور تمام عالمین کوایک عالم بنا دیں..... 

عشق اپنا سوال ہو رہا ہے
تر خوں میں جمال ہو رہا ہے

اور پھر غربت سماجی رشتوں کے حوالے سے بول اٹھتے ہیں

سبھی رشتے ہمارے بولتے ہیں
مگر جو زر کا رشتہ بولتا ہے

____________________________
"سرمایہء ادب مشتاق یوسفی کے لیے اظہار عقیدت"

"زندگی بھر مسکراہٹیں بکھیرنے والے مشتاق احمد یوسفی پہلی بار مشتاقان ادب کی آنکھیں نم کرکے اپنی دائمی آرام گاہ میں جا سوئے۔
اب ہمارے پاس ان کی تصانیف ہیں جو ان کی نشانیاں بھی ہیں۔۔ان کی گہری خوب صورت سوچ کی عکاس بھی ہیں۔۔اور ان کی محنت لگن اور ادب پروری کا ثبوت بھی۔۔یہ تصانیف درد دل کی دوا بھی ہیں اور رہبری کا سامان بھی ۔ ادب کی اعلی منزلوں تک پہنچنے کے لیے مانوس راستہ بھی ہیں اور تخیل و گماں کے دریچے  کھولنے اور روشنی پھیلانے کا ذریعہ بھی۔۔۔

آج محفل  دھواں دھواں سی ہے
تھا چراغ وفا، بجھا اک شخص

زندگی بھر رہا وہ رخشندہ
 انجم عرش اب ہوا اک شخص" 

غزالہ انجم
____________________________
احمد علی برقی اعظمی

اردو ادب کی شان تھے مشتاق یوسفی
اردو کے ترجمان تھے مشتاق یوسفی
…
طنز  و مزاح میں نہ تھا ان کا کوئی جواب
اردو میں جس کی جان تھے مشتاق یوسفی

مشتاق یوسفی جو تھے عالم میں انتخاب
تھے وہ سپہرِ اردو کے رخشندہ ماہتاب
_____________________________

دعائے مغفرت

بسم اللہ الرحمن الرحیم 
الحمد للہ رب العالمین 
والصلاة والسلام علی رسولہ الکریم ۔
یا اللہ ہم سب کی مغفرت فرما۔ یا اللہ ہم سب کی تمام خطاؤں کو معاف فرما یا اللہ ہم سب کے صغیرہ کبیرہ تمام گناہوں کو معاف فرما 
یا اللہ جو پریشان حال ہیں انکی پریشانی کو دور فرما 
تمام مسلم مرحومین کی مغفرت فرما 
کروٹ کروٹ چین عطا فرما 
جنت میں اعلی مقام عطا فرما  ۔آمین یا رب العالمین ۔

شمس الحق ناطق لکھنوی انڈیا

ترا نور پھیلا ہے چار سو،تری شان جل جلالہ
ترے دم سے دنیا میں رنگ و بو، تری شان جل جلالہ

اس کے بعد باقاعدہ شعراء و شاعرات نے اپنا اپنا کلام پیش فرما کر جہاں داد و تحسین سمیٹی وہیں ناقدین کی قابل قدر آرا سے بھی مستفید ہوئے  نمونہ کلام پیش خدمت ہے____

حمد

تو ہی رب کون و مکاں بھی ہے، تو ہی خالق دو  جہاں بھی ہے
کہ ہے مظہر بے مثال تو، تری شان جل جلالہ

تری ذات سب سے عظیم ہے،تو ہی میرا رب کریم ہے
تری شان جل جلالہ تری شان جل جلالہ

غزالہ انجم

_________________________

نعت رسول مقبول 

رسول اللہ کو  زیبا ہے  اہل ِمنزلت  کہنا
حدیثِ حق ہے ان کو لائقِ ِصد مرتبت کہنا

عثمان محمود

_____________________________
نعت کے بعد محترمہ گلِ نسرین صاحبہ کی نثری کتاب *ماسی نامہ* کی تقریب رونمائی ہوئی اور اس کتاب کو مشتاق احمد یوسفی کے نام کیا گیا.. 
کتاب کے ابواب حسبِ زیل ہیں 

فوائد ماسی

سیلکیشن آف ماسی ۔۔۔۔ 

1۔۔۔ عارضی ماسی۔
2۔۔۔ مستقل ماسی ۔۔۔ 

ماسیوں کی اقسام ۔

1۔۔۔۔۔۔ٹیڈی ماسی 
2۔۔۔۔۔گلابی ماسی 
3۔۔۔۔دیسی ماسی 
4۔۔۔۔چارن ماسی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماسی نامہ کی رونمائی کے بعد شعراء نے اپنا مزاحیہ کلام پیش کیا 

شعر پڑھتے ہیں اچھل کر بزم میں 
ایسا لگتا ہے کہ بندر ہو گئے

اصغر شمیم،کولکاتا،بھارت

________________________

*قیاس آرائیاں*

کبھی چاولوں کا آملیٹ کھایا تو کبھی انڈے کا شوربا،کبھی نہاری کے نام پہ بھرتے سے ناشتہ کیا تو کبھی کدو کی بھجیا سے،
سہتے سہتے ہم بھنڈی کی کھچڑی تک پہنچ گئے۔
تو پتہ چلا کہ ہماری سوچ سچ ثابت نہ ہو گی کبھی
اب جا کر تہیہ کر لیا کہ کبھی قیاس آرائی نہ کریں گے۔

ڈاکٹر سمی شاہد کشمیر

_________________________
 شادی ہے ایک بربادی 

"ایک دن یارو پھر اچانک سے 
چھت سے دن کو پڑوس میں جھانکا 
میاں بیوی کو ساتھ میں دیکھا. 
چمٹا بیوی کے ہاتھ میں دیکھا
جو وہ برسا رہی تھی شوہر پر
چیختا تھا اکیلا وہ گھر پر
دیکھ کر میری  آنکھ بھر آئی
سونے کمرے کی پھر قدّر آئی
آرزو شادی کی مِٹا ڈالی
حُسن کی وہ پری بھلا ڈالی"

ارسلان فیض کھوکھر پسرور سیالکوٹ

_________________________

مزاح رنگ  

گھر پر تو کسکنے کی بھی ہمت نہیں پاتے
یاروں میں نظر آتے ہیں پردھان وغیرہ

عامر 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شادی نامہ

چاہتے ہو تم اگر کوئی بِچارہ دیکھنا
اک نظر دیکھو ہمیں پھر نہ دوبارہ دیکھنا

عقیل احمد رضی، ممبئی، بھارت

_________________________

 پچھلے ہفتے سے میں اکیلا تھا، 
اہلیہ اپنے مائیکے میں تھی
میں بھی آزاد ہو کے سوتا تھا

اطہر حفیظ فراز، پاکستان
________________________
ہم نے جس جا بھی پایا سَنّاٹا
ہنس کے  فورأ  بَھگایا  سَنّاٹا

نفیس ناندوروی(انڈیا) 
________________________.. 

پتہ کیا پوچھتی ہے چاۓ خانوں میں ملوں گا میں
سموسوں اورکبابوں کی دکانوں میں ملوں گا میں

ڈاکٹر عدیل ارشد خان
کھامگاؤں
مہاراشٹر
انڈیا

_______________________ 

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی
تازہ مرغی کہیں پکی ہے ابھی

غزالہ انجم

__________________________
افطاری میں کل جو ملے دو چار پکوڑے
چھوڑے نہیں مجھ سے گئے پھر یار پکوڑے

اقبال شاہ
___________________________


کون سنتا ہے گھر جمائی کی
آج سالوں نے پھر   پٹائی کی

علی شیداّ کشمیر
________________________

چارپائی پہ مری دیکھ کے جالی مچھّر
میرے ہی سر پہ مجھے بکتے ہیں گالی مچھّر

امین جس پوری
___________________________
  ہمارے ملک میں پایا گیا ہےاسقدر لوٹا 
سیاست کے امیروں کا ہوانورِ نظر لوٹا

علی اکبر ملتان پاکستان

____________________________ 

اتنا بھی میں احمق نہیں بیگم سنو یہ بات
عزّت بہت دیا تمہیں اب کھا ؤ میری لات

اچھّا ہی ہو گا تم سے تو مل جائے گی  چُھٹّی
گڈّھے میں تم اترو گی تو ڈالوں گا میں مٹِّی

علیم طاہر انڈیا
_________________________

ساتھ غالب کے نیوٹن کا ملاتی ہوں میں نام
خود کومیں سقراط کہنے پر بڑی مسرور ہوں

نیر رانی شفق۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان

________________________

احمد علی برقی اعظمی

ہمت نہیں کسی میں ہے اُس سے سوال کی
’’ وہ تیس سال سے ہے وہی بیس سال کی ‘‘
_________________________

اس خوبصورت محفل کے اختتام پر محترم امین جس پوری صاحب نے بھارت سے صدارتی خطبہ پیش کیا جس میں انہوں نے اس مشاعرے کو سراہتے ہوئے ماہنامہ آسمان ادب کی آئندہ اشاعت کے حوالے سے گفتگو کی... احباب اس خوب صورت اور قہقہ بار محفل کے آخیر میں صدارتی خطبہ کے ساتھ ہی یہ حسین و چنچل محفل اختتام پذیر ہوگئ 
_________________________________

Wednesday, June 27, 2018

159واں پروگرم پیش کرتے ہیں عالمی ادارے کی جانب سے عنوان تعزیتی اجلاس و طنز و مزاح



159 واں منفرد پروگرام
بعنوان : تعزیتی اجلاس و طنز و مزاح 

پروگرام دو حصوں پر مشتمل ہے.
پہلے حصے میں مشتاق یوسفی صاحب اور حناء نواز صاحبہ کے لئے دعائے مغفرت، دعائیہ کلمات، 5 منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی اور خراجِ تحسین پیش کیا جائے گا.
جبکہ پروگرام کے دوسرے حصے طنز و مزاح میں  طنز و مزاح کے حوالے سے شاعری یا نثر پیش جائے گی. 

احباب، انتہائی رنج کے ساتھ یہ اعلان کرنا پڑ رہا ہے، کہ *معروف قلمکار،  محترم مشتاق یوسفی صاحب، نوجوان شاعرہ حناء نواز اور معروف نقاد، دانش ور اور شاعر پروفیسر یوسف حسن* داعئی اجل کو لبیک کہتے ہوئے، اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے ہیں. انا للہ و انا الیہ راجعون.

احباب،  آج بتاریخ 30 جون 2018 بروز ہفتہ پاکستان کے وقت کے مطابق 7:00 بجے اور ہندستان کے وقت کے مطابق 7:30 بجے انشاءاللہ ، محترم مشتاق یوسفی صاحب اور محترمہ حناء نواز صاحبہ، کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا، اور مرحومین کے حق میں دعائے مغفرت ہوگی. 

اور بالخصوص (( ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئٹری))  کے تمام گروپ میں،  تعزیتی اجلاس کے درمیان،  وقت شام 7:20 بجے سے 7:25 بجے( پاکستانی وقت ) 7:50سے 7:55( ہندوستانی وقت )تک ہر کارروائی روک دی جائے گی، اور خاموشی رکھی جائے گی،

احباب سے دست بستہ گزارش ہے، کہ اس پانچ منٹ کے دوران اپنی کوئی بھی چیز شیئر نہ کریں، اِن پانچ منٹ میں خاموشی اختیار کی جائے گی. 

ادارہ ،عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری اپنا 159 واں منفرد پروگرام بعنوان طنز و مزاح  30 جون 2018 بروز ہفتہ پاکستان کے وقت کے مطابق 7:00 بجے اور ہندستان کے وقت کے مطابق 7:30 بجے شام پیش کیا جائے گا.

 اس پروگرام میں ہم مشہور زمانہ طنز و مزاح کے مالک محترم مشتاق یوسفی صاحب اور نوجوان پختہ شاعرہ حناء نواز صاحبہ ، کو خراج عقیدت و خراج تحسین پیش کریں گے. یہ پروگرام انہیں کی یاد میں منعقد کیا جارہا ہے
 پروگرام کے آغاز میں تعزیتی اجلاس بھی منعقد ہو گا.

*دعائے مغفرت : محترم شمس الحق ناطق لکھنوی صاحب*  فرمائے گے. 

              
ادارۂ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے، جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء,ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے..
============================
*We present 159th Unique international Program*

آپ احباب سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ وقتِ مقرہ پر تشریف لاکر پروگرام کو رونق بخشیں، اور ادارہ کو شکریہ کا موقعہ عنایت فرمائیں.

 نوٹ :-
سارے شعرا اور  مزاح نگار اپنی کاوش برائے تنقید پیش کریں گے نیز ادارے کی انتظامیہ  کی جانب سے بہترین کاوش پیش کرنے پر  شاعر یا مزاح نگار کو توصیف نامہ سندِ اعزاز برائے ادبی خدمات سے سرفراز کیا جائے گا 

منجانب انتظامیہ
 ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئیٹری

============================

💫  سرپرست 💫
 توصیف ترنل بانی و چیئرمین ادارہ، ہانگ کانگ🇭🇰

💫  پروگرام آئیڈیا 💫
محترم شمس الحق ناطق لکھنوی، انڈیا 🇮🇳

🌟  پروگرام آرگنائز 🌟
ارسلان فیض کھوکھر سیالکوٹ، پاکستان 🇵🇰

======================

👑  صدارت  👑
21)محترم امین جس پوری صاحب انڈیا 🇮🇳

🎩  مہمانِ خصوصی  🎩
19) محترم اقبال حسین شاہ صاحب، پاکستان 🇵🇰
20) محترم علی شیداّ صاحب کشمیر، انڈیا 🇮🇳

👒  مہمانِ اعزازی  👒
16) محترمہ غزالہ انجم بورے والہ، پاکستان 🇵🇰
17) محترمہ نیئر رانی شفق صاحبہ ڈیرہ غازی خان، پاکستان 🇵🇰
18) محترمہ سیما گوہر صاحبہ رامپور، انڈیا 🇮🇳

🔍  ناقدین 🔎
محترم شہزاد نئیر صاحب پاکستان 🇵🇰
محترم عدیل ارشد خان صاحب انڈیا 🇮🇳 (برائے نثر)

🎤  نظامت  🎤
محترمہ گلِ نسرین صاحبہ ملتان، پاکستان 🇵🇰
1 تا 10
محترم علیم طاہر صاحب، انڈیا 🇮🇳
11 تا آخر 

📝  رپورٹ  📝
محترم علی اکبر صاحب ملتان، پاکستان 🇵🇰

حمدِ باری تعالٰی
محترمہ غزالہ انجم صاحبہ بورے والہ، پاکستان 🇵🇰

نعت رسول مقبول
محترم عثمان محمود صاحب آزاد کشمیر، پاکستان 🇵🇰
======================
شعراء اور مزح نگار

1) محترمہ گلِ نسرین صاحبہ ملتان، پاکستان 🇵🇰

2) محترم اصغر شمیم کولکاتا، انڈیا 🇮🇳

3) محترم احمد علی برقی اعظمی، انڈیا 🇮🇳

4) محترم علی شیدا صاحب کشمیر، انڈیا 🇮🇳

5) محترم عامر حسنی صاحب ملائشیا 🇲🇾

6) محترم علی اکبر صاحب ملتان، پاکستان 🇵🇰

7) محترم ڈاکٹر ارشاد خان صاحب مہاراشٹر، انڈیا 🇮🇳

8) نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی، انڈیا 🇮🇳

9) ڈاکٹر عدیل ارشد خان صاحب مہاراشٹر، انڈیا 🇮🇳

15) محترم عقیل احمد رضی صاحب ممبئی، انڈیا 🇮🇳

11) محترم علیم طاہر صاحب انڈیا 🇮🇳

12) محترم اطہر حفیظ فراز صاحب، پاکستان 🇵🇰

13) محترم ارسلان فیض کھوکھر سیالکوٹ، پاکستان 🇵🇰

14) محترم سید ظہیر عباس کاظمی صاحب، ہنگری 🇭🇺

15)محترم ڈاکٹر سمی شاہد صاحب کشمیر




Sunday, June 17, 2018

ادارہ ،عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری پروگرام 158 بعنوان انقلابی شاعری







158 واں منفرد پروگرام
بعنوان : انقلابی شاعری
http://www.dhanaklondon.com/?p=4601

https://egohater.wordpress.com/2018/06/17/%d8%a7%d9%86%d9%82%d9%84%d8%a7%d8%a8%db%8c-%d8%b4%d8%a7%d8%b9%d8%b1%db%8c-%d9%85%d9%86%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%81%d8%8c-%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d8%a8%db%8c%d8%b3/

http://apkibat.com/new.php?id=2765

touseefturnal.tumblr.com/post/174925771178/158-واں-منفرد-پروگرام-بعنوان-انقلابی-شاعری

ادارہ ،عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری اپنا 158 واں منفرد پروگرام بعنوان انقلابی شاعری 23 جون 2018 بروز ہفتہ پاکستان کے وقت کے مطابق 7:00 بجے اور ہندوستان کے وقت کے مطابق 7:30 بجے شام پیش کر رہا ہے۔
اس پروگرام کی وساطت سے تمام شعراء کرام دنیا میں ہونے والے ظلم و زیادتی، حالاتِ حاضرہ،  کھرا سچ اور گردشِ دوراں پہ کھل کر اپنے الفاظ کے جوہر دکھا سکتے ہیں بلکہ یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ دنیا میں انقلاب برپا کر سکتے ہیں 
              
ادارۂ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے، جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء,ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے..

============================
The International organization
We present 158th Unique international Programe
Creativity is the answer 
We unite the world Creators 

آپ احباب سے مؤدبانہ گذارش ہے کہ وقتِ مقررہ پر تشریف لاکر پروگرام کو رونق بخشیں، اور ادارہ کو شکریہ کا موقعہ عنایت فرمائیں.

 نوٹ 
سارے شعرا اپنا کلام برائے تنقید پیش کریں گے نیز ادارے کی انتظامیہ  کی جانب سے بہترین کلام پیش کرنے پر  شاعر کو توصیف نامہ سندِ اعزاز برائے ادبی خدمات سے مصبیح کیا جائے گا 

منجانب انتظامیہ
 ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئیٹری

============================

سرپرست
محترم توصیف ترنل بانی و چیئرمین ادارہ ہانگ کانگ

پروگرام آئیڈیا 
محترم سیّد ظہیر عباس کاظمی ہنگری 

پروگرام آرگنائزر
محترم علی اکبر ملتان، پاکستان

======================
صدارت
عزتِ مآب پروفیسر عبدالواحد ندیم ملتان پاکستان 

مہمانِ خصوصی
محترم امیرالدین امیر بیدر کرناٹک بھارت
محترم امین اڈیرائی سندھ پاکستان 

مہمانِ اعزازی
محترمہ نیرہ رانی شفق، پاکستان
محترم سیّد ظہیر عباس کاظمی ہنگری 
محترم نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی انڈیا

 ناقدین
محترم مسعود حساس کویت
محترم شفاعت فہیم بھارت
محترم ضیاء شادانی بھارت

رپورٹ مدیر اعلیٰ 
عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب
محترم امین جیس پوری بھارت 

مقالہ
محترم ایڈوکیٹ متین طالب ناندوروی بھارت

نظامت
محترمہ گلِ نسرین پاکستان
 1   تا   13
محترم علیم طاہر بھارت
14  تا  آخر

حمدِ باری تعالٰی
محترمہ غزالہ انجم پاکستان

نعتِ رسول مقبول
محترم عثمان محمود آزاد کشمیر، پاکستان

============================

فہرست شعراء و شاعرات

1)  محترم ارسلان فیض کھوکھر سیالکوٹ، پاکستان 
        
2) محترم منوّر پاشا ساحل  تماپوری کرناٹک، بھارت  

3) محترمہ غزالہ انجم بورے والہ، پاکستان 

4) محترم اصغر شمیم کولکتا، بھارت 
  
 5) محترم ملک سکندر چنیوٹ، پاکستان

6) محترمہ ڈاکٹر صابرہ شاہین  ڈیرہ غازی خان، پاکستان

7) محترم اشرف علی اشرف صاحب سندھ، پاکستان

8) محترمہ گلِ نسرین صاحبہ ملتان، پاکستان

9) محترم علی اکبر صاحب ملتان، پاکستان

10) محترم عبدالحمید صفی ربانی پاکستان

11) محترم ایڈوکیٹ متین طالب ناندوروی بھارت

12) محترم امین جیس پوری بھارت

13) محترم مشرّف حسین محضر ، علی گڑھ بھارت

14) محترمہ سیما گوہر،  رامپور بھارت

15) محترم عامر حسنی ملائیشیا 

16) محترمہ صبیحہ صدیقی ، بھارت

17) محترم ڈاکٹر بلند اقبال نیازی بھارت

18)محترم ثمریاب ثمر کشمیر انڈیا

19) محترم عقیل احمد رضوی ممبئی بھارت

20) محترم حفیظ مینا نگری صاحب بھارت

Friday, June 8, 2018

بارہ ادبی تنظیموں کاعالمی باشتراک مشاورتی مشاعرہ






بارہ ادبی تنظیموں کاعالمی باشتراک مشاورتی مشاعرہ

ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری
کی جانب سے پیش کرتے ہیں 157واں باشتراک منفرد پروگرام
https://egohater.wordpress.com/2018/06/08/%d8%a8%d8%a7%d8%b1%db%81-%d8%a7%d8%af%d8%a8%db%8c-%d8%aa%d9%86%d8%b8%db%8c%d9%85%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d8%b4%d8%aa%d8%b1%d8%a7%da%a9-%d9%85%d8%b4%d8%a7/

http://apkibat.com/new.php?id=2732

https://touseefturnal.tumblr.com/post/174602252523/ادارہ-عالمی-بیسٹ-اردو-پوئیٹری-کی-جانب-سے


http://www.dhanaklondon.com/?p=3751

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2182786791944168&id=1829210767301774

https://www.linkedin.com/feed/update/urn:li:activity:6410792333276782592

https://twitter.com/dhanaklondon/status/1005026614760091648?s=12

http://www.barqiazmi.com/2018/06/blog-post_42.html?m=1

===========================

عالمی ادب اکادمی ۔(راولپنڈی اسلام آباد )  
سرپرست عرفان خانی

دعوتِ شیراز 
چیئرمین محمد شیراز غفور پاکستان 

دریچہ
( خواتین کی ادبی تنظیم ) ڈیرہ غازی خان
بانی و صدر نیر رانی شفق

گلشنِ مختار 
( हिन्दी - उर्दू साहित्यिक संस्था )
تلہر ضلع شاہجہانپور اتر پردیس بھارت
سرپرست.. مختار تلہری 
بریلی اترپردیس بھارت

بزمِ متین
بانی و صدر
ڈاکٹر بلند اقبال نیازی بھارت

ایم زیڈ کنول لاہور پاکستان 
چیف ایگزیکٹو
علمی,ادبی,سماجی و ثقافتی روایات کی امین تنظیم
جگنو انٹر نیشنل

بزم اربابِ سُخن
(ناندورہ، مہاراشٹر، انڈیا)(بانی و صدرِ بزم)
نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی،انڈیا

صدر 
فواد اسلم خان
رضیہ اسلم فروغ ادب سوسائٹی 
آزاد کشمیر

شیر علی دائم  صدر 
انجمن بقائے اردو  
فضائیہ ڈگری کالج اے آر ایف کامرہ

سرپرست اعلی 
علامہ اقبال اختر نعیمی
فروغ علم و ادب سوسائٹی ضلع نیلم 
آزاد کشمیر

حلقہ ارباب-ذوق ڈیرہ غازی خان 
سیکریٹری ڈاکٹر صابرہ شاہین
ضلعی صدر یوته لیگ پاکستان

===========================

 157 واں منفرد عالمی موضوعاتی نظمیہ مشاعرہ بعنوان 
رمضان و عید
 جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ رمضان کا مبارک مہینہ چل رہا ہے کیوں نہ ہم بھی ہمارا فارغ وقت اس کار خیر میں لگائیں. آپ رمضان کے حوالے سے یا پھر عید کے حوالے سے اپنی ایک بہترین نظم پیش کر سکتے ہیں 

یہ پروگرام مورخہ  10 جون 2018 دن ، بروز اتوار پاکستانی وقت 2:00 بجے اور ہندی  وقت کے مطابق 2:30 بجے شروع کیا جائے گا، جس میں شعراء اپنی بہترین کاوش پیش کریں گے

 ادارۂ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے، جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء,ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے..
============================
We present 157th Unique international Program

آپ احباب سے مؤدبانہ گذارش ہے کہ وقتِ مقرہ پر تشریف لاکر پروگرام کو رونق بخشیں، اور ادارہ کو شکریہ کا موقعہ عنایت فرمائیں.

 نوٹ :-
سارے شعرا اپنا کلام برائے مشاورت پیش کریں گے نیز ادارے کی انتظامیہ  کی جانب سے بہترین کلام پیش کرنے پر نظم گو شاعر کو توصیف نامہ سندِ اعزاز برائے ادبی خدمات سے سرفراز کیا جائے گا 

مدیر اعلیٰ 
محترم امین جس پوری صاحب بھارت 
عید کے حوالے سے جو شاعری موصول ہو گی اسے 
عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب میں شامل کیا جائے گا 

منجانب انتظامیہ
 ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئیٹری

============================
پروگرام آرگنائزر
ایڈوکیٹ متین طالب ناندورہ بھارت

سرپرست
 توصیف ترنل ہانگ کانگ
بانی و چیئرمین ادارہ

======================
صدارت
 ضیاءشادانی صاحب بھارت 

مہمانانِ خصوصی
 احمد علی برقی اعظمی صاحب، بھارت
 صبیحہ صدف صاحبہ بھوپال، بھارت 

مہمانانِ اعزازی
  غزالہ انجم صاحبہ، بورے والا، پاکستان 
 احمد کاشف صاحب ناندورہ، بھارت
 نفیس ناندوری صاحب، بھارت

ناقدین 
 مسعود حساس صاحب کویت
 شہزاد نیّر صاحب پاکستان  

نظامت
 مختار تلہری بھارت صاحب بھارت 
1   to  8
 گلِ نسرین صاحبہ ملتان پاکستان 
9 to 16
 علیم طاہر صاحب (انڈیا )
17 to 25

رپورٹ اُردو 
 امین جس پوری صاحب بھارت
رپوٹ ہندی 
 علیم طاہر صاحب (انڈیا )

حمدِ باری تعالٰی
  مصطفٰی دلکش صاحب ممبئی مہاراشٹرانڈیا

نعتِ رسول مقبول
 نفیسؔ ناندوروی صاحب (بھارت)

============================

✒ *شعرا اکرام *

1) عامر حسنی صاحب ملائشیا

2) اصغر شمیم صاحب ،کولکاتا،انڈیا

3)  ایڈوکیٹ متین طالب ناندورہ بھارت 

4) منور پاشاہ ساحل تماپوری کرناٹک انڈیا

5) عبدالوحید عاجز صاحب ، سرگودھا پاکستان

6) علی شیدّا صاحب کشمیر، بھارت 

7) حفیظ مینانگری صاحب، مہاراشٹرانڈیا

8) علی اکبر صاحب  ملتان، پاکستان 

9) سیما گوہر صاحبہ، رامپور، یو.پی. ،بھارت

10) علیم طاہر صاحب (انڈیا )

11) امیرالدین امیر بیدر صاحب کرناٹک بھارت

12) ارشد مینانگری صاحب، بھارت 

13) ارسلان فیض کھوکھر صاحب  پسرور ، پاکستان 

14) گل نسرین صاحبہ، ملتان پاکستان

15) مختار تلہری صاحب بھارت 

16) امین جس پوری صاحب بھارت 

17) ہاجرہ نور زریاب صاحبہ، آکولہ بھارت


18)  شکیل انجم مینانگری صاحب، بھارت

Friday, June 1, 2018

156 واں عالمی تنقیدی فکشن پروگرام بعنوان فیضانِ رمضان




📚 *ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری* 📚
کی جانب سے پیش کرتے ہیں 156 واں منفرد پروگرام💎

فکشن
پروگرام بعنوان
💎 *فیضانِ رمضان* 💎

 156 واں منفرد فکشن پروگرام بعنوان * فیضانِ رمضان*
جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے فیضانِ رمضان.. جس میں صرف رمضان کی فضیلت اور حالات پہ لکھا جائے گا.
یہ پروگرام مورخہ  3 جون 2018 دن ، بروز اتوار پاکستانی وقت 2:00 بجے اور ہندی  وقت کے مطابق 2:30 بجے شروع کیا جائے گا، جس میں شعراء اپنی بہترین کاوش پیش کریں گے📢

📚 ادارۂ ھٰذا دنیا کا واحد ادارہ ہے، جو اس برقی ترقی یافتہ دور میں شعراء,ادباء و مصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے...💫
============================
*We present 156th Unique international Program*📢

آپ احباب سے مؤدبانہ گذارش ہے کہ وقتِ مقرہ پر تشریف لاکر پروگرام کو رونق بخشیں، اور ادارہ کو شکریہ کا موقعہ عنایت فرمائیں...📢

رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:مَنْ لَّمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِهٖ فَلَيْسَ لِلهِ حَاجَةٌ فِيْ اَنْ يَّدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ یعنی جو جھوٹی (بُری) بات کہنا اور اُس پر عمل کرنا نہ چھوڑے، تو اللہ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔(بخاری،ج1ص628، حدیث: 1903)

روزه ایک ایسی بدنی عبادت ہے جس کی برکت سے انسان اپنے آپ کو ظاہری گناہوں کے ساتھ ساتھ باطنی گناہوں سے بھی بچا سکتا ہے ۔

📢 نوٹ :-
نثر نِگار اپنی بہترین کاوش برائے تنقید پیش کریں گے نیز ادارے کی انتظامیہ کی جانب سے بہترین کاوش پیش کرنے پر نثر نِگار کو توصیف نامہ سندِ اعزاز سے سرفراز کیا جائے گا 🏅

📚 *منجانب انتظامیہ
 ادارہ، عالمی بیسٹ اردوپوئیٹری*  📚

============================
💫 *پروگرام آرگنائزر* 💫
 *ارسلان فیض کھوکھر سیالکوٹ، پاکستان* 🇵🇰

💎 *سرپرست* 💎
*توصیف ترنل ہانگ کانگ*🇭🇰
*بانی و چیئرمین ادارہ*

============================

👑 *صدارت* 👑
*17-محترم ادیب ظہیر عباس، ڈیبرسن ہنگری*🇭🇺

🎩 *مہمانِ خصوصی* 🎩
*15- محترم ڈاکٹر ارشاد خان صاحب انڈیا* 🇮🇳
*16- محترمہ عرشیہ احسان خان مفتی صاحبہ حیدرآباد، پاکستان* 🇵🇰

👒 *مہمانِ اعزازی* 👒
*12-منور پاشاہ ساحل تماپوری کرناٹک، انڈیا* 🇮🇳
*13-محترمہ غزالہ انجم، پاکستان* 🇵🇰
*14-محترم رانا علی اکبر صاحب ملتان، پاکستان* 🇵🇰

پروگرام جج
*محترم سر سلام بن رزاق صاحب ممبئی، انڈیا* 🇮🇳

🔍 *ناقد*🔎
*محترم ڈاکٹر عدیل ارشد خان، انڈیا* 🇮🇳
*محترم شفاعت فہیم صاحب انڈیا* 🇮🇳
*محترم ڈاکٹر نبیل احمد نبیل پاکستان*🇵🇰

🎤 *نظامت*🎤
*محترمہ گلِ نسرین صاحبہ ملتان، پاکستان* 🇵🇰
1 تا 8

*محترم علیم طاہر صاحب، انڈیا* 🇮🇳
9 تا 17

📝 *رپورٹ* 📝
*محترم ڈاکٹر ارشاد خان صاحب، انڈیا* 🇮🇳

*حمدِ باری تعالٰی*
*محترمہ غزالہ انجم بورے والا، پاکستان* 🇵🇰

*نعتِ رسول مقبول*
*محترم عثمان محمود آزاد کشمیر، پاکستان* 🇵🇰

============================

✒ *نثر نگار*

*1- محترمہ گلِ نسرین ملتان، پاکستان* 🇵🇰

*2-محترم اصغر شمیم ،کولکاتا* 🇮🇳

*3- محترمہ ماہ رخ حفیظ، پاکستان* 🇵🇰

*4-محترم علیم طاہر، انڈیا* 🇮🇳

*5- ایڈووکیٹ متین طالب صاحب، انڈیا* 🇮🇳

*6- ارسلان فیض کھوکھر سیالکوٹ، پاکستان* 🇵🇰

*7- محترمہ نیر رانی شفق ڈیرہ غازی خان، پاکستان*  🇵🇰

*8- محترم حفیظ مینانگری مہاشٹرا، انڈیا* 🇮🇳

*9- محترمہ انبساط ارم صاحبہ انڈیا* 🇮🇳

*10- محترم وقار مصطفٰے سپرا لاہور، پاکستان* 🇵🇰

*11- محترم خالد سروحی صاحب گوجرانوالہ، پاکستان* 🇵🇰

Tuesday, May 29, 2018

عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب جون 2018


ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری
 کی جانب سے پیش کرتے ہیں

عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب جون 2018

https://egohater.wordpress.com/2018/05/30/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d9%85%d8%a7%db%81%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%a2%d8%b3%d9%85%d8%a7%d9%86%d9%90-%d8%a7%d8%af%d8%a8-%d8%ac%d9%88%d9%86-2018/

http://apkibat.com/links.php?cat=magazine
عالمی ماہنامہ آسمانِ ادب جون 2018
PDF file now you can download from website

PDF file now you can download from Google drive
https://drive.google.com/file/d/1xf1p3RgG8ScpIKaUHpOmcW2lvePUgGeM/view?usp=drivesdk

http://www.barqiazmi.com/2018/05/blog-post_50.html?m=1

http://apkibat.com/new.php?id=2681

https://touseefturnal.tumblr.com/post/174395180398/ادارہ-عالمی-بیسٹ-اردو-پوئیٹری-کی-جانب-سے-پیش


محو حیرت ہے ثریّا رفعت پرواز پر 

آسمان ادب کا حالیہ شمارہ نظر نواز ہوا ۔ عجیب تذبذب کا عالم ہے ۔ کس کس مشمولہ کی تعریف کی جائے ۔ کس کو فوقیت دی جائے ؟ کسے صف اول میں کھڑا کیا جائے ؟ کہ دوسرے شہ پارے کو کس خانہ میں فٹ کیا جائے ؟ سب ایک سے بڑھ کر ایک ۔ 
مناجات ، بارگاہ الٰہی کی طرف راغب کرتی ہے تو نبیل صاحب نعت ص میں سرشار دکھائی دیتے ہیں ۔ رمضان کی برکتوں سے محترم عزیز صاحب روشناس کراتے ہیں تو منقبت کا نذرانہ ماہرانہ انداز میں ماہر صاحب پیش کررہے ہیں ۔ صاحب یہاں چچا غالب بھی ہیں تو بے باک منٹو بھی ، پروین شاکر کی جانشینوں میں کچھ نئے نام ابھر رہے ہیں ۔ مینا نقوی ، غزالہ انجم ، ہاجرہ زریاب وغیرہم ۔ شوزیب بھی متاثر کرتے ہیں ۔ 
کمال تو یہ ہے ، رومانی مائیکرو فکشن ، حمدیہ محفل ، نعتیہ محفل ۔ بیک وقت ، ایک پنتھ دوکاج نہیں ۔۔۔ تین یکے بعد دیگرے ۔۔سنگ میل۔۔ رنگ محفل ، کشاں کشاں دل یہی سوچ رہا ہے ، توصیف سر، امین جس پوری صاحب اور جملہ ٹیم دی بیسٹ کے لیے ۔
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں 

آسمان ادب میں ایک خوشگوار اضافہ ،، قارئین کی آراء ۔۔ تاثرات ۔۔ مشمولات کے تئیں اظہارِ خیال ۔۔نیز نہ صرف ہماری بلکہ دیگر گروپس کی سرگرمیاں ، ادبی رپوٹس و تاثرات وغیرہ کو شامل کر کشادہ دلی کا بین ثبوت پیش کیا ۔
آسمان ادب ،، کو ایک مکمل میگزین کی شکل میں برقی دنیا میں جو فوقیت اور مقام وہ بھی قلیل عرصے میں حاصل ہوا وہ شاید دیگر رسائل برسوں تگ ودو کرنے کے بعد بھی اس کی گرد کو بھی نہ پاسکیں گے ۔۔ان شاءاللہ ۔
شاید کچھ رخشات کر ذکر رہ گیا ہو ۔ وہ بھی اس آسمان ادب کی کہکشاں کے دمکتے ستارے ہیں ۔
ٹیم دی بیسٹ اردو پوئیٹری کو ڈھیروں مبارکباد 

ڈاکٹر ارشاد خان بھارت